وجود

... loading ...

وجود
وجود

بلوچستان کی سیاسی اشرافیہ

جمعرات 13 جنوری 2022 بلوچستان کی سیاسی اشرافیہ

بلوچستان کے اندر علی الخصوص ماضی قریب کی سیاسی تاریخ انتہائی مایوس کن ہے۔ سیاسی جماعتیں مجموعی طور مسائل کے حل کی بجائے اسے بڑھاوا دینے کا باعث بنی ہیں۔ نظریات و اقدار کی جگہ اقتدار و مراعات کے حصول کی سیاست لے چکی ہے۔ دیکھا جائے تو بلوچستان کے اندر فی الواقع اس ضمن میں خلا پیدا ہوچکی ہے۔ المیہ یہی ہے کہ معدودے چند کے سب ہی اقتدار کے ایوانوں تک رسائی ،نوبت و باری کے جتن کرتے ہیں۔ بالا دست اور زیر دست کے درمیان وقتاً فوقتاً شراکت کے معاملات طے ہوتے ہیں۔ بد عنوانی اس محدود اشرافیہ کاگویا ہتھیار بن چکا ہے۔ یہی اشرافیہ ردو بدل کے ساتھ صوبے کا مختار کل ہوتا ہے۔ سینیٹ جیسے مد بر ایوان میں دولت کے بل بوتے پر ٹھیکیدار ، سرمایہ دار اور اسمگلر کامیاب ہوکر جاتے ہیں۔ یا منظور نظر افراد کامیاب بناکربھیج دیئے جاتے ہیں۔ قومی مفاد کے نام پر طرح طرح کی زیادتیوں اور پامالیوں کو دوام حاصل ہے۔ سیاسی جماعتیں گروہی اغراض کے لیے حریف تو کبھی حلیف بن جاتی ہیں۔ اقتدار پسندی کی جنگ میں صوبے اور یہاں کے درماندہ عوام کا استحصال کیا جاتاہے۔اس ذیل میں صوبے کے اندر آئندہ کا سیاسی نقشہ بھی اشرافیہ کا تیار کردہ دکھائی دیتاہے۔ اقتدار کی کرسیوں پر براجمان نمائندے مستقبل کی صورت گری میں لگے ہیں۔حکمراں جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کے خالقین بھی سوچ بچا رمیں ہیں کہ الگ پیرائے میں کچھ نیا تجربہ کیا جائے۔ ایوان بالا کے چیئرمین صادق سنجرانی آئندہ کے عام انتخابات میں خود کے لیے گنجائش ڈھونڈ رہے ہیں۔خواہش وزارت اعلیٰ کے حصول کی ہے۔ محمود خان اچکزئی نے ٹی ٹی پی بارے باطن کی بات زبان پر لاکر دراصل 2023ء کے عام انتخابات میں دیوار سے نہ لگانے کی دھمکی دی ہے۔ محمود خان اچکزئی نے ٹی پی پی کے جنگجوئوں کو وطن کے لوگ کہا ہے کہ ان کے ساتھ ملکر قوم اور وطن مستقبل کے چارہ گری کرنی ہے۔ان کی جماعت نے فقط ایک جام کمال کے خلاف نادیدہ لوگوں سے ہاتھ ملایا۔ٹی ٹی پی کی تڑی البتہ اس لیے دی ہے کہ کہیں عام انتخابات میں ہاتھ نہ کیا جائے۔ یہی جمعیت علماء اسلام اور بلوچستان نیشنل پارٹی نے کیا۔یعنی یہ جماعتیںنے قدوس بزنجو سمیت اسٹیبلشمنٹ کی پوری لاٹ سے شیر و شکر ہیں۔
جمعیت علماء اسلام سوچتی ہے کہ آئندہ وزارت اعلیٰ کے منصب پر ان سے وابستہ فرد بیٹھے ۔ اس مقصد کے لیے نواب اسلم رئیسانی کو شامل ہونے کی دعوت دیدی ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے خود ساران ہائوس جاکر نواب رئیسانی سے ملاقات کرلی۔ نواب اسلم رئیسانی نے قبیلے اور حلقہ انتخاب سے تعلق رکھنے والے سرکردہ افراد سے مشاورت بھی کرلی ہے۔ یعنی وہ جے یو آئی کی طرف مائل ہیں۔ بلوچستان نیشنل پارٹی بھی شعوری و ارادتاًحکومت تبدیلی کے کھیل میں شامل ہوئی۔ ان کے ارکان اسمبلی عبدلقدوس بزنجو کی جانب سے نوازے جارہے ہیں۔ واقفان حال بتاتے ہیں کہ ایک رکن حمل کلمتی تو جیسے وزیراعلیٰ ہائوس میں ہی رہائش اختیار کرچکے ہیں۔ عوض میں پراسکیوٹر جنرل بلوچستان کے عہدہ پر تین جنوری کو بی این پی کے ساجد ترین ایڈووکیٹ کا تقرر بھی ہوا ہے۔یہ شریف شخص مارچ 2021کے سینیٹ انتخابات میں پارٹی کے بعض اراکین اسمبلی کے درپردہ جفا کے باعث ہار گئے تھے۔ یوں عبدالقدوس بزنجو سے اقتدار دلانے کے بدلے ایک صلہ اس عہدہ کی صورت میں بھی لیا جا چکاہے۔ دوسری طرف بی این پی برائی میں حصہ داری کا داغ بھی پسند نہیں کرتی اور بہت جلد پینترا بدلنے کی اپنے طور کوشش کرلی۔ یعنی پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے یہ کہہ کر داغ مٹانے کی بے کار سعی کی کہ وہ جام کمال کو نکالنے کے ثواب میں شامل تو ہیں پر عبدالقدوس بزنجو کو لانے کے گناہ میں شریک نہیں۔ اب یہ الٹ اور معروضی حقیقت کے برعکس بیانیہ عوام کیسے تسلیم کریں کہ کل ہی کی تو بات ہے کہ جہاں بی این پی کے ا رکان اسمبلی بغیر پردہ و عار ہیت حاکمہ اور عبدالقدوس بزنجو سے لپٹے ہوئے تھے۔ نہ قدوس بزنجو کی رہائش گاہ پر قائم ایک ہفتہ پر محیط کیمپ میں وفاداریوں، ہم کاریوں کے مناظر ابھی نگاہوں سے اوجھل ہوئے ہیں۔ اشتراک و الفت کی وہ محفلیں عوام کے حافظہ میں نقش و تازہ ہیں۔ یہ کیمپ چارارکان اسمبلی کی گمشدگی کا وایلا مچا نے کے بعد سجایا گیا تھا۔ بشریٰ رند، ماہ جبین شیران، اکبر آسکانی اور لیلیٰ ترین اسلام آباد بھیج د یے گئے۔ کس نے بھیجا یہ امر جے یو آئی، بلوچستان نیشنل پارٹی اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی سے قطعی مخفی نہیں۔البتہ کمال ہوشیاری سے الزام جام کمال پر دھرا گیا۔ گویا یہ سب کچھ پردے کے اُس طرف اور اِس جانب والوں کی ملی بھگت سے ہی ہوا تھا۔ اس تخریبی مشق کا نتیجہ یہ ہے کہ آج ہر ایک اپنی جگہ وزیراعلیٰ بنا بیٹھا ہے۔
وزیراعلیٰ شب بیداری کے بعد دن کا آغاز تاخیر سے کرلیتے ہیں۔ اس کے بعد اراکین اسمبلی، وزراء ، مشیروں اور دوسرے لوگوں سے ون آن ون ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ جس میں دن کا غالب قیمتی وقت ضائع ہوجاتاہے۔ معلوم نہیں کہ بیورو کریسی سے اجلاس کون کرتاہے۔ مختلف امو رپر بریفنگ کب لی جاتی ہے اور کس فورم پر ہدایات دی جاتی ہیں؟۔ حکومت کی ساری کارکردگی، اخباری بیانات پر مشتمل ہے۔حکومت اور پورے سرکاری امور کی کلید دو تین سرکاری افسران کے پاس ہے۔ قدوس بزنجو کے دماغ میں بیٹھا ہے یا بٹھایا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ عوامی ہوتا ہے۔ تو اس طرح ذرائع ابلاغ پر بتایا جاتا ہے کہ وزیراعلیٰ آج فلاں جگہ بغیر پروٹوکول کے گئے اور عوام میں گھل مل گئے۔ 7جنوری کو گھٹنوں تک ربڑ کے لانگ شوز کے بندوبست کے ساتھ قمبرانی روڈ لے جائے گئے۔ یہ جوتے پہن کر قدوس بزنجو اور ہمراہی بارش کے پانی میں کھڑے ہوگئے۔ حالاں کہ یہ شعبدہ بازی کرانے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ بارش کے پانی کی بجائے وہاں کھڑے ہوجاتے جہاں پانی نہ تھا اور نکاسی آب اور صفائی کے انتظام کا حکم یا ہدایت کردیتے۔چناں چہ بیانات جاری ہوئے کہ وزیراعلیٰ بارش کے پانی میں اتر گئے۔ یہ کام میٹرو پولیٹن کارپوریشن کے ایڈمنسٹریٹر اور وزیر بلدیات کا ہے۔ وزیر بلدیات سردار صالح بھوتانی کو اگر عقل ہو تو یہ ان کے کام میں مداخلت ہے، بلکہ عندیہ ان کی کارکردگی پر سوال اٹھانے کا ملا ہے۔ عبدالقدوس بزنجو کے پیش نظر ضلع لسبیلہ کے اندر نیا انتخابی حلقہ بنانے کی ترکیب بھی ہے تاکہ وہاں سے اپنے بھائی کو منتخب کراسکیں۔
ہاں تو یاد رہے کہ سابق وزیراعلیٰ جام کمال خان نے سردار اختر مینگل کو فرار نہ ہونے دیا۔ ان پر بروقت کاٹ دار نقد کیا۔جام کمال عالیانی نے عبدلقدوس بزنجو کا وزیر اعلیٰ منتخب ہونے کے بعد بی این پی ارکان اسمبلی کی جانب سے نشست پر بٹھانے کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے ٹویٹ میں کہا کہ حلف کے بعد وزیراعلیٰ کو کرسی پر بٹھانا اور بی این پی کے سردار اختر مینگل کہتے ہیں ہم اس گناہ کا حصہ نہیں۔ بلوچستان کے لوگ قول و فعل کو آہستہ آہستہ دیکھ اور سمجھ بھی گئے ہیں۔ سردار اختر مینگل کو مخاطب کرتے ہوئے جام کمال نے کہاکہ ’’اگر آپ کا بیان درست ہے تو اس تاج پوشی کی تقریب میں بی این پی کے ارکان اسمبلی کیا کررہے ہیں۔ اسے گناہ بھی کہتے ہیں اور حصہ دار، شراکت دار اور مزے بھی لوٹتے ہیں۔ اس طرح کے ایک عمل میں آپ لوگ2018ء میں بھی شامل تھے۔ آپ کو یاد ہو کہ نہ یاد ہو‘‘۔سردار مینگل کے اس بیان کے چند دن بعد 8جنوری کو اخبارات میں ان کی جماعت کے رکن اسمبلی ثناء بلوچ کا بیان شائع ہوا ہے جس میں وہ کہہ چکے ہیں کہ ان کی جماعت قدوس بزنجو کی حکومت سے اس لیے تعاون کررہے ہیں کہ وہ بلوچستان کے ساحل ، وسائل، تعلیم، صحت اور بے روزگاری کو ختم کرانے میں کام کررہی ہے۔‘‘ کیا یہ صوبے کے عوام سے ایک اور مذاق نہیں ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں


مضامین
سعودی عرب میں ہر گھنٹے سات طلاقوں کے کیسز رپورٹ وجود منگل 25 جنوری 2022
سعودی عرب میں ہر گھنٹے سات طلاقوں کے کیسز رپورٹ

حق دو کراچی کو وجود پیر 24 جنوری 2022
حق دو کراچی کو

ہندوستان کی شبیہ کون داغدار کررہاہے؟ وجود پیر 24 جنوری 2022
ہندوستان کی شبیہ کون داغدار کررہاہے؟

خود کو بدلیں وجود پیر 24 جنوری 2022
خود کو بدلیں

تجارتی جنگیں احمقوں کا کھیل وجود هفته 22 جنوری 2022
تجارتی جنگیں احمقوں کا کھیل

دھرنے،احتجاج اور مظاہرے وجود هفته 22 جنوری 2022
دھرنے،احتجاج اور مظاہرے

بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا وجود جمعه 21 جنوری 2022
بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا

تحریک انصاف اور پورس کے ہاتھی وجود جمعه 21 جنوری 2022
تحریک انصاف اور پورس کے ہاتھی

بلوچستان میں نئی سیاسی بساط وجود جمعه 21 جنوری 2022
بلوچستان میں نئی سیاسی بساط

کورونا،بھنگ اور جادو وجود جمعه 21 جنوری 2022
کورونا،بھنگ اور جادو

ترک صدر کا ممکنہ دورہ سعودی عرب اور اس کے مضمرات ؟ وجود جمعرات 20 جنوری 2022
ترک صدر کا ممکنہ دورہ سعودی عرب اور اس کے مضمرات ؟

قومی سلامتی پالیسی اور خطرات وجود بدھ 19 جنوری 2022
قومی سلامتی پالیسی اور خطرات

اشتہار

افغانستان
افغانستان میں امریکی شہری کا قبولِ اسلام، اسلامی نام محمد عیسیٰ رکھا وجود پیر 24 جنوری 2022
افغانستان میں امریکی شہری کا قبولِ اسلام، اسلامی نام محمد عیسیٰ رکھا

افغانستان،ہرات میں دھماکہ، 7 افراد جاں بحق، 9 زخمی وجود اتوار 23 جنوری 2022
افغانستان،ہرات میں دھماکہ، 7 افراد جاں بحق، 9 زخمی

اسلامی ممالک طالبان حکومت کو تسلیم کریں، افغان وزیراعظم کا مطالبہ وجود جمعرات 20 جنوری 2022
اسلامی ممالک طالبان حکومت کو تسلیم کریں، افغان وزیراعظم کا مطالبہ

طالبان کا شمالی مغربی شہر میں بدامنی کے بعد فوجی پریڈ کے ذریعے طاقت کا مظاہرہ وجود منگل 18 جنوری 2022
طالبان کا شمالی مغربی شہر میں بدامنی کے بعد فوجی پریڈ کے ذریعے طاقت کا مظاہرہ

افغان صوبہ بادغیس میں شدید زلزلہ،ہلاکتوں کی تعداد30 سے تجاوز وجود منگل 18 جنوری 2022
افغان صوبہ بادغیس میں شدید زلزلہ،ہلاکتوں کی تعداد30 سے تجاوز

اشتہار

بھارت
بھارت کا چین پر سرحد سے لاپتا نوجوان کو اغوا کرنے کا الزام وجود جمعه 21 جنوری 2022
بھارت کا چین پر سرحد سے لاپتا نوجوان کو اغوا کرنے کا الزام

بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا وجود جمعه 21 جنوری 2022
بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا

بھارتی آرمی چیف اور وزیر داخلہ کی گرفتاری کیلئے برطانیہ میں درخواست دائر وجود جمعرات 20 جنوری 2022
بھارتی آرمی چیف اور وزیر داخلہ کی گرفتاری کیلئے برطانیہ میں درخواست دائر

بھارت،کالج میں حجاب پہننے والی مسلم طالبات کو کلاس سے نکال دیا گیا وجود بدھ 19 جنوری 2022
بھارت،کالج میں حجاب پہننے والی مسلم طالبات کو کلاس سے نکال دیا گیا

سرحدی تنازع،نیپال کی بھارت سے سڑکوں کی یکطرفہ تعمیر روکنے کی اپیل وجود منگل 18 جنوری 2022
سرحدی تنازع،نیپال کی بھارت سے سڑکوں کی یکطرفہ تعمیر روکنے کی اپیل
ادبیات
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل وجود منگل 04 جنوری 2022
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل

پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی

غلاف کعبہ کی سلائی میں عربی کا ثلث فانٹ استعمال کرنے کی وضاحت جاری وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
غلاف کعبہ کی سلائی میں عربی کا ثلث فانٹ استعمال کرنے کی وضاحت جاری

دنیا کی 1500 زبانیں معدوم ہونے کا خطرہ وجود منگل 21 دسمبر 2021
دنیا کی 1500 زبانیں معدوم ہونے کا خطرہ

سقوط ڈھاکہ پر لکھی گئی نظمیں وجود جمعرات 16 دسمبر 2021
سقوط ڈھاکہ پر لکھی گئی نظمیں
شخصیات
دنیا کی کم عمر مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ کو بچھڑے 10 برس بیت گئے وجود هفته 15 جنوری 2022
دنیا کی کم عمر مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ کو بچھڑے 10 برس بیت گئے

مولانا طارق جمیل کی اپنے طوطےاور بلی کے ہمراہ دلچسپ ویڈیو وائرل وجود منگل 11 جنوری 2022
مولانا طارق جمیل کی اپنے طوطےاور بلی کے ہمراہ دلچسپ ویڈیو وائرل

ہے رشک ایک خلق کو جوہر کی موت پر ۔ یہ اس کی دین ہے جسے پروردگار دے وجود بدھ 05 جنوری 2022
ہے رشک ایک خلق کو جوہر کی موت پر        ۔ یہ اس کی دین ہے جسے پروردگار دے

سرگودھا کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ : مولانا اکرم طوفانی سپرد خاک وجود پیر 27 دسمبر 2021
سرگودھا کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ : مولانا اکرم طوفانی سپرد خاک

قائداعظم کے خطاب کا تحقیقی جائزہ (خواجہ رضی حیدر) وجود هفته 25 دسمبر 2021
قائداعظم کے خطاب کا تحقیقی جائزہ  (خواجہ رضی حیدر)