... loading ...
مری میں شدید برف باری اور سیاحوں کے رش کی وجہ سے گاڑیوں میں19افراد کی موت ہوگئی ، برفانی طوفان نے مزید مشکلات پیدا کر دیں، ہزاروں سیاحوں نے رات سڑک پر گزاری ،سیاحوں کو نکالنے کیلئے سول آرمڈ فورسز طلب کرلی گئی،انتہائی خرا ب صورتحال کے باعث سیاحتی مقام کو آفت زدہ قرار دیکر ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ،وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے مری کی صورتحال انتہائی خراب ہونے کے بعد سرکاری ریسٹ ہاؤسز اور سرکاری دفاتر کو سیاحوں کیلئے کھولنے کا حکم دیا ہے، مری کی جانب پیدل جانے والے راستے سمیت تمام راستے بھی بند کر دیئے گئے ،اسلام آباد سے مری گاڑیوں کا داخلہ اتوار کی رات 9 بجے تک بند رہے گا،صرف کمبل، ادویات اور کھانے پینے کا سامان لے جانے والوں کو جانے کی اجازت دی گئی ، مری اور گلیات میں سڑکوں پر جمی برف کو ہٹانے کیلئے نمک پاشی کی گئی جبکہ آزاد کشمیر ، گلگت بلتستان اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بارش اور پہاڑوں پر برف باری کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا ، کئی روز جاری سے برف باری کے باعث کئی علاقوںکا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا جس کے باعث اشیاء ضروریہ کی قلت پیدا ہوگئی ،بلوچستان سمیت کئی علاقوں میں کچے مکانات منہدم ہوگئے اور پانی گھروں میں داخل ہوگیا جس کے باعث مزید مشکلات کا سامنا رہا ،پاک فوج سمیت امدادی اداروں کی جانب سے امدادی کارروائیاں جاری رہیں ، کوئٹہ، زیارت شاہراہ آمدورفت کیلئے جزوی طور پر بحال کردی گئی۔ ہفتہ کو وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ رات سے ایک ہزار گاڑیاں مری میں پھنس گئیں انہوں نے بتایا کہ مری میں گاڑیوں میں 16 سے 19 افراد کی گاڑیوں میں اموات ہوئی ہیں۔شیخ رشید نے بتایا کہ مری میں ایف سی اور رینجرز کو بھی امدادی کارروائیوں کے لیے طلب کر لیا گیا ہے، اس کے علاوہ پاک فوج کے دستے بھی طلب کر لیے گئے ۔ انہوںنے کہاکہحکومت پنجاب، اسلام آباد کی انتظامیہ اور میں خود معاملے کو مانیٹر کر رہا ہوں اور حکومت کو اس معاملے پر آگاہ بھی کر رہا ہوں۔مری جانے والے تمام راستے بند کر دیے گئے ہیں، صرف کمبل، ادویات اور کھانے پینے کا سامان لے جانے والوں کو جانے کی اجازت ہو گی، پیدل جانے والوں کے لیے بھی راستے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ مری اور گلیات کی طرف جانے والے سیاحوں کو 17 میل انٹرچینج سے آگے جانے کی اجازت نہیں ، انتہائی ایمرجنسی کی صورت میں ہی شہریوں کو مری اور گلیات کی طرف سفر کرنے کی اجازت دی جائے گی۔دوسری جانب ذرائع نے بتایا کہ 10 سے 12 گاڑیاں کلڈنہ کے مقام پر پھنسی اور ابتدائی معلومات کے مطابق ایک ہی خاندان کے 10 افراد کی اموات کی اطلاعات موصول ہوئیں۔مری میں رواں سال ہونے والی برفباری کو 10 سالوں کی شدید برفباری قرار دیا گیا اور اس دوران ہونے والی اموات کو مری کی تاریخ کا سب سے المناک واقعہ بتایا گیا۔مری اور گلیات میں سڑکوں پر جمی برف کو ہٹانے کے لیے نمک پاشی کی جا رہی ہے تاکہ برف پگھلے تو سڑکیں کھولی جا سکیں۔ ذرائع کے مطابق ریسکیو 1122 کی جانب سے شدید سرد موسم میں سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہونے والے افراد کو نکالنے کی کوششیں کی جاتی رہیں تاہم راستے بند ہونے کی وجہ سے ریسکیو ٹیموں کو دشواری کا سامنا رہا۔ذرائع کے مطابق گزشتہ روز سے ہی راولپنڈی اور اسلام آباد کی انتظامیہ، پولیس اور دیگر ادارے ٹریفک بحال کرنے کی کوشش میں لگے رہے تاہم عوام کی اتنی بڑی تعداد ہے کہ پچھلے 12 گھنٹوں میں راستہ کھولنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔مری کے مقامی افراد سے اپیل گئی کہ سخت سردی میں گاڑیوں میں پھنسے لوگوں کو کمبل اور دیگر ضروری اشیا فراہم کریں۔محکمہ موسمیات کے مطابق مری میں 24 گھنٹوں کے دوران 17 انچ برفباری ریکارڈ کی گئی۔محکمہ موسمیات کے مطابق مری میں 3 جنوری سے اب تک 32 انچ برفباری ریکارڈ کی گئی جبکہ 94 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔مری میں اس وقت درجہ حرارت صفر ڈگری سینٹی گریڈ ، مری میں برفباری اور بارش کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ ہفتہ کو مری میں ہلکی برفباری جاری رہی جو اتوار صبح تک جاری رہنے کا امکان ہے ، مری میں دوپہر تک برفباری کا سلسلہ تھم جانے کا امکان ہے۔مری، گلیات اور آزاد کشمیر میں برفانی طوفان کے باعث محکمہ موسمیات نے 50 سے 90 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کا امکان ظاہر کر دیا۔ایمبولینس، سیکیورٹی گاڑیوں اور فائر فائٹرز کو الرٹ رہنے کا کہا گیاہے،ان علاقوں میں انتظامیہ نے وارننگ دی ہے کہ کسی بھی صورتِ حال سے بچنے کے لیے شہری گھروں سے باہر نہ نکلیں،خیال رہے کہ مری میں برفباری شروع ہوتے ہی ہزاروں سیاح سیاحتی مقام کی سیر کو پہنچ گئے تھے تاہم شدید برفباری کے باعث سڑکوں پر بدترین ٹریفک جام ہو گیا اور خواتین اور بچوں سمیت سیاحوں کی بڑی تعداد نے رات خون جما دینے والی سردی میں کھلے آسمان تلے گاڑیوں میں ہی گزاری۔ ایک اندازے کے مطابق اب تک سوا لاکھ سے زائد گاڑیاں شہر میں داخل ہوئیں جس کے باعث شدید رش اور سڑکوں پر بد ترین ٹریفک جام رہا ۔ادھر سیاحوں کا کہنا ہے کہ بچوں، خواتین اور بڑی عمر کے افراد کے ساتھ رش میں پھنسے ہوئے ہیں، بچوں کا دودھ اور دوائی بھی ختم ہو گئی، حکومت سے اپیل ہے کہ ہماری مدد کی جائے اور ہمیں یہاں سے نکالا جائے۔ادھر ڈپٹی کمشنر راولپنڈی نے بتایا کہ مسلسل برفباری کے باعث ہنگامی صورتحال پیدا ہوگئی اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے مری جانے والے راستے کو بہارہ کہو ٹول پلازہ سے بند کر دیا گیا ۔ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ ٹریفک میں پھنسے افراد کو نکالنے کیلئے انتظامیہ اور پولیس متحرک رہی اور عوام سے بھی اپیل کی گئی کہ موجودہ صورتحال میں مری کا رخ نہ کریںاس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق اسلام آباد سے مری گاڑیوں کا داخلہ اتوار کی رات 9 بجے تک بند رہے گا، مری میں برفباری اور ٹریفک جام کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا ہے، ایمبولینس، سکیورٹی کی گاڑیاں، فائر فائٹنگ گاڑیاں پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔دوسری جانب مری میں سیاحوں کے رش اور ٹریفک جام کے معاملے پر وزیراعلیٰ پنجاب نے نوٹس لے لیا اور متعلقہ حکام کو مری آنے اور جانے والے راستوں کی بحالی کا حکم دیدیا۔وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدارکی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر، سی پی او اور سی ٹی او راولپنڈی مری روانہ ہوگئے اور صورتحال کو مانیٹر کرتے رہے ڈپٹی کمشنر راولپنڈی اور اسسٹنٹ کمشنر مری کے دفتر میں کنٹرول روم قائم کر دیا گیا ہے۔دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے مری کی صورتحال انتہائی خراب ہونے کے بعد سرکاری ریسٹ ہاؤسز اور سرکاری دفاتر کو سیاحوں کے لیے کھولنے کا حکم دیا ہے۔وزیراعلیٰ نے انتظامیہ کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ پیدا شدہ صورتحال میں سیاحوں کو ہر ممکنہ طریقے سے ریلیف دیا جائے۔عثمان بزدار نے مری میں پھنسے لوگوں کو بحفاظت نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن تیز کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ سیاحوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں، سیاحوں کو ضروری امدادی اشیاء بھی فراہم کی جائیں اور سیاحوں کو ہر ممکنہ طریقے سے ریلیف دیا جائے۔وزیراعلیٰ نے راولپنڈی اور دیگر شہروں سے اضافی مشینری اور عملہ مری بھجوانے کی ہدایت کی ہے۔دوسری جانب مری،گلیات اور آزاد کشمیر میں برفانی طوفان نے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا۔مری، گلیات اور آزاد کشمیر میں برفانی طوفان کے بعد محکمہ موسمیات نے 50 سے 90 کلو میٹرفی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔انتظامیہ نے کسی بھی صورتحال سے بچنے کے لیے شہریوں کو بلا ضرورت گھروں سے نہ نکلنے کی ہدایت کی ہے۔انتظامیہ کے مطابق مری سے باہر موجود شہریوں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مری کا رْخ نہ کریں،اس کے علاوہ برفانی طوفان سے متاثرہ علاقوں میں لوگوں کے پاس کھانے پینے کی اشیا نہ ہونے کے برابر ہیں اور دواؤں کی قلت کا بھی سامنا رہا۔دریں اثناء خیبر پختون خوا کے شہر دیر بالا میں شدید برفباری سے چھت گرنے سے 5 افراد جاں بحق ہوگئے۔دیربالا کے علاقے ڈوگدرا میں شدید برفباری کے باعث گھرکی چھت گرگئی جس کے نتیجے میں ایک خاتون اور چار بچے جاں بحق ہوگئے جن کی لاشوں کو ملبے سے نکال لیا گیا ہے ادھر گلگت میں بارش اور برفباری سے لینڈ سلائیڈنگ کے باعث اسکردو جانے والی سڑک اور شاہراہ قراقرم متعدد مقامات پر بلاک ہوگئی،شدید برف باری کے باعث ہزارہ موٹر وے کوزہ بانڈہ سے بٹل تک بند کر دی گئی ،مری، گلیات اور گرد و نواح میں شدید برف باری اور بڑی تعداد میں سیاحوں کی آمد نے نظام درہم برہم کر دیا،منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے ہونے لگا، برف باری کے خوبصورت مناظر دیکھنے مری پہنچنے والے بچوں، خواتین اور بزرگوں سمیت ہزاروں سیاح پھنس کر رہ گئے۔دوسری جانب کوئٹہ، زیارت شاہراہ آمدورفت کے لیے جزوی طور پر بحال کردی گئی اور کان مہتر زئی ہائی وے سے برف ہٹانے کا آپریشن مکمل کرلیاگیاادھر گوجرانوالہ اور گجرات میں بارش کے باعث مکانوں کی چھتیں گرنے سے دوبچیوں اور سکیورٹی گارڈ سمیت 3افرادہلاک ہوگئے ہیں۔گوجرانوالہ کے علاقے حافظ آباد روڈ پربارش کے باعث مکان کی چھت گرنے سے دو بچیاں ہلاک اور ایک بچہ اور ان کا والد زخمی ہوگیا۔ ذرائع کے مطابق دونوں زخمیوں کو مقامی ہسپتال منتقل کردیا گیا ۔گجرات کے علاقے اصغرٹاؤن لالہ موسیٰ میں بھی بارش کے باعث مکان کی چھت گرگئی، ملبے تلے دب کر سکیورٹی گارڈ چل بسا۔محکمہ موسمیات کے مطابق مغربی ہواؤں کا سلسلہ کراچی سے نکل گیا، شہر میں موسم خوشگوار اور 16 جنوری تک سردی رہنے کا امکان ہے۔ دوسری جانب لاہور میں گزشتہ رات سے بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا جس کے باعث کئی گلیوں میں پانی جمع ہوگیا جس سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کر نا پڑا۔ بارش کے بعد سے فضائی آلودگی میں بھی کمی آگئی جس کے بعد دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں لاہور کا چھٹا نمبر ہوگیا۔
لاپتا شہریوں کی تعداد 86 ہوگئی،دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی، 30 لاشیں کراکری کی دکان سے ملیں،ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن اسی جگہ کی آئی تھی،ڈی آئی جی ساؤتھ لاشوں کی باقیات سرچ آپریشن کے دوران ملیں،ملبہ ہٹانے کا کام روک دیا گیا ہ...
ایم کیو ایم پر برستے برستے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کرکام کرنے کی دعوت قومی اسمبلی اجلاس میں تقریر کے دوران ایم کیو ایم پر شدید تنقید کر رہے تھے قومی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کے دوران آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی عبد القادر پٹیل کا لہجہ بدل گ...
اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے کامیابی حاصل ہو گی،پاکستان مشکلات سے باہر آ چکاہے شہباز شریف کی ڈیوس میں پاکستان پویلین میں بریک فاسٹ میں شرکت،شرکاء سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں، اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے...
غزہ کا بورڈ آف پیس نوآبادیاتی نظام کی نئی شکل، ٹونی بلیئر جیسے مجرم موجود ہیں فلسطینیوں کے وسائل اور زمینوں پر قبضے کانیانظام ہے، ایکس پر جاری بیان جماعت اسلامی پاکستان کے حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے غزہ کے لیے قائم بورڈ آف پیس میں شمولیت کے لیے امر...
چیف جسٹس کی زیر صدارت ماہانہ اصلاحات ایکشن پلان اجلاس،بار کے صدر، سیکریٹری دیگر حکام کی شرکت کیس کیٹیگرائزیشن کا عمل دوماہ میں مکمل ہو گا،سزائے موت ، فوجداری مقدمات کی جیل اپیلوں کا جائزہ،اعلامیہ سپریم کورٹ نے سزائے موت کی تمام زیر التوا اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ کر ...
جنگ بندی کے بعد پہلا بڑا اقدام،گھروں اور خیمہ بستیوں سے نکلنے کے احکامات جاری اسرائیلی فوج نے پمفلٹس گرائے ،اس میںلکھا تھا علاقہ اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہے اسرائیلی فوج نے اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد پہلی بار جنوبی غزہ میں فلسطینی خاندانوں کو اپنے گھروں اور خیمہ ب...
18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی اس کے نتیجے میں زیادہ تر اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع ہو گئے ہیں( خواجہ آصف)یہ آگ ہے، ہوجاتا ہے،شہلا رضا کا گل پلازہ آتشزدگی پر تبصرہ الطاف حسین کے گن مین گوگا نے ایک دکان کو دو میں تقسیم کیا( عبدالقادر پٹیل)جب گوگا پلازہ بنوا رہا تھا ی...
27 افراد کا پوسٹ مارٹم مکمل ،گلے میں پہنے لاکٹ کی مدد سے خاتون کو مصباح کے نام سے شناخت کر لیا ، تاجر تعاون کریں، ریڈ زون سے دور رہیں، دیگر حصے انتہائی کمزورہیں،ماہرین ایس بی سی اے ریسکیو اہلکاروں کو کوئی لاش نہیں ملی البتہ شک ہیعمارت کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی،وہاں راستہ ...
صوبے میں وہ ترقی نظر نہیں آتی جو دیگر صوبوں میں دکھائی دیتی ہے، شہباز شریف وفاق اور صوبے میںسرد جنگ کا تاثر درست نہیں،قومی ورکشاپ میں خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے گزشتہ 15 برس میں 800 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں، تاہم صوبے میں وہ ترقی نظر نہی...
داخلی سلامتی، قانون کی حکمرانی کیلئے مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پولیس ناگزیر ہے چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیشنل پولیس اکیڈمی، اسلام آباد کا دورہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیرچیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے کہا ہے کہ مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پ...
گل پلازہ آتشزدگی کوسانحہ قراردیاجائے، ہم چاہتے ہیں صوبائی حکومت کیساتھ تعاون کریں آئیے ملکرکراچی کو ممدانی کانیویارک بنائیں یا صادق خان کا لندن بنائیں،ایم کیو ایم رہنما ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ گل پلازہ میں نہیں کراچی کے ہرشہری کے دل میں آگ لگی ...
پورے ملک کی 90فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے، سینئر وزیر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی کمیٹی تمام جائزے لے کر اپنی رپورٹ دے گی، خصوصی گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پورے ملک کی 90 فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے۔کراچی...