وجود

... loading ...

وجود

ملک میں سالانہ 80 ٹن سونا اسمگلنگ کے ذریعے درآمد ہونے کا انکشاف

جمعه 07 جنوری 2022 ملک میں سالانہ 80 ٹن سونا اسمگلنگ کے ذریعے درآمد ہونے کا انکشاف

قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں ملک میں سالانہ 80 ٹن سونا اسمگلنگ کے ذریعے درآمد ہونے کا انکشاف ہوا اور بتایاگیا ہے کہ پاکستان میں سونا درآمد کرنے کی کوئی پالیسی اور ٹیکس نظام نہیں،صرف سونا ہی نہیں ڈائمنڈ بھی اسمگلنگ کے ذریعے آ رہا ہے جس پر ممبر ایف بی آر نے کہاہے کہ پاکستان میں سالانہ 160 ٹن سونا استعمال میں آتا ہے۔80 ٹن سونا مختلف ممالک سے اسمگلنگ کے ذریعے آ رہا ہے،پاکستان میں سونا کی مارکیٹ تقریباً 2.2 ٹریلین روپے کی ہے۔ایف بی آر میں صرف 29 ارب روپے گولڈ مارکیٹ ڈکلئیرڈ ہے،36 ہزار سوناروں میں سے صرف 54 گولڈسمتھ ٹیکس دیتے ہیں جبکہ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے سونے پر سیلز ٹیکس ڈیڑھ فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد کرنے کی تجویز مسترد کر دی۔ جمعرات کوسینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد طلحہ محمود کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی میں مالیاتی بل کا شق وارجائزہ لیاگیا۔ سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ مالیاتی بل پیش ہورہا ہے اور فنانس والے نہیں آئے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اگر بل کو مسترد کردیں تو پیغام یہی جائے گا کہ سینیٹ نے بل مسترد کردیا۔ قائمہ کمیٹی نے ڈریپ سے وٹامن کی ادویات کی تعریف طلب کی جس پر قائمہ کمیٹی کو ڈریپ کی جانب سے بریفنگ میں بتایا گیا کہ رجسٹرڈ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوگا اورپیکجنگ میٹریل اور یوٹیلٹیز پر ٹیکس پہلے سے موجود ہے۔ٹیکس بڑھنے سے عمومی طور پر ادویات کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوگا۔قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ضروری وٹامنز کی قیمتوں میں بھی اضافہ نہیں ہوگا جبکہ دیگر وٹامنز کی قیمتوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔گزشتہ دنوں 8 ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا۔چیئرمین ایف بی آر نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ ایف بی آر خود سے ادویات کی فہرست بناکر ٹیکس نہیں لگائے گا۔ وٹامن اے، بی، سی، ڈی پر ایف بی آر ٹیکس نہیں لگائے گا۔ سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ ادویات کے خام مال پر ٹیکس سے کمپنیوں کا سرمایہ پھنس جائے گا۔ چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ ملک میں ادویات کی صنعت ابتدائی مراحل میں ہے ان کا بھی یہی خدشہ ہے۔کمپنیاں سرمایہ پھنسنے کے بارے میں تحریری طور پر بتائے۔انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے وزیر خزانہ سے بات کریں گے کہ کمپنیوں کے سرمایہ کو تحفظ دیں۔ایف بی آر کمپنیوں کے تحفظات کی روشنی میں پالیسی بنائے گا۔سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ٹیکس لگتے ہی ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔ جس پر چیئرمین ایف بی آر نے جواب دیا کہ ہم قیمتیں بڑھنے نہیں دیں گے۔سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ ٹیکس کی رقم کے بجائے اسی مالیت کا چیک لینے کی پالیسی بنائی جائے۔سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ حکومت نے گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے اس کا براہ راست اثر عام آدمی پر پڑ رہا ہے۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں ضمنی مالیاتی بل پر چیئرمین ایف بی آر نے کمیٹی کو بریفنگ دی۔قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ درآمدی مال کی ویلیویشن میں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ماضی قریب میں کسٹم سٹاف کو دیئے گئے اختیارات واپس لئے گئے۔کسٹمز کو اختیارات قانونی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے دیئے گئے ہیں۔جس پر اراکین کمیٹی نے کہا کہ کلکٹر کے ویلیوشن اختیارات مکمل طور پر ختم کرنے کی سفارش ایف بی آر کو بھیجی جائے۔سینیٹر فیصل سبزواری نے کہا کہ میڈیا میں آرہا ہے کہ ضمنی مالیاتی بل کی وجہ سے مہنگائی بڑھے گی۔بتایا جائے کہ کیا کسٹم ایکٹ میں ترمیم بھی آئی ایم ایف کے کہنے پر آئی ہے۔جس پر چیئرمین ایف بی آرنے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ قانونی سقم دور کرنے کیلئے ایف بی آر اپنے طور پر ترامیم کر کے آیا ہے۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں کمپنیوں سے ٹیکس اور بنک گارنٹی نہ لینے کی سفارش کی گئی۔کاٹیج انڈسٹری کا ٹرن اوور 1 کروڑ سے کم کرکے 80 لاکھ روپے کرنے کا معاملہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں زیر بحث آیا۔چیئرمین ایف بی آر نے اس حوالے سے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ کاٹیج انڈسٹری پیکیج سے سیلز ٹیکس ادا کرنے والوں کی تعداد کم ہوگی۔آئی ایم ایف نے ہماری توجہ اس جانب دلائی ہے، اس پیکیج میں تبدیلی لازمی ہے۔ہمیں پہلے اپنا ہاؤس ان آرڈر کرنا ہوگا۔چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ ایسی اصلاحات لارہے ہیں کہ یہ آخری آئی ایم ایف پروگرام ہوگا۔ایک کروڑ کی کاٹیج سیلز ٹیکس گزاروں کی تعداد کم کرتی ہے۔سینیٹر مصدق ملک نے کہا کہ ایک کروڑ روپیہ اب ڈالر کے مقابلے میں 40 فیصد رہ گیا ہے۔کاٹیج انڈسٹری کی سیلنگ کم کرنے سے کاروبار بند ہو جائے گا۔ سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ایف بی آر اس شق کو تبدیل کرکے ہمیں ارسال کریں۔ہم آپ کو تبدیل شدہ شق ارسال کریں گے۔سینیٹر انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ ٹیکس بڑھانے اور بھتہ لینے میں فرق ہونا چاہیے۔ہمیں ٹیکس بڑھانے کیلئے ٹیکس حکام کی بھتہ خوری ختم کرنی چاہیے۔ٹیکس قوانین میں اصلاح کی اشد ضرورت ہے۔قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں ملک میں سالانہ 80 ٹن سونا سمگلنگ کے ذریعے درآمد ہونے کا انکشاف ہوا۔گولڈ ایسوسی ایشن حکام نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان میں سونا درآمد کرنے کی کوئی پالیسی اور ٹیکس نظام نہیں۔صرف سونا ہی نہیں ڈائمنڈ بھی سمگلنگ کے ذریعے آ رہا ہے۔جس پر ممبر ایف بی آر نے کہا کہ پاکستان میں سالانہ 160 ٹن سونا استعمال میں آتا ہے۔80 ٹن سونا مختلف ممالک سے سمگلنگ کے ذریعے آ رہا ہے۔پاکستان میں سونا کی مارکیٹ تقریباً 2.2 ٹریلین روپے کی ہے۔ایف بی آر میں صرف 29 ارب روپے گولڈ مارکیٹ ڈکلئیرڈ ہے۔36 ہزار سونار وں میں سے صرف 54 گولڈسمتھ ٹیکس دیتے ہیں۔قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے سونے پر سیلز ٹیکس ڈیڑھ فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد کرنے کی تجویز مسترد کر دی۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں وقفے کے بعد اراکین کمیٹی نے وفاقی وزیر خزانہ، چیئرمین ایف بی آر اور سیکرٹری خزانہ کی کمیٹی اجلاس میں عدم موجودگی پر برہمی کا اظہار کیا۔ سینیٹر مصدق مسعود ملک نے کہا کہ اگر وفاقی وزیر خزانہ، سیکرٹری خزانہ اور چیئرمین ایف بی آر موجود نہیں تو ہمارے یہاں بیٹھے کاکیا مقصد ہے۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد طلحہ محمود نے کہا کہ ان کی وزیر خزانہ سے بات ہوئی وہ آنے کو تیار ہیں۔میں نے ان سے کہا ہے کہ ہماری سفارشات کو منظور کرنا ہوگا۔ جس پر سینیٹر مصدق مسعود ملک نے کہا کہ اگر مشیر خزانہ اور اس کی ٹیم موجود نہیں ہے تو ہم کس کے سامنے اپنی سفارشات رکھیں گے۔سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ ایف بی آر ایک کرپٹ ادارہ ہے، 450 ارب روپے کھا لیتے ہیں۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ایک کمیٹی بننی چاہئے جو ٹیکس کلیکٹر اور انسپکٹرز کی جانچ کرے کہ ان کے پاس کروڑوں روپے کہاں سے آجاتے ہیں جبکہ ان کی تنخواہ 1 لاکھ روپے تک ہوگی۔سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ جب تک ایف بی آر اپنا رویہ ٹھیک نہیں کرے گا تو لوگ ٹیکس نہیں دیں گے۔قائمہ کمیٹی نے متفقہ طور پر فارمولا ملک پر 17 فیصد ٹیکس لگانے کی تجویز مسترد کردی۔ممبر ایف بی آر نے کہاکہ فارمولا ملک ایک فیشن بن گیا ہے۔سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ اگر قیمت بڑھے گی تو غریب مائیں اپنے بچوں کو دودھ نہیں پلا سکیں گی اگر چار بچے بھی وفات پا جاتے ہیں وہ ہماری وجہ سے ہوں گے۔سینیٹر ز فیصل سبزواری، فاروق ایچ نائیک اور کامل علی آغا نے کہا کہ بچوں سے وہ نوالہ جو زندگی ہے نا چھینے۔اگر سبسڈی دینی ہی ہیں تو غریب کو دیں۔سب کو کیوں بھکاری بنا رہے ہیں۔اگر سبسڈی دینی ہے تو چیزیں سستی کریں۔اگر ان کا بس چلے تو ہوا پر بھی ٹیکس لگا دیں۔ٹارگیٹڈ سبسڈی لگائیں۔سولر پینلز پر بھی 17 فیصد ٹیکس لگا دیا ہے۔ممبر ایف بی آر نے قائمہ کمیٹی کوبتایا کہ درآمدی سائیکل پر بھی ٹیکس لگانے جا رہے ہیں۔جس پر قائمہ کمیٹی نے 25 ہزار روپے تک درآمدی سائیکل پر ٹیکس نا لگانے اور اس سے زائد رقم کی درآمدی سائیکل پر ڈیوٹی لگانے کی تجویز دی۔قائمہ کمیٹی نے درآمدی مرغی پر 17 فیصد ٹیکس لگانے کی ایف بی آر کی تجویز منظور کر لی۔ممبرایف بی آر نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ ہسپتالوں، تعلیمی اداروں کو عطیہ کرنے والی اشیائ پر بھی 17 فیصد ٹیکس لگانے جا رہے ہیں۔جس پر سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ یہ چیریٹی کا کام ہے 17 فیصد ٹیکس لگانے سے تو لوگ چندہ اور مدد کرنا بند کرلیں گے۔قائمہ کمیٹی نے چندہ کے طور پر عطیہ کرنے والی اشیائ پر 17 فیصد ٹیکس لگانے کی تجویز مسترد کردی۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمدطلحہ محمود نے کہا کہ اگر میں ہسپتال کو مشین عطیہ کرتا ہوں اور اس پر ٹیکس دینا پڑ جائے تو میں عطیہ نہیں کروں گا۔قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے مانع حمل سے متعلق ادویات پر بھی سیلز ٹیکس لگانے کی تجویزبھی مسترد کردی۔ممبر ایف بی آر نے کہا کہ مانع حمل کی ادویات پر پچھلے فنانس بل میں ٹیکس چھوٹ دی گئی تھی اس کو اب ٹیکس نیٹ میں لا رہے ہیں۔قائمہ کمیٹی نے مانع حمل کی ادویات کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی تجویز مسترد کر دی۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں قائد ایوان سینیٹ سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم، سینیٹر ز فاروق ایچ نائیک،مصدق مسعودملک،کامل علی آغا، شیری رحمان،فیصل سبزواری، محسن عزیز، فیصل سلیم، دلاور خان، ذیشان خانزادہ، سلیم مانڈوی والا، انوار الحق کاکڑکے علاوہ چیئرمین ایف بی آر،ممبر ایف بی آر اور دیگر متعلقہ اداروں کے حکام نے شرکت کی۔


متعلقہ خبریں


تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے وجود - هفته 29 نومبر 2025

پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کر انے وانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ''بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائو '' کے نعرے لگا ئے جبکہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ جمعہ کو سی...

تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور وجود - هفته 29 نومبر 2025

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل فیکٹری ناکے پر جاری دھرنا جمعہ کی صبح ختم کر دیا ۔ دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ علامہ ناصر عباس کے آنے کے بعد ہونے والی مشاورت میں کیا گیا، علامہ ناصر عباس، محمود اچکزئی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، مینا خان، شاہد خٹک اور مشال یوسفزئی مشاو...

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان وجود - هفته 29 نومبر 2025

  واشنگٹن واقعہ عالمی سطح پر دہشت گردی کی واپسی کو ظاہر کرتا ہے عالمی برادری افغان دہشت گردی کو روکنے کے لیے اقدامات کرے ،تین چین باشندوں کی ہلاکت کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے راج ناتھ کا بیان سرحدوں کے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ، بھارتی بیانات خام خیا...

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط وجود - هفته 29 نومبر 2025

4 نومبر سے اہل خانہ کی ملاقات نہیں ہوئی،عمران خان کی صحت پر تشویش ہے، علیمہ خانم عمران خان کی صحت پر تشویش کے حوالے سے علیمہ خان نے صوبائی محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط لکھ دیا۔میڈیارپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ اور آئی...

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کے نئے فیچر ‘لوکیشن ٹول’ نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی، جس کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ درجنوں اکاؤنٹس سیاسی پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد بھارتی اکاؤنٹس، جو خود کو اسرائیلی شہریوں، بلوچ قوم پرستوں اور اسلا...

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

کارونجھر پہاڑ اور دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس تک ریلیاں نکالی گئیں سندھ ہائیکورٹ بارکے نمائندوں سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم، کارونجھر پہاڑ اور د...

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

معاشی استحکام، مسابقت، مالی نظم و ضبط کے لیے اصلاحات آگے بڑھا رہے ہیں 11ویں این ایف سی ایوارڈ کا پہلا اجلاس 4 دسمبر کو ہوگا، تقریب سے خطاب وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ 54 ہزار خالی اسامیاں ختم کی گئی ہیں، سالانہ 56 ارب روپے کی بچت ہوگی، 11ویں این ایف سی...

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  پاکستان نے افغانستان میں گزشتہ شب کوئی کارروائی نہیں کی ، جب بھی کارروائی کی باقاعدہ اعلان کے بعد کی، پاکستان کبھی سویلینز پرحملہ نہیں کرتا، افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے ملک میں خودکش حملے کرنے والے سب افغانی ہیں،ہماری نظرمیں کوئی گڈ اور بیڈ طالب...

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  خلفائے راشدین کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا رہا ہے تو کیا یہ ان سے بھی بڑے ہیں؟ صدارت کے منصب کے بعد ایسا کیوں؟مسلح افواج کے سربراہان ترمیم کے تحت ملنے والی مراعات سے خود سے انکار کردیں یہ سب کچھ پارلیمنٹ اور جمہورہت کے منافی ہوا، جو قوتیں اس ترمیم کو لانے پر مُصر تھیں ...

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس وجود - بدھ 26 نومبر 2025

حکام نے وہ جگہ شناخت کر لی جہاں دہشت گردوں نے حملے سے قبل رات گزاری تھی انٹیلی جنس ادارے حملے کے پیچھے سہولت کار اور سپورٹ نیٹ ورک کی تلاش میں ہیں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر ہونے...

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس

مضامین
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا وجود هفته 29 نومبر 2025
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا

وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں وجود هفته 29 نومبر 2025
وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں

منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ وجود جمعه 28 نومبر 2025
منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ

بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث وجود جمعه 28 نومبر 2025
بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث

بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ وجود جمعرات 27 نومبر 2025
بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر