... loading ...
مولانا محمد علی جوہر تاریخ کا ایک لہکتا استعارہ ہے۔اُن کے بغیر برصغیر کی آزادی کی تاریخ مکمل نہیں ہوتی۔اُنہوں نے مسلمانانِ ہند کے اندر جوش، خروش، ہوش، حرکت ، حرارت، زندگی و تابندگی بھردی تھی۔ مولانا محمد علی جوہر نے استعمار کے خلاف عوام میں حقیقی شعور پیدا کیا۔ اُنہوں نے ہی نوآبادیاتی نظام کو چیلنج کرنے کا حوصلہ دیا۔ جس سے مسلمانوں میں بیک وقت ملی اور قومی تشخص کے احساس کو فروغ ملا۔ مولانا محمد علی جوہر نے برصغیر میں ”تحریکِ خلافت“ کے نام سے ایک منفرد مزاحمتی تحریک شروع کی۔وہ برصغیر میں انگریزوں کے خلافت ِ عثمانیہ کے خاتمے کے اسلام دشمن منصوبے کے خلاف استقامت کا پہاڑ بن کر کھڑے ہوئے۔ یہ نئی دنیا کی تشکیل کے ماہ وسال تھے جب انگریز مسلمانوں کے عالمی مقام کو چھین کر وسائل کو ہتھیانے کی ایک نہ ختم ہونے والی جنگ شروع کررہا تھا۔ مولانا جوہر اس بدلتی دنیا میں آزادی کے مفہوم کے ساتھ مسلمانوں کے عالمی اتحاد اور شعوروعمل کی سطح پر نئے ورلڈ ویو کے تقاضوں کو سمجھتے تھے اور مسلمانوں کو اس کے لیے تیار کررہے تھے۔اُنہوں نے ایک ہفت روزہ انگریزی اخبار کامریڈ اور اردو روزنامہ ہمدرد کا بھی اجراءکیا ، جس میں اُن کی انگریزی اور اردو انشاءپردازی کا بیک وقت چرچا ہوا۔اس طرح صحافت کے ذریعے مولانا محمد علی جوہر نے خلافت کے حق میں معرکتہ آلارا تحریریں رقم کیں۔ تحریک خلافت بھی اسی مقصد کی عکاس تھی جس نے خلافت عثمانیہ کے ہدف کو برصغیر کی سرزمین سے اتنا مشکل بنا دیاکہ انگریز وائسرائے کوتب کے برطانوی وزیراعظم لائٹ جارج کو یہ پیغام بھیجنا پڑا کہ ”اگر ترکوں کے حوالے سے برطانوی حکمت عملی تبدیل نہ ہوئی تو ہندوستان میں حکومت کرنا مشکل ہوجائے گا“۔ آج بھی ترکوں میں پاکستان اور مسلمانانِ برصغیر کے لیے جو عزت و احترام پایا جاتا ہے، وہ محمد علی جوہر کی ہی گراں مایہ خدمات کی بدولت ہے۔ درحقیقت تحریک پاکستان میں بھی حقیقی روح تحریک خلافت نے ہی پھونکی تھی۔ اب یہ بات تحقیق سے ثابت ہوچکی ہے کہ مسلم لیگ جو اشرافیہ کا ایک کلب تھا، اس میں عوامی روح تحریک خلافت کے رہنماؤں اور کارکنوں نے پھونکی۔ مولانا ظفر علی خان، سردار عبدالرب نشتر ، مولانا عبدالحمید خان بھاشانی، چودھری خلیق الزماں اور عبداللہ ہارون دراصل تحریک خلافت کے ہی وابستگان تھے، جو آل انڈیا مسلم لیگ میں شامل ہو کر تحریک پاکستان میں ایک نئی زندگی دوڑانے کا سبب بنے۔مولانا جوہر کی شریک حیات اور اُن کے بھائی مولانا شوکت علی نے بھی آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی اور قائد اعظم کا دست وبازو بنے۔ ان سے قبل مسلم لیگ اشرافیہ کا محض ایک کلب تھی۔یہ مسلم لیگ کے احیاءکا دور کہا جاتا ہے۔ مولانا جوہر کی مقناطیسی شخصیت کے سحر واثر کا اندازا اس امر سے لگانا چاہئے کہ اُن کے انتقال کے چھ سال بعد 1937ءمیں قائد اعظم کی آمد پر جن شہروں میں بھی پوسٹر آویزاں کیے جاتے، تو اس پر یہ لکھا ہوتا: ملا تخت ِ سیاست۔ محمد علی سے محمد علی کو“۔ اس اعتبار سے مولانا محمد علی جوہر بزمِ بانیانِ پاکستان میں شامل تھے۔ ملکی آزادی اُن کا مشن تھی، تحریک خلافت اُن کا مقصد۔اُن کی بھرپور زندگی میں فروغِ تعلیم اور ترویجِ اردو کے اہداف بھی شامل رہے۔ مولانا جوہرنے لندن گول میز کانفرنس میں اپنی تاریخی تقریر میں انگریزوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایک غیر مگر آزاد ملک میں مرنے کو ترجیح دیں گے، مگر اپنے غلام ملک واپس نہیں جائیں گے، اگر آپ ہندوستان میں ہمیں آزادی نہیں دیتے تو پھر یہاں آپ کو قبر دینا پڑے گی“۔ ایسا ہی ہوا۔مولانا محمد علی جوہر 4 جنوری 1931کو ساڑھے نو بجے صبح لندن کے ہائیڈ پارک ہوٹل میں دوران قیام ہی زندگی کی سانسیں ہار بیٹھے۔ مفتی اعظم فلسطین سید امین الحسینی کی خواہش کے احترام میں مولانا کے جسد خاکی کو پیغمبروں کے سرزمین فلسطین لے جایا گیا جہاں وہ قبلہ اوّل بیت المقدس میں متعدد انبیاء کے نورانی حلقے میں آرام فرما ہیں۔وہ بہت اچھے شاعر تھے، اُن کا یہ شعر زباں زدِ عام وخاص ہے کہ
توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے ۔ یہ بندہ دو عالم سے خفا میرے لیے ہے
مولانا محمد علی جوہر کا یہ شعر تو ضرب المثل بن گیا کہ
قتلِ حسین اصل میں مرگِ یزید ہے ۔ اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
مذاکرات کا دوسرا مرحلہ جمعہ سے پہلے متوقع، اسلام آباد کے ہوٹلز کو مہمانوں سے خالی کروانے کا فیصلہ ، کسی نئی بکنگ کی اجازت نہیں، ریڈ زون کی سڑکیں عارضی طور پر بند، ذرائع ایران سے ایک یا دو دن میں معاہدہ طے پانے کا امکان ، میرے نمائندے آج اسلام آباد پہنچ جائیں گے، میں شاید بعد م...
پاکستان ہمارا گھر، کسی جاگیردار یا بیوروکریٹس کی ملکیت نہیں، امریکی صدرٹرمپ کی سفارتکاری دیکھیں ایسا لگتا ہے کوئی بدمعاش ہے، الفاظ اور لہجہ مذاکرات والا نہیں،سربراہ جے یو آئی جب تک فارم 47 کی غیرفطری حکمرانی رہے گی، تب تک نہ تو مہنگائی کم ہوگی اور نہ ہی حقیقی استحکام آئے گا، غ...
محکمہ تعلیم سندھ نے مخصوص مونوگرام یا لوگو والی نوٹ بکس خریدنے کی شرط بھی غیر قانونی قرار دیدی اسکول کے اندر کسی قسم کا اسٹال یا دکان لگا کر اشیا بیچنا اب قانونا جرم ہو گا،محکمہ تعلیم کا نوٹیفکیشن جاری نجی اسکولوں میں پڑھنے والے طلبا کے والدین کو بڑا ریلیف مل گیا،اسکول انتظام...
شہباز شریف سے فون پر گفتگو،وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی امن کوششوں پر اظہار تشکر خوشگوار گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں کا خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال وزیراعظم شہباز شریف کا صدرِ اسلامی جمہوریہ ایران سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آج شام اسلا...
چیئرمین پی ٹی آئی نے اعتماد سازی کیلئے بانی کی فیملی، کوٹ لکھپت جیل میں اسیر رہنماؤں سے ملاقاتیں شروع کردیں،بانی پی ٹی آئی کی فیملی جیل کے باہر متنازع گفتگو نہ کرنے پر راضی ہوگئی پارٹی بشریٰ بی بی کے ایشو کو لیکر کوئی متنازع پریس کانفرنس نہیں کرے گی، سوشل میڈیا پیغامات جاری ن...
عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دبائو کومودی سرکار نے سرتسلیم خم کرلیا بھارت کی خارجہ پالیسی واشنگٹن کے رحم وکرم پرہے، بھارتی چینلاین ڈی ٹی وی عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دباؤ کیسامنے مودی سرکار نے سرتسلیم خم کردیا ہے۔ بھارتی چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق امریکہ ن...
سندھ حکومت فسطائیت بند کرے، کراچی والے اپنا حق مانگتے رہیں گے تو کیا کل شہریوں کو یہ نعرہ لگانے پر گرفتار بھی کیا جائے گا، حافظ نعیم الرحمن امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کراچی میں حق دو کراچی کے بینرز چھاپنے پر دکانیں سیل کرنے کی دھمکی دے ...
رجب طیب ایردوان ودیگر سے عالمی سطح اور خطے کی کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال وزیرِ اعظم شہبازشریف نے ترک صدر رجب طیب ایردوان، میر قطر شیخ تمیم بن حمد آلثانی قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف، آذربائیجان کے صدر الہام علیئف، شامی صدر احمد الشرح سے ملاقاتیں کیں۔وزیر اعظم کی قطر ک...
وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں رجب طیب ایردوان ودیگر سے عالمی سطح اور خطے کی کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال وزیرِ اعظم شہبازشریف نے ترک صدر رجب طیب ایردوان، میر قطر شیخ تمیم بن حمد آلثانی قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف، آذر...
لبنان میں جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز سیزفائر کی مدت کے دوران تجارتی بحری جہازوں کیلئے کھلی رہے گی، ایرانی پورٹ اور میر ی ٹائم آرگنائزیشن کے طے کردہ راستوں سے گزرنا ہوگا، عباس عراقچی بحری ناکہ بندی پوری طاقت سے برقرار رہے گی، یہ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ایران سے ہمارا لین دین...
مذاکرات صرف پاکستان میں ہوں گے، کہیں اور نہیں ،ایران خطے میں بالادستی نہیں چاہتا خودمختاری کا تحفظ چاہتا ہے، پاکستان غیر جانبدار ثالث قرار،ایرانی سفیرکا خطاب ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کا کہنا ہے کہ ہم پاکستان پر اعتماد کرتے ہیں، امریکا پر نہیں۔ مذاکرات صرف پاکستان میں ہوں گے...
صدر ٹرمپ تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی اجازت نہیں دیں گے پابندیوں سمیت دیگر اقدامات بدستور زیرِ غور ہیں، ڈپٹی چیف آف اسٹاف وائٹ ہائو س کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ معاہدے کے خواہاں ہیں اور پرامن حل کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم وہ تہران ک...