... loading ...
دنیا میں اس وقت بولی جانے والی کم ازکم 1500 زبانیں ایسی ہیں جن کے بارے میں ماہرین کو خدشہ ہے کہ وہ اس صدی کے آخر تک ختم ہو جائیں گی، کیونکہ انہیں بولنے والا کوئی فرد باقی نہیں رہے گا۔جن زبانوں کے مٹنے کا خطرہ ہے، وہ بالعموم بول چال کی زبانیں ہیں اور ان کا کوئی رسم الخط نہیں ہے۔ ان کے بولنے والے بہت کم رہ گئے ہیں اور ان کی اولادیں اپنی مادری زبان پر مروجہ زبانوں کو ترجیح دیتی ہیں۔دنیا بھر میں بولی جانے والی زبانوں کی صحیح تعداد کسی کو بھی معلوم نہیں ہے، لیکن ماہرین کے مطابق، باقاعدہ تسلیم شدہ زبانوں کی تعداد 7000 کے لگ بھگ ہے، جن میں سے ڈیڑھ ہزار زبانیں اپنے خاتمے کی جانب بڑھ رہی ہیں۔
آسٹریلیا میں زبانوں کے ماہرین کی قیادت میں ہونے والی ایک تحقیق کے نتائج حیاتیات اور ارتقا سے متعلق سائنسی جریدے ’نیچر ایکولوجی اینڈ ایولوشن‘میں جمعے کے روز شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں شامل کیے گئے ہیں۔آسٹریلوی محققین کا کہنا کہ دنیا میں جیسے جیسے سڑکوں کا جال وسیع ہو رہا ہے اور شہر دور افتادہ علاقوں سے جڑتے جا رہے ہیں، شہروں میں بولی جانے والی ترقی یافتہ زبانیں،مثال کے طور پر انگریزی وغیرہ، دیہی علاقوں کی مقامی زبانوں پرحاوی ہوتی جا رہی ہیں، جس سے مقامی زبانوں کے پنپنے کی راہیں مسدود ہو رہی ہیں۔محققین کا کہنا ہے کہ مقامی زبانوں کے مٹنے کے خطرے کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ تعلیمی اداروں میں دو زبانوں میں تعلیم دینے کا سلسلہ ترک کیا جا رہا ہے اور صرف ترقی یافتہ زبانوں کو ہی اہمیت دی جا رہی ہے،جس کا نقصان چھوٹی آبادیوں میں بولی جانے والی زبانوں کو پہنچ رہا ہے۔آسٹریلیا کے ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ مقامی زبانوں اور بولیوں کو نقصان پہنچانے میں آسٹریلیا کا ریکارڈ سب سے خراب ہے اور اس ملک کی مقامی بولیوں کو دنیا بھر میں سب سے زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے۔یورپ کی نوآبادی بننے کے دور سے پہلے آسٹریلیا میں 250 زبانیں بولی جاتی تھیں، جن کی تعداد گھٹ کر اب محض 40 رہ گئی ہے اور ان میں سے صرف ایک درجن مقامی زبانیں بچوں کو پڑھائی جا رہی ہیں۔اس تحقیق میں شامل آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف کوئنز لینڈ کے پروفیسر فیلیسیٹی میکنز کہتے ہیں کہ علاقائی زبانوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ نوآبادیات اور عالمگیریت کا ایک جاری عمل ہے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہے کہ کوئی سی بھی زبان بولنے والی کمیونٹی کی اپنی ایک تاریخ اور تجربات و مشاہدات ہیں۔اور دنیا میں بہت سی جگہوں پر، نوآبادیاتی نظام کی بے رحمانہ پالیسیوں کے ذریعے، جنہیں زبانوں کو دبانے کے لیے تشکیل دیا گیا تھا، مقامی زبانوں کو خاموش کرایا جاتا رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم آسٹریلیا کو سامنے رکھیں تو یہاں لوگوں کو اپنی مقامی زبان بولنے پر سزائیں دیں گئیں اور ان کے لیے یہ تجربات حقیقتاً تکلیف دہ تھے، جن کے اثرات مقامی آبادیوں کی زبانوں کی صلاحیت پر منتقل ہوئے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ ایک ایسے وقت میں، جب کہ اقوام متحدہ کا تعلیم، سائنس اور ثقافت سے متعلق ادارہ یونیسکو، 2022 سے مقامی زبانوں کا عشرہ منانے کی تیاری کر رہا ہے۔ یہ اس بات کی بھی یقین دہانی ہے کہ مٹنے کے خطرے سے دوچار زبانوں کو بچانے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔پروفیسر میکنز کے الفاظ میں ہر زبان اپنے انداز کی ایک شاندار زبان اور انسانی ثقافتی رنگارنگی کا ایک اہم حصہ ہے۔
18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی اس کے نتیجے میں زیادہ تر اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع ہو گئے ہیں( خواجہ آصف)یہ آگ ہے، ہوجاتا ہے،شہلا رضا کا گل پلازہ آتشزدگی پر تبصرہ الطاف حسین کے گن مین گوگا نے ایک دکان کو دو میں تقسیم کیا( عبدالقادر پٹیل)جب گوگا پلازہ بنوا رہا تھا ی...
27 افراد کا پوسٹ مارٹم مکمل ،گلے میں پہنے لاکٹ کی مدد سے خاتون کو مصباح کے نام سے شناخت کر لیا ، تاجر تعاون کریں، ریڈ زون سے دور رہیں، دیگر حصے انتہائی کمزورہیں،ماہرین ایس بی سی اے ریسکیو اہلکاروں کو کوئی لاش نہیں ملی البتہ شک ہیعمارت کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی،وہاں راستہ ...
صوبے میں وہ ترقی نظر نہیں آتی جو دیگر صوبوں میں دکھائی دیتی ہے، شہباز شریف وفاق اور صوبے میںسرد جنگ کا تاثر درست نہیں،قومی ورکشاپ میں خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے گزشتہ 15 برس میں 800 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں، تاہم صوبے میں وہ ترقی نظر نہی...
داخلی سلامتی، قانون کی حکمرانی کیلئے مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پولیس ناگزیر ہے چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیشنل پولیس اکیڈمی، اسلام آباد کا دورہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیرچیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے کہا ہے کہ مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پ...
گل پلازہ آتشزدگی کوسانحہ قراردیاجائے، ہم چاہتے ہیں صوبائی حکومت کیساتھ تعاون کریں آئیے ملکرکراچی کو ممدانی کانیویارک بنائیں یا صادق خان کا لندن بنائیں،ایم کیو ایم رہنما ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ گل پلازہ میں نہیں کراچی کے ہرشہری کے دل میں آگ لگی ...
پورے ملک کی 90فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے، سینئر وزیر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی کمیٹی تمام جائزے لے کر اپنی رپورٹ دے گی، خصوصی گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پورے ملک کی 90 فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے۔کراچی...
پہلی منزل کی تلاش مکمل، دوسری منزل پر لوگوں کی تلاش جاری تھی کہ اس دوران دوبارہ آگ بھڑک اٹھی، اب تک مرنے والوں میں ایک خاتون اور دیگر تمام مرد ہیں، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری لاپتا افراد میں کئی خواتین بھی شامل ہیں،غلطی ہوگئی ہو تو معاف کردینا' گل پلازہ میں پھنسے دکاندار کا آخ...
اپوزیشن لیڈر کا منصب سنبھالنے کے بعد پہلی ہی تقریر میں ایوان کو مضبوط بنانے کا مطالبہ، حکومت کا مشروط ساتھ دینے کا عندیہ دے دیا، ہمیں اپنی چادر چار دیواری کا تحفظ کرنا ہوگا بھارت نے پارلیمان کو مضبوط کیا وہ کہاں سے کہاں چلے گئے، ہم نے جمہوریت کو کمزور کیا تو کہاں پہنچ گئے، وینزو...
گل پلازہ واقعے کے بعد ریسکیو کا کام اور امدادی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ آگ کس وجہ سے لگی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ریسکیو گل پلازہ کو آگ ...
واقعے کی تحقیقات کروائی جائیں، ذمے داروں کو سخت سزا دی جانی چاہیے، اپوزیشن لیڈر یہاں سیکڑوں شہری قتل ہورہے ہیں کسی نے اپنا ناشتہ تک نہیں چھوڑا، سیمینار سے خطاب قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ گل پلازا میں آگ لگی، کیوں باہر نکلنے کا راستہ نہیں تھا؟ ...
عمارت کے دو حصے منہدم ہوگئے، لاپتا افراد میں خواتین اور بچے شامل، 30 افراد زخمی،18 کی حالت تشویش ناک، گراؤنڈ فلور کی تمام دکانیں اور گودام آگ کی لپیٹ میں ہیں،چیف فائر آفیسر ایک ہزار سے زائد دکانیں شدید متاثر ، آگ پر 90 فیصد تک قابو پالیا،فائر بریگیڈ کی 20 سے زائد گاڑیوں نے ح...
حکومت ڈنڈے کے زور پر بلڈنگ سیفٹی کے قوانین نافذ نہیں کرواسکتی، صوبائی وزیر اس حادثے سے ہم نے سبق سیکھا ہے، حکومت ذمہ داری ادا کرے گی،سعید غنی کی گفتگو سندھ حکومت نے گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان کردیا۔ اس حوالے سے صوبائی وزیر سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ...