وجود

... loading ...

وجود
وجود

ویکسینیشن کرانے والے 2 مسافروں میں کافی فاصلے کے باوجود اومیکرون پھیل گیا

بدھ 08 دسمبر 2021 ویکسینیشن کرانے والے 2 مسافروں میں کافی فاصلے کے باوجود اومیکرون پھیل گیا

ہانگ کانگ کے ایک قرنطینہ ہوٹل میں ویکسینیشن مکمل کرانے والے 2 مسافروں میں کافی فاصلے کے باوجود کورونا کی نئی قسم اومیکرون پھیل گیا اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا بھر کے طبی ماہرین اس کے لیے اتنے پریشان کیوں ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ بات ہانگ کانگ میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔ہانگ کانگ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج سے ثابت ہوا کہ دونوں میں سے کوئی بھی فرد نہ تو اپنے کمرے سے باہر نکلا اور نہ ہی ان کا کسی اور رابطہ ہوا۔تحقیق میں بتایا گیا کہ اس سے عندیہ ملتا ہے کہ ہوا کے ذریعے اومیکرون کا پھیلا اس وقت ہوا جب کھانے لینے یا کووڈ ٹیسٹنگ کے دوران ان کے کمروں کے دروازے کھولے گئے۔ہانگ کانگ میں ہونے والی تحقیق میں شامل ماہرین کا کہنا تھا کہ قرنطینہ ہوٹل میں ایک دوسرے سے کافی دور مقیم ایسے افراد جن کی ویکسینیشن مکمل ہوچکی تھی، میں اومیکرون کی تشخیص سے خدشات پیدا ہوتے ہیں۔جنوبی افریقہ میں کورونا کی اس نئی قسم کو سب سے پہلے شناخت کیا گیا تھا اور وہاں نومبر کے آخر سے کووڈ کیسز کی تعداد میں ڈرامائی اجافہ ہوا ہے۔جنوبی افریقہ سے باہر بھی درجنوں ممالک میں اب تک اومیکرون کے کیسز کی تصدیق ہوچکی ہے۔جنوبی افریقہ میں اومیکرون سے متاثر بیشتر افراد میں بیماری کی شدت معمولی دریافت ہوئی مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی کوئی نتیجہ نکالنا قبل از وقت ہوگا اور تحقیقی رپورٹس کے اجرا تک کورونا کی یہ نئی قسم ایک نامعلوم خطرہ ہی ہے۔تحقیق میں بتایا گیا کہ دونوں مسافروں میں سے ایک 11 نومبر کو جنوبی افریقہ سے ہانگ کانگ پہنچا تھا جبکہ دوسرا اس سے ایک دن پہلے کینیڈا سے یہاں آیا تھا۔دونوں افراد نے فائزر ویکسین کی 2 خوراکیں استعمال ک یتھیں اور ہانگ کانگ آمد سے قبل کووڈ ٹیسٹ نیگیٹو رہے تھے۔محققین نے بتایا کہ ہانگ کانگ آمد پر دونوں افراد کو ایک ہی قرنطینہ ہوٹل میں رکھا گیا اور دونوں کے کمرے ایک ہی منزل پر کافی فاصلے پر تھے۔تحقیق کے مطابق قرنطینہ کے دوران دونوں میں سے کوئی بھی کمرے سے باہر نہیں نکلا اور نہ ہی دونوں کے کمروں میں اشیا شیئر ہوئین جبکہ دیگر افراد بھی ان کے کمروں میں داخل نہیں ہوئے۔محققین نے بتایا کہ ہوٹل کی راہداری میں ہوا کے ذریعے وائرل ذرات سے ایک سے دوسرے فرد میں بیماری کی منتقلی ہی ممکنہ وجہ تھی اور اس طرح کے پھیلا سے عندیہ ملتا ہے کہ کورونا کی یہ نئی قسم زیادہ متعدی ہے۔جنوبی افریقہ سے آنے والے مسافر میں کوونا وائرس کی تشخیص 13 نومبر کو ہوئی تھی جس میں علامات ظاہر نہیں ہوئی تھیں، جس کے بعد اگلے دن یعنی 14 نومبر کو ہسپتال لے جاکر آئسولیٹ کردیا گیا۔دوسرے مسافر میں 17 نومبر کو معمولی شدت کی علامات ظاہر ہوئیں اور اگلے دن کووڈ کی تشخیص ہوئی اور پھر ہسپتال منتقل کیا گیا۔اس تحقیق کے نتائج ابھی ابتدائی ہیں۔


متعلقہ خبریں


اومیکرون دیگر اقسام کے مقابلے میں انسانی جلد پر زیادہ وقت تک زندہ رہتا ہے، تحقیق وجود - بدھ 26 جنوری 2022

کورونا وائرس کی دیگر اقسام کے مقابلے میں اومیکرون کو زیادہ متعدی خیال کیا جاتا ہے۔ اب یہ انکشاف ہوا ہے کہ سابقہ اقسام کے مقابلے میں وہ پلاسٹک اور جلد پر زیادہ دیر تک بچنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ بات جاپان میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔اس تحقیق میں لیبارٹری ٹیسٹوں میں دریافت کیا گیا کہ اومیکرون قسم پلاسٹک کی سطح اور انسانی جلد پر دیگر اقسام کے مقابلے میں زیادہ وقت تک زندہ رہ سکتی ہے۔ تحقیق کے مطابق اس قسم کا بہتر ماحولیاتی اسستحکام اس کے متعد...

اومیکرون دیگر اقسام کے مقابلے میں انسانی جلد پر زیادہ وقت تک زندہ رہتا ہے، تحقیق

کورونا وبا سے کروڑوں بچوں کا تعلیمی نقصان، یونیسیف کی تحقیقی رپورٹ وجود - بدھ 26 جنوری 2022

کورونا وائرس کی وبا کے نتیجے میں جتنی بڑی تعداد تعلیمی سلسلے سے دور ہوئی اس پر قابو پانا لگ بھگ ناممکن ہے۔ یہ بات اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسیف) کی جانب سے جاری ایک تحقیقی رپورٹ میں بتائی گئی ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ غریب اور متوسط ممالک کے 10 سال کے 70 فیصد بچے ایک سادہ جملہ لکھنے یا سمجھنے سے قاصر ہیں، کورونا کی وبا سے قبل یہ شرح 53 فیصد تھی۔ یونیسیف کی جانب سے جاری رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ کووڈ کے باعث تعلیمی اداروں کی بندش سے 63 کروڑ 50 لاکھ سے زیادہ بچے...

کورونا وبا سے کروڑوں بچوں کا تعلیمی نقصان، یونیسیف کی تحقیقی رپورٹ

قبرص کے سائنس دانوں نے کووِڈ19کی نئی قسم ڈیلٹاکرون دریافت کرلی وجود - پیر 10 جنوری 2022

قبرص میں کووِڈ19کا ایک نیا متغیردریافت ہوا ہے جو ڈیلٹا اور اومیکرون متغیرات کا مجموعہ ہے۔اس کوڈیلٹا کرون کا نام دیا گیا ہے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق قبرص یونیورسٹی میں حیاتیاتی سائنسز کے پروفیسر اورلیبارٹری آف بائیو ٹیکنالوجی اینڈ مالیکیولروائرولوجی کے سربراہ لیونڈیوس کوسٹریکس نے ایک انٹرویومیں ڈیلٹاکرون سے متعلق اپنی تحقیق کے نتائج کی وضاحت کی ۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت اومیکرون اور ڈیلٹا دونوں انفیکشن موجود ہیں اورہمیں یہ نیا متغیر دریافت ہوا ہے جو ان دونوں کا مجموعہ ہے۔ پروفیسرک...

قبرص کے سائنس دانوں نے کووِڈ19کی نئی قسم ڈیلٹاکرون دریافت کرلی

اومیکرون کا حملہ ڈیلٹا ویریئنٹ سے حفاظت کرتا ہے،نئی تحقیق وجود - پیر 03 جنوری 2022

جنوبی افریقہ کے سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ اگر کوئی شخص کورونا وائرس (سارس کوو 2)کے اومیکرون ویریئنٹ سے متاثر ہو کر صحت یاب ہوجائے تو ڈیلٹا ویریئنٹ بھی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔میڈیارپورٹس کے مطابق ایفریکا ہیلتھ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (اے ایچ آر آئی )میں کی گئی یہ تحقیق اب تک کسی ریسرچ جرنل میں شائع نہیں ہوئی اور ادارے کی ویب سائٹ پر ایک پریس ریلیز کے طور پر موجود ہے۔ تاہم بیشتر وبائی ماہرین اس تحقیق کے درست قرار دے رہے ہیں۔اس تحقیق میں 13 رضاکاروں سے خون کے نمونے حاصل کیے گئے ...

اومیکرون کا حملہ ڈیلٹا ویریئنٹ سے حفاظت کرتا ہے،نئی تحقیق

اومیکرون پھیپھڑوں کو کم موثر طریقے سے متاثر کرتا ہے، تحقیق وجود - هفته 01 جنوری 2022

کورونا وائرس کی نئی قسم اومیکرون ممکنہ طور پر بہت زیادہ بیمار کرنے کا باعث اس لیے نہیں بنتی کیونکہ یہ سابقہ اقسام کے مقابلے میں انسانوں کے پھیپھڑوں کے خلیات پر مختلف انداز حملہ آور ہوتا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یہ بات لیبارٹری میں ہونے والی 2 تحقیقی رپورٹس میں سامنے آئی۔ پہلی تحقیق کے لیے مختلف یونیورسٹیوں کے 31 سائنسدانوں کے گروپ نے مل کر کام کیا جبکہ دوسری تحقیق اسکاٹ لینڈ اور برطانیہ کے اداروں کی تھی۔ پہلی تحقیق میں شامل ماہرین کا کہنا تھا کہ اومیکرون میں ہونے وال...

اومیکرون پھیپھڑوں کو کم موثر طریقے سے متاثر کرتا ہے، تحقیق

کورونا کا بدترین حصہ آنے والا ہے، بل گیٹس کی وارننگ وجود - جمعه 24 دسمبر 2021

مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس نے خبردار کیا ہے کہ کورونا کا بدترین حصہ آنے والا ہے۔ اپنی ٹوئٹ میں انہوں نے کہا کہ اومائیکرون بہت تیزی سے پھیل رہا ہے اور بہت جلد دنیا کے تمام ممالک اس کی لپیٹ میں آ جائیں گے۔دنیا کے امیر ترین شخصیات میں سے ایک نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ ہمیں بہت احتیاط کی ضرورت ہے، کیونکہ کوئی نہیں جانتا اومیکرون کتنا متاثر کر سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر اومیکرون ڈیلٹا سے آدھا بھی خطرناک ثابت ہوا تو یہ بڑی حد تک نقصان پہنچا سکتا ہے جس کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔بل ...

کورونا کا بدترین حصہ آنے والا ہے، بل گیٹس کی وارننگ

تحقیقی مطالعہ میں اومیکرون سے شدید بیماری کا خطرہ کم ہونے کا عندیہ وجود - جمعرات 23 دسمبر 2021

جنوبی افریقا میں ایک تحقیقی مطالعہ میں اومیکرون کی شدت کے بارے میں کرسمس سے قبل اچھی خبر پیش کی گئی ہے کہ اومیکرون سے متاثرہ افراد کے اسپتال میں ڈیلٹا سے متاثرہ افراد کے مقابلے میں جانے کا امکان کم تھا۔میڈیارپورٹس کے مطابق جنوبی افریقا کے قومی ادارہ برائے وبائی امراض(این آئی سی ڈی)اور بڑی یونیورسٹیوں کے مطالعے میں اکتوبر اورنومبرمیں جنوبی افریقا میں سامنے آنے والے اومیکرون وائرس کے اعداد وشمار کا اپریل اور نومبر کے درمیان ڈیلٹا شکل کے اعداد و شمار سے موازنہ کیا گیا ۔اس تحقیقی...

تحقیقی مطالعہ میں اومیکرون سے شدید بیماری کا خطرہ کم ہونے کا عندیہ

اومیکرون زیادہ قوتِ مدافعت کی حامل آبادی کے ممالک میں تیزی سے پھیلنے لگا وجود - پیر 20 دسمبر 2021

عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ اونے بتایا ہے کہ کورونا وائرس کی اومیکرون شکل کے 89 ممالک میں کیس رپورٹ ہوئے ، لوگوں کے آپس میں گھلنے ملنے سے یہ وائرس تیزی ایک فرد سے دوسرے فرد تک منتقل ہو رہا ہے اور ڈیڑھ سے تین دن میں کیسوں کی تعداد دگنا ہو رہی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ڈبلیو ایچ او نے یہ بھی انکشاف کیا کہ اومیکرون وائرس اعلی سطح کی قوتِ مدافعت کی حامل آبادی والے ممالک میں تیزی سے پھیل رہا ہے، لیکن یہ واضح نہیں کہ آیا اس کی وجہ وائرس کی قوت مدافعت سے بچ نکلنے کی صلاحیت ہے یااس کی فط...

اومیکرون زیادہ قوتِ مدافعت کی حامل آبادی کے ممالک میں تیزی سے پھیلنے لگا

بھارت میں ویکسین کی تین ڈوز لگوانے والا اومیکرون کا شکار وجود - اتوار 19 دسمبر 2021

بھارت میں ویکسین کی 3ڈوز لگوانے والا شخص اومیکرون کا شکارہوگیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق 29 سال شخص امریکا سے واپس آیا تھا۔ ممبئی ائیرپورٹ پرٹیسٹ میں اومیکرون کی تشخیص ہوئی جس کے بعد اسے احتیاطی تدابیرکے طورپراسپتال میں داخل کردیا گیا۔اسپتال حکام کا کہناتھاکہ اومیکرون سے متاثرہونے والے شخص میں کوئی علامات نہیں ظاہرہوئیں۔ ممبئی میں اومیکرون کے 40 مریضوں میں سے کسی میں بھی مرض کی سنگین علامات موجود نہیں ہیں۔ بھارت میں اومیکرون سے متاثر افراد کی تعداد100 ہوگئی ہے۔

بھارت میں ویکسین کی تین ڈوز لگوانے والا اومیکرون کا شکار

کورونا وائرس کی وبا کا اہم ترین مرحلہ 2022 کو ختم ہوجائے گا، بل گیٹس وجود - جمعرات 09 دسمبر 2021

مائیکرو سافٹ کے شریک بانی بل گیٹس نے کہا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کا اہم ترین مرحلہ 2022 کو ختم ہوجائے گا۔اپنے بلاگ گیٹس نوٹس میں 2021 کے ریویو تحریر کرتے ہوئے بل گیٹس نے کہا کہ ایک اور پیشگوئی کرنا احمقانہ محسوس ہوگا مگر میرا خیال ہے کہ وبا کا خطرناک مرحلہ 2022 میں کسی وقت اختتام پزیر ہوجائے گا۔بل گیٹس نے کہا کہ انہیں امید تھی کہ کورونا کی وبا کا خاتمہ جلد ہوجائے گا مگر ایسا ہوتا ممکن نظر نہیں آتا جس کی وجہ ڈیلٹا قسم اور لوگوں کی ویکسینیشن کی مشکلات ہیں۔انہ...

کورونا وائرس کی وبا کا اہم ترین مرحلہ 2022 کو ختم ہوجائے گا، بل گیٹس

اگلی وبا کورونا سے زیادہ مہلک ہوسکتی ہے، موجد آکسفورڈ کورونا ویکسین وجود - بدھ 08 دسمبر 2021

آکسفورڈ آسٹرا زینیکا ویکسین کی شریک موجد نے کہا ہے کہ آئندہ وبائیں کرونا وائرس سے بھی زیادہ مہلک ہو سکتی ہیں اس لئے کرونا سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔میڈیارپورٹس کے مطابق رچرڈ ڈمبلبی لیکچر میں خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سارہ گلبرٹ کا کہنا تھا کہ یہ کوئی پہلا یا آخری موقع نہیں جس میں کسی وائرس کے سبب ہماری زندگیاں یا معاشی صورتحال متاثر ہوئی ہو۔ سچ تو یہ ہے کہ اگلی وبا سے اس سے بھی بدتر ہو سکتی ہے۔ وہ اس سے بھی زیادہ مہلک یا متعدی ہو سکتی ہے۔سارہ کے مطابق ہم ایسی صورتحال کی اجازت نہیں دے...

اگلی وبا کورونا سے زیادہ مہلک ہوسکتی ہے، موجد آکسفورڈ کورونا ویکسین

خواتین یا بچوں کے مقابلے میں مرد کووڈ کو زیادہ پھیلاتے ہیں، تحقیق وجود - بدھ 08 دسمبر 2021

امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ خواتین یا بچوں کے مقابلے میں مرد کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کو زیادہ پھیلاتے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔کولوراڈو اسٹیٹ یونیورسٹی کی اس تحقیق کا اصل مقصد پرفارمنگ آرٹ کے ذریعے کووڈ 19 کے پھیلائو کو دیکھنا تھا۔مگر محققین نے یہ بھی دریافت کیا کہ خواتین یا بچوں کے مقابلے میں مرد کورونا کے وائرل ذرات کو زیادہ پھیلاتے ہیں۔تحقیق میں 75 سے زیادہ افراد کو شامل کیا...

خواتین یا بچوں کے مقابلے میں مرد کووڈ کو زیادہ پھیلاتے ہیں، تحقیق

مضامین
وزیراعظم کے دشمن مصنوعی خیالات وجود جمعرات 27 جنوری 2022
وزیراعظم کے دشمن مصنوعی خیالات

لال قلعہ کاقیدی وجود جمعرات 27 جنوری 2022
لال قلعہ کاقیدی

''کسان ،ٹریکٹر ،ٹرالی ریلی ''کی بھی ایک پہیلی ہے وجود جمعرات 27 جنوری 2022
''کسان ،ٹریکٹر ،ٹرالی ریلی ''کی بھی ایک پہیلی ہے

اقتدار سے نکلنے پر خطرناک ہونے کا دعویٰ وجود بدھ 26 جنوری 2022
اقتدار سے نکلنے پر خطرناک ہونے کا دعویٰ

خطر۔ناک۔۔ وجود بدھ 26 جنوری 2022
خطر۔ناک۔۔

برطانیہ میں سب سے زیادہ امتیازی سلوک مسلمانوں کے ساتھ کیے جانے کا انکشاف وجود بدھ 26 جنوری 2022
برطانیہ میں سب سے زیادہ امتیازی سلوک مسلمانوں کے ساتھ کیے جانے کا انکشاف

بھارتی اسکول میں پرنسپل کا بچوں کو نماز کی اجازت دینا جرم بن گیا وجود بدھ 26 جنوری 2022
بھارتی اسکول میں پرنسپل کا بچوں کو نماز کی اجازت دینا جرم بن گیا

کووڈ صورت حال کی پیش گوئی: ’یہ کوئی قطعی سائنس نہیں‘ وجود منگل 25 جنوری 2022
کووڈ صورت حال کی پیش گوئی: ’یہ کوئی قطعی سائنس نہیں‘

حرام سے اجتناب کاانعام وجود منگل 25 جنوری 2022
حرام سے اجتناب کاانعام

سعودی عرب میں ہر گھنٹے سات طلاقوں کے کیسز رپورٹ وجود منگل 25 جنوری 2022
سعودی عرب میں ہر گھنٹے سات طلاقوں کے کیسز رپورٹ

حق دو کراچی کو وجود پیر 24 جنوری 2022
حق دو کراچی کو

ہندوستان کی شبیہ کون داغدار کررہاہے؟ وجود پیر 24 جنوری 2022
ہندوستان کی شبیہ کون داغدار کررہاہے؟

اشتہار

افغانستان
افغانستان میں امریکی شہری کا قبولِ اسلام، اسلامی نام محمد عیسیٰ رکھا وجود پیر 24 جنوری 2022
افغانستان میں امریکی شہری کا قبولِ اسلام، اسلامی نام محمد عیسیٰ رکھا

افغانستان،ہرات میں دھماکہ، 7 افراد جاں بحق، 9 زخمی وجود اتوار 23 جنوری 2022
افغانستان،ہرات میں دھماکہ، 7 افراد جاں بحق، 9 زخمی

اسلامی ممالک طالبان حکومت کو تسلیم کریں، افغان وزیراعظم کا مطالبہ وجود جمعرات 20 جنوری 2022
اسلامی ممالک طالبان حکومت کو تسلیم کریں، افغان وزیراعظم کا مطالبہ

طالبان کا شمالی مغربی شہر میں بدامنی کے بعد فوجی پریڈ کے ذریعے طاقت کا مظاہرہ وجود منگل 18 جنوری 2022
طالبان کا شمالی مغربی شہر میں بدامنی کے بعد فوجی پریڈ کے ذریعے طاقت کا مظاہرہ

افغان صوبہ بادغیس میں شدید زلزلہ،ہلاکتوں کی تعداد30 سے تجاوز وجود منگل 18 جنوری 2022
افغان صوبہ بادغیس میں شدید زلزلہ،ہلاکتوں کی تعداد30 سے تجاوز

اشتہار

بھارت
بھارت میں گوگل کے سی ای او سندر پچائی کیخلاف مقدمہ وجود جمعرات 27 جنوری 2022
بھارت میں گوگل کے سی ای او سندر پچائی کیخلاف مقدمہ

بھارتی اسکول میں پرنسپل کا بچوں کو نماز کی اجازت دینا جرم بن گیا وجود بدھ 26 جنوری 2022
بھارتی اسکول میں پرنسپل کا بچوں کو نماز کی اجازت دینا جرم بن گیا

شلپا شیٹی فحاشی پھیلانے کے مقدمے سے بری وجود منگل 25 جنوری 2022
شلپا شیٹی فحاشی پھیلانے کے مقدمے سے بری

بھارت کا چین پر سرحد سے لاپتا نوجوان کو اغوا کرنے کا الزام وجود جمعه 21 جنوری 2022
بھارت کا چین پر سرحد سے لاپتا نوجوان کو اغوا کرنے کا الزام

بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا وجود جمعه 21 جنوری 2022
بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا
ادبیات
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل وجود منگل 04 جنوری 2022
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل

پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی

غلاف کعبہ کی سلائی میں عربی کا ثلث فانٹ استعمال کرنے کی وضاحت جاری وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
غلاف کعبہ کی سلائی میں عربی کا ثلث فانٹ استعمال کرنے کی وضاحت جاری

دنیا کی 1500 زبانیں معدوم ہونے کا خطرہ وجود منگل 21 دسمبر 2021
دنیا کی 1500 زبانیں معدوم ہونے کا خطرہ

سقوط ڈھاکہ پر لکھی گئی نظمیں وجود جمعرات 16 دسمبر 2021
سقوط ڈھاکہ پر لکھی گئی نظمیں
شخصیات
دنیا کی کم عمر مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ کو بچھڑے 10 برس بیت گئے وجود هفته 15 جنوری 2022
دنیا کی کم عمر مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ کو بچھڑے 10 برس بیت گئے

مولانا طارق جمیل کی اپنے طوطےاور بلی کے ہمراہ دلچسپ ویڈیو وائرل وجود منگل 11 جنوری 2022
مولانا طارق جمیل کی اپنے طوطےاور بلی کے ہمراہ دلچسپ ویڈیو وائرل

ہے رشک ایک خلق کو جوہر کی موت پر ۔ یہ اس کی دین ہے جسے پروردگار دے وجود بدھ 05 جنوری 2022
ہے رشک ایک خلق کو جوہر کی موت پر        ۔ یہ اس کی دین ہے جسے پروردگار دے

سرگودھا کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ : مولانا اکرم طوفانی سپرد خاک وجود پیر 27 دسمبر 2021
سرگودھا کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ : مولانا اکرم طوفانی سپرد خاک

قائداعظم کے خطاب کا تحقیقی جائزہ (خواجہ رضی حیدر) وجود هفته 25 دسمبر 2021
قائداعظم کے خطاب کا تحقیقی جائزہ  (خواجہ رضی حیدر)