وجود

... loading ...

وجود
وجود

کون نہائے گا

منگل 07 دسمبر 2021 کون نہائے گا

آج کے دورمیں معاشرے میں پھیلی فرسٹریشن نے ہر شخص کو پریشان کررکھاہے اوپر سے مار ماری ،جھوٹ ،لالچ قتل وغارت نے ہرذی شعور کے اعصاب کو جھنجلاکررکھ دیاہے اس لیے سوچا کہ شگفتہ شگفتہ باتیں کی جائیں تاکہ اس سے مزاج خوشگوار ہو جائیںوقتی پریشانیوںکو بھلاکر چہرے کھلا کھلا اٹھیں یہ بھی نیکی کاکام ہے ،اب بات ہو جائیے ایک انصاف پرور شوہرکی جس نے دو نکاح کررکھے تھے اور وہ دونوں کیساتھ بڑا انصاف کا معاملہ کرتا تھا خاندان میں ایک شادی کی شاپنگ کرتے وہ گھر آرہے تھے کہ ایک خوفناک ایکسیڈنٹ میں اس کی دونوں بیویوں کا ایک ہی وقت میں انتقال ہوگیا ،تقدیر کے فیصلہ کے آگے کسی کو دم مارنے کایارانہیں غمزدہ شوہر نے انصاف کے تقاضہ سے چاہا، ایک ہی وقت میں دونوں کی تدفین کی جائے چنانچہ اس نے دو غسل والیاں بلوائی کہ دونوں کو ایک ہی وقت میں غسل دیا جائے، پھر ان کے جنازے گھر سے ایک ہی وقت نکالنے کا ارادہ کیا اتفاق سے گھر کا ایک ہی دروازہ تھا انصاف پرور شوہر نے فوراً مستری بلوایا ایک جگہ دوسرا دروازہ بنوا کر بیک وقت دونوں کے جنازے قبرستان لے گیالوگ اس کی انصاف پروری ،بیویوں سے محبت اور اعلیٰ ظرفی کی مثالیں دینے لگے شوہر ِ نامدار نے بیویوںکی تدفن کرکے اپنے انصاف پر اللہ کی تعریف کی کہ اس نے انصاف کی توفیق دی۔ ایک رات ایک بیوی کو خواب میں دیکھا وہ کہہ رہی ہے! آپ نے مجھ سے انصاف نہیں کیا اس لیے “میں آپ سے ناراض ہوں اللہ آپ کو معاف نہیں کرے گا”- شوہر نے کہا اللہ کی بندی لیکن وہ کیوں؟ تم میرے ساتھ ناراض کیوں ہو؟
اس بیوی نے اٹھلا کر منہ بسور ا اور کہا آپ نے دوسری بیوی کو نئے دروازے سے نکالا اور مجھے پرانے دروازے سے یہ ہے تمہارا اانصاف۔۔ مجھے تو پہلے ہی شک تھا کہ تم چھوٹی والی سے زیادہ محبت کرتے ہو۔
شوہر سرپیٹ کررہ گیا کہ یہ دلیل اسی کا خاصہ ہے دلیل سے یادآیا کہ وکیل سے بہتر دلیل کون دے سکتاہے یقینا کوئی نہیں سچ ہے یہ اس کا کمال ہے کہ وہ ہر دلیل کو الٹا کررکھ دیتاہے اسی لیے سیانے کہتے ہیں وکیل سے پنگا نہیں لینے کا۔۔ ایک دن شہر کے ایک معروف کالج کے کچھ طلباء نے ایک ممتاز وکیل صاحب سے پوچھا
“سر وکالت کے کیا معنی ہیں؟”
وکیل صاحب نے کہا…
“میں اس کے لیے ایک مثال دیتا ہوں فرض کریں کہ میرے پاس دو کلائنٹ آتے ہیں ایک بالکل صاف ستھرا اور دوسرا بہت گندہ اب میں ان دونوں کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ دونوں نہا کر صاف ستھرے ہوکرمیرے پاس آئیں.۔
اب آپ لوگ بتائیں کہ ان میں سے کون نہائے گا ؟
ایک اسٹوڈنٹ نے کہا جناب یقینی بات ہے ‘جو شخص گندہ ہے وہی نہائے گا
وکیل نے ترنت کہا بالکل نہیں۔۔
اسٹوڈنٹ نے حیرانگی سے پوچھا وہ کیوں جناب؟
وکیل مسکراکر بولا نہیں صرف صاف آدمی ہی نہائے گا. کیونکہ کہ اسے صفائی کی عادت ہے جب کہ گندے آدمی کو تو صفائی کی اہمیت کا اندازہ ہی نہیں ہے۔
اب وکیل صاحب دوسرے اسٹوڈنٹ کی طرف متوجہ ہوئے بڑی سنجیدگی سے اسے کہا آپ کو معلوم ہے آپ بتا سکتے ہیں دونوں میں سے کون نہائے گا ؟
دوسرے اسٹوڈنٹ نے سوچ کر کہا سر میرے خیال میں صاف آدمی نہائے گا۔
وکیل نے نفی میں سر ہلایا اور بڑے معنی خیزلہجے میں کہا نہیں گندہ شخص نہائے گا کیونکہ کہ اسے صفائی کی ضرورت ہے۔ اسٹوڈنٹ نے اس کی لوجک سن کر اتفاق میں سرہلادیا
اب وکیل نے تیسرے اسٹوڈنٹ کے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور بڑے دوستانہ انداز میں پوچھا اور مسٹر تم بتاؤ کون نہائے گا…؟’*
اسٹوڈنٹ نے تذبذب کے ساتھ جواب دیا جناب میں تو کہتاہوں ‘جو گندہ ہے وہ نہائے گا۔
وکیل کے چہرے پر ایک پراسرار مسکراہٹ پھیل گئی اس نے کہا نہیں دونوں نہائیں گے کیونکہ کی صاف آدمی کو نہانے کی عادت ہے اور گندے آدمی کو نہانے کی ضرورت ہے۔
اب وکیل نے دوسرے تمام اسٹوڈنٹں کی طرف دیکھا اور پوچھابتاؤ تم کیا کہتے ہو کون نہائے گا ؟
سب اسٹوڈنٹں ساتھ بولے ‘جی دونوں نہائیں گے
وکیل نے میزپر مکا مارتے ہوئے پرجوش انداز میں کہا
غلط ۔۔ بالکل غلط ۔۔کوئی بھی نہیں نہائے گا۔
” وہ کیوں۔۔ تمام اسٹوڈنٹں نے حیرت سے بیک وقت پوچھا
وکیل بولا کیونکہ گندے کو نہانے کی عادت نہیں اور صاف آدمی کو نہانے کی ضرورت نہیں۔
” اب بتاؤ وکیل صاحب نے دبلے پتلے نوجوان سے پوچھا تم بتائو کون نہائے گا ؟
اس کے جواب دینے سے پہلے ہی ایک اسٹوڈنٹ نے بہت نرمی سے کہا سر آپ ہر بار الگ الگ جواب دیتے ہیں اور ہر جواب ہمیں صحیح معلوم پڑتا ہے تو ہمیں کیسے معلوم ہوگا درست جواب کیا ہے ؟’
وکیل صاحب بڑی متانت سے بولے ‘بس یہی وکالت ہے اہم یہ نہیں کہ حقیقت کیا ہے بلکہ اہمیت اس بات کی ہے کہ آپ اپنی بات کو صحیح ثابت کرنے کے لیے کتنی ممکنہ دلیل دے سکتے ہیں..!
“کیا سمجھے ؟ نہیں سمجھے ؟ یہی وکالت ہے !! وکیل نے مسکراتے ہوئے پوچھا تو بتائیں کون نہائے گا؟ سب قہقہے لگاتے ہنسنے لگ گئے۔
اب چلتے چلتے ایک چوری کا لطیفہ اور سن لیجئے
چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کی بیوی نے پوچھا
“کیوں جی یہ افراط زر کیا ہوتاہے؟ ماہرین معیشت بار بار اس کا ذکر کرتے ہیں!!”
چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ : نے کہا فرض کرو”پہلے تمہاری عمر 21 سال ،کمر 28 تھی اور وزن تھا 50 کلو اب تمہاری عمر ہے 35 سال ،کمر ہے 38 اور وزن ہے 75 کلواب تمہارے پاس سب کچھ پہلے سے زیادہ ہے پھر بھی ویلیو کم ہے یہی افراط زر ہے !!!معاشیات اتنی بھی مشکل نہیں اگر صحیح مثال دے کر سمجھایا جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں


مضامین
سعودی عرب میں ہر گھنٹے سات طلاقوں کے کیسز رپورٹ وجود منگل 25 جنوری 2022
سعودی عرب میں ہر گھنٹے سات طلاقوں کے کیسز رپورٹ

حق دو کراچی کو وجود پیر 24 جنوری 2022
حق دو کراچی کو

ہندوستان کی شبیہ کون داغدار کررہاہے؟ وجود پیر 24 جنوری 2022
ہندوستان کی شبیہ کون داغدار کررہاہے؟

خود کو بدلیں وجود پیر 24 جنوری 2022
خود کو بدلیں

تجارتی جنگیں احمقوں کا کھیل وجود هفته 22 جنوری 2022
تجارتی جنگیں احمقوں کا کھیل

دھرنے،احتجاج اور مظاہرے وجود هفته 22 جنوری 2022
دھرنے،احتجاج اور مظاہرے

بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا وجود جمعه 21 جنوری 2022
بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا

تحریک انصاف اور پورس کے ہاتھی وجود جمعه 21 جنوری 2022
تحریک انصاف اور پورس کے ہاتھی

بلوچستان میں نئی سیاسی بساط وجود جمعه 21 جنوری 2022
بلوچستان میں نئی سیاسی بساط

کورونا،بھنگ اور جادو وجود جمعه 21 جنوری 2022
کورونا،بھنگ اور جادو

ترک صدر کا ممکنہ دورہ سعودی عرب اور اس کے مضمرات ؟ وجود جمعرات 20 جنوری 2022
ترک صدر کا ممکنہ دورہ سعودی عرب اور اس کے مضمرات ؟

قومی سلامتی پالیسی اور خطرات وجود بدھ 19 جنوری 2022
قومی سلامتی پالیسی اور خطرات

اشتہار

افغانستان
افغانستان میں امریکی شہری کا قبولِ اسلام، اسلامی نام محمد عیسیٰ رکھا وجود پیر 24 جنوری 2022
افغانستان میں امریکی شہری کا قبولِ اسلام، اسلامی نام محمد عیسیٰ رکھا

افغانستان،ہرات میں دھماکہ، 7 افراد جاں بحق، 9 زخمی وجود اتوار 23 جنوری 2022
افغانستان،ہرات میں دھماکہ، 7 افراد جاں بحق، 9 زخمی

اسلامی ممالک طالبان حکومت کو تسلیم کریں، افغان وزیراعظم کا مطالبہ وجود جمعرات 20 جنوری 2022
اسلامی ممالک طالبان حکومت کو تسلیم کریں، افغان وزیراعظم کا مطالبہ

طالبان کا شمالی مغربی شہر میں بدامنی کے بعد فوجی پریڈ کے ذریعے طاقت کا مظاہرہ وجود منگل 18 جنوری 2022
طالبان کا شمالی مغربی شہر میں بدامنی کے بعد فوجی پریڈ کے ذریعے طاقت کا مظاہرہ

افغان صوبہ بادغیس میں شدید زلزلہ،ہلاکتوں کی تعداد30 سے تجاوز وجود منگل 18 جنوری 2022
افغان صوبہ بادغیس میں شدید زلزلہ،ہلاکتوں کی تعداد30 سے تجاوز

اشتہار

بھارت
بھارت کا چین پر سرحد سے لاپتا نوجوان کو اغوا کرنے کا الزام وجود جمعه 21 جنوری 2022
بھارت کا چین پر سرحد سے لاپتا نوجوان کو اغوا کرنے کا الزام

بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا وجود جمعه 21 جنوری 2022
بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا

بھارتی آرمی چیف اور وزیر داخلہ کی گرفتاری کیلئے برطانیہ میں درخواست دائر وجود جمعرات 20 جنوری 2022
بھارتی آرمی چیف اور وزیر داخلہ کی گرفتاری کیلئے برطانیہ میں درخواست دائر

بھارت،کالج میں حجاب پہننے والی مسلم طالبات کو کلاس سے نکال دیا گیا وجود بدھ 19 جنوری 2022
بھارت،کالج میں حجاب پہننے والی مسلم طالبات کو کلاس سے نکال دیا گیا

سرحدی تنازع،نیپال کی بھارت سے سڑکوں کی یکطرفہ تعمیر روکنے کی اپیل وجود منگل 18 جنوری 2022
سرحدی تنازع،نیپال کی بھارت سے سڑکوں کی یکطرفہ تعمیر روکنے کی اپیل
ادبیات
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل وجود منگل 04 جنوری 2022
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل

پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی

غلاف کعبہ کی سلائی میں عربی کا ثلث فانٹ استعمال کرنے کی وضاحت جاری وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
غلاف کعبہ کی سلائی میں عربی کا ثلث فانٹ استعمال کرنے کی وضاحت جاری

دنیا کی 1500 زبانیں معدوم ہونے کا خطرہ وجود منگل 21 دسمبر 2021
دنیا کی 1500 زبانیں معدوم ہونے کا خطرہ

سقوط ڈھاکہ پر لکھی گئی نظمیں وجود جمعرات 16 دسمبر 2021
سقوط ڈھاکہ پر لکھی گئی نظمیں
شخصیات
دنیا کی کم عمر مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ کو بچھڑے 10 برس بیت گئے وجود هفته 15 جنوری 2022
دنیا کی کم عمر مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ کو بچھڑے 10 برس بیت گئے

مولانا طارق جمیل کی اپنے طوطےاور بلی کے ہمراہ دلچسپ ویڈیو وائرل وجود منگل 11 جنوری 2022
مولانا طارق جمیل کی اپنے طوطےاور بلی کے ہمراہ دلچسپ ویڈیو وائرل

ہے رشک ایک خلق کو جوہر کی موت پر ۔ یہ اس کی دین ہے جسے پروردگار دے وجود بدھ 05 جنوری 2022
ہے رشک ایک خلق کو جوہر کی موت پر        ۔ یہ اس کی دین ہے جسے پروردگار دے

سرگودھا کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ : مولانا اکرم طوفانی سپرد خاک وجود پیر 27 دسمبر 2021
سرگودھا کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ : مولانا اکرم طوفانی سپرد خاک

قائداعظم کے خطاب کا تحقیقی جائزہ (خواجہ رضی حیدر) وجود هفته 25 دسمبر 2021
قائداعظم کے خطاب کا تحقیقی جائزہ  (خواجہ رضی حیدر)