وجود

... loading ...

وجود
وجود

چین کی عسکری صلاحیت’’عالمی رونمائی‘‘ کی منتظر ہے!

پیر 06 دسمبر 2021 چین کی عسکری صلاحیت’’عالمی رونمائی‘‘ کی منتظر ہے!

۔

چین لڑنا نہیں چاہتاہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ چین لڑنا جانتانہیں ہے۔چونکہ ہزاروں سال سے چینی تہذیب و سرزمین اَمن و اَمان کا گہوارہ رہی ہے۔ اس لیے آج بھی چینی قیادت کی اوّلین کوشش تو یہ ہی ہے کہ عسکری تنازعات سے حتی المقدور اجتناب برتتے ہوئے صرف تجارت اور اپنی ہنرمندی کے بل بوتے پر ہی دنیا کی عالمی سیادت کا تاج اپنے سر پر سجالیا جائے ۔ مگریہاں مصیبت یہ ہے کہ اس وقت عالمی قیادت جس امریکا کے پاس ہے ، اُس نے ماضی اور حال کی ساری کامیابیاں ہی فقط جنگ و جدل کے بل بوتے پر حاصل کی ہوئی ہیں ۔ لہٰذا چینی قیادت جس قدر بھی اپنے دامن کو جنگ کے شعلے سے بچانے کی کوشش کرلے لیکن بہت جلد امریکا اور اس کے حلیف ممالک چین کو ’’میدانِ جنگ‘‘میں اپنے ہمراہ گھسیٹ ہی لیں گے۔
میرے خیال میں اِس حقیقت کا ادراک اَب چینی قیادت کو بھی بڑی تیزی کے ساتھ ہوتا جارہاہے۔ شاید یہ ہی وجہ ہے چینی صدر شی جن پنگ نے گزشتہ ہفتہ چین کی مسلح افواج کو مزید مضبوط بنانے کے لیے’ ’ملٹری ٹیلنٹ کلٹیویشن‘‘ڈاکٹرائن متعارف کروانے کے احکامات جاری کردیے ہیں ۔ یاد رہے کہ شی جن پنگ نے کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے چین کے تاریخ کے سب سے طاقت ور چینی صدر بن جانے کے بعد اپنے لامحدود انتظامی اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے یہ پہلا ایسا بڑا حکم نامہ جاری کیا ہے۔ جسے عسکری ماہرین کی اکثریت چینی مسلح افواج کے اعلیٰ معیار کی ترقی، فوجی مقابلے میں فتح حاصل کرنے اور مستقبل کی جنگوں میں بالادستی حاصل کرنے کی صلاحیت میں بڑھوتری کے لیے انتہائی غیر معمولی پیش رفت قرار دے رہی ہے۔
بعض تجزیہ کاروں کی جانب سے اس خیال کا اظہار بھی کیا جارہا ہے کہ ’’ملٹری ٹیلنٹ کلٹیویشن ‘‘جیسے نظریے کا چین کی مسلح افواج میں عملی نفاذ کر کے شی جن پنگ2027 میں پیپلز لبریشن آرمی کے صد سالہ جشن کے موقع پر چینی افواج کو دنیا کی سب سے طاقت ور ،مضبوط اور جدید فوج کے روپ میں پیش کرنا چاہتے ہیں ۔مگر یہاں اہم ترین سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ کیا چین صرف اپنی مسلح افواج کو جدیدترین اسلحے اور افرادی قوت کے لحاظ سے ہی ایک طاقت ور فوج بنانا چاہتاہے ؟ یا چینی صدر شی جن پنگ کسی میدان ِ جنگ میں چین کے مسلح افواج کی غیر معمولی حربی صلاحیتوں کا عملی مظاہر ہ بھی ساری دنیا کو دکھانا چاہیں گے؟ دراصل چین اپنی مسلح افواج کو جس قدر چاہے مرضی، جدید اور مہلک ہتھیاروں سے لیس کردے یا فوج کی افرادی قوت میں لامحدود اضافہ ہی کیوں نہ کردے ۔لیکن دنیا اُس وقت تک چین کی مسلح افواج کی غیر معمولی طاقت کو سرے سے تسلیم ہی نہیں کرے گی ،جب تک کہ وہ چین کی مسلح افواج کی حربی طاقت اور صلاحیت کا عملی مظاہرہ کسی چھوٹے یا بڑے ’’میدان ِ جنگ ‘‘ میں کھلی آنکھوں سے ملاحظہ نہ کرلے۔
کیونکہ کسی بھی ملک کی مسلح افواج کی عسکری مہارت کا درست ادراک چند کاغذی پلندوں میں درج بلند و بانگ اعدادوشمار سے لگانا سوائے اپنے آپ کو خوش فہمی اور غلط فہمی میں مبتلا رکھنے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔ نیز بند کمروں میں بیٹھ کر بنائی گئی رپورٹیں یکسر غلط ، فضول اور لایعنی قسم کی ایسی معلومات پر مبنی بھی ہوسکتی ہیں ۔ جنہیں اعدادو شمار کے ماہرین نے جس فوج کے نام کے ساتھ منسلک کر نے کی ناکام کوشش کی ہو ،عین ممکن ہے کہ وہ حربی خوبیاں سرے سے اُس فوج کے ڈی این اے میں وجود ہی نہ رکھتی ہوں۔ اس لیے کاغذوں میں طاقت ور دکھائی دینے والی مسلح افواج چاہے وہ کسی بھی ملک کی ہو،وہ اُس وقت تک ایک’’ کاغذی فوج‘‘ ہی کہلائے گی جب تک کہ وہ اپنی غیرمعمولی عسکری صلاحیتوں کامظاہرہ کسی حقیقی ’’میدان ِ جنگ ‘‘ میں پیش کرکے اپنے حریفوں اور حلیفوں سے داد نہیں سمیٹ لیتی ۔
واضح رہے کہ آج ہم چین کو اس لیے ایک بڑ ی عالمی معاشی قوت تسلیم کرتے ہیں کہ چینی قوم نے دنیا بھر میں صنعت و حرفت کے ہر میدان میں اپنی غیر معمولی تجارتی صلاحیت کا عملی مظاہر ہ ایک بار نہیں بلکہ بے شمار مرتبہ کر کے دکھایا ہے اور چین کے بڑے بڑے تجارتی حریف چینی قیادت کی جانب سے اختیار کی جانے والی تجارتی حکمت عملیوں کے سامنے یکسر بے بس دکھائی دیتے ہیں ۔ اگر بہ نظر غائر جائزہ لیا جائے معلوم ہوتاہے چینی صدر شی جن پنگ کی طرف سے پیش کیا جانا والا ’’ ملٹری ٹیلنٹ کلٹویشن ‘‘کا نظریہ مستقبل قریب میں چینی مسلح افواج کو ’’میدانِ جنگ ‘‘ میں کھینچ کر لے جانے کا ایک نقطہ آغاز ہی تو ہے۔ یعنی دنیا بہت جلد اَب چین کو کسی ’’جنگی محاذ ‘‘ پر دادِ شجاعت دیتے ہوئے دیکھنے والی ہے۔
لیکن چین کی مسلح افواج اپنی حربی صلاحیتوں کا اظہار کسی محاذ جنگ پر کرنے والی ہے؟اس سوال کا جواب ہمیں چینی ذرائع ابلاغ کے بجائے بھارتی ذرائع ابلاغ فراہم کررہا ہے ۔ بھارت کے ذرائع ابلاغ میں نشر ہونے والی خبروں کے مطابق’’ بھارت اور چین کے درمیان لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کے قریب لداخ سیکٹر میں چین اپنے فوجی انفراسٹرکچر کو بڑھانے میں مصروف ہے اور چین مشرقی لداخ میں پینگونگ سو جھیل کی فنگر چار سے فنگر سات کے درمیان بڑے پیمانے پر اضافی میزائل، ٹینک اور راکٹ وغیرہ نصب کر رہا ہے‘‘۔اگرچہ چین نے بھارتی ذرائع ابلاغ میں نشر ہونے والی ایسی تمام خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ وہ جو کچھ کر رہا ہے وہ اپنے علاقے میں کر رہا ہے‘‘۔
دوسری جانب عالمی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی سیٹلائٹ کی تصاویر سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ اس علاقے میں چین کی جانب سے ہونے والی عسکری نوعیت کی تعمیرات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔نیز سٹیلائٹ تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ چین نے اس علاقے میں بڑے پیمانے پر فوجی نوعیت کی نئی تعمیرات کی ہیں۔جبکہ ان تصاویر سے اس علاقے میں نئے ہتھیاروں اور بھاری مشینوں کی موجودگی کا بھی پتہ چلتا ہے۔علاوہ ازیں چینی فوج نے پینگونگ سوجھیل میں نگرانی کے لیے گشت کرنے والی کشتیوں کی تعداد بھی بڑھا دی ہے۔صرف اتنا ہی نہیں بلکہ چین نے ایل اے سی پر ملحقہ دیگر علاقوں میں بھی نئی تعمیرات شروع کردی ہیں۔ جس میں رہائشی عمارتیں، سڑکیں، نئی شاہراہیں وغیرہ شامل ہیں اورچین نے اپنی مکمل میزائل رجمنٹ سمیت دیگر بھاری ہتھیار بھی باقاعدہ نصب کرد یے ہیں، جس کی وجہ سے بھارت بہت زیادہ پریشان ہے۔
واضح رہے کہ تقریباً دو سال قبل گلوان وادی میں بھارتی اور چینی فوج کے درمیان ہولناک جھڑپ ہوئی تھی جس میں بھارت کے تقریباً 20 فوجی ہلاک ہو گئے تھے جبکہ بعض ذرائع نے دعوی کیا تھا اس جھڑپ میں ہلاک ہونے والے بھارتی فوجیوں کی اصل تعداد سینکڑوں میں تھی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس عسکری کارروائی کے نتیجہ میں چین نے بھارت کے ہزاروں کلومیٹر کے سرحدی علاقہ پر راتوں رات اپنا قبضہ مستحکم کرلیا تھا۔بظاہر بھارتی قیادت نے اپنے سرحدی علاقے پر ہونے والے چینی افواج کے قبضہ پر دو کڑوے، کسیلے گھونٹ بھر تے ہوئے چینی قیادت سے یہ یقین دہانی چاہی تھی کہ ’’چینی فوج اس بات کی گارنٹی دے کہ وہ مزید بھارتی علاقے پر قبضہ کرنے کی کوشش نہیں کرے گی‘‘۔ چینی قیادت نے بھارت کو کسی بھی قسم کی یقین دہانی کروانے سے صاف انکار کرتے ہوئے ، واضح کردیا تھا کہ ’’چین ایل اے سی کو سرے سے تسلیم ہی نہیں کرتا ہے ،اس لیے جس علاقہ پر بھارتی فوج موجود ہے ،وہ بھی دراصل چین کا ہی سرحدی علاقہ ہے‘‘۔حیران کن بات یہ ہے کہ چین نے بھارت کے علاوہ اپنے تمام پڑوسیوں سے دیرینہ سرحدی تنازع کو ختم کر دیا ہے۔یوں سمجھ لیں کہ چین وادی لداخ کو اپنی افواج کے لیے پہلا ’’میدانِ جنگ ‘‘ بنانے کے لیے پوری طرح سے یکسو ہوچکاہے۔
جس کا سب سے بڑا ثبوت اِس علاقے میں چینی ملٹری انفراسٹرکچر میں روز بروز ہونے والا اضافہ ہے، جس میں اس علاقے میں شاہراہوں کو وسیع کیا جانا اور چینی فضائیہ کے لیے نئی فضائی پٹی بنانا شامل ہے۔ یا درہے کہ چین کی جانب بنائی جانے والی یہ فضائی پٹی مرکزی ایئربیس کاشغر، گار گنسا اور ہوتن کے علاوہ ہے۔جبکہ اس علاقے میں ایک وسیع وعریض شاہراہ بھی بنائی جا رہی ہے جس سے ایل اے سی پر چینی فوج کے رابطے میں مزید بہتری آئے گی۔ جبکہ چین یہاں اپنی فضائیہ اور بری فوج کے لیے ایسے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر پر بھی بھرپور توجہ دے رہا ہے جو اسے انتہائی دشوار گزار علاقوں میں امریکی اور دیگر سیٹلائٹس سے محفوظ رکھ سکے گا۔ امریکا اور اس کے حلیف بھارت کے لیے سب سے زیادہ صدمے کی بات یہ ہے کہ وادی لداخ میں تعینات کی جانے والی چینی فوج میں زیادہ تر تبت اور اس خطے کو سمجھنے والے لوگوں کو ہی بھرتی کیا جارہاہے۔
یقینا دنیا بھی اچھی طرح سے سمجھتی ہے کہ وادی لداخ کے سنگلاخ پہاڑوں کے درمیان اور نامساعد اور سخت سرد موسم میں ہزاروں چینی مسلح فوجیوں کی تعیناتی اور جدید ترین عسکری نظام کا قیام یہاں چین کسی فلم کی شوٹنگ کے لیے تو کر نہیں رہا ہے۔لامحالہ مستقبل قریب میں چینی اسی مقام پر اپنے حریف ملک امریکا کے سب سے بڑی دفاعی حلیف بھارت کے خلاف محاذ جنگ کھول کر امریکا کو دعوتِ مبارزت دے گا۔ اگر امریکی قیادت کی قسمت اچھی ہوئی تو وہ اِس میدان ِ جنگ میں چین سے اُلجھے بغیر ہی عالمی قیادت کا تاج چین کے ہاتھوں میں تھمادیں گے ۔ بصورت دیگر بھارت کا جو حشر نشر اس علاقے میں چین کرے گا، اُس کے بعد دنیا بھی چین کو بطور کے عالمی طاقت تسلیم کرنے میں ذرا تامل اور ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرے گی۔
٭٭٭٭٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
سعودی عرب میں ہر گھنٹے سات طلاقوں کے کیسز رپورٹ وجود منگل 25 جنوری 2022
سعودی عرب میں ہر گھنٹے سات طلاقوں کے کیسز رپورٹ

حق دو کراچی کو وجود پیر 24 جنوری 2022
حق دو کراچی کو

ہندوستان کی شبیہ کون داغدار کررہاہے؟ وجود پیر 24 جنوری 2022
ہندوستان کی شبیہ کون داغدار کررہاہے؟

خود کو بدلیں وجود پیر 24 جنوری 2022
خود کو بدلیں

تجارتی جنگیں احمقوں کا کھیل وجود هفته 22 جنوری 2022
تجارتی جنگیں احمقوں کا کھیل

دھرنے،احتجاج اور مظاہرے وجود هفته 22 جنوری 2022
دھرنے،احتجاج اور مظاہرے

بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا وجود جمعه 21 جنوری 2022
بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا

تحریک انصاف اور پورس کے ہاتھی وجود جمعه 21 جنوری 2022
تحریک انصاف اور پورس کے ہاتھی

بلوچستان میں نئی سیاسی بساط وجود جمعه 21 جنوری 2022
بلوچستان میں نئی سیاسی بساط

کورونا،بھنگ اور جادو وجود جمعه 21 جنوری 2022
کورونا،بھنگ اور جادو

ترک صدر کا ممکنہ دورہ سعودی عرب اور اس کے مضمرات ؟ وجود جمعرات 20 جنوری 2022
ترک صدر کا ممکنہ دورہ سعودی عرب اور اس کے مضمرات ؟

قومی سلامتی پالیسی اور خطرات وجود بدھ 19 جنوری 2022
قومی سلامتی پالیسی اور خطرات

اشتہار

افغانستان
افغانستان میں امریکی شہری کا قبولِ اسلام، اسلامی نام محمد عیسیٰ رکھا وجود پیر 24 جنوری 2022
افغانستان میں امریکی شہری کا قبولِ اسلام، اسلامی نام محمد عیسیٰ رکھا

افغانستان،ہرات میں دھماکہ، 7 افراد جاں بحق، 9 زخمی وجود اتوار 23 جنوری 2022
افغانستان،ہرات میں دھماکہ، 7 افراد جاں بحق، 9 زخمی

اسلامی ممالک طالبان حکومت کو تسلیم کریں، افغان وزیراعظم کا مطالبہ وجود جمعرات 20 جنوری 2022
اسلامی ممالک طالبان حکومت کو تسلیم کریں، افغان وزیراعظم کا مطالبہ

طالبان کا شمالی مغربی شہر میں بدامنی کے بعد فوجی پریڈ کے ذریعے طاقت کا مظاہرہ وجود منگل 18 جنوری 2022
طالبان کا شمالی مغربی شہر میں بدامنی کے بعد فوجی پریڈ کے ذریعے طاقت کا مظاہرہ

افغان صوبہ بادغیس میں شدید زلزلہ،ہلاکتوں کی تعداد30 سے تجاوز وجود منگل 18 جنوری 2022
افغان صوبہ بادغیس میں شدید زلزلہ،ہلاکتوں کی تعداد30 سے تجاوز

اشتہار

بھارت
بھارت کا چین پر سرحد سے لاپتا نوجوان کو اغوا کرنے کا الزام وجود جمعه 21 جنوری 2022
بھارت کا چین پر سرحد سے لاپتا نوجوان کو اغوا کرنے کا الزام

بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا وجود جمعه 21 جنوری 2022
بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا

بھارتی آرمی چیف اور وزیر داخلہ کی گرفتاری کیلئے برطانیہ میں درخواست دائر وجود جمعرات 20 جنوری 2022
بھارتی آرمی چیف اور وزیر داخلہ کی گرفتاری کیلئے برطانیہ میں درخواست دائر

بھارت،کالج میں حجاب پہننے والی مسلم طالبات کو کلاس سے نکال دیا گیا وجود بدھ 19 جنوری 2022
بھارت،کالج میں حجاب پہننے والی مسلم طالبات کو کلاس سے نکال دیا گیا

سرحدی تنازع،نیپال کی بھارت سے سڑکوں کی یکطرفہ تعمیر روکنے کی اپیل وجود منگل 18 جنوری 2022
سرحدی تنازع،نیپال کی بھارت سے سڑکوں کی یکطرفہ تعمیر روکنے کی اپیل
ادبیات
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل وجود منگل 04 جنوری 2022
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل

پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی

غلاف کعبہ کی سلائی میں عربی کا ثلث فانٹ استعمال کرنے کی وضاحت جاری وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
غلاف کعبہ کی سلائی میں عربی کا ثلث فانٹ استعمال کرنے کی وضاحت جاری

دنیا کی 1500 زبانیں معدوم ہونے کا خطرہ وجود منگل 21 دسمبر 2021
دنیا کی 1500 زبانیں معدوم ہونے کا خطرہ

سقوط ڈھاکہ پر لکھی گئی نظمیں وجود جمعرات 16 دسمبر 2021
سقوط ڈھاکہ پر لکھی گئی نظمیں
شخصیات
دنیا کی کم عمر مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ کو بچھڑے 10 برس بیت گئے وجود هفته 15 جنوری 2022
دنیا کی کم عمر مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ کو بچھڑے 10 برس بیت گئے

مولانا طارق جمیل کی اپنے طوطےاور بلی کے ہمراہ دلچسپ ویڈیو وائرل وجود منگل 11 جنوری 2022
مولانا طارق جمیل کی اپنے طوطےاور بلی کے ہمراہ دلچسپ ویڈیو وائرل

ہے رشک ایک خلق کو جوہر کی موت پر ۔ یہ اس کی دین ہے جسے پروردگار دے وجود بدھ 05 جنوری 2022
ہے رشک ایک خلق کو جوہر کی موت پر        ۔ یہ اس کی دین ہے جسے پروردگار دے

سرگودھا کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ : مولانا اکرم طوفانی سپرد خاک وجود پیر 27 دسمبر 2021
سرگودھا کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ : مولانا اکرم طوفانی سپرد خاک

قائداعظم کے خطاب کا تحقیقی جائزہ (خواجہ رضی حیدر) وجود هفته 25 دسمبر 2021
قائداعظم کے خطاب کا تحقیقی جائزہ  (خواجہ رضی حیدر)