وجود

... loading ...

وجود
وجود

تاریخ پررحم کھائیں

جمعرات 02 دسمبر 2021 تاریخ پررحم کھائیں

ٹیچر نے کلاس میں ایک طالبعلم سے پو چھا وہ کون سی چیز ہے جو ہے توآپ کی لیکن زیادہ تر اسے دوسرے استعمال کرتے ہیں؟ ۔۔۔۔طالبعلم سوچ میں گم ہوگیا دماغ بھی کھپایا لیکن بات نہ بنی ۔شرمندہ شرمندہ انداز سے ٹیچرکی طرف دیکھا گویا ہار مان لی ہو ۔۔ٹیچر نے کہا آپ کا نام ایسی چیز ہے جو زیادہ تر دوسرے استعمال کرتے ہیں طالبعلم لاجواب ہوگیا۔ کہتے ہیں نام زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرتاہے اسی لیے لوگ خوبصورت نام رکھتے ہیں اس کے باوجود آپ نے یہ محاورہ تو اکثر سناہوگا کہ نام میں کیا رکھاہے پھول کو کسی نام بھی پکارو ۔وہ تو اپنی خوشبو سے پہچانا جاتاہے لیکن نام ۔تونام ہے اس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ پہچان کی علامت ہے انسانوںکے نام کی بات اورہے شہروں،قصبوں اور علاقوںکے ناموںکی بات اور ان کی ایک تاریخ ہوتی ہے اور نام رکھنے کی وجہ تسمیہ بھی۔انگریزوںنے
بر ِ صغیرپر غاصبانہ قبضہ کیا تو سب سے پہلے اس نے ہندوستان کو’’ انڈیا ــ‘‘ کا نام دیکر اس کی پہچان پرحملہ کیا اور بہت سے شہروںکے نام تبدیل کرکے رکھ دئیے یہ بر ِ صغیرکی تہذیب پر حملہ تھایہ دراصل ایک مخصوص سوچ کا آئینہ دارہے ایک منتشر،تعصبانہ اورغاصبانہ زاویہ ٔ فکر کی علامت جس کی کوکھ سے انتہا پسندی نے جنم لیاہے۔
کئی سال پہلے ہندوستان میں اسی سوچ ،اسی فکر اوراسی خیال کے انتہا پسند ہندوئوںنے تاریخی بابری مسجدکو شہید کرکے وہاں رام مندر بنانے کااعلان کردیاجس نے کئی فتنوںکوہوا دی اس کی آڑمیں مسلم کشی کے نئے نئے طریقے ایجاد کیے گئے سینکڑوں مسلمانوںکو شہید اور معذور کردیا گیا ، تاریخی بابری مسجدکی تاریخی حیثیت مسخ کرنے اور متنازعہ بنانے کی کوشش تو ناکام ہو گئی اسی طرح دنیا بھر کے یہودی قبلہ ’ اول بیت المقدس کو شہید کرکے وہاں ہیکل ِ سلیمانی بنانے کی سازش کررہے ہیں جس کی وجہ سے دنیا کا امن کو تباہ کرنے کے ایجنڈے پر کام ہورہاہے ،اقوام ِ عالم میں جس ملک میں بھی ایسا ہورہاہے دراصل یہ سب کچھ ایک مخصوص ذہن کے لوگ کررہے ہیں جو مذہب کا لبادہ اوڑھ کر انتہا پسندی کو فروغ دینے کا سبب بن رہے ہیں جو ہرکام متشدد انداز سے کرنے کے عادی ہیں ،یہ لوگ رواداری، برداشت ،تحمل اورپر یقین نہیں رکھتے جس کی بناء پر مذاہب کے درمیان تنائو قائم رہتاہے یہی وجہ ہے کہ چھوٹی چھوٹی باتوں،افواہوںیا واقعات سے لوگ بھڑک اٹھتے ہیں،مرنے مارنے پر تل جاتے ہیں یہ رویہ تہذیبوںکا دشمن ہے اور امن کا قاتل ۔ اس سے مذاہب کے درمیان تصادم کے خطرات بڑھتے چلے جارہے ہیں دنیابھرمیں انتہاپسنداپنے نقطہ ٔ نظر سے سوچتے ہیںبھارت میں ہندو مسلم کش فسادات کاسبب بھی یہی ہے اسی انتہا پسندی نے ذلت اور چھوٹی جاتی کے لوگوںکا جینا عذاب بنارکھاہے،نیوزی لینڈ،فرانس،امریکا،برطانیا،اسٹریلیا،کنیڈا سمیت متعدد ممالک میں مختلف مذاہب کے درمیان سرد جنگ اور تصادم اسی انتہاپسندی کے باعث فروغ پارہی ہے ۔
گورے نسلی تعصب کی بناء پر کالوںکوہمیشہ تشدد کا نشانہ بناتے چلے آئے ہیں پاکستان میں بھی کچھ لوگ ڈنڈے کے زورپر ہر چیز کو’’ اسلامی ‘‘بنانے پر تلے ہوئے ہیں ان کا کہناہے ایک اسلامی ملک میں غیرمسلموںکے ناموں سے شہروں علاقوں کے نام موسوم نہیں ہونے چاہئیںیہ غیر اسلامی بات ہے یہ لوگ کسی سیاق و سباق۔۔کسی منظق،فلسفے یالوجک کے بغیر اپنا ایجنڈا ہرکسی پر نافذ کرنے کے لیے پر جوش ہیںاور اس کی راہ میں ہر رکاوٹ کو ملیا میٹ کرنا اپنا فرض گردانتے ہیں۔شہروں،قصبوں اور علاقوںکے نام تبدیل کرنا ۔۔تاریخ سے ایک سنگین مذاق ہے بلکہ اسے تہذیب پر حملہ بھی قراردیا جا سکتاہے یہ تواپنی مرضی کی تاریخ مرتب کرنے والی بات ہوئی نا۔۔۔ ایک دانا کا کہنا تھا اندھا دھند نام تبدیل کرنے کے حامیو ں سے کوئی پوچھے کیا زہر کی بوتل پر تریاق لکھ دینے سے فائدہ ہوگا۔کیا ننکانہ صاحب کا نام تبدیل کرکے رسول پورہ رکھا جاسکتاہے؟ ۔کیانام بدل دینے سے اس شہرکے لوگوںکی سوچیںبدل جائیں گی؟۔ایک اور شخص کا کہنا تھا کسی شہر کا نام یاکسی چیزکی تاریخی حیثیت تبدیل کرنا اچھی بات ہے توتاریخی بابری مسجدکے معاملہ میں کیوں اتنا شور مچایا جارہاہے۔دراصل کسی بھی معاملہ کا انتہا پسندی کوئی حل نہیںبرِ صغیرپاک و بنگلہ ہند کی اپنی ایک تاریخ ہے، یہ معاملہ ہر قسم کے تعصب،مذہب اور لسانیت سے بالاتر ہوکر سوچنے کا ہے اس خطے کی تاریخ کوبعینٰہ تاریخ رہنے دیں اپنی مرضی کا نصاب شامل کرنے کی کوشش خطرناک ہوسکتی ہے جو لوگ ہر قیمت پر پاکستان کے پرانے شہروں یا چیزوںکے ناموںکو ’’اسلامی ‘‘ بنانا چاہتے ہیں اگر ان کا مطالبہ مان بھی لیا جائے تو ان سے یہ پوچھنے کی جسارت کی جا سکتی ہے جناب ِ عالی!سرگنگارام ہسپتال،میو ہسپتال،گلاب دیوی ہسپتال کانام بدل کر آپ کیا نام رکھنا پسند کریں گے؟مونجوڈارو، ہڑپہ کے نئے نام کیاہونے چاہئیں۔ اور وہاں سے دریافت ہونے والی صدیوںپرانی تہذیب کا کیا نام رکھا جائے کیا گندھارا تہذیب کو اسلامی قراردیا جا سکتاہے یا آرین تہذیب کو مسلمان بنایا جا سکتاہے۔؟
جناب یہ ہمارے خطے کی تہذیب، ثقافت، تمدن اورروایات کے امین نام ہیں انہی میں ان کا حسن پوشیدہ ہے لاہور،قصور، ایمن آباد،ٹیکسلاسمیت سینکڑوں نام ’’غیر مسلم‘‘ہیں آپ کس کس کا نام تبدیل کریں گے؟ اور اس کی بجائے لوگوںمیں حلال حرام کی تمیزاجاگرکی جائے،ہر سطح پر ظلم کے خلاف مو ٔثر تحریک چلانے کی ضرورت ہے۔نفرتوںکے خاتمہ کے لیے محبت ،رواداری اورمذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے کچھ کیا جائے تو بہتوںکا بھلاہوگا۔آج کے دور میں دنیا گلوبل ویلج بن کر سمٹ گئی ہے نفرتیں پال کر،دنیا سے کٹ کر یا دوسروںپر اپنے بے بنیاد نظریے ٹھونس کر زندگی نہیں گذاری جا سکتی ،ہم سب کو قول و فعل کا تضاد اور دہرا معیار ترک کرناہوگا دنیا میں امن ،سکون کا واحد حل یہ ہے کہ ’’اپنا عقیدہ مت چھوڑو ۔دوسروںکا عقیدہ مت چھیڑو‘‘ اس اصول کے بغیرسکون مل سکتاہے نہ ترقی کی جا سکتی ہے۔جولوگ کسی سیاق و سباق۔۔کسی منظق،فلسفے یالوجک کے بغیر اپنا ایجنڈا ہرکسی پر نافذ کرنے کے لیے پر جوش ہیںاور اس کی راہ میں ہر رکاوٹ کو ملیا میٹ کرنا اپنا فرض گردانتے ہیں ان کو اعتدال کی راہ اپنانا ہوگی اسلام کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ اعتدال سکھاتاہے،توازن کا سبق دیتاہے اور میانہ روی کا حکم دیتاہے۔ مخصوص سوچ سے منتشر ،تعصبانہ اورغاصبانہ انداز ِ فکر پروان چڑھتاہے جس کی کوکھ سے انتہا پسندی جنم لیتی ہے ہم اور ہمارا معاشرہ انتہا پسندی کا متحمل ہرگزنہیں ہو سکتا تہذیبوںکو تاریخ کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا زیادہ بہترہے ایک بچے کا نام تبدیل کرنے کے لیے نادرا والے سو جتن کرنے پر مجبور کردیتے ہیں اور آپ ہیں کہ کتنی سادگی سے صدیوں پرانے نام تبدیل کرنے کی بات کررہے ہیں خدا کے لیے تاریخ پر رحم کھائیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں


مضامین
سعودی عرب میں ہر گھنٹے سات طلاقوں کے کیسز رپورٹ وجود منگل 25 جنوری 2022
سعودی عرب میں ہر گھنٹے سات طلاقوں کے کیسز رپورٹ

حق دو کراچی کو وجود پیر 24 جنوری 2022
حق دو کراچی کو

ہندوستان کی شبیہ کون داغدار کررہاہے؟ وجود پیر 24 جنوری 2022
ہندوستان کی شبیہ کون داغدار کررہاہے؟

خود کو بدلیں وجود پیر 24 جنوری 2022
خود کو بدلیں

تجارتی جنگیں احمقوں کا کھیل وجود هفته 22 جنوری 2022
تجارتی جنگیں احمقوں کا کھیل

دھرنے،احتجاج اور مظاہرے وجود هفته 22 جنوری 2022
دھرنے،احتجاج اور مظاہرے

بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا وجود جمعه 21 جنوری 2022
بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا

تحریک انصاف اور پورس کے ہاتھی وجود جمعه 21 جنوری 2022
تحریک انصاف اور پورس کے ہاتھی

بلوچستان میں نئی سیاسی بساط وجود جمعه 21 جنوری 2022
بلوچستان میں نئی سیاسی بساط

کورونا،بھنگ اور جادو وجود جمعه 21 جنوری 2022
کورونا،بھنگ اور جادو

ترک صدر کا ممکنہ دورہ سعودی عرب اور اس کے مضمرات ؟ وجود جمعرات 20 جنوری 2022
ترک صدر کا ممکنہ دورہ سعودی عرب اور اس کے مضمرات ؟

قومی سلامتی پالیسی اور خطرات وجود بدھ 19 جنوری 2022
قومی سلامتی پالیسی اور خطرات

اشتہار

افغانستان
افغانستان میں امریکی شہری کا قبولِ اسلام، اسلامی نام محمد عیسیٰ رکھا وجود پیر 24 جنوری 2022
افغانستان میں امریکی شہری کا قبولِ اسلام، اسلامی نام محمد عیسیٰ رکھا

افغانستان،ہرات میں دھماکہ، 7 افراد جاں بحق، 9 زخمی وجود اتوار 23 جنوری 2022
افغانستان،ہرات میں دھماکہ، 7 افراد جاں بحق، 9 زخمی

اسلامی ممالک طالبان حکومت کو تسلیم کریں، افغان وزیراعظم کا مطالبہ وجود جمعرات 20 جنوری 2022
اسلامی ممالک طالبان حکومت کو تسلیم کریں، افغان وزیراعظم کا مطالبہ

طالبان کا شمالی مغربی شہر میں بدامنی کے بعد فوجی پریڈ کے ذریعے طاقت کا مظاہرہ وجود منگل 18 جنوری 2022
طالبان کا شمالی مغربی شہر میں بدامنی کے بعد فوجی پریڈ کے ذریعے طاقت کا مظاہرہ

افغان صوبہ بادغیس میں شدید زلزلہ،ہلاکتوں کی تعداد30 سے تجاوز وجود منگل 18 جنوری 2022
افغان صوبہ بادغیس میں شدید زلزلہ،ہلاکتوں کی تعداد30 سے تجاوز

اشتہار

بھارت
بھارت کا چین پر سرحد سے لاپتا نوجوان کو اغوا کرنے کا الزام وجود جمعه 21 جنوری 2022
بھارت کا چین پر سرحد سے لاپتا نوجوان کو اغوا کرنے کا الزام

بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا وجود جمعه 21 جنوری 2022
بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا

بھارتی آرمی چیف اور وزیر داخلہ کی گرفتاری کیلئے برطانیہ میں درخواست دائر وجود جمعرات 20 جنوری 2022
بھارتی آرمی چیف اور وزیر داخلہ کی گرفتاری کیلئے برطانیہ میں درخواست دائر

بھارت،کالج میں حجاب پہننے والی مسلم طالبات کو کلاس سے نکال دیا گیا وجود بدھ 19 جنوری 2022
بھارت،کالج میں حجاب پہننے والی مسلم طالبات کو کلاس سے نکال دیا گیا

سرحدی تنازع،نیپال کی بھارت سے سڑکوں کی یکطرفہ تعمیر روکنے کی اپیل وجود منگل 18 جنوری 2022
سرحدی تنازع،نیپال کی بھارت سے سڑکوں کی یکطرفہ تعمیر روکنے کی اپیل
ادبیات
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل وجود منگل 04 جنوری 2022
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل

پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی

غلاف کعبہ کی سلائی میں عربی کا ثلث فانٹ استعمال کرنے کی وضاحت جاری وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
غلاف کعبہ کی سلائی میں عربی کا ثلث فانٹ استعمال کرنے کی وضاحت جاری

دنیا کی 1500 زبانیں معدوم ہونے کا خطرہ وجود منگل 21 دسمبر 2021
دنیا کی 1500 زبانیں معدوم ہونے کا خطرہ

سقوط ڈھاکہ پر لکھی گئی نظمیں وجود جمعرات 16 دسمبر 2021
سقوط ڈھاکہ پر لکھی گئی نظمیں
شخصیات
دنیا کی کم عمر مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ کو بچھڑے 10 برس بیت گئے وجود هفته 15 جنوری 2022
دنیا کی کم عمر مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ کو بچھڑے 10 برس بیت گئے

مولانا طارق جمیل کی اپنے طوطےاور بلی کے ہمراہ دلچسپ ویڈیو وائرل وجود منگل 11 جنوری 2022
مولانا طارق جمیل کی اپنے طوطےاور بلی کے ہمراہ دلچسپ ویڈیو وائرل

ہے رشک ایک خلق کو جوہر کی موت پر ۔ یہ اس کی دین ہے جسے پروردگار دے وجود بدھ 05 جنوری 2022
ہے رشک ایک خلق کو جوہر کی موت پر        ۔ یہ اس کی دین ہے جسے پروردگار دے

سرگودھا کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ : مولانا اکرم طوفانی سپرد خاک وجود پیر 27 دسمبر 2021
سرگودھا کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ : مولانا اکرم طوفانی سپرد خاک

قائداعظم کے خطاب کا تحقیقی جائزہ (خواجہ رضی حیدر) وجود هفته 25 دسمبر 2021
قائداعظم کے خطاب کا تحقیقی جائزہ  (خواجہ رضی حیدر)