وجود

... loading ...

وجود
وجود

ڈی سی کی گرفتاری اور سفارشی کلچر

جمعرات 02 دسمبر 2021 ڈی سی کی گرفتاری اور سفارشی کلچر

انتظامی حوالے سے ڈی سی ایک اہم اور بااختیار عہدہ ہے اِس عہدے پر تعینات آفیسر اگر چاہے تو اختیارات کی بدولت عوامی مسائل حل کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے اچھے آفیسروں کو حکومتی اور عوامی حلقوںمیں عزت وتکریم ملتی ہے سارے آفیسراگر اچھے نہیں ہوتے تو سارے بُرے بھی نہیں ہوتے لیکن قابلیت و اہلیت اور تجربے کی بنیادپر آگے آنے والے نامساعد حالات میں ایسے فیصلے کرتے ہیں جن سے نہ صرف اُن کی صلاحیتوں کا پتہ چلتا ہے تجربہ کار آفیسر ہنگامی حالات میں ناخوشگوار صورتحال پیدا نہیں ہونے دیتے منڈی بہائوالدین کے ڈی سی طارق علی بسراکی گرفتاری کیوں ہوئی یہ ایسا سوال ہے جس کا جواب بہت آسان ہے جب اہلیت کی بجائے سفارشی کلچر پر انحصار کیا جائے تو ایسا ہونا حیران کن نہیں آجکل افسر شاہی انحطاط کا شکار ہے اور زوال کی بڑی وجہ سفارشی کلچر ہے گزشتہ کچھ عرصہ سے اہلیت وصلاحیت کی بجائے کچھ دے دلا کر سفارشی تعیناتیوں کارجحان بڑھ گیا ہے جس سے ایک توتجربہ کار لوگوں کی حق تلفی اور حوصلہ شکنی ہورہی ہے دوسرا یہ کہ اہم عہدوں پر نااہل اور ناتجربہ کار آگے آتے جارہے ہیں ڈی سی کی اپنے ہی ضلع میں گرفتاری اور سزا پنجاب کی تاریخ کا شایدپہلا ایسانوکھا واقعہ ہے کہ ایک ڈی سی کو اپنے ہی ضلع میں نہ صرف سزا سنائی گئی بلکہ گرفتارکرکے جیل بھیجنے کا حکم بھی سنایا گیا پنجاب کی تارخ میں پہلے ایسی کوئی نظیرموجود نہیں ۔
صارف عدالت کے جج کی ذمہ داری صارفین کے حقوق کی نگہبانی ہے لیکن ہر ضلع میں ایک کنزیومر پروٹیکشن کونسل بھی ہوتی ہے جس کا چیئرمین ڈی سی ہوتا ہے پھر کیوں کنزیومر کورٹ کے جج نے کنزیومر پر وٹیکشن کونسل کے چیئرمین کو توہینِ عدالت کی سزا سنائی؟آیاسرکاری رہائش خالی کرانے کا کیس سُننے اوریسی سزا سنانے کاکنزیومرکورٹ کے جج کو اختیار ہے یا نہیں؟عدالتی اختیارات پر بات کرنے کی بجائے توہینِ عدالت کا باعث بننے والے واقعہ کا پس منظر جاننا زیادہ اہم ہے محکمہ آبپاشی کے کلرک سے زبردستی رہائش خالی کراناظاہر ہے سفارشی ڈی سی کی کوئی سیاسی مجبوری ہو گی کیونکہ جو تعیناتی کراتے ہیں وہ پھر کام بھی خوب لیتے ہیںمگر کام کرنے والا تجربے اور قابلیت کی بجائے صرف سفارش پر ہی تکیہ کرنے لگے تو کام سنورتے نہیں بگڑتے ہیں ایسا ہی کچھ منڈی بہائوالدین میں ہوا جج کی طرف سے جاری ہونے والے طلبی کے نوٹسوں کوابتدامیں تو اہمیت ہی نہ دی گئی جب سلسلہ بڑھنے لگا توعدالت کی توقیر کی بجائے تحقیر کرتے ہوئے محبوب نامی کلرک کو ڈی سی کا نمائندہ بنا کر بھیج دیا یہ سراسرطیش دلانے والی حماقت تھی اسی وجہ سے ڈی سی اور اے سی کو توہینِ عدالت میں تین تین ماہ کی سزا سنا کر جیل بھجوانے کا حکم سنایاگیا کلرک اور اے سی امتیاز بیگ تو جیل چلے گئے جبکہ ریسٹ ہائوس کو سب جیل کا درجہ دلواکرڈی سی نے چنددن آرام کر لیا یہ واقعہ سراسر مِس ہنڈلنگ ہے کیونکہ عدالت میں پیش ہونے سے قبل ڈپٹی کمشنر نے ایک اور حماقت یہ کی کہ کنزیومر کورٹ کے جج رائو عبدالجبار سے بزریعہ فون کیس سے الگ ہونے کا حاکمانہ لہجے میںمطالبہ کیااب ڈی سی نے عدالتی فیصلے کے خلاف ہائیکورٹ سے رجوع کر لیاہے ابتدائی سماعت میں ہائیکورٹ نے توہینِ عدالت کی سزا معطل کر دی ہے لیکن توہینِ عدالت کی ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ سزا ختم نہیں کرتیں تو اے سی امتیا زبیگ اور ڈی سی طارق علی بسرا دونوں ملازمتوں سے بھی محروم ہو سکتے ہیں یو سف رضا گیلانی کو توہینِ عدالت کے کیس میں ہی ایک دن کی سنائی گئی جس پروہ وزیرِ اعظم کے منصب سے سے محروم ہوئے سزا کا برقرار رہنے سے دونوں آفیسروں کے بطور بیوروکریٹ مستقبل کا خاتمہ ہو سکتا ہے ۔
طارق علی بسرا کا تعلق سیالکوٹ سے ہے اُن کے والد مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر کونسلر منتخب ہوتے رہے ہیں طارق علی بسرا وزیرِ اعلٰی کے دفتر 8 کلب میں بطور ڈپٹی سیکرٹری ،ڈیرہ غازی خاں میں قبائلی علاقوں کے پولیٹیکل اسسٹینٹ اور ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پی ایچ اے لاہور کے عہدوں پر فرائض سرانجام دے چکے ہیں نہ جانے اُن میں ایسی کیا خاص خوبی ہے کہ حکومت نے خصوصی نوازش کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل پی ایچ اے کا چارج بھی تھما دیا ظاہر ہے ایسے اہم اور کلیدی عہدوں پر ایک جونیئر آفیسرکی تعیناتی کسی اہلیت و صلاحیت کی بجائے سفارشی کلچر کی بدولت ہی ممکن ہوئی ایک جونیئر بیوروکریٹ کیونکر سنیئر عہدوں پر تعینات ہوتا رہا اِس میں ٹی کے کا عمل دخل بھی ہو سکتا ہے خیر وہ اب چیف منسٹر کے پرنسپل سیکرٹری نہیں بلکہ نیب کی پیشیاں بھگت رہے ہیں مگر ابھی تک تقرریوں و تبادلوں میں اُن کی اہمیت برقرار ہے رائو پرویز اخترجیسے جونیئر شخص کی بطور ڈپٹی کمشنر جہلم تعیناتی بھی طاہر خورشید کی نظرِ عنایت تھی جس نے حماقت کرتے ہوئے چیف آفیسر کنٹونمنٹ بورڈ جہلم کو میٹنگ کے لیے طلب کیا نہ آنے پر سرزنش کرتے ہوئے کاروائی کاتحریری عندیہ دیا جس کے تفصیلی جو اب میں چیف آفیسر نے لکھا کہ میں آپ کے ماتحت نہیں اور آئندہ ایسے حکم نامے نامی جاری کر نے سے قبل کسی سے اپنے اختیارات کا پتہ کر لیا کریں ڈی سی جہلم کی طرح ڈی سی منڈی بہائوالدین کو بھی اختیارات کی خماری ہی لے ڈوبی اگر سفارش کی بجائے اہلیت و صلاحیت اور تجربے کی بنا پر آگے آئے ہوتے تو گرفتاری کی نوبت سے قبل ہی فہم و فراست سے معاملہ حل کر لیتے ۔
سفارش کے ساتھ کچھ عرصہ سے پیسے دیکر بیوروکریٹ اہم تعیناتیاں حاصل کرنے لگے ہیں جس سے نہ صرف بیوروکریسی کے زوال میں تیزی آگئی ہے بلکہ سیاستدانوں پر بھی اُنگلیاں اُٹھنے لگی ہیں ایک اچھا بیوروکریٹ مصلحت پسندی کی باریکیاں سمجھتا اور غیر ضروری مزاحمت سے گریز کرتا ہے لیکن نااہل اورسفارشی تجربہ نہ ہونے کی بنا پر خود شرمندگی اُٹھانے کے ساتھ ساری بیوروکریسی کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں چیف منسٹر کے آفس 8 کلب میںطارق علی بسرا جب ڈپٹی سیکرٹری تعینات تھے تو اکثر بارسوخ ملنے والوں کو اچھی تعیناتی کے بدلے خوش کرنے کا وعدہ کرتے رہتے تھے ۔
موجودہ صوبائی حکومت تجربہ کار اوربا صلاحیت کی بجائے ایسے جونیئر آفیسروں کو اہم عہدوں پرلگارہی ہے جو کام کی بجائے خوشامد کے کلچر میں طاق ہوں ممکن ہے اِس کی وجہ یہ ہو کہ جو نیئرکام کرتے ہوئے قواعد وضوابط کو ترجیح دینے کی بجائے تعلق کو اہم سمجھتے ہیں اسی لیے تابعداری میں حدود وقیود سے تجاوز پر آمادہ ہونے کی وجہ سے ہی اعلٰی انتظامی عہدوں پر 39 ویں اور40ویں کامن کے کئی ابدنام آفیسر تعینات ہیںجو اے ڈی سی آر یا اے ڈی سی جی کے عہدوں پر کام کرنے کاکوئی خاص تجربہ نہیں رکھتے دور کیوں جائیں لاہور جیسے صوبائی دارالحکومت میں 39 ویں کامن کے عمر شیر چٹھہ کے پاس ڈپٹی کمشنر کا منصب ہے حالانکہ وہ گریڈ اٹھارہ کے آفیسر ہیں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ صوبائی دارالحکومت میں چھان پھٹک سے کوئی تجربہ کار بیوروکریٹ لگایا جاتاجوگریڈ بیس نہیں تو کم از کم اُنیس کا توہوتالیکن ایسا کرنے کی بجائے بچگانہ حرکتوں سے بدنامیاں مول لی جارہی ہیں جب تک تعیناتیوں میں سفارشی کلچر کی حوصلہ شکنی نہیں ہوگی تب تک رائو پرویز اختر اور طارق علی بسرا جیسے لوگ بیوروکریسی کے لیے شرمندگی کا باعث بنتے رہیں گے ۔
……………………….


متعلقہ خبریں


مضامین
سعودی عرب میں ہر گھنٹے سات طلاقوں کے کیسز رپورٹ وجود منگل 25 جنوری 2022
سعودی عرب میں ہر گھنٹے سات طلاقوں کے کیسز رپورٹ

حق دو کراچی کو وجود پیر 24 جنوری 2022
حق دو کراچی کو

ہندوستان کی شبیہ کون داغدار کررہاہے؟ وجود پیر 24 جنوری 2022
ہندوستان کی شبیہ کون داغدار کررہاہے؟

خود کو بدلیں وجود پیر 24 جنوری 2022
خود کو بدلیں

تجارتی جنگیں احمقوں کا کھیل وجود هفته 22 جنوری 2022
تجارتی جنگیں احمقوں کا کھیل

دھرنے،احتجاج اور مظاہرے وجود هفته 22 جنوری 2022
دھرنے،احتجاج اور مظاہرے

بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا وجود جمعه 21 جنوری 2022
بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا

تحریک انصاف اور پورس کے ہاتھی وجود جمعه 21 جنوری 2022
تحریک انصاف اور پورس کے ہاتھی

بلوچستان میں نئی سیاسی بساط وجود جمعه 21 جنوری 2022
بلوچستان میں نئی سیاسی بساط

کورونا،بھنگ اور جادو وجود جمعه 21 جنوری 2022
کورونا،بھنگ اور جادو

ترک صدر کا ممکنہ دورہ سعودی عرب اور اس کے مضمرات ؟ وجود جمعرات 20 جنوری 2022
ترک صدر کا ممکنہ دورہ سعودی عرب اور اس کے مضمرات ؟

قومی سلامتی پالیسی اور خطرات وجود بدھ 19 جنوری 2022
قومی سلامتی پالیسی اور خطرات

اشتہار

افغانستان
افغانستان میں امریکی شہری کا قبولِ اسلام، اسلامی نام محمد عیسیٰ رکھا وجود پیر 24 جنوری 2022
افغانستان میں امریکی شہری کا قبولِ اسلام، اسلامی نام محمد عیسیٰ رکھا

افغانستان،ہرات میں دھماکہ، 7 افراد جاں بحق، 9 زخمی وجود اتوار 23 جنوری 2022
افغانستان،ہرات میں دھماکہ، 7 افراد جاں بحق، 9 زخمی

اسلامی ممالک طالبان حکومت کو تسلیم کریں، افغان وزیراعظم کا مطالبہ وجود جمعرات 20 جنوری 2022
اسلامی ممالک طالبان حکومت کو تسلیم کریں، افغان وزیراعظم کا مطالبہ

طالبان کا شمالی مغربی شہر میں بدامنی کے بعد فوجی پریڈ کے ذریعے طاقت کا مظاہرہ وجود منگل 18 جنوری 2022
طالبان کا شمالی مغربی شہر میں بدامنی کے بعد فوجی پریڈ کے ذریعے طاقت کا مظاہرہ

افغان صوبہ بادغیس میں شدید زلزلہ،ہلاکتوں کی تعداد30 سے تجاوز وجود منگل 18 جنوری 2022
افغان صوبہ بادغیس میں شدید زلزلہ،ہلاکتوں کی تعداد30 سے تجاوز

اشتہار

بھارت
بھارت کا چین پر سرحد سے لاپتا نوجوان کو اغوا کرنے کا الزام وجود جمعه 21 جنوری 2022
بھارت کا چین پر سرحد سے لاپتا نوجوان کو اغوا کرنے کا الزام

بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا وجود جمعه 21 جنوری 2022
بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا

بھارتی آرمی چیف اور وزیر داخلہ کی گرفتاری کیلئے برطانیہ میں درخواست دائر وجود جمعرات 20 جنوری 2022
بھارتی آرمی چیف اور وزیر داخلہ کی گرفتاری کیلئے برطانیہ میں درخواست دائر

بھارت،کالج میں حجاب پہننے والی مسلم طالبات کو کلاس سے نکال دیا گیا وجود بدھ 19 جنوری 2022
بھارت،کالج میں حجاب پہننے والی مسلم طالبات کو کلاس سے نکال دیا گیا

سرحدی تنازع،نیپال کی بھارت سے سڑکوں کی یکطرفہ تعمیر روکنے کی اپیل وجود منگل 18 جنوری 2022
سرحدی تنازع،نیپال کی بھارت سے سڑکوں کی یکطرفہ تعمیر روکنے کی اپیل
ادبیات
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل وجود منگل 04 جنوری 2022
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل

پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی

غلاف کعبہ کی سلائی میں عربی کا ثلث فانٹ استعمال کرنے کی وضاحت جاری وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
غلاف کعبہ کی سلائی میں عربی کا ثلث فانٹ استعمال کرنے کی وضاحت جاری

دنیا کی 1500 زبانیں معدوم ہونے کا خطرہ وجود منگل 21 دسمبر 2021
دنیا کی 1500 زبانیں معدوم ہونے کا خطرہ

سقوط ڈھاکہ پر لکھی گئی نظمیں وجود جمعرات 16 دسمبر 2021
سقوط ڈھاکہ پر لکھی گئی نظمیں
شخصیات
دنیا کی کم عمر مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ کو بچھڑے 10 برس بیت گئے وجود هفته 15 جنوری 2022
دنیا کی کم عمر مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ کو بچھڑے 10 برس بیت گئے

مولانا طارق جمیل کی اپنے طوطےاور بلی کے ہمراہ دلچسپ ویڈیو وائرل وجود منگل 11 جنوری 2022
مولانا طارق جمیل کی اپنے طوطےاور بلی کے ہمراہ دلچسپ ویڈیو وائرل

ہے رشک ایک خلق کو جوہر کی موت پر ۔ یہ اس کی دین ہے جسے پروردگار دے وجود بدھ 05 جنوری 2022
ہے رشک ایک خلق کو جوہر کی موت پر        ۔ یہ اس کی دین ہے جسے پروردگار دے

سرگودھا کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ : مولانا اکرم طوفانی سپرد خاک وجود پیر 27 دسمبر 2021
سرگودھا کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ : مولانا اکرم طوفانی سپرد خاک

قائداعظم کے خطاب کا تحقیقی جائزہ (خواجہ رضی حیدر) وجود هفته 25 دسمبر 2021
قائداعظم کے خطاب کا تحقیقی جائزہ  (خواجہ رضی حیدر)