وجود

... loading ...

وجود
وجود

کل۔چر

اتوار 28 نومبر 2021 کل۔چر

دوستو،مورخین اور ماہرینِ علم بشریات و عمرانیات نے کلچر کی اپنے اپنے انداز میں تعریف کی ہے۔ایک تعریف تو یہ ہے کہ تہذیب شہروں میں پیدا ہوتی ہے۔ جب بھی شہر بسائے جاتے ہیں، تو شہروں میں مختلف پیشہ ور کاریگر اپنے فن اور ہنر کا مظاہرہ کرتے ہوئے معاشرے کی ضروریات کو پورا کرتے ہیں۔ کلچر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ قبیلوں، دور چھوٹی چھوٹی بستیوں میں رہنے والی آبادیوں سے بھی پیدا ہوتا ہے۔ کیوں کہ اس کا تعلق لوگوں کی روزمرہ زندگی، ان کے رہن سہن اور رسم و رواج سے ہوتا ہے۔دوسری طرف جو جرمن کرتے ہیں، وہ تہذیب اور کلچر کے درمیان فرق قائم کرتے ہیں، وہ یہ ہے کہ تہذیب کا تعلق مادی وسائل اور ٹیکنالوجی سے ہوتا ہے، جب کہ کلچر کا تعلق روحانیت سے ہوتا ہے جسے جرمنKulturکہتے ہیں اور اس کی اہمیت ان کے ہاں تہذیب سے زیادہ ہے۔تیسری تعریف یہ ہے کہ تہذیب ایک بڑا یونٹ ہے اور اس کے اندر کئی کلچر سما جاتے ہیں۔ اس صورت میں تہذیب اور کلچر آپس میں مل جاتے ہیں۔
ثقافت یا کلچر کا نام ہمارے ہاں استعمال کیا جاتا ہے جو بہت کم صحیح معنوں میں ہوتا ہے اور اسے تہذیب و تمدن کے ساتھ گڈ مڈ کر دیا جاتا ہے حالانکہ تہذیب اور تمدن یا انگریزی میں سولائزیشن بالکل الگ چیز ہے اور کلچر یا ثقافت ایک علیحدہ چیز ہے۔ اور اسے تب سمجھا جا سکتا ہے جب اس کی بنیاد اور تاریخ پر کچھ روشنی ڈالی جائے۔کلچر کی ابتدا اس وقت سے ہوتی ہے جب انسان نے زراعت کا پیشہ اختیار کیا بلکہ یوں کہیے کہ بنی نوع انسان کے اندر دو مستقل گروہوں میں سے ایک نے زراعت کی ابتدا کی دوسرے گروہ نے جانور پالنا شروع کیے۔ اور انسانی ارتقاء میں ان دونوں گروہوں کی ابتدا شکاری گوشت خور اور زرعی سبزی خور سے ہوتی ہے۔ اس سے پہلے کا دور ملا جلا دور کہلایا جا سکتا ہے۔کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ کسی ظریف نے پاکستانی کلچر کے بارے میں یہ فقرہ کسا تھا کہ پاکستان میں کلچر ولچر کوئی نہیں، یہاں تومحض ایگریکلچر ہے۔ بات تفنن طبع کے لیے کہی گئی تھی اوراس لیے اس کا سواگت بھی قہقہوں سے ہوا تھا مگر سنجیدگی سے سوچا جائے تو ظریف میاں کی اس بات میں کوئی سچائی کا عنصر بھی موجود تھا کیونکہ کلچر کا لغوی مفہوم ہی کھیتی باڑی ہے۔ To Cultureکا مطلب ہے زمین کو فصل کے لیے تیار کرنا، اس میں ہل چلانا، جھاڑ جھنکار سے اسے صاف کرنا اور اس میں کھاد ڈال کر اسے زرخیز بنانا، تاکہ اس میں اگنے والی فصل توانا ہو۔ مگرواقعہ یہ ہے کہ کلچر کا مفہوم محض زمین کی تیاری نہیں۔ زمین توکلچر کا صرف کثیف حصہ ہے، اگرچہ اس کثیف حصے کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ اگر اسے خارج کردیا جائے تو کلچر کا نام ونشان ہی باقی نہ رہے۔ دوسرا حصہ کلچر کی پاکیزگی اور ارفع صورت میں سامنے آتا ہے۔
یہ تو تھیں ساری کتابی باتیں، جو ہم نصاب اور ادب کی مختلف کتابوں میں پڑھتے ہی رہتے ہیں،باباجی کا اس حوالے سے بالکل تھری سکسٹی ڈگری مختلف نظریہ ہے۔۔ باباجی فرماتے ہیں جو چیز کسی بھی معاشرے میں بہت زیادہ فعال یا رائج ہوجائے، یا یوں کہہ لیں کہ جس کا استعمال بہت زیادہ ہونے لگے وہ آہستہ آہستہ کلچر میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ہم نے جب ان کے اس فلسفے کی تشریح چاہی تو فرمانے لگے کہ۔۔ مثال کے طور پر سیاست میں ایک زمانہ میں حریف کی عزت کی جاتی تھی، اس کا احترام سیاست دان اپنے بیانات اور تقاریر میں کرتے تھے، لیکن اب تذلیل کی انتہا کرنے لگے ہیں، حد تو یہ ہے کہ مخالفین کی آڈیو اور وڈیو بھی لیکس ہونے لگ گئی ہیں۔بیس تیس سال بعدیہ سب ہمارے معاشرے کا حصہ بن جائے گا۔باباجی نے ایک مثال دی کہ ہمارے مذہب میں بہت سی چیزیں ایسی شامل کردی گئی ہیں جو نبی کریم ﷺ اور صحابی کرام رضوان اللہ تعالیٰ اجمعین کے زمانے میں بالکل بھی نہیں تھیں، لیکن اب ان چیزوں کواصل دین یا مذہب پر ترجیح دی جانے لگی ہے اور اس کے خلاف بولنے والوں پر کفر کے فتوے تک لگنے لگے ہیں، یعنی اب یہ ہمارے کلچر میں شامل ہوگیا ہے۔باباجی نے جب ہماری سڑی ہوئی شکل دیکھی تو اپنی مکروہ مسکراہٹ چہرے پر سجائے ایک اور مثال دینے پر اتر آئے، کہنے لگے۔۔لفافہ انسانوں کے درمیان رابطے کا کام دیتا ہے۔ دو افرادکے ملاپ کا ذریعہ ہونے کے سبب لفافہ بڑا فیورٹ اور پسندیدہ رہا ہے اور موبائل فون سے پہلے ہر گھر میں سب سے زیادہ انتظار اسی کا ہوتا تھا۔زمانے کے ساتھ ساتھ لفافے کا استعمال بھی بدلتا رہا، پھر یہ ہوا کہ جب غیر قانونی نذرانوں کی تقسیم و ترسیل کا کاروبار شروع ہوا تو اس مشکل کام کے لیے لفافہ ہی کام آیااور جب میدانِ سیاست کے ’’چوہدریوں‘‘ نے صحافیوں میں پیسے بانٹنے کا آغاز کیا تو یہ بوجھ بھی لفافے نے ہی اٹھایا۔ لفافوں کے ذریعے مالِ حرام کی ترسیل کو اس قدر فروغ حاصل ہوا کہ’ لفافہ کلچر’ کے نام سے ایک نیا کلچر وجود میں آگیا۔
باباجی کو جب لگا کہ کلچر کے حوالے سے ان کا فلسفہ بہت زیادہ سنجیدہ ہوگیا ہے اور وہ ہمارے سر سے گزرگیا ہے تو انہوں نے اپنے ’’اشٹائل‘‘ میں ہمیں سمجھانا شروع ہوئے، کلچر کی دو مزید آسان مثالیں سن لو۔۔ ایک یونیورسٹی میں لڑکے اور لڑکیوں کے دو الگ الگ گروپ بنائے گئے، لڑکوں کے گروپ نے ریسرچ کی کہ۔۔۔ جو لڑکیاں گنجے لڑکوں کا رشتہ مستردکردیتی ہیں تو شادی کے پانچ سال بعد ان کے شوہر گنجے ہو جاتے ہیں۔۔۔لڑکیوں نے جوابی ریسرچ رپورٹ میں انکشاف کیا کہ۔۔ جو لڑکے موٹی لڑکیوں کے رشتوں سے انکار کرتے ہیں ان کی بیویاں دو سال بعد ہی موٹی ہوجاتی ہیں۔۔۔دلہن کی رخصتی کے وقت ایک آنٹی اسے نصیحت کرنے لگی۔۔ بیٹی ایویں ایویں تھوڑا سا تو رو لو۔۔۔ جس پر وہ ماڈرن دلہن چلائی۔۔۔ روئے وہ جو مجھے لے کر جارہے ہیں۔۔ہم نے حیرت سے باباجی کو دیکھااور کہا۔۔ان مثالوں کی بھلا کلچر سے نتھی کرنے کی کیا ’’تُک‘‘ بنتی ہے؟؟ فرمانے لگے۔۔ نوجوان لڑکے اور لڑکیوں میں رشتے مستردکرنے کی وبا پھیلی ہوئی ہے،یہ اسی طرح جاری رہی تو پھر سمجھو یہ بھی ہمارا کلچر بن جائے گا۔ اور پہلے ہمارا کلچر تھا کہ لڑکیاں رخصتی پر روتی ہیں، یہ کلچر بھی اب آہستہ آہستہ رخصت ہونے لگاہے۔۔
اور اب چلتے چلتے آخری بات بھی کلچر کے حوالے سے ہی ہے۔۔تم میں سے بہترین انسان وہ ہے جو جمعہ کے رو زمسجد جائے اور اپنی اپنی جوتی پہن کر واپس آئے۔۔خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں


مضامین
سعودی عرب میں ہر گھنٹے سات طلاقوں کے کیسز رپورٹ وجود منگل 25 جنوری 2022
سعودی عرب میں ہر گھنٹے سات طلاقوں کے کیسز رپورٹ

حق دو کراچی کو وجود پیر 24 جنوری 2022
حق دو کراچی کو

ہندوستان کی شبیہ کون داغدار کررہاہے؟ وجود پیر 24 جنوری 2022
ہندوستان کی شبیہ کون داغدار کررہاہے؟

خود کو بدلیں وجود پیر 24 جنوری 2022
خود کو بدلیں

تجارتی جنگیں احمقوں کا کھیل وجود هفته 22 جنوری 2022
تجارتی جنگیں احمقوں کا کھیل

دھرنے،احتجاج اور مظاہرے وجود هفته 22 جنوری 2022
دھرنے،احتجاج اور مظاہرے

بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا وجود جمعه 21 جنوری 2022
بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا

تحریک انصاف اور پورس کے ہاتھی وجود جمعه 21 جنوری 2022
تحریک انصاف اور پورس کے ہاتھی

بلوچستان میں نئی سیاسی بساط وجود جمعه 21 جنوری 2022
بلوچستان میں نئی سیاسی بساط

کورونا،بھنگ اور جادو وجود جمعه 21 جنوری 2022
کورونا،بھنگ اور جادو

ترک صدر کا ممکنہ دورہ سعودی عرب اور اس کے مضمرات ؟ وجود جمعرات 20 جنوری 2022
ترک صدر کا ممکنہ دورہ سعودی عرب اور اس کے مضمرات ؟

قومی سلامتی پالیسی اور خطرات وجود بدھ 19 جنوری 2022
قومی سلامتی پالیسی اور خطرات

اشتہار

افغانستان
افغانستان میں امریکی شہری کا قبولِ اسلام، اسلامی نام محمد عیسیٰ رکھا وجود پیر 24 جنوری 2022
افغانستان میں امریکی شہری کا قبولِ اسلام، اسلامی نام محمد عیسیٰ رکھا

افغانستان،ہرات میں دھماکہ، 7 افراد جاں بحق، 9 زخمی وجود اتوار 23 جنوری 2022
افغانستان،ہرات میں دھماکہ، 7 افراد جاں بحق، 9 زخمی

اسلامی ممالک طالبان حکومت کو تسلیم کریں، افغان وزیراعظم کا مطالبہ وجود جمعرات 20 جنوری 2022
اسلامی ممالک طالبان حکومت کو تسلیم کریں، افغان وزیراعظم کا مطالبہ

طالبان کا شمالی مغربی شہر میں بدامنی کے بعد فوجی پریڈ کے ذریعے طاقت کا مظاہرہ وجود منگل 18 جنوری 2022
طالبان کا شمالی مغربی شہر میں بدامنی کے بعد فوجی پریڈ کے ذریعے طاقت کا مظاہرہ

افغان صوبہ بادغیس میں شدید زلزلہ،ہلاکتوں کی تعداد30 سے تجاوز وجود منگل 18 جنوری 2022
افغان صوبہ بادغیس میں شدید زلزلہ،ہلاکتوں کی تعداد30 سے تجاوز

اشتہار

بھارت
بھارت کا چین پر سرحد سے لاپتا نوجوان کو اغوا کرنے کا الزام وجود جمعه 21 جنوری 2022
بھارت کا چین پر سرحد سے لاپتا نوجوان کو اغوا کرنے کا الزام

بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا وجود جمعه 21 جنوری 2022
بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا

بھارتی آرمی چیف اور وزیر داخلہ کی گرفتاری کیلئے برطانیہ میں درخواست دائر وجود جمعرات 20 جنوری 2022
بھارتی آرمی چیف اور وزیر داخلہ کی گرفتاری کیلئے برطانیہ میں درخواست دائر

بھارت،کالج میں حجاب پہننے والی مسلم طالبات کو کلاس سے نکال دیا گیا وجود بدھ 19 جنوری 2022
بھارت،کالج میں حجاب پہننے والی مسلم طالبات کو کلاس سے نکال دیا گیا

سرحدی تنازع،نیپال کی بھارت سے سڑکوں کی یکطرفہ تعمیر روکنے کی اپیل وجود منگل 18 جنوری 2022
سرحدی تنازع،نیپال کی بھارت سے سڑکوں کی یکطرفہ تعمیر روکنے کی اپیل
ادبیات
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل وجود منگل 04 جنوری 2022
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل

پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی

غلاف کعبہ کی سلائی میں عربی کا ثلث فانٹ استعمال کرنے کی وضاحت جاری وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
غلاف کعبہ کی سلائی میں عربی کا ثلث فانٹ استعمال کرنے کی وضاحت جاری

دنیا کی 1500 زبانیں معدوم ہونے کا خطرہ وجود منگل 21 دسمبر 2021
دنیا کی 1500 زبانیں معدوم ہونے کا خطرہ

سقوط ڈھاکہ پر لکھی گئی نظمیں وجود جمعرات 16 دسمبر 2021
سقوط ڈھاکہ پر لکھی گئی نظمیں
شخصیات
دنیا کی کم عمر مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ کو بچھڑے 10 برس بیت گئے وجود هفته 15 جنوری 2022
دنیا کی کم عمر مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ کو بچھڑے 10 برس بیت گئے

مولانا طارق جمیل کی اپنے طوطےاور بلی کے ہمراہ دلچسپ ویڈیو وائرل وجود منگل 11 جنوری 2022
مولانا طارق جمیل کی اپنے طوطےاور بلی کے ہمراہ دلچسپ ویڈیو وائرل

ہے رشک ایک خلق کو جوہر کی موت پر ۔ یہ اس کی دین ہے جسے پروردگار دے وجود بدھ 05 جنوری 2022
ہے رشک ایک خلق کو جوہر کی موت پر        ۔ یہ اس کی دین ہے جسے پروردگار دے

سرگودھا کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ : مولانا اکرم طوفانی سپرد خاک وجود پیر 27 دسمبر 2021
سرگودھا کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ : مولانا اکرم طوفانی سپرد خاک

قائداعظم کے خطاب کا تحقیقی جائزہ (خواجہ رضی حیدر) وجود هفته 25 دسمبر 2021
قائداعظم کے خطاب کا تحقیقی جائزہ  (خواجہ رضی حیدر)