وجود

... loading ...

وجود
وجود

عاصمہ جہانگیر کانفرنس اور اِدارے

هفته 27 نومبر 2021 عاصمہ جہانگیر کانفرنس اور اِدارے

عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں کئی ایسے مقررین کو خاص طور پر مدعو کیا گیا جن کی واحد وجہ شہرت اِداروں کی تضحیک ہے اِداروں پر گرجنے اور برسنے والے یہ لوگ اپنی یاوہ گوئی کو اظہار کی آزادی کالقب دیتے ہیں مگر یہ کسی طور آزادی اظہار نہیں بلکہ انتشار پھیلانے کی یہ ایسی سوچی سمجھی سازش ہے جس کی کڑیاں بیرونِ ملک ملتی ہیں اسی لیے نام نہاد آزادی اظہار کو سوچی سمجھی سازش ا لکھا ہے اِس اِس کانفرنس میںدینی طبقے کوتو نمائندگی دینے سے دانستہ طور پر گریزکیا گیا مگربھارت سے برکھا دت سمیت ایسے لوگوں کو خاص طورپر بلایا گیا جو پاکستان اور پاکستانی اِداروں سے نفرت کرتے کسی ملک کو خاص طور پر نشانہ بنانا کسی طور آزادی اظہار کے زمرے میں شمار نہیں کر سکتے پھر بھی اِداروں کیسے یاوہ گوئی کو برداشت کر تے ہیں سمجھ نہیں آتا؟حالانکہ اِداروں کا وقار اور ساکھ ختم ہو نا نفرت پیداکرنے کا باعث بنتا ہے حیران کُن بات ہے کہ پاکستان میں این جی اوز اور دشمن ملک کی شخصیات کو پزیرائی دی جانے لگی ہے مگر ہمارے اِدارے نوٹس تک نہیں لیتے اِس خاموشی کی وجہ کیا ہے؟عالمی دبائو ہے یا فرائض سے غفلت ،جو بھی ہے ذمہ داران اپنے اطوار پر نظرثانی کریں۔
آزادی اظہار کے نام پر کوئی ملک کسی کو اپنے اندرونی معامالات میں مداخلت کی اجازت نہیں دیتا اگر کوئی سینہ زور ی کا مظاہرہ کرے تو آزاد وخود مختار ممالک کاروائی کرتے ہیں ترکی میں قید حکومت مخالف رہنما عثمان کوالا کے خلاف جاری مقدمے کے بارے میں اٹھارہ اکتوبر کو امریکا ،جرمنی فرانس،ناروے ،سویڈن،نیوزی لینڈ ،فن لینڈ،کینڈا،ڈنمارک اور نیدرلینڈ کے سفیروں نے مشترکہ بیان میں مطالبہ کیا کہ جاری مقدمے کو منصفانہ طریقے سے جلد اجلد انجام تک پہنچایا جائے جس پر ترک وزارتِ خارجہ نے بیان کو غیر زمہ دارکہنے کے ساتھ اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیتے ہوئے پہلے وضاحت طلب کی بعدازاں صدر طیب اردوان نے مداخلت کے مرتکب سفیروں کو ملک بدر کرنے کا حکم جاری کیا جس پر سفیروں کو معافی مانگنا پڑی لیکن ہمارے یہاں صورتحال اتنی خراب ہے کہ دشمن ملک کے لوگ ہمارے اِداروں کی ساکھ پر حملے کرتے ہیں لیکن ہم کچھ کرنے کی بجائے جواب میں مہر بہ لب رہتے ہیں قوم پوچھتی ہے اِس مصلحت کی وجہ کیا ہے؟ ۔
یہ منظور پشتین ،افراسیاب خٹک اور علی احمد کرد جیسے لوگوں نے عاصمہ جہانگیر کے نام پر جو تماشہ لگایا ایسے تماشوں کی کوئی ملک اجازت نہیں دیتا دور کیوں جائیں ہمسایہ ملک کی صورتحال دیکھ لیں وہاں ہر مسلمان ،سکھ ،عیسائی اور دلت غدار ہے سابق وزیرِ خارجہ سلمان خورشید کا ہندو نظریے پر تنقید کی پاداش میں گھر جلا دیا جاتا ہے نوجوت سنگھ سدھو اچھے انتظامات پر عمران خان کو بڑا بھائی کہتا ہے تو انتہا پسند ہندو اُسے پاکستان جانے کے مشور ے دیتے ہیں پاکستان کرکٹ ٹیم کی جیت پر خوشی کا ظہارکرنے والوں کے خلاف دہشت گردی کے پرچے ہوتے ہیںکوئی بھی شخص بھارتی فوج یا جنرل کے خلاف لب کشائی کی جرات نہیں کر سکتا لیکن ہمارے ہاںماورائے عدالت قتل اور مسنگ پر سن کے نام پر اِداروں کو ہدفِ تنقید بنانے والے اِتنے خود سر ہو چکے ہیں کہ عسکری نام لیکر الزام تراشی کرتے اور غدارہونا تسلیم کرتے ہیں لیکن مذمت کرناتو درکنا رایسے لگتا ہے کوئی نوٹس تک نہیں لیتاکیا اِداروں سے تنقید کرنے والے اذیادہ طاقتور ہیں؟ ۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ یاوہ گوئی کرنے والے تو بلاروک ٹوک اپنی مذموم حرکتوں میں مصروف ہیں مگرملک میں اُنھیں آئینہ دکھانے والا کوئی نہیں شاید ایک وجہ تو یہ ہے کہ اِداروں کی طرف سے ذرائع ابلاغ پر جواب دینے کا مناسب طریقہ کار نہیں نہ ہی کسی تقریب میں جا کر اظہارِ خیال کیا جاسکتاہے لیکن یہ جو درجنوں کے حساب سے حکومتی ترجمان سارادن میڈیا پر شورشراباکرتے ہیں وہ کیوں اِداروں کی ساکھ سے کھیلنے والوں کو جواب دینے سے پہلو تہی کرتے ہیں؟ کچھ عرصے سے پاک فوج کے خلاف عالمی سطح پر اور ملک میں منظم طریقے سے پراپیگنڈہ جاری ہے افسوس کی بات ہے کہ کسی سیاسی رہنماکو اِس زہریلے پراپیگنڈے کا احساس تک نہیں شاید اُنھیں پاک فوج کے حق میں بات کرنا نفع بخش کام نہیں لگتا مگر اِداروں کے خلاف چلنے والی مُہم سے محب الوطن حلقے سخت مضطرب ہیں کیونکہ کچھ عرصے سے ناقدین کی تعداد بڑھنے لگی ہے جس کا فوری توڑ ازحد ضروری ہے۔
بھارت میں کوئی شخص پاک فوج اور پاکستان کے حق میں نعرے نہیں لگا سکتا نہ ہی اسرائیل میں ایسی حرکت کا سوچا جا سکتا ہے مگر پاکستان میںآزادی اظہار کے نام پر ایسی کھلی چھٹی ہے کہ لوگ بھارت ،اسرائیل اور امریکا کے حق میں نعرے لگاتے اور اُن کی افواج کو دعوت دینے تک دینے لگے ہیں یہ آزادی اظہار نہیںبلکہ غداری میں شمار ہوتاہے ہر کام کی حدود و قیود ہوتی ہیں توسوال یہ ہے کہ اِداروں پر الزام تراشی کی کھلی چھٹی کیوں ہے؟جو ہمارے ہیرو ہیں انھیں چند کٹھ پُتلیاں زیرو ثابت کرنے میں مصروف ہیں لیکن ایسے لوگوں کو منہ توڑ جواب دینے کی بجائے ہر طرف خاموشی ہے ۔
اگر پاکستان میں آزادی اظہار پر پابندیاں ہوتیں تو کسی کو اِداروں کی ساکھ سے کھیلنے کی جرات ہوتی؟ ہر گز نہیں ۔یہ جو مظلومیت کے دعویدار ہیں کیا انھیں معلوم نہیں کہ قوم کے سپوت جان اور خون کے نذرانے دیکر وطن کی حفاظت کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں لیکن چند اغیار کے راتب خور کیوں اپنے وطن کے سپوتوں کومایوس کرنا چاہتے ہیں یہ جو بھی ہیں انھیں بے نقاب کرنے کے ساتھ کیے کی سزا ملنا ضروری ہے تاکہ پھر کسی کو وطن کے رکھوالوں پر انگلی اُٹھانے کی ہمت نہ ہو ذیادہ نرمی بھی کمزوری کاہی دوسرا نام ہے ملک و ملت کے دشمنوں سے جو سلوک عا لمی اقوام کرتی ہیں وہی طریقہ کار ملک میں رائج کیا جانا ہی انصاف ہے عاصمہ جہانگیر کانفرنس اگر مکالمے کی شکل ہوتی تو عوامی مسائل پر اجاگر کرنے اور محرومیوں کو دور کرنے کی تجاویز سامنے آتیں مگر عوامی مسائل کو نظر انداز کرتے ہوئے پاک فوج اور عسکری قیادت کو نشانے پر رکھاگیا یہ زہریلی باتیںکرنے والے انسانی شکل میں دراصل سنپولیے ہیں جنھیں کچلنے میں ہی ملک وقوم کی فائدہ ہے ہجوم کی بجائے قوم کے قالب میں ڈھلنے کی ضرورت ہے ۔
افریقی ملک ایتھوپیا کے وزیرِ اعظم ابی محمد نے کارِ مملکت نائب وزیرِ اعظم کو سونپ کر خود حکومت مخالف عسکریت پسندتیگرائی باغیوں کے خلاف فوج کے ساتھ اگلے مورچوں پرجاکر لڑنے کا فیصلہ کیا ہے عالمی خبررساں اِداروں کے مطابق تیگرائی باغیوں نے دارالحکومت ادیس بابا کی جانب مارچ کرنے کا اعلان کرنے سے پہلے ہی ملک کے کئی شہروں پر قبضہ کر لیا ہیںجس پر وزیرِ اعظم نے اختیارات دستبرداری کی قومیں ایسے بنتی ہیں جب ملک پر مشکل وقت آئے تو سب قومی سلامتی کے امور پر ایک ہوجاتے ہیں لیکن ہم جانے کن خیالوں میں مگن ہیں خوابِ غفلت سے جاگنے کا وقت ہے تاکہ انسانی شکل والے سانپ اور سنپولیے ملکی سالمیت کو نقصان نہ پہنچا سکیں اللہ کا شکر ہے کہ پاک فوج ہر قسم کی بیرونی جارحیت کا دندان شکن جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے لیکن آزادی اظہار کی آڑ میں اغیار کے کاندوں کی سرکوبی عوامی تعاون سے ممکن ہے ایتھوپیا جیسے ملک کے وزیرِ اعظم سے سبق حاصل کر لیں کہ عاصمہ جہانگیر کانفرنسوں کی بجائے وطن کے اِداروں کی توقیرکا دفاع ہی اصل حب الوطنی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں


مضامین
سعودی عرب میں ہر گھنٹے سات طلاقوں کے کیسز رپورٹ وجود منگل 25 جنوری 2022
سعودی عرب میں ہر گھنٹے سات طلاقوں کے کیسز رپورٹ

حق دو کراچی کو وجود پیر 24 جنوری 2022
حق دو کراچی کو

ہندوستان کی شبیہ کون داغدار کررہاہے؟ وجود پیر 24 جنوری 2022
ہندوستان کی شبیہ کون داغدار کررہاہے؟

خود کو بدلیں وجود پیر 24 جنوری 2022
خود کو بدلیں

تجارتی جنگیں احمقوں کا کھیل وجود هفته 22 جنوری 2022
تجارتی جنگیں احمقوں کا کھیل

دھرنے،احتجاج اور مظاہرے وجود هفته 22 جنوری 2022
دھرنے،احتجاج اور مظاہرے

بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا وجود جمعه 21 جنوری 2022
بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا

تحریک انصاف اور پورس کے ہاتھی وجود جمعه 21 جنوری 2022
تحریک انصاف اور پورس کے ہاتھی

بلوچستان میں نئی سیاسی بساط وجود جمعه 21 جنوری 2022
بلوچستان میں نئی سیاسی بساط

کورونا،بھنگ اور جادو وجود جمعه 21 جنوری 2022
کورونا،بھنگ اور جادو

ترک صدر کا ممکنہ دورہ سعودی عرب اور اس کے مضمرات ؟ وجود جمعرات 20 جنوری 2022
ترک صدر کا ممکنہ دورہ سعودی عرب اور اس کے مضمرات ؟

قومی سلامتی پالیسی اور خطرات وجود بدھ 19 جنوری 2022
قومی سلامتی پالیسی اور خطرات

اشتہار

افغانستان
افغانستان میں امریکی شہری کا قبولِ اسلام، اسلامی نام محمد عیسیٰ رکھا وجود پیر 24 جنوری 2022
افغانستان میں امریکی شہری کا قبولِ اسلام، اسلامی نام محمد عیسیٰ رکھا

افغانستان،ہرات میں دھماکہ، 7 افراد جاں بحق، 9 زخمی وجود اتوار 23 جنوری 2022
افغانستان،ہرات میں دھماکہ، 7 افراد جاں بحق، 9 زخمی

اسلامی ممالک طالبان حکومت کو تسلیم کریں، افغان وزیراعظم کا مطالبہ وجود جمعرات 20 جنوری 2022
اسلامی ممالک طالبان حکومت کو تسلیم کریں، افغان وزیراعظم کا مطالبہ

طالبان کا شمالی مغربی شہر میں بدامنی کے بعد فوجی پریڈ کے ذریعے طاقت کا مظاہرہ وجود منگل 18 جنوری 2022
طالبان کا شمالی مغربی شہر میں بدامنی کے بعد فوجی پریڈ کے ذریعے طاقت کا مظاہرہ

افغان صوبہ بادغیس میں شدید زلزلہ،ہلاکتوں کی تعداد30 سے تجاوز وجود منگل 18 جنوری 2022
افغان صوبہ بادغیس میں شدید زلزلہ،ہلاکتوں کی تعداد30 سے تجاوز

اشتہار

بھارت
بھارت کا چین پر سرحد سے لاپتا نوجوان کو اغوا کرنے کا الزام وجود جمعه 21 جنوری 2022
بھارت کا چین پر سرحد سے لاپتا نوجوان کو اغوا کرنے کا الزام

بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا وجود جمعه 21 جنوری 2022
بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا

بھارتی آرمی چیف اور وزیر داخلہ کی گرفتاری کیلئے برطانیہ میں درخواست دائر وجود جمعرات 20 جنوری 2022
بھارتی آرمی چیف اور وزیر داخلہ کی گرفتاری کیلئے برطانیہ میں درخواست دائر

بھارت،کالج میں حجاب پہننے والی مسلم طالبات کو کلاس سے نکال دیا گیا وجود بدھ 19 جنوری 2022
بھارت،کالج میں حجاب پہننے والی مسلم طالبات کو کلاس سے نکال دیا گیا

سرحدی تنازع،نیپال کی بھارت سے سڑکوں کی یکطرفہ تعمیر روکنے کی اپیل وجود منگل 18 جنوری 2022
سرحدی تنازع،نیپال کی بھارت سے سڑکوں کی یکطرفہ تعمیر روکنے کی اپیل
ادبیات
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل وجود منگل 04 جنوری 2022
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل

پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی

غلاف کعبہ کی سلائی میں عربی کا ثلث فانٹ استعمال کرنے کی وضاحت جاری وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
غلاف کعبہ کی سلائی میں عربی کا ثلث فانٹ استعمال کرنے کی وضاحت جاری

دنیا کی 1500 زبانیں معدوم ہونے کا خطرہ وجود منگل 21 دسمبر 2021
دنیا کی 1500 زبانیں معدوم ہونے کا خطرہ

سقوط ڈھاکہ پر لکھی گئی نظمیں وجود جمعرات 16 دسمبر 2021
سقوط ڈھاکہ پر لکھی گئی نظمیں
شخصیات
دنیا کی کم عمر مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ کو بچھڑے 10 برس بیت گئے وجود هفته 15 جنوری 2022
دنیا کی کم عمر مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ کو بچھڑے 10 برس بیت گئے

مولانا طارق جمیل کی اپنے طوطےاور بلی کے ہمراہ دلچسپ ویڈیو وائرل وجود منگل 11 جنوری 2022
مولانا طارق جمیل کی اپنے طوطےاور بلی کے ہمراہ دلچسپ ویڈیو وائرل

ہے رشک ایک خلق کو جوہر کی موت پر ۔ یہ اس کی دین ہے جسے پروردگار دے وجود بدھ 05 جنوری 2022
ہے رشک ایک خلق کو جوہر کی موت پر        ۔ یہ اس کی دین ہے جسے پروردگار دے

سرگودھا کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ : مولانا اکرم طوفانی سپرد خاک وجود پیر 27 دسمبر 2021
سرگودھا کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ : مولانا اکرم طوفانی سپرد خاک

قائداعظم کے خطاب کا تحقیقی جائزہ (خواجہ رضی حیدر) وجود هفته 25 دسمبر 2021
قائداعظم کے خطاب کا تحقیقی جائزہ  (خواجہ رضی حیدر)