وجود

... loading ...

وجود

صحافتی بہادری کا ایوارڈ، چینی اور فلسطینی خواتین صحافیوں کے نام

جمعه 19 نومبر 2021 صحافتی بہادری کا ایوارڈ، چینی اور فلسطینی خواتین صحافیوں کے نام

سن 2021 کے لیے پریس فریڈم ایوارڈز حاصل کرنے والوں کے ناموں کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ پریس فریڈم ایوارڈز کورونا وائرس کو رپورٹ کرنے والی چینی صحافی، انویسٹیگیٹو کنسورشیم اور فلسطینی خاتون رپورٹر کو دیے گئے ہیں۔جرمن ٹی وی رپورٹ کے مطابق صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم رپورٹرز وِدآوٹ بارڈرز کے پریس فریڈم ایوارڈز برائے سال 2021 کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ پریس فریڈم ایوارڈز دینے کا سلسلہ سن 1992 میں شروع کیا گیا تھا۔ اس ایورڈ کا مقصد صحافیوں کی پیشہ ورانہ سرگرمیوں کا اعتراف کرنا ہے۔ یہ ایوارڈ ان جرنلسٹس کے لیے بھی وقف کیا گیا، جن کی شاندار صحافیانہ ذمہ داریاں آزادی صحافت کے وقار میں اضافے اور تحفظ کا سبب بنتی ہیں۔دسمبر سن 2019 میں ایک پراسرار وائرس چین کے شہر ووہان میں پھیلنا شروع ہوا۔ اس وقت کسی کو یہ احساس نہیں تھا کہ یہ وائرس افزائش پا کر عالمی وبا بن جائے گا اور لاکھوں انسانوں کی موت کا بھی سبب بنے گا۔ ایک ماہ بعد تئیس جنوری سن 2020 کو ووہان میں پوری طرح لاک ڈاون نافذ کر دیا گیا۔فروری سن 2020 کو چین کے مالیاتی مرکز شنگھائی سے ایک آزاد صحافی ژانگ ژان ووہان کے سفر پر روانہ ہوئیں تا کہ وہ حقیقت کو جان پائیں۔ ان کے اس سفر اور مرتب کردہ رپورٹس کو صحافیوں کی تنظیم نے ”جرنلسٹک کرج یا صحافتی بہادری کی کیٹیگری میں شمار کیا اور انہیں رواں برس کے ایوارڈ کا حقدار ٹھہرایا۔اڑتیس سالہ ژانگ ژان کی رپورٹ سوشل میڈیا پر دنیا بھر میں عام ہوئی تھی۔ اس میں ووہان کے مریضوں سے بھرے ہسپتالوں کا احوال اور لاک ڈان میں پھنسی زندگی کو بیان کیا گیا۔ وہ ووہان میں مقیم ہو کر رپورٹنگ کرتی رہیں اور پھر چودہ مئی سن 2020 کو اچانک لاپتہ ہو گئیں۔بعد میں معلوم ہوا کہ چینی حکام نے انہیں گرفتار کر کے واپس شنگھائی کی ایک جیل میں پہنچا دیا تھا۔ وہ کئی دن جیل میں بغیر کسی الزام کے قید رکھی گئیں۔ چینی عدالت نے دسمبر سن 2020 میں انہیں چار برس کی سزا سنا دی اور عدالت میں ستغاثہ نے ژانگ ژان پر یہ الزام عائد کیا کہ وہ جھگڑا کرنے کے علاوہ اشتعال انگیزی کی مرتکب ہوئی ہیں۔انہوں نے اس سزا کے دوران ایک مرتبہ پھر بھوک ہڑتال شروع کر دی، جو اب تک جاری ہے۔ انہیں خوراک کی نالی کے ساتھ زبردستی معدے میں کھانا پہنچایا جاتا ہے۔ ان کا وزن چالیس کلوگرام کم ہو چکا ہے۔یہ امر اہم ہے کہ ژانگ ژان ایک وکیل بھی ہیں اور ہانگ کانگ میں ستمبر 2019 کو اظہارِ یکجہتی کی ریلی میں حصہ لینے کی بنیاد پر جیل میں ڈال دی گئی تھیں، جہاں انہیں پینسٹھ ایام کے بعد اس لیے رہا کر دیا گیا کہ انہوں نے بھوک ہڑتال کر رکھی تھی۔پیگاسس پراجیکٹ صحافیوں کا ایک بین الاقوامی کنسورشیم ہے اور اس میں گیارہ ملکوں کے اسی صحافی شامل ہیں۔ یہ کئی سرگرمیوں پر نگاہ رکھنے والا ادارہ ہے۔ اسے بھی رواں برس پریس فریڈم ایوارڈ دیا گیا۔صحافیوں نے کنسورشیم کا نام ایک اسرائیلی کمپنی کے تیارکردہ جاسوسی کے پروگرام پیگاسس سے مستعار لیا۔ یہ پروگرام مختلف ممالک کی سکیورٹی ایجنسیوں نے دہشت گردی اور حکومت مخالفین کی نگرانی کے لیے بھی خریدا۔ ان میں سعودی عرب، بھارت اور ہنگری بھی شامل ہیں۔ میکسیکو کی حکومت صحافیوں کی نگرانی کے لیے پیگاسس پروگرام کو استعمال کرتی رہی ہے۔پراجیکٹ کنسورشیم کے صحافیوں نے اس سافٹ ویئر بابت حیران کن تفصیلات پر مبنی ایک رپورٹ عام کی۔ اس میں بتایا گیا کہ دنیا بھر میں دو سو میڈیا پروفیشنلز کی جاسوسی کی جاتی ہے۔ رپورٹز وِدآوٹ بارڈرز جرمنی کے ڈائریکٹر کرسٹیان میہر نے اس سافٹ ویئر پر مکمل بین الاقوامی پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔فلسطین کی صحافی خاتون مجدولینا حسینہ کوئی اجنبی نہیں کیوں کہ ان کی ناقدانہ رپورٹس عالمی شہرت کا باعث ہیں۔ ان کی وجہ سے انہیں اسرائیلی اور فلسطینی حکام کے قہر کا بھی سامنا ہے۔مجدولینا حسینہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے اسرائیل پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ارتکاب پر تنقید کی اور اسی طرح فلسطینی اتھارٹی کو تنقید کا نشانہ بنایا کیونکہ اس کے اہلکاروں میں پائی جانے والی کرپشن کو ظاہر کیا تھا۔ حسینہ کے مطابق دونوں اطراف سے انہیں ٹارگٹ کر کے نقصان پہنچایا گیا اور الزامات بھی عائد کیے گئے۔سن 2015 میں انہوں نے ترک ٹیلی وژن ٹی آر ٹی میں ملازمت بھی اختیار کی۔ قبل ازیں وہ فلسطینی نیوز ایجنسیوں کے ساتھ بھی وابستہ رہیں تھیں۔ ان کو اسرائیلی خفیہ ادارے کی پابندی کا بھی سامنا ہے اور اس باعث وہ صرف ویسٹ بینک میں محدود ہو کر رہ گئی ہیں لیکن ایک صحافی کے فرائض سرانجام دے رہی ہیں۔


متعلقہ خبریں


امریکا کی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی،قریب آنے والے جہازوں کو تباہ کرنے کی دھمکی وجود - منگل 14 اپریل 2026

آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اُن جہازوں کو نہیں روکا جائے گا جو ایرانی بندرگاہوں کے بجائے دیگر ممالک کی جانب جا رہے ہوں، ٹرمپ کا 158 جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ ناکہ بندی کے دوران مزاحمت ایران کیلئے دانشمندانہ اقدام ثابت نہیں ہوگا، فضائی حدود ہماری مکمل گرفت میں ہے، ٹرمپ ایران کو مکمل ...

امریکا کی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی،قریب آنے والے جہازوں کو تباہ کرنے کی دھمکی

عمران خان کی ہدایت، تحریک انصاف کا19 اپریل کو جلسہ عام کا اعلان، کارکنان کو ملک بھر میں متحرک کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 14 اپریل 2026

مردان ریلوے گراؤنڈ میں سہ پہر 3 بجے جلسہ ہوگا، مخالفین خصوصاً ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ٹاؤٹس جلسے کو ناکام بنانے کیلئے منفی پروپیگنڈا کر رہے ہیں،وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا قوم آج بھی عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے، دنیا کو دکھائیں گے بانی جیل میں ہونے کے باوجود بڑی سیاسی سرگرمی کر سکتے ہیں،...

عمران خان کی ہدایت، تحریک انصاف کا19 اپریل کو جلسہ عام کا اعلان، کارکنان کو ملک بھر میں متحرک کرنے کا فیصلہ

عدالت کا سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم وجود - منگل 14 اپریل 2026

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی عدم حاضری پر ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کردیے ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات کے کیس کی سماعتسینئر سول جج عباس شاہ نے کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے وزیر اعلی کے پی کے سہیل آفریدی کے خلاف ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات اور ساکھ متاثر کرنے کے...

عدالت کا سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

پاکستان امریکا ایران مذاکرات میں مثبت پیشرفت کیلئے پُرامید وجود - منگل 14 اپریل 2026

دونوں فریقین کے درمیان اٹکے ہوئے معاملات حل کروانے کی کوششیں کررہے ہیں، شہباز شریف وزیراعظم کا کابینہ اراکین سے خطاب، فیلڈ مارشل اور نائب وزیراعظم کو شاندار خراج تحسین پیش کیا وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ تاریخ گواہ ہے جنگ کروانے اور امن قائم کرنے میں کئی سال لگتے ہیں، پا...

پاکستان امریکا ایران مذاکرات میں مثبت پیشرفت کیلئے پُرامید

امریکا، ایران میں معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری وجود - منگل 14 اپریل 2026

واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی حل کیلئے رابطے جاری ہیں، امریکی عہدیدار مستقبل میں امریکی اور ایرانی وفود کی ملاقات کا امکان تاحال غیر واضح ہے، بیان امریکا اور ایران کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری ہیں۔ایک امریکی عہدیدار کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیا...

امریکا، ایران میں معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی، ایران کو ٹول دینے والے جہازوں کو گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی، ٹرمپ وجود - پیر 13 اپریل 2026

ایران کے ساتھ ملاقات اچھی رہی ، جوہری معاملے کے علاوہ اکثر نکات پر اتفاق ہوا،امریکی بحریہ آبنائے ہرمز سے آنے جانیوالے بحری جہازوں کو روکنے کا عمل فوری شروع کر دے گی یہ عالمی بھتا خوری ہے امریکا کبھی بھتا نہیں دے گاجو کوئی غیر قانونی ٹول دے گا اسے محفوظ بحری راستا نہیں ملے گا، ای...

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی، ایران کو ٹول دینے والے جہازوں کو گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی، ٹرمپ

پاکستان کی کامیاب سفارت کاری پر بھارت میں صف ماتم وجود - پیر 13 اپریل 2026

اسلام آباد میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات بھارت پر بجلی بن کرگرے ہیں بھارت کی سفارتی ناکامی پر کانگریس نے نام نہاد وشوا گرو مودی کو آڑے ہاتھوں لے لیا پاکستان میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات بھارت پر بجلی بن کرگرے ہیں۔ مودی کو ہرطرف سے تنقید کا سامنا ہے۔خلیجی جنگ کے تناظر...

پاکستان کی کامیاب سفارت کاری پر بھارت میں صف ماتم

ترک صدر کی اسرائیل پر حملے کی دھمکی ،نیتن یاہو آج کا ہٹلر ہے،طیب اردگان وجود - پیر 13 اپریل 2026

مذاکرات ناکام ہوئے توہم اسرائیل میں ایسے ہی گھُس سکتے ہیں جیسے لیبیا اور کاراباخ میں داخل ہوئے تھے، اسرائیل نے سیزفائر کے دن بھی سیکڑوں لبنانی قتل کیے اسرائیل کو اس کی جگہ دکھائیں گے، فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دینے کا اسرائیلی فیصلہ اور ہٹلر کی یہودی مخالف پالیسیوں میں کوئی فر...

ترک صدر کی اسرائیل پر حملے کی دھمکی ،نیتن یاہو آج کا ہٹلر ہے،طیب اردگان

اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل وجود - اتوار 12 اپریل 2026

اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل،فریقین محتاط،پرامید،کاغزات کا تبادلہ ،ٹیکنیکی گفتگو آج مذاکرات کے پہلے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں ہوئیں، دوسرے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان براہِ ر...

اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل

امارات کو رقم کی واپسی، سعودی عرب، قطر کی پاکستان کو 5 ارب ڈالر کی مالی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ وجود - اتوار 12 اپریل 2026

سعودی وزیر خزانہ کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات، مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی وجہ سے بڑھتے ہوئے بیرونی دباؤ اور اخراجات کے پیش نظر پاکستان کو مالی مدد کا یقین دلایا پاکستان کی سعودی عرب سے مزید مالی امداد کی درخواست ، نقد ڈپازٹس میں اضافہ اور تیل کی سہولت کی مدت میں توسیع شا...

امارات کو رقم کی واپسی، سعودی عرب، قطر کی پاکستان کو 5 ارب ڈالر کی مالی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ

عمران خان جمہوری تاریخ کی بدترین سیاسی انتقامی کارروائی کا نشانہ ہے، سہیل آفریدی وجود - اتوار 12 اپریل 2026

علاقائی کشیدگی میں کمی کیلئے سفارتی کوششیں مثبت پیشرفت ہیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اسلام آباد مذاکرات پائیدار امن علاقائی استحکام کیلئے تعمیری کردار ہے، اجلاس سے خطاب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے حالیہ سفارتی کوششوں کو علاقائی کشیدگی میں کمی، پائیدار امن اور ع...

عمران خان جمہوری تاریخ کی بدترین سیاسی انتقامی کارروائی کا نشانہ ہے، سہیل آفریدی

اسرائیل کی ایران جنگ کے دوران غزہ پر بمباری ،107فلسطینی شہید، 342 زخمی وجود - اتوار 12 اپریل 2026

اسرائیل نے گزشتہ 40دنوں میں سے 36دن غزہ پر بمباری کی،عرب میڈیا 23ہزار 400امدادی ٹرکوں میں سے 4ہزار 999ٹرکوں کو داخلے کی اجازت ایران جنگ کے دوران اسرائیل نے گزشتہ 40 دنوں میں سے 36 دن غزہ پر بمباری کی۔عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 107 فلسطینی شہید او...

اسرائیل کی ایران جنگ کے دوران غزہ پر بمباری ،107فلسطینی شہید، 342 زخمی

مضامین
اسلام آباد مذاکرات ، خطہ پھر بے یقینی کے سائے میں وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات ، خطہ پھر بے یقینی کے سائے میں

اسلام آباد مذاکرات:اسرائیل دودھ میں مکھی کی طرح باہر وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات:اسرائیل دودھ میں مکھی کی طرح باہر

اسلام آباد مذاکرات بے نتیجہ، جنگ بندی اور مستقبل غیر یقینی وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات بے نتیجہ، جنگ بندی اور مستقبل غیر یقینی

بھارت کی جارحانہ حکمت عملی وجود منگل 14 اپریل 2026
بھارت کی جارحانہ حکمت عملی

مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کی تعیناتی وجود پیر 13 اپریل 2026
مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کی تعیناتی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر