وجود

... loading ...

وجود
وجود

حیات اوررازحیات

منگل 16 نومبر 2021 حیات اوررازحیات

نامورمغل بادشاہ ظہیرالدین بابر نے کہا تھا
بابر بعیش کرد کہ عالم دوبارہ نیست
ان کا کہنا دنیا کی سب سے بڑی سچائی ہے کہ انسان کو زندگی ایک بار ہی ملتی ہے اور ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ اسے کامیاب بنایا جائے اور وہ اتنی ترقی کرے کہ لوگ اس کی مثالیں دیتے پھریں۔ یہ اور بات ہے کہ کامیابی کا معیار ہر ایک کے نزدیک الگ الگ ہے فرض کرلیں کامیابی کے معیار کی 3بڑی اقسام ہیں، اول یہ کہ لوگ اس فانی دنیا میں عیش و عشرت، دولت اور آسائشوںکی زندگی ہی کو کامیابی کا معیار بنالیتے ہیں دوئم کچھ لوگ صرف عبادات پر ہی زور دیتے ہیں وہ سب کچھ اسی تناظرمیں دیکھتے ہیں مثلاً میرا ایک دوست کسی بیرون ِ ملک تبلیغ پر جانے کے لیے تبلیغی مرکز گیااسی اثناء میں اسے اطلاع دی گئی کہ اس کی والدہ کا انتقال ہوگیا ہے اس نے کہا میں تدفین کے لیے نہیں جائوںگا میں تو اللہ کی راہ میں تبلیغ کے لیے جانے والا ہوں یہ رویہ جس پر مذہبی جذبات حاوی ہوگئے ہیں اکثردیکھنے میں آیاہے کہ ان کا گھر والوں خصوصاً بیوی بچوںیا ماتحتوں کے ساتھ سلوک انتہائی ناروا ہوتاہے اس عالم میں اخلاقیات نہ جانے چلی جاتی ہیں وہ یہ بھی نہیں سوچتے کہ بیوی ،بچوں یا ماتحت کے ساتھ نبی ٔ آخرالزماں ﷺ کا رویہ اور حسن ِ سلوک کیسا تھا؟ ایسے لوگ اپنی کامیابی کو اپنی محنت کی مرہون ِ منت قرار دیتے نہیں تھکتے۔تیسری قسم ان لوگوںکو ہوتی ہے جو دین کو دنیا اوردنیاکو دین کے ساتھ ساتھ لے کر چلتے ہیں یقینا یہی لوگ کامیاب و کامران ہوتے ہیں کہ دنیا اور آخرت دونوں جگہ اور خاص طور پر آخرت کی کامیابی ہی اصل کامیابی ہے۔اس کامیابی کے حصول کے بہت سے طریقے ہیں اور نبی کریم ﷺ نے کامیابی کے جو طریقے بتائے وہی اعلی اور افضل ہیں نہ صرف دینی اعتبار سے کہ رسول اللہ ﷺ ہی ہمارے لیے معیار حق ہیں اور عقلی اعتبار سے بھی۔ کیونکہ نبی کریمﷺ کی ہر تعلیم عقلی معیار پر سوفیصد پوری اترتی ہے اور اگر ہماری محدود عقل میں ان کی کوئی بات نہ بھی سمائے تو وہ ہوتی برحق ہے اور اس پر عمل کرکے ہی ہم کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔اس کامیابی کے حصول کا اصل راز وقت کا دانشمندانہ استعمال ہے۔ کیونکہ کامیابی کے راستے میں بہت سے فرائض اور کام ہیں،اور اتنے کام ہیں کہ اگر کسی ایک طرف لگ جائیں تو دوسرے کا وقت نہیں ملتا اور عمر کا بہت سا قیمتی وقت ہم فضول کاموں میں ضائع کردیتے ہیں اور ہمیں عمر کے آخری حصے میں ہوش آتا ہے کہ پہلے ہم نے وقت کو ضائع کیا اور پھر وقت نے ہمیں ضائع کردیا۔لیکن اس وقت پچھتانے سے بہتر ہے کہ ابھی سے کچھ کرلیں۔یہ کلیہ ہر مذہب، مسلک، رنگ ونسل اور ہر نظریے کے ماننے والے پر صادق آتا ہے کہ وقت ہی سب کچھ ہے۔ چاہے کوئی دولت اور ثروت کو کامیابی کا معیار بنائے، چاہے شہرت اور اقتدار کو یا چاہے آخرت میں کامیابی کو۔ اس مرحلے پر یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ اگر کوئی بھی فرد آخرت میں کامیابی کے لیے جدوجہد کرتا ہے تو اس کی دنیا خودبخود سنور جاتی ہے۔
ایک اور وضاحت بھی ضروری ہے کہ دنیا سنورنے کا مطلب دولت، شہرت یا اقتدار نہیں۔ بلکہ دنیا میں آپ کے جو بھی فرائض ہیں، مثلا حصول علم، روزگار، اپنے والدین اور بیوی بچوں کے حقوق کی بخوبی ادائیگی۔ ان سب فرائض کے ساتھ ساتھ ایک بنیادی فریضہ بھی ہے، وہ حقوق اللہ کی ادائیگی ہے۔ فرائض اور واجبات کے ساتھ ساتھ اللہ رحمن الرحیم سے قلبی تعلق، اس کی نعمتوں کا شکر، ہرلمحے اسی کا تصور۔نبی کریم ﷺ سے عشق، ان کی حیات طیبہ کا مسلسل مطالعہ کرکے ان سے محبت کو دل میں بڑھاتے جانا اور اس میں اتنا اضافہ کرلینا کہ جب بھی ذکر مصطفے ﷺ آئے، آنکھوں سے آنسو جاری ہوجائیں۔یہ تمام کام ممکن ہیں، اگر وقت کے گھوڑے پر سوار ہوکر ہم اس کی لگام مضبوطی سے پکڑ لیں۔ وقت کی مثال برف کی طرح ہے، جو تیزی سے پگھل رہی ہے اگر اسے استعمال نہ کیا تو وہ پانی بن جائے گی۔ہمیں ہر روز ایک ہزار چار سو چالیس منٹ دئیے جاتے ہیں۔ اگر ہم ان کا دانشمندانہ استعمال کریں اورثابت قدمی کے ساتھ کریں تو کار زار حیات میں ہم ہی کامیاب ہوں گے۔ایک ایک لمحے کو قیمتی بنانا چاہیے اور اگر ممکن ہو تو کاغذ پینسل تھام کر تمام کاموں کو لکھ لینا اور باقاعدہ نظام الاوقات بنا کر کام کرنا انسان کو غیرضروری ایکسرسرائز سے بچاسکتاہے آپ غورکریں تو احساس ہوگا کہ دنیا کے تمام بڑے اور کامیاب لوگوں نے اسی فارمولے پر عمل کیاہے۔
ہمارے لیے تو نبی کریم ﷺ کی ذات بابرکات ہی ایسی مثال ہے کہ ہمیں ان ﷺ کے ہوتے ہوئے کسی اور کی طرف دیکھنے کی ضرورت ہی نہیں۔رسول اللہ ﷺ نے اپنے وقت کا بہترین استعمال کیا، رات کے تیسرے پہر میں اٹھ کر نوافل ادا کرنا، فجر کی نماز کے بعد صحابہ کرام کے ساتھ مجلس کرنا، نماز ظہر کے بعد قیلولہ فرمانا، شام کو ازواج مطہرات کے گھر وں میں جاکر ان کی خیریت دریافت کرنا۔بیماروں کی عیادت کرنا، جنازوں میں شرکت کرنا۔ امور مملکت نمٹانا، جنگوں میں شرکت کرنا، مقدموں کے فیصلے کرنا، بہت اہتمام سے عبادات کرنا، ذکر میں مشغول رہنا اوربہت سے کام انجام دینا۔جن کی تفصیل کا یہ موقع نہیں۔ہمارے لئے حضور پرنور ﷺ کی ذات میں ہر طرح کی مثال ہے، ہم سیرت طیبہ ﷺ کا مسلسل مطالعہ کرکے اپنی زندگی کو بھرپور اور مثالی بناسکتے ہیں۔ان کے صحابہؓ کرام نے نبی کریم ﷺ کی سنتوں پر عمل کرکے اپنے وقت کا بہترین استعمال کیا اور اتنی کامیابیاں حاصل کیں کہ ان کا شمار بھی ممکن نہیں۔ لیکن اس کے لیے یکسوئی اور ثابت قدمی ضروری ہے۔رازِ حیات یہی ہے کہ وقت کا موثر اور بھرپور استعمال کیا جائے اور فرائض و واجبات کے علاوہ اتنے کام کئے جائیں جن کو مستقل طور پر جاری رکھا جاسکے۔ ان کو مضبوطی کے ساتھ تھام کرہی ہم کامیابی کی ایسی منزلوں پر پہنچ سکتے ہیں جس کا تصور بھی محال ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ ہم وقت کو فضول کاموں میں ضائع کرنے کے بجائے ایسے کاموں میں صرف کریں جو ہمیں کامیاب بناسکیں۔ یہی رازِ حیات ہے اور یہی زندگی کا حاصل بھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں


مضامین
وزیراعظم کے دشمن مصنوعی خیالات وجود جمعرات 27 جنوری 2022
وزیراعظم کے دشمن مصنوعی خیالات

لال قلعہ کاقیدی وجود جمعرات 27 جنوری 2022
لال قلعہ کاقیدی

''کسان ،ٹریکٹر ،ٹرالی ریلی ''کی بھی ایک پہیلی ہے وجود جمعرات 27 جنوری 2022
''کسان ،ٹریکٹر ،ٹرالی ریلی ''کی بھی ایک پہیلی ہے

اقتدار سے نکلنے پر خطرناک ہونے کا دعویٰ وجود بدھ 26 جنوری 2022
اقتدار سے نکلنے پر خطرناک ہونے کا دعویٰ

خطر۔ناک۔۔ وجود بدھ 26 جنوری 2022
خطر۔ناک۔۔

برطانیہ میں سب سے زیادہ امتیازی سلوک مسلمانوں کے ساتھ کیے جانے کا انکشاف وجود بدھ 26 جنوری 2022
برطانیہ میں سب سے زیادہ امتیازی سلوک مسلمانوں کے ساتھ کیے جانے کا انکشاف

بھارتی اسکول میں پرنسپل کا بچوں کو نماز کی اجازت دینا جرم بن گیا وجود بدھ 26 جنوری 2022
بھارتی اسکول میں پرنسپل کا بچوں کو نماز کی اجازت دینا جرم بن گیا

کووڈ صورت حال کی پیش گوئی: ’یہ کوئی قطعی سائنس نہیں‘ وجود منگل 25 جنوری 2022
کووڈ صورت حال کی پیش گوئی: ’یہ کوئی قطعی سائنس نہیں‘

حرام سے اجتناب کاانعام وجود منگل 25 جنوری 2022
حرام سے اجتناب کاانعام

سعودی عرب میں ہر گھنٹے سات طلاقوں کے کیسز رپورٹ وجود منگل 25 جنوری 2022
سعودی عرب میں ہر گھنٹے سات طلاقوں کے کیسز رپورٹ

حق دو کراچی کو وجود پیر 24 جنوری 2022
حق دو کراچی کو

ہندوستان کی شبیہ کون داغدار کررہاہے؟ وجود پیر 24 جنوری 2022
ہندوستان کی شبیہ کون داغدار کررہاہے؟

اشتہار

افغانستان
افغانستان میں امریکی شہری کا قبولِ اسلام، اسلامی نام محمد عیسیٰ رکھا وجود پیر 24 جنوری 2022
افغانستان میں امریکی شہری کا قبولِ اسلام، اسلامی نام محمد عیسیٰ رکھا

افغانستان،ہرات میں دھماکہ، 7 افراد جاں بحق، 9 زخمی وجود اتوار 23 جنوری 2022
افغانستان،ہرات میں دھماکہ، 7 افراد جاں بحق، 9 زخمی

اسلامی ممالک طالبان حکومت کو تسلیم کریں، افغان وزیراعظم کا مطالبہ وجود جمعرات 20 جنوری 2022
اسلامی ممالک طالبان حکومت کو تسلیم کریں، افغان وزیراعظم کا مطالبہ

طالبان کا شمالی مغربی شہر میں بدامنی کے بعد فوجی پریڈ کے ذریعے طاقت کا مظاہرہ وجود منگل 18 جنوری 2022
طالبان کا شمالی مغربی شہر میں بدامنی کے بعد فوجی پریڈ کے ذریعے طاقت کا مظاہرہ

افغان صوبہ بادغیس میں شدید زلزلہ،ہلاکتوں کی تعداد30 سے تجاوز وجود منگل 18 جنوری 2022
افغان صوبہ بادغیس میں شدید زلزلہ،ہلاکتوں کی تعداد30 سے تجاوز

اشتہار

بھارت
بھارت میں گوگل کے سی ای او سندر پچائی کیخلاف مقدمہ وجود جمعرات 27 جنوری 2022
بھارت میں گوگل کے سی ای او سندر پچائی کیخلاف مقدمہ

بھارتی اسکول میں پرنسپل کا بچوں کو نماز کی اجازت دینا جرم بن گیا وجود بدھ 26 جنوری 2022
بھارتی اسکول میں پرنسپل کا بچوں کو نماز کی اجازت دینا جرم بن گیا

شلپا شیٹی فحاشی پھیلانے کے مقدمے سے بری وجود منگل 25 جنوری 2022
شلپا شیٹی فحاشی پھیلانے کے مقدمے سے بری

بھارت کا چین پر سرحد سے لاپتا نوجوان کو اغوا کرنے کا الزام وجود جمعه 21 جنوری 2022
بھارت کا چین پر سرحد سے لاپتا نوجوان کو اغوا کرنے کا الزام

بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا وجود جمعه 21 جنوری 2022
بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا
ادبیات
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل وجود منگل 04 جنوری 2022
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل

پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی

غلاف کعبہ کی سلائی میں عربی کا ثلث فانٹ استعمال کرنے کی وضاحت جاری وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
غلاف کعبہ کی سلائی میں عربی کا ثلث فانٹ استعمال کرنے کی وضاحت جاری

دنیا کی 1500 زبانیں معدوم ہونے کا خطرہ وجود منگل 21 دسمبر 2021
دنیا کی 1500 زبانیں معدوم ہونے کا خطرہ

سقوط ڈھاکہ پر لکھی گئی نظمیں وجود جمعرات 16 دسمبر 2021
سقوط ڈھاکہ پر لکھی گئی نظمیں
شخصیات
دنیا کی کم عمر مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ کو بچھڑے 10 برس بیت گئے وجود هفته 15 جنوری 2022
دنیا کی کم عمر مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ کو بچھڑے 10 برس بیت گئے

مولانا طارق جمیل کی اپنے طوطےاور بلی کے ہمراہ دلچسپ ویڈیو وائرل وجود منگل 11 جنوری 2022
مولانا طارق جمیل کی اپنے طوطےاور بلی کے ہمراہ دلچسپ ویڈیو وائرل

ہے رشک ایک خلق کو جوہر کی موت پر ۔ یہ اس کی دین ہے جسے پروردگار دے وجود بدھ 05 جنوری 2022
ہے رشک ایک خلق کو جوہر کی موت پر        ۔ یہ اس کی دین ہے جسے پروردگار دے

سرگودھا کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ : مولانا اکرم طوفانی سپرد خاک وجود پیر 27 دسمبر 2021
سرگودھا کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ : مولانا اکرم طوفانی سپرد خاک

قائداعظم کے خطاب کا تحقیقی جائزہ (خواجہ رضی حیدر) وجود هفته 25 دسمبر 2021
قائداعظم کے خطاب کا تحقیقی جائزہ  (خواجہ رضی حیدر)