وجود

... loading ...

وجود

نواز شریف اور مریم نواز چھوٹنے نہیں چاہئے، (ثاقب نثار کا جج کو حکم) سابق چیف جج گلگت بلتستان نے بھانڈا پھوڑ دیا

پیر 15 نومبر 2021 نواز شریف اور مریم نواز چھوٹنے نہیں  چاہئے، (ثاقب نثار کا جج کو حکم) سابق چیف جج گلگت بلتستان نے بھانڈا پھوڑ دیا

سابق چیف جسٹس گلگت بلتستان رانا ایم شمیم نے انکشاف کیا ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز کی ضمانت پر رہائی نہ ہونے کے لیے اُس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے ہائیکورٹ کے ایک جج کو خصوصی حکم دیا تھا۔ انصاف کے تقاضوں کے منافی اس مشکوک طرزِ عمل کے انکشاف نے پاکستان کے سیاسی ، صحافتی اور عدالتی حلقوں میں ایک ہلچل مچا دی ہے۔ اس حوالے سے ایک تفصیلی خبر پاکستان کے ایک اہم اخبار میں شائع ہوئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق گلگت بلتستان کے سابق چیف جسٹس رانا ایم شمیم نے اپنے مصدقہ حلف نامے میں کہا ہے کہ وہ اس واقعے کے گواہ تھے جب اُس وقت کے چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے ہائی کورٹ کے ایک جج کو حکم دیا تھا کہ 2018ء کے عام انتخابات سے قبل نواز شریف اور مریم نواز کو ضمانت پر رہا نہ کیا جائے۔ گلگت بلتستان کے سینئر ترین جج نے پاکستان کے سینئر ترین جج کے حوالے سے اپنے حلفیہ بیان میں لکھا ہے کہ ’’میاں محمد نواز شریف اور مریم نواز شریف عام انتخابات کے انعقاد تک جیل میں رہنے چاہئیں۔ جب دوسری جانب سے یقین دہانی ملی تو وہ (ثاقب نثار) پرسکون ہو گئے اور ایک اور چائے کا کپ طلب کیا”۔

سابق چیف جج گلگت بلتسستان رانا شمیم


دستاویز کے مطابق، شمیم نے یہ بیان اوتھ کمشنر کے روبرو 10؍ نومبر 2021ء کو دیا ہے۔ نوٹرائزڈ حلف نامے پر سابق چیف جسٹس گلگت بلتستان کے دستخط اور ان کے شناختی کارڈ کی نقل منسلک ہے۔ نوٹری پبلک کی تصدیق شدہ بیان میں لکھا ہے کہ شمیم نے حلفیہ میرے روبرو 10؍ نومبر 2021ء کو اس دستاویز پر دستخط کیے۔مذکورہ خبر دینے والے پاکستان کے ممتاز صحافی نے اس پر نہ صرف رانا شمیم سے تصدیق کی بلکہ اس حوالے سے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار سے بھی رابطہ کیا تو انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں اس بات سے انکار کیا اور کہا انہوں نے کبھی اپنے ماتحت ججوں کو کسی بھی عدالتی فیصلے کے حوالے سے کوئی احکامات نہیں دیے چاہے وہ آرڈر نواز شریف، شہباز، مریم کیخلاف ہو یا کسی اور کیخلاف۔ ہائی کورٹ کے جج کا نام ایڈیٹ کرنے کے سوا، شمیم کا حلفیہ بیان ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے: میں جسٹس ڈاکٹر رانا محمد شمیم، سابق چیف جج سپریم اپیلیٹ کورٹ آف گلگت بلتستان(31اگست 2015ء تا 30؍ اگست 2018ء) حلفیہ بیان دیتا ہوں کہ:۱) جولائی 2018ء میں جب میں چیف جج کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہا تھا، اس وقت کے چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار تعطیلات کے سلسلے میں اپنی فیملی کے 27؍ افراد کے ہمراہ گلگت آئے اور انہوں نے عدالت کے مہمان خانے میں قیام کیا۔
۲) جس شام کا یہ واقعہ ہے اس دن میں، میری مرحوم اہلیہ، جسٹس ثاقب نثار اور ان کی اہلیہ باغ میں چائے پی رہے تھے، میں نے دیکھا کہ چیف جسٹس پاکستان پریشان تھے اور اپنے رجسٹرار سے مسلسل فون پر بات کر رہے تھے اور انہیں ہدایات دے رہے تھے کہ جسٹس ۔۔۔۔۔۔ کی رہائش گاہ پر جاؤ اور ان سے درخواست کرو کہ مجھے (ثاقب نثار کو) فوراً فون کرے۔
۳) اگر فون کال نہ لگ پائے تو اُن تک میری (ثاقب نثار کی) طرف سے یہ پیغام پہنچانا کہ میاں محمد نواز شریف اور مریم نواز شریف کو کسی بھی قیمت پر عام انتخابات سے قبل ضمانت پر رہائی نہیں ملنا چاہئے۔
۴) اس کے تھوڑی ہی دیر بعد اُن کی جسٹس ۔۔۔۔۔۔ سے فون پر بات چیت ہوگئی اور انہوں نے اُسے بتایا کہ میاں محمد نواز شریف اور مریم نواز شریف عام انتخابات کے انعقاد تک جیل میں رہنے چاہئیں۔
دوسری طرف سے یقین دہانی ملنے پر وہ پرسکون ہوگئے اور خوشی سے چائے کا ایک اور کپ مانگا۔
۵) میں نے بحیثیت ایک ساتھی اور میزبان کے، اُن سے کہا کہ وہ گلگت بلتستان میں اپنی فیملی کے ساتھ چھٹیاں منائیں اور ان سے کہا کہ انہوں نے جسٹس ۔۔۔۔ کو یہ پیغام کیوں پہنچایا اور کس لیے۔ انہوں نے مجھے جواب دیا، رانا صاحب آپ نہیں سمجھیں گے، آپ اس بات کو یوں سمجھیں کہ جیسے آپ نے کچھ نہیں سنا۔
میں نے اُنہیں اپنی مرحومہ اہلیہ اور اُن کی اہلیہ کے روبرو کہا کہ میاں نواز شریف کو غلطی سے پھنسایا گیا ہے اور ان کی سزا اور مریم نواز شریف کی سزا کو دیکھ کر اور ان کی فون کال سن کر یہ واضح ہو جاتا ہے۔ پہلے تو وہ (ثاقب نثار) ناراض ہوگئے لیکن فوراً ہی لہجہ بدلتے ہوئے کہا کہ رانا صاحب پنجاب کی کیمسٹری گلگت بلتستان سے مختلف ہے۔
۶) جو کچھ میں نے یہاں بیان کیا ہے وہ رضاکارانہ ہے اور مکمل طور پر سچ ہے۔ نواز شریف اور مریم نواز دونوں کو احتساب عدالت نے 25؍ جولائی 2018ء کے عام انتخابات سے قبل کرپشن کیس میں سزا سنائی تھی۔
ان کے وکلاء نے سزا کی معطلی کیلئے عدالت سے رجوع کیا تھا لیکن ابتدائی سماعت کے بعد کیس جولائی کے آخری ہفتے تک ملتوی کردیا گیا تھا۔


متعلقہ خبریں


مکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کا بل ترک پارلیمنٹ میں پیش وجود - جمعرات 22 اکتوبر 2026

ترکیہ، پاکستان اور سعودیہ میں سے کسی پربھی حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا، ذرائع ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کا بل ترک پارلیمنٹ میں پیش کردیا گیا۔ذرائع کے مطابق معاہدے کے مسودے میں کہا گیا ہے کہ اتحاد مستقل نوعیت کا ہوگا اور کوئی...

مکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کا بل ترک پارلیمنٹ میں پیش

سعودی عرب میں آئل فیلڈ پر ڈرون حملے میں 2 غیر ملکی ہلاک ،2زخمی وجود - جمعرات 22 اکتوبر 2026

سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں چار ڈرونز کو تباہ کر دیا،ترجمان اتحادی فوج سعودی عرب میں تعینات امریکی حکومت کے غیرہنگامی عملے اور ان کے اہلِ خانہ کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم سعودی عرب نے حوثیوں کی جانب سے آئل فیلڈ پر داغے گئے ڈرونز کو فضا میں تباہ کرنے کا دعوی کیا ہے۔ جبکہ سعودی ف...

سعودی عرب میں آئل فیلڈ پر ڈرون حملے میں 2 غیر ملکی ہلاک ،2زخمی

شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود - جمعرات 22 اکتوبر 2026

افغانستان میں لیتھیم، نایاب ارضی عناصر، تانبا، کوبالٹوسمیت 30 سے زائد معدنیات موجودہیں، رپورٹ  شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پر کنٹرول،آمدنی کی تقسیم اور مقامی حقوق سے متعلق تنازعات بدامنی اور تشدد کو ہوا دے رہے ہیں،جبکہ کان کنی کے شعبے میں شفافیت اور مالی نگرانی کا فقد...

شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

سائبیریا کے مہمان پرندوں کی کراچی آمد شروع، ساحلوں اور جھیلوں کی رونقیں بڑھ گئیں وجود - جمعرات 22 اکتوبر 2026

ہزاروں کلومیٹر کا سفر طے کرکے آنے والے مہمان پرندوں نے سی ویو، ہاکس بے اور رشین بیچ سمیت سندھ کی جھیلوں کا رخ کرلیا سرد ترین علاقے سائبیریا سے ہجرت کرکے آنے والے مہمان پرندوں کی کراچی سمیت سندھ کے مختلف علاقوں میں آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا، جس سے ساحلی علاقوں اور آبی ذخائر کی رو...

سائبیریا کے مہمان پرندوں کی کراچی آمد شروع، ساحلوں اور جھیلوں کی رونقیں بڑھ گئیں

ہر تیسرا گریجویٹ بے روزگار، مجموعی تعداد 80 لاکھ، 24 سالوں کے نوجوانوں کی تعداد زیادہ وجود - جمعرات 22 اکتوبر 2026

ملک میں ہر سال 4 لاکھ 50 ہزار سے 8 لاکھ ڈگری ہولڈرز فارغ التحصیل ہوتے ہیں، پی آئی ڈی ای ملک میں نوجوان گریجویٹس کے لیے روزگار کا حصول سنگین چیلنج بن چکا ہے۔ ہر سال تقریباً 4 لاکھ 50 ہزار سے 8 لاکھ ڈگری ہولڈرز تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہوتے ہیں، جن میں سے 31 سے 33 فیصد تک ب...

ہر تیسرا گریجویٹ بے روزگار، مجموعی تعداد 80 لاکھ، 24 سالوں کے نوجوانوں کی تعداد زیادہ

راجن پور میں تیز رفتار مسافر بس کو حادثہ، 10 افراد جاں بحق،37 زخمی وجود - بدھ 21 اکتوبر 2026

واقعہ راجن پور میں انڈس ہائی وے بنگلہ ہدایت کے قریب پیش آیا جہاں تیز رفتار بس ڈیوائیڈر سے ٹکرا کر الٹ گئی، ریسکیووزیرِ اعلیٰ مریم نواز کا بس حادثے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار،زخمی مسافروں کے بہترین علاج کا حکم راجن پور میں صبح سویرے سویرے انڈس ہائی وے پر س...

راجن پور میں تیز رفتار مسافر بس کو حادثہ، 10 افراد جاں بحق،37 زخمی

بے نامی اکاؤنٹس ، ضمیر عباسی کی درخواست پر فریقین کو نوٹس وجود - بدھ 21 اکتوبر 2026

ایک مقدمے میں ضمانت کے بعد دوسرے کیس میں گرفتار کیا گیا، درخواست گزار کے وکیل کا مؤقف سندھ ہائی کورٹ نے بے نامی اکاؤنٹس کے ذریعے خورد برد کے مقدمے میں سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی کی درخواست پر تفتیشی افسر اور سرکاری وکیل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے فریقین سے 2 نومبر تک جواب طل...

بے نامی اکاؤنٹس ، ضمیر عباسی کی درخواست پر فریقین کو نوٹس

اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے رات گئے ایران کی جانب پرواز کی، امریکی میڈیا وجود - بدھ 21 اکتوبر 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایرانی حکومت کے خاتمے کی اہمیت پر گفتگو ہوئی، اسرائیلی وزیراعظم اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے رات گئے ایک فوجی مشق کے دوران ایران کی جانب پرواز کی ہے۔ امریکی میڈیا فوکس نیوز کے چیف فارن کوریسپونڈنٹ ٹری ینگسٹ نے کہا ہے کہ اسرائیلیوں نے رات گئے فوجی مشق کی، ج...

اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے رات گئے ایران کی جانب پرواز کی، امریکی میڈیا

امریکا کے لیے پاکستان کے ساتھ تعلقات قائم رکھنا ضروری ہے،مارکوروبیو وجود - بدھ 21 اکتوبر 2026

دہشت گردی کے خلاف ہیں،،ایران کے ساتھ امن معاہدہ طے کرنا انتہائی مشکل ہے، گفتگو امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ امن معاہدہ طے کرنا انتہائی مشکل ہے۔ امریکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے خبردار کیا کہ جب تک تہران آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نش...

امریکا کے لیے پاکستان کے ساتھ تعلقات قائم رکھنا ضروری ہے،مارکوروبیو

خیبر پختونخوا میں گورنر راج و ایمرجنسی کیخلاف کیس، اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری، جواب طلب وجود - منگل 20 اکتوبر 2026

صوبائی حکومت کی اجازت کے بغیر گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ نہیں کی جا سکتی، سلمان اکر م راجہ کے ریمارکس وزیرِ اعلیٰ کے پی کی گرفتاری کے خلاف ہر جگہ آواز اٹھائیں گے، ہماری لیڈرشپ کو رہا کیا جائے، بیرسٹر گوہر ہمارے اراکین کو اٹھایا جا رہا ہے، صوبے کے اندر بے امنی کا کہا گیا او...

خیبر پختونخوا میں گورنر راج و ایمرجنسی کیخلاف کیس، اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری، جواب طلب

چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران پہنچ گئے وجود - منگل 20 اکتوبر 2026

مقصد پاکستان اور ایران کے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانا اور تعاون میں اضافہ کرنا ہے، ایرانی حکام پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران دورے پر پہنچے ہیں۔ایرانی حکام کے مطابق ان کے دورے کا تعلق ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات سے بھی ہے...

چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران پہنچ گئے

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ، صدر مملکت کے سمری پر دستخط وجود - اتوار 11 اکتوبر 2026

 مولانا فضل الرحمان کے ذریعے مذاکرات کی آخری کوشش بھی ناکام ہوگئی وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کردیا گیا، صدر مملکت آصف علی زرداری نے سمری پر دستخط کردیے ہیں۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے خیبر پختونخوا میں سلامتی کی صورتح...

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ، صدر مملکت کے سمری پر دستخط

مضامین
ریاستیں یوں بھی تباہ ہوئیں! وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
ریاستیں یوں بھی تباہ ہوئیں!

جین زی انقلاب کی دستک، مودی حکومت کے لیے خطرے کی گھنٹی وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
جین زی انقلاب کی دستک، مودی حکومت کے لیے خطرے کی گھنٹی

عالمی سیاست میں مفاد کی اہمیت وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
عالمی سیاست میں مفاد کی اہمیت

افغانستان، عالمی امن کیلئے مستقل خطرہ وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
افغانستان، عالمی امن کیلئے مستقل خطرہ

مہنگائی کا جن قابو سے باہر، غریب محنت کش خاندانوں کا کڑا امتحان وجود پیر 12 اکتوبر 2026
مہنگائی کا جن قابو سے باہر، غریب محنت کش خاندانوں کا کڑا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر