وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

نواب محمد احمد خان قصوری کا قتل ذوالفقار بھٹو کی پھانسی کی وجہ کیسے بنا؟

جمعرات 11 نومبر 2021 نواب محمد احمد خان قصوری کا قتل ذوالفقار  بھٹو کی پھانسی کی وجہ کیسے بنا؟

47 سال قبل نواب محمد احمد خان قصوری کا قتل ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کی وجہ کیسے بنا،کیا11 نومبر کی تاریک رات میں سینئروکیل احمد رضاخان قصوری کے والد کے قتل کی اس واردات کے اصل محرکات پر کبھی روشنی پڑے گی؟یہ سوال آج بھی جواب کا منتظر ہے ،برطانوی نشریاتی ادارے نے اس بارے میں ایک خصوصی رپورٹ جاری کی ہے ،رپورٹ کے مطابق آج سے ٹھیک 47 برس قبل، یعنی 10 اور 11 نومبر 1974 کی درمیانی شب، ایک مارک ٹو کار لاہور کے علاقے شادمان کالونی میں ایک گھر کے باہر بنی پارکنگ سے سڑک پر نمودار ہوئی۔اس گاڑی میں چار لوگ سوار تھے جو شادمان کالونی سے ماڈل ٹائون میں واقع اپنے گھر کی جانب طرف جا رہے تھے۔ رات کے تقریبا ساڑھے بارہ بجے کا وقت ہو چکا ہے اور ہر طرف ہو کا عالم اور اندھیرا تھا۔

نوجوان احمد رضا قصوری ( احمد رضا قصوری سابق صدر پرویز مشرف کے سنگین غداری کیس میں وکیل رہے)اس کار کو ڈرائیو کر رہے تھے جبکہ ان کی برابر کی نشست پر ان کے والد یعنی نواب محمد احمد خان قصوری بیٹھے تھے۔ عقبی نشستوں پر احمد خان قصوری کی اہلیہ اور سالی موجود تھیں۔یہ سب لوگ شادمان کالونی میں تحریک استقلال گجرات کے ضلعی صدر بشیر حسین شاہ کی شادی کی تقریب میں شرکت سے واپس لوٹ رہے تھے،نواب محمد احمد خان کے لیے یہ تقریب اس لحاظ سے بھی خاص رہی کیونکہ اس میں قوالی کا اہتمام بھی تھا۔ نواب احمد خان اگرچہ مغربی طرز زندگی کے دلدادہ تھے لیکن آج انھوں نے قربان حسین قوال سے بلھے شاہ کا کلام ‘میرا پیا گھر آیا’ دومرتبہ فرمائش کر کے سنی۔جیسے ہی گاڑی شادمان کالونی سے کچھ فاصلے پر واقع شاہ جمال کے راونڈ آباوٹ (گول چکر) پر پہنچتی ہے تو اس پر تین اطراف سے مسلح حملہ آور گولیوں کی بوچھاڑ کر دیتے ہیں۔کار میں سوار تمام افراد اس اچانک حملے اور گولیوں کی گھن گرچ سے سٹپٹا جاتے ہیں، کئی گولیاں گاڑی کو آ کر لگتی ہیں۔ احمد رضا قصوری گاڑی روکنے کی بجائے سر نیچے کر کے اسے چلاتے رہتا ہے تاکہ اس میں سوار تمام افراد کو اس جگہ سے دور لے جائیں۔ حملہ آور چلتی گاڑی پر پیچھے سے گولیاں برساتے رہے، لیکن گاڑی آگے بڑھ گئی۔اسی اثنا ء میں ڈرائیور کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھے محمد احمد خان قصوری گاڑی چلانے والے اپنے جوان بیٹے کے کندھے پر آن گرتے ہیں۔ بیٹے کا ہاتھ اچانک باپ کے جسم پر پڑتا ہے اور خون سے لال ہو جاتا ہے۔باپ کے خون سے آلود ہاتھ دیکھ کر بیٹا غم سے چلانا شروع کر دیتا ہے۔ محمد احمد خان کے سر میں گولیاں لگ چکی تھیں اور وہ اپنے ہی خون میں لت پت ہو چکے تھے۔عقبی نشست پر بیٹھی پریشان حال ماں بیٹے کو تنبیہ کرتی ہیں کہ وہ اپنے حواس پر قابو رکھے اور گاڑی فورا گلبرگ میں واقع یونائیٹڈ کرسچیئن ہسپتال لے چلے۔ڈرائیور کار دوڑاتا ہوا مسلسل گاڑی کے شیشے سے پیچھے دیکھتا رہا کہ حملہ آور ان کا تعاقب تو نہیں کر رہے۔ ایف سی کالج کا پل عبور کر کے گاڑی گلبرگ میں واقع اس ہسپتال میں پہنچ جاتی ہے جس کے متعلق ماں نے تاکید کی تھی۔ہسپتال پہنچ کر نوجوان احمد رضا قصوری سب سے پہلا فون اپنے بڑے بھائی کو اس واقعہ کی اطلاع دینے کے لیے کرتے ہیں، دوسرا فون ہسپتال کے سرجن ڈاکٹر کو اور تیسرا فون اس وقت کے ایس ایس پی لاہور اصغر خان کو۔اس وقت تقریبا رات کے پونے ایک بج چکے تھے،تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر آ جاتے ہیں اور آپریشن شروع ہو جاتا ہے اور اسی دوران تین، چار سو پولیس اہلکاروں کی ٹرکوں میں سوار نفری بھی ہسپتال پہنچ جاتی ہے۔ ایس ایس پی لاہور، ڈی آئی جی لاہور سردار محمد عبدالوکیل خان اور ڈپٹی کمشنر لاہور بھی اطلاع ملنے پر فوری ہسپتال پہنچ جاتے ہیں۔ایک طرف آپریشن چل رہا ہے اور دوسری طرف پولیس اہلکار احمد رضا خان کے پاس جاتے ہیں تاکہ ابتدائی معلومات لے کر قانونی کارروائی شروع کی جا سکے۔اس وقت کے ایس ایچ او تھانہ اچھرہ عبد الحئی نیازی نے ایف آئی آر کے لیے درخواست لکھنا شروع کی۔ ابتدائی معلومات کے اندارج کے بعد جب بات آپ کو کسی پر شک ہے کی ہوئی تو احمد رضا قصوری نے اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کا نام لیا۔انھوں نے ایس ایچ او سے کہا کہ دراصل یہ ذوالفقار علی بھٹو نے کروایا ہے جو انھیں مروانا چاہتے ہیں تاہم والد صاحب حادثاتی طور پر فائرنگ کی زد میں آ کر زخمی ہو گئے،وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کا نام سن کر ایس ایچ او کے ہاتھ سے پینسل نیچے گر گئی اور وہ چونک کر کہنے لگا کہ ایف آئی آر وزیر اعظم پر درج کروانی ہے آپ نے؟ جواب ملا: جی ہاں۔احمد رضا قصوری بولے کیونکہ وہ(بھٹو)مجھ پر پہلے بھی کئی حملے کروا چکے ہیں۔ جب ذمہ دار وہی ہیں تو پھر پرچہ بھی انہی کے خلاف کٹے گا۔ بی بی سی کے مطابق احمد رضا قصوری نے اس رات پیش آنے والے واقعات کو یاد کرتے ہوئے اس رپورٹ کے مصنف شاہد اسلم کو دیے گئے اپنے انٹرویو میں بتایا کچھ لمحے بعد میں نے دوبارہ عبارت لکھوانا چاہی، تو وہ (ایس ایچ او) باہر چلا گیا۔ کچھ دیر بعد ایس ایس پی اور ڈی آئی جی دونوں آ گئے، کہنے لگے کے آپ اپنے ارد گرد دیکھیں جس نے نواب صاحب پر حملہ کیا ہو، آپ سیدھا وزیر اعظم کا نام لے رہے ہیں۔’انھوں نے پولیس کو بتایا کہ وہ اپنے ارد گرد نظر دوڑا چکے ہیں لیکن کوئی نہیں ملا جو یہ حملہ کروا سکتا ہو، اس لیے ایف آئی آر کا متن وہی ہو گا جو وہ بتائیں گے اور اگر پولیس نے ایسا کرنے میں لیت و لال سے کام لیا تو وہ کل صبح ہائی کورٹ کی مدد لیں گے۔احمد رضا قصوری کے ایک ماموں، جو کہ فوج میں بریگیڈیئر تھے، بھی ہسپتال پہنچ چکے تھے، پولیس والوں نے انھیں بھی بھیجا تاکہ وہ قصوری صاحب کو سمجھائیں لیکن وہ بضد رہے کہ ان کے والد پر حملہ بھٹو نے ہی کروایا ہے۔تقریبا صبح کے تین بج چکے تھے اور ابھی یہ باتیں چل ہی رہی تھیں کہ ڈاکٹر نے آ کر احمد رضا خان کو بتایا کہ ان کے والد اب اس دنیا میں نہیں رہے۔وہ بتاتے ہیں کہ میں یہ سن کر پھٹ پڑا اور آپے سے باہر ہو گیا۔ پاس ہی ڈنڈا پڑا ہوا تھا میں نے اٹھایا اور ایس ایس پی کو جو کہ یونیفارم میں تھا اس کی پیٹھ پر تین، چار مار د ئیے۔ اس کے بعد ڈی آئی جی کو بھی بھاگتے ہوئے پیچھے سے ایک لات مار دی، وہ بھی گرتا ہوا پولیس اہلکاروں کے پیچھے جا چھپا۔دوبارہ بات چیت کے بعد بالآخر پولیس نے کہہ دیا کہ وہ درخواست لکھ کر دے دیں تاکہ وہ ایف آئی آر درج کریں۔ تقریبا رات تین بج کر 20 منٹ پر احمد رضا قصوری نے اپنے ایک ہمسائے کی مدد سے درخواست تحریر کی اور خود پر ہوئے ماضی کے حملوں کا ذکر بھی کیا اور اپنے والد کے قتل کا الزام وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو پر لگایا۔پھر بالآخر اسی سال فروری میں ذوالفقار علی بھٹو کو انہی کی پارٹی کے ایک ایم این اے کے والد کے قتل کی سازش کے الزام میں ایک مقدمہ میں نامزد کر دیا گیا ۔محمد احمد خان کا پوسٹ مارٹم ڈپٹی سرجن میڈیکو لیگل لاہور ڈاکٹر صابر علی نے کیا۔اگلی صبح یعنی 11 نومبر کو پولیس نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور گولیوں کے 24 خالی خول اکھٹے کیے، اور گول چکر پر واقع ایک گھر کی دیوار پر بھی گولیوں کے نشان ملے۔ کار کے معائنے سے بھی پتہ چلا کہ اس کی ڈرائیونگ سیٹ کے پیچھے بھی کچھ گولیاں پھنسی ہوئیں تھیں جن سے احمد رضا خان بھی بال بال بچے تھے۔حملہ میں استعمال ہونے والے اسلحے کا پتہ لگوانے کے لیے گولیوں کے خالی ہول اس وقت کے ڈائریکٹر فرانزک سائنس لیبارٹری لاہور نادر حسین عابدی کے حوالے کے گئے جنھوں نے تجزیے کے لیے وہ آرمی کے جنرل ہیڈ کوارٹر راولپنڈی بھجوا دئیے،جنرل ہیڈ کوارٹرز نے تجزے کے بعد بتایا کہ وہ خول سات ایم ایم کے ہیں جو چائنہ کے بنے ہیں، جنھیں ایل ایم جی اور ایس ایم جی رائفلز سے بھی چلایا جا سکتا ہے۔ ابتدائی طور پر تحقیقات کی نگرانی ڈی ایس پی عبدالاحد کے سپرد کی گئیں لیکن چونکہ وہ سنہ 1975 میں فوت ہو گئے تب سپیشل برانچ کے ملک محمد وارث کو یہ ذمہ داری سونپ دی گئی۔اس کے ساتھ ساتھ پنجاب حکومت نے واقعہ کی تحقیقات کے لیے لاہور ہائی کورٹ کے جج شفیع الرحمن پر مشتمل ایک عدالتی کمیشن تشکیل دیا۔ کمیشن نے اپنی رپورٹ پنجاب حکومت کو 26 فروری 1975 کو جمع کروا دی لیکن وہ رپورٹ عام نہ کی جا سکی۔اکتوبر 1975 میں تحقیقاتی افسر ملک محمد وارث کی سفارشات پر کیس یہ کہہ کر داخل دفتر کر دیا گیا کہ ملزمان کا سراغ نہیں لگایا جا سکا۔جیسے ہی پانچ جولائی 1977 کو ذوالفقار علی بھٹو کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر ملک میں مارشل لا نافذ کیا گیا تب سے اس کیس پر تنازعات کی وہ گرد پڑنی شروع ہوئی جو آج تک چھٹنے کا نام نہیں لے رہی اور وہ تنازعات ملک کی سیاسی، قانونی اور عدالتی تاریخ کا آج بھی ایک آسیب کی طرح پیچھا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔11 نومبر کی تاریک رات کو ہونے والی قتل کی اس واردات کے اصل محرکات پر کبھی روشنی پڑے گی، یہ سوال آج بھی جواب کا منتظر ہے۔ رپورٹ کے مطابق مارشل لا کے نفاذ کے فوری بعد وفاقی حکومت نے ذوالفقار علی بھٹو کی بنائی ہوئی پیرا ملٹری فورس یعنی فیڈرل سکیورٹی فورس کے ہاتھوں مبینہ سیاسی قتل اور اغوا جیسے سنگین معاملات کی تفتیش ایف آئی اے کے حوالے کی۔مارچ 1975 میں تحریک استقلال پارٹی کے چیئرمین ریٹائرڈ ایئر مارشل اصغر خان پر لاہور ریلوے سٹیشن پر ہونے والے بم حملے کی تحقیقات کے دوران ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر عبد الخالق کو شک ہوا کہ فیڈرل سکیورٹی فورس ہی نواب محمد احمد خان کے قتل میں ملوث ہو سکتی ہے اور اسی شک کی بنیاد پر 24 اور 25 جولائی 1977 کو یعنی مارشل لا کے ٹھیک 20 دن بعد فیڈرل سکیورٹی فورس کے سب انسپکٹر ارشد اقبال اوراسسٹنٹ سب انسپکٹر رانا افتخار احمد سے اس کیس کے متعلق تفتیش ہوتی ہے اور دونوں کو اس کیس میں گرفتار کر لیا جاتا ہے۔26 جولائی 1977 کو مجسٹریٹ ذوالفقار علی طور کے سامنے یہ دونوں اہلکار اپنے جرم کا اعتراف کر لیتے ہیں جس کے بعد ڈائریکٹر آپریشنز و انٹیلیجنس میاں محمد عباس اور انسپکٹر غلام مصطفی کو بھی گرفتار کر لیا جاتا ہے اور سب مجسٹریٹ کے روبرو اپنے جرم کا اعتراف کر لیتے ہیں۔ انسپکٹر غلام حسین بھی ملزمان میں شامل تھے لیکن بعد میں وہ وعدہ معاف گواہ بن گئے۔مسعود محمود جنھیں مارشل لا کے نفاذ کے فوری بعد گرفتار کر لیا گیا تھا وہ بھی قید کے دو ماہ بعد بھٹو کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن گئے جس کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کو بھی اس کیس میں تین ستمبر کو گرفتار کر لیا گیا۔بھٹو کی گرفتاری کے دس روز بعد جسٹس کے ایم اے صمدانی نے بھٹو کو ضمانت پر رہا کر دیا جس کے نتیجے میں مبینہ طور پر جسٹس صمدانی کو فوری طور پر عہدے سے ہٹا دیا گیا اور تین دن بعد بھٹو کو دوبارہ اسی کیس میں مارشل لا کے تحت گرفتار کر لیا گیا۔اسی دوران ہائی کورٹ میں نئے ججز تعینات ہوئے اور مولوی مشتاق حسین کو لاہور ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بنا دیا گیا، جن کا تعلق جنرل ضیا الحق کے آبائی شہر جالندھر سے تھا۔مولوی مشتاق سنہ 1965 میں جب ذوالفقار علی بھٹو وزیر خارجہ تھے تو ان کے سیکریٹری خارجہ کے طور پر ذمہ داری نبھا رہے تھے۔11 ستمبر 1977 کو کیس کا نامکمل چالان مجسٹریٹ کی عدالت میں جمع کروایا جاتا ہے اور13 ستمبر کو سپیشل پبلک پراسیکیوٹر کی درخواست پر کیس لاہور ہائی کورٹ میں ٹرائل کے لیے منتقل کر دیا گیا۔کیس کا حتمی چالان 18 ستمبر کو ہائی کورٹ میں داخل کروا دیا جاتا ہے جس کے بعد کیس کا باقاعدہ ٹرائل شروع ہوتا ہے جس میں استغاثہ نے 41 گواہان کو پیش کیا۔ یہ ملک کی عدالتی تاریخ کا غالبا واحد کیس ہے جس میں ہائی کورٹ ٹرائل کورٹ بن گئی۔دوران ٹرائل میاں محمد عباس اپنے اعترافی بیان سے یہ کہتے ہوئے مکر گئے کہ ان کا پہلا بیان مجسٹریٹ کے سامنے دباو کے تحت لیا گیا تھا۔انھوں نے بیان دیا کہ اسے ایسی کسی سازش کا علم نہیں اور نہ ہی انھوں نے وعدہ معاف گواہ غلام حسین یا فیڈرل سکیورٹی فورس کے کسی بھی اہلکار کو اس مقصد کے لیے کوئی اسلحہ مہیا کرنے کی ہدایات دیں تھیں۔غلام مصطفی، ارشد اقبال اور رانا افتخار احمد اپنے اعتراف جرم پر قائم رہے کہ انھوں نے اس رات حملہ اپنے سینیئرز غلام حسین اور میاں محمد عباس کے کہنے پر کیا تھا جس سے احمد رضا خان کے والد کی موت ہوئی تھی۔دو مارچ 1978 کو ٹرائل مکمل ہو جاتا ہے اور 18 مارچ کو کیس کا فیصلہ سنا دیا جاتا ہے جس میں ہائی کورٹ کے پانچ ججوں نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ شواہد کی موجودگی میں یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو نے ڈائریکٹر جنرل فیڈرل سکیورٹی فورس مسعود محمود کے ساتھ مل کر احمد رضا قصوری کو قتل کرنے کی سازش تیار کی تھی اور فیڈرل سکیورٹی فورس کے حملے کے نتیجے میں ہی ان کے والد محمد احمد خان قصوری مارے گئے تھے۔ذوالفقار علی بھٹو کو اس کیس میں موت کی سزا سنائی گئی۔ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد ملزمان نے سپریم کورٹ میں اسے چیلنج کیا جہاں پر نو ججز تھے۔ ایک جج جولائی 1978 میں ریٹائر ہو گئے جبکہ ایک بیماری کی وجہ سے رخصت پر بھیج دیے گئے۔ باقی سات ججز نے فروری 1979 کو اپیل پر فیصلہ سنا دیا۔ سات میں سے چار ججز نے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا جبکہ تین نے ذوالفقار علی بھٹو کو الزامات سے بری کر دیا۔سپریم کورٹ سے اپیل مسترد ہونے کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کو چار اپریل 1979 کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق احمد رضا قصوری نے بتایا کہ جب پانچ جولائی 1977 کو مارشل لا ء لگا تو انھوں نے ہائی کورٹ میں ایک درخواست جمع کروائی کہ اس کیس میں چونکہ طاقتور لوگ ملوث ہیں اس لیے سیشن جج شاید صحیح ٹرائل نہ کر پائے اس لیے ہائی کورٹ بحیثیت ٹرائل کورٹ اس کیس کا ٹرائل خود کرے۔انھوں نے کہا کہ ان کی درخواست پر عدالت نے اسسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل راشد عزیز خان، جو بعد میں ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے جج بھی بنے، کو طلب کیا وہ پیش ہوئے اور دو ہفتے کا وقت مانگا کہ ‘میں حکومت سے پوچھ کر بتاتا ہوں کہ کیا کرنا ہے۔’دو ہفتے بعد انھوں نے ہائی کورٹ کے ڈویژنل بینچ کو بتایا کہ حکومت اس کیس کا چالان لے کر آ رہی ہے اور اس کیس کو شروع کیا جا رہا ہے۔احمد رضا قصوری کے مطابق پرائیویٹ پارٹی کے لیے اتنا بڑا کیس چلانا مشکل تھا اس لیے انھوں نے اپنے وکیل سے کہہ کر اس کیس کو حکومت کے چالان کے ساتھ نتھی کروا دیا۔وہ اس بات کی تردید کرتے ہیں کہ اس کیس کو دوبارہ کھولنے اور پیروی کرنے کے لیے انھیں اس وقت کی فوجی قیادت نے کہا تھا۔ تاہم وہ یہ ضرور کہتے ہیں کہ مارشل لا لگنے کے بعد یہ کیس دوبارہ کھلا تو اس وقت کی مارشل لا حکومت اس کیس میں فریق بن گئی تھی۔مارشل لا کے نفاذ تک کیس کی سست روی کے متعلق انھوں نے کہا کہ بھٹو اس وقت ایک طاقتور وزیر اعظم تھے اور ان کے ہوتے ہوئے تفتیش کہاں ہونی تھی، اس لیے جو نہی وہ منظر سے ہٹے، میں نے بھی اپنی کوششیں تیز کر دیں۔کیا ذوالفقار علی بھٹو نے معاملات سلجھانے کی کوشش کی، اس کے جواب میں احمد رضا قصوری بتاتے ہیں کہ انھوں نے سنہ 1976 میں اپنی اہلیہ نصرت بھٹو کو ان کے گھر بھیجا تھا۔ میں نے انھیں بڑی عزت دی تھی اور کہا تھا کہ وہ میری بہنوں کی طرح ہیں اور یقین دلایا تھا کہ وہ ماضی کے معاملات کا دوبارہ جائزہ لیں گے۔ تاہم انھوں نے کیس واپس نہیں لیا۔انھوں نے مزید بتایا کہ سات جنوری 1977 کو جس روز نئے الیکشن کروانے کے لیے بھٹو نے اسمبلی توڑی تھی تو اس وقت انھوں نے ایف آئی آر واپس لینے کے لیے آخری بار انھیں کہا تھا۔بھٹو نے کاغذ پر لکھی تحریر مجھے دی اور کہا کہ سائن کر دو۔ اس پر لکھا تھا کہ میں نے اپنے والد کے قتل کے الزام میں بھٹو کا نام سیاسی مخالفین کے کہنے پر ڈلوایا تھا اور اب چونکہ حقیقت کھل چکی ہے اس لیے میں اسے واپس لیتا ہوں۔میں نے کہا کہ سر میں اس بیان پر دستخط کر دیتا ہوں لیکن جب یہ خبر چھپے گی تو اس سے میرا امیج بری طرح متاثر ہوگا۔ برادری والے بھی سوالات کریں گے کہ تم نے کیا ذلالت کی۔ عوام کی فکر نہیں کہ کیا کہیں گے لیکن اپنی برادری کی فکر ہے کہ انھیں کیا جواب دوں گا، اس لیے میں نے انکار کر دیا تھا۔احمد رضا قصوری کے مطابق بھٹو اپنی انا میں مارے گئے۔ انھوں نے سوچا ہو گا کہ اگر وہ احمد رضا قصوری کے گھر گئے اور معافی مانگی تو اس سے ان کی شان کم ہو جائے گی۔ بھٹو اگر گھر آ جاتا اور بات کرتا تو معاملہ اور ہو سکتا تھا، کیونکہ حادثات ہوتے بھی ہیں لیکن بات چیت بھی ہوتی ہے لیکن بھٹو کبھی بھی اس غرض سے میرے پاس نہیں آئے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ان کے والد کے قتل کو اس بات سے جوڑنا کہ جس جگہ بھگت سنگھ کو پھانسی لگائی گئی تھی وہیں ان کا قتل اس لیے کیا گیا چونکہ انھوں نے اس کے ڈیتھ وارنٹ پر دستخط کیے تھے ایک لغو اور فضول بات ہے کیونکہ ان کے والد کے پاس قتل کا کیس کیوں آتا کیونکہ وہ تو محض ایک اعزازی مجسٹریٹ تھے اور وہ بھی قصور میں۔ بی بی سی کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنماء اور سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی کے رکن چوہدری منظور کہتے ہیں کہ 11 نومبر ایک بدقسمت حادثہ ہوا تھا جو نہیں ہونا چاہیے تھا۔ انھوں نے کہا پاکستان کی عدالتی تاریخ کا یہ پہلا کیس تھا جس کا ٹرائل ہائی کورٹ میں ہوا جہاں باقاعدہ وٹنس باکس بنائے گئے تھے۔انھوں نے کہا کہ قتل کے کیسوں کا ٹرائل ہمیشہ سیشن کورٹ میں ہوتا ہے لیکن اس کیس کا ٹرائل ہائی کورٹ میں ہوا جہاں بھٹو صاحب کی اپیل آنا تھی لیکن وہ اپیل کا مرحلہ ہی کھا گئے۔چوہدری منظور نے دعوی کیا کہ جج مولوی مشتاق نے بعد میں یہ بیان دیا تھا کہ یہ فیصلہ انھوں نے غصے میں دیا تھا۔ بعد میں سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس اور اس بینچ کے ممبر نسیم حسن شاہ نے اپنی کتاب اور ٹی وی انٹرویو میں اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ ہم (ہائی کورٹ) نے یہ فیصلہ دبا ومیں دیا تھا۔سپریم کورٹ میں فیصلے کی اپیل کے متعلق انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں اس وقت نو ججز تھے، ایک ریٹائر ہو گئے، ایک کو بیماری کا بہانہ بنا کر چھٹی پر بھیج دیا گیااور یہ سپریم کورٹ کے تین کے مقابلے میں چار ججز کا فیصلہ تھا۔چار ججز نے سزائے موت کو برقرار رکھا جبکہ تین ججز نے بھٹو صاحب کو بری کر دیا تھا اس طرح کے منقسم فیصلے میں سزائے موت نہیں دی جا سکتی تھی۔چوہدری منظور کے مطابق احمد رضا خان اور بھٹو صاحب کے درمیان صلح ہو چکی تھی مگر دوبارہ جھگڑا تب ہوا جب سنہ 1977 میں انھیں ٹکٹ نہیں ملا۔ احمد رضا خان کی خاندانی لڑائیاں بہت تھیں، جھگڑے تھے اور ہو سکتا ہے ان پر وہ حملہ ان کے کسی مخالف نے ہی کروایا ہو۔چوہدری منظور نے بتایا کہ پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 109 کے تحت آج تک کسی بندے کو سزائے موت کی سزا نہیں دی گئی۔ انھوں نے مزید کہا کہ مسعود محمود کو وعدہ معاف گواہ بنانا پڑا اور وعدہ معاف گواہ جیسے کیسوں میں قانونی طور پر ایسی سزا نہیں دی جا سکتی تھی۔وہ کہتے ہیں کہ بھٹو صاحب مزاج کے سخت ضرور تھے اور اپنے سیاسی مخالفین کو للکارتے بھی تھے لیکن بندے مارنے یا مروانے جیسی بات کا حقیقت سے تعلق نہیں، اگر بھٹو صاحب اس طرح کے سیاستدان ہوتے تھے تو ان پر کتنے ایسے کیسز ان کے آبائی علاقے میں بھی درج ہوتے لیکن ایسا نہیں تھا۔چوہدری منظور نے کہا کہ اس کیس کا جائزہ لیا جانا چاہیے اور سپریم کورٹ میں پڑے ہوئے صدارتی ریفرنس پہ فیصلہ آنا چاہیے تاکہ اس کیس پر پڑی تنازعات کی دھول چھٹ سکے۔دیکھیں بھٹو صاحب نے تو واپس آنا نہیں، لیکن حقائق کی درستگی کے لیے اس ریفرنس پر فیصلہ آنا چاہیے تاکہ بھٹو صاحب کے دامن پہ لگا یہ الزام دھل سکے۔حافظ نور محمد قصوری، جو کہ بینظیر بھٹو کے دونوں ادوار میں ان کے مشیر بھی رہے، کہتے ہیں کہ قتل سے چند روز قبل وہ اور سردار احمد رضا خان شیزان میں بیٹھے ہوئے تھے اور انھوں نے مجھے ایک کارڈ دکھایا کہ بھٹو صاحب نے عید کارڈ بھجوایا ہے، جس پر بھٹو صاحب کے دستخط بھی تھے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں گھرانوں میں بڑا محبت اور عزت والا رشتہ تھا۔انھوں نے کہا کہ ان کی احمد رضا قصوری سے پہلی ملاقات سنہ 1969 میں کمرہ نمبر 63 فلیٹیز ہوٹل لاہور میں ذوالفقار علی بھٹو کی موجودگی میں ہوئی تھی اور وہ کافی عرصہ ساتھ بھی رہے، اور اسی لیے وہ جانتے ہیں کہ احمد رضا قصوری کو بہت شوق تھا مشہور ہونے کا اور وہ سمجھتے تھے کہ بھٹو جیسے قد آور بندے پر اگر تنقید کریں گے تو ان کی خبریں بھی چھپیں گی اور وہ مشہور بھی ہوں گے۔وہ بتاتے ہیں کہ بھٹو اور احمد رضا قصوری کی اصل میں لڑائی تب شروع ہوئی جب سنہ 1970 کے الیکشن کے بعد جنرل یحیی نے اسمبلی کا اجلاس بلایا۔ سب دوست احمد رضا قصوری کو لاہور ریلوے سٹیشن پر تیز گام میں بٹھانے کے لیے گئے جہاں احمد رضا قصوری نے انھیں کہا کہ وہ اجلاس میں شرکت کے لیے ڈھاکہ نہیں جا رہے بلکہ کراچی میں اپنے خالو جمیل الدین عالی کے پاس جا رہے ہیں۔انھوں نے اپنے دوستوں کو تاکید کی کہ وہ یہ بات پارٹی کے لوگوں کو بتا دیں۔ میں ان کے گھر ہی ٹھہروں گا، اگر پارٹی نے فیصلہ کیا تو جاں گا ورنہ ادھر ہی ٹھہروں گا۔ جاتے ہوئے وہ مجھے باقاعدہ جمیل الدین عالی کے گھر کا نمبر بھی دے گئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ دو تین روز بعد جب پنجاب ایگزیکٹیو کمیٹی کا اجلاس ہوا تو وہاں بھی یہ بات ہوئی کہ احمد رضا قصوری ڈھاکہ اجلاس کے لیے نہیں گئے۔انھوں نے کہا کہ چونکہ وہ پیپلز پارٹی قصور کے جنرل سیکریٹری اور احمد رضا صدر تھے اس لیے ان کا احمد رضا کے گھر بہت زیادہ آنا جانا تھا اور انھوں نے جنرل یحیی کے بھائی آغا محمد علی خان کو جو اس وقت انٹیلیجنس بیورو کے سربراہ تھے سے ملنے کے لیے ان کے ماڈل ٹاون والے گھر میں کئی چکر لگائے تھے، جس کے بعد ہی احمد رضا نے ایک فاروڈ بلاک بنایا تھا۔حافظ نور محمد کے دعوی کے مطابق احمد رضا قصوری کو اسلام آباد کے سیکٹر ای الیون میں گھر اور مارک ٹو گاڑی کا پرمٹ بھی بھٹو صاحب نے ہی دیا تھا۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق سینیئر صحافی عارف نظامی نے اس معاملے پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ 11 نومبر 1974 کا دن پاکستان کی سیاسی تاریخ کے اعتبار سے ایک بڑا افسوسناک دن تھا۔عارف نظامی کے بقول بھٹو صاحب کے اردگرد کافی لوگ تھے جو یہ کام کروا سکتے تھے۔ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ احمد رضا قصوری کے والد کو مارنا ہی مقصد تھا یا وہ حادثاتی طور پر مارے گئے لیکن لگتا ہے کہ اس حملے کی منصوبہ بندی تو تھی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ بھٹو صاحب میں خوبیاں بھی بہت تھیں اور خامیاں بھی کیونکہ ان کا رویہ ایک فیوڈل لارڈ والا تھا جو اپنے مخالفین کو برداشت نہیں کرتے تھے۔ احمد رضا قصوری چونکہ بھٹو صاحب کے بدترین مخالف تھے اور وہ ان پر ذاتی قسم کی نکتہ چینی اور تنقید بھی کرتے تھے یہ سب ذوالفقار علی بھٹو کو پسند نہیں تھا۔ایک سوال کے جواب میں عارف نظامی کا کہنا تھا کہ بھٹو صاحب نے احمد رضا قصوری کے والد کو مروایا یا نہیں لیکن مارشل لا کے دور میں اس کیس کو بھٹو صاحب کو مروانے کے لیے ضرور استعمال کیا گیا۔انھوں نے مزید کہا کہ سابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس نسیم حسن شاہ جو سپریم کورٹ کے اس بینچ کا حصہ تھے جس نے بھٹو صاحب کی سزا کے خلاف اپیل رد کی تھی اور وہ بھی اپنی وفات سے قبل یہ اقرار کر چکے تھے کہ اس فیصلے کے حوالے سے اس وقت کی فوجی قیادت کا دبا ئوتھا اس لیے ریکارڈ کی درستگی کے لیے سپریم کورٹ میں اس کیس کے حوالے سے پڑے ہوئے ریفرنس کا جائزہ لیا جانا چاہیے تاکہ اگر ماضی میں کہیں کوئی غلطی، کوتاہی ہوئی ہے تو اسے درست کیا جا سکے۔


متعلقہ خبریں


کراچی پر پھر بجلی گرادی،صارفین کیلئے 3روپے 75پیسے مہنگی وجود - منگل 07 دسمبر 2021

کراچی کے صارفین کیلئے بجلی 3روپے 75مہنگی کر دی گئی اس حوالے سے نیپرا نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا ۔ نوٹیفکیشن کے مطابق بجلی ستمبر کی فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ مد میں مہنگی کی گئی ،اضافہ دسمبر کے بجلی بلوں میں وصول کیا جائے گا ،نیپرا نے ستمبر کی فیول ایڈجسٹمنٹ کیلئے نومبر میں سماعت کی تھی۔

کراچی پر پھر بجلی گرادی،صارفین کیلئے 3روپے 75پیسے مہنگی

رانا شمیم نے پیرتک بیان حلفی جمع نہ کرایا تو فرد جرم عائد کرینگے،اسلام آباد ہائیکورٹ وجود - منگل 07 دسمبر 2021

اسلام آباد ہائی کورٹ نے بیان حلفی کیس میں کہا ہے کہ اگر پیر تک رانا شمیم کا بیان حلفی نہ آیا تو ان پر فرد جرم عائد کریں گے۔منگل کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم کے بیان حلفی کی خبر پر توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی تو رانا شمیم ہائی کورٹ میں پیش ہوئے۔عدالتی معاون فیصل صدیقی نے کہا کہ یہ پرائیویٹ ڈاکومنٹ تھا اس نے پبلش کرنے کے لیے نہیں رکھا تھا ، رانا شمیم نے کہا کہ پبلش ہونے کے بعد اس سے رابطہ کیاگیا ، خبر دینے والے صحافی کا کہنا ہے کہ اس نے خبر ش...

رانا شمیم نے پیرتک بیان حلفی جمع نہ کرایا تو فرد جرم عائد کرینگے،اسلام آباد ہائیکورٹ

بابری مسجد شہادت کے 29 برس بیت گئے وجود - منگل 07 دسمبر 2021

بھارت میں مغل دور میں قائم ہونے والی تاریخی بابری مسجد کو شہید ہوئے 29 برس کا عرصہ گزر گیا، بابری مسجد کو بھارتی انتہاپسند ہندو جماعت وشو اہندو پریشد اور بھارتی جنتا پارٹی کے کارکنوں اور حمایتیوں نے حملہ کر کے مسمار کر دیا تھا۔وشوا ہندو پریشد، راشٹریہ سویم سنگھ اور بی جے پی 1980 سے ایودھیا کی بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کی تحریک چلا رہی تھیں۔ 6 دسمبر1992 کو انہی انتہاپسندہندو جماعتوں نے ایودھیا میں ایک ریلی نکالی جس نے پر تشدد صورت اختیار کر لی ، نتیجے میں بابری مسجد ...

بابری مسجد شہادت کے 29 برس بیت گئے

پی ڈی ایم کا آئندہ سال 23مارچ کو مہنگائی مارچ کا اعلان وجود - منگل 07 دسمبر 2021

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ(پی ڈی ایم)نے مہنگائی کے خلاف آئندہ سال 23مارچ کو مارچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمن نے پی ڈی ایم کے اجلاس کے بعداس بات کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ پورے ملک کے کونے کونے سے لوگ اس دن اسلام آباد کی طرف آ ئیں گے اور یہاں مہنگائی، غربت اور بے روزگاری کے حوالے سے بہت بڑا مظاہرہ ہو گا جس میں پوری قوم شریک ہو گی، میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سربراہ پی ڈی ایم نے کہا کہ پی ڈی ایم کے اجلاس میں تمام پارٹی سربراہان اور ان کے نمائندوں نے شرکت کی...

پی ڈی ایم کا آئندہ سال 23مارچ کو مہنگائی مارچ کا اعلان

تمام ایجنسیاں نادرا کو فورا ڈیٹا مہیا کرنے کی پابند، آرڈیننس جاری وجود - منگل 07 دسمبر 2021

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے نادرا(ترمیمی) آرڈیننس 2021 جاری کر دیا۔تفصیلات کے مطابق صدر مملکت نے آرڈیننس آئین کے آرٹیکل 89 کے تحت جاری کیا، آرڈیننس کی مدد سے نادرا آرڈیننس، 2000 کے سیکشن 7 میں ترمیم کی گئی ہے۔ترمیم کے مطابق تمام ایجنسیاں نادرا کو فورا ڈیٹا مہیا کرنے کی پابند ہوں گی اور نادرا کو ڈیٹا مہیا نہ کرنا بے ضابطگی تصور ہو گا جس پر متعلقہ قانون کیتحت کارروائی ہوگی۔قبل ازیں صدرمملکت عارف علوی نے اینٹی ریپ ایکٹ 2021 پر دستخط کردیئے، جس کے بعد ایکٹ گزٹ میں شائع ہوگیا۔

تمام ایجنسیاں نادرا کو فورا ڈیٹا مہیا کرنے کی پابند، آرڈیننس جاری

نواز لیگ کے خلاف ہر جگہ لڑیں گے،آصف علی زرداری وجود - منگل 07 دسمبر 2021

سابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ سازش کی وجہ سے پاکستان خطرے میں ہے ، دنیا پاکستان کو توڑنا چاہتی ہے ، ہم نے پاکستان کو بچانے کا عہد کیا ہواہے ، ہم پاکستان کے لئے لڑیں گے اور اسے بچائیں گے ، میں نے اپنی جماعت سے کہا تھا ہم پنجاب میں الیکشن لڑ سکتے ہیں، میں نے ضمنی انتخاب میں 50ہزار ووٹ ملنے کا اندازہ لگایا ہوا تھا لیکن ہم ووٹرز کو باہر نکال کر ٹرن آؤٹ نہیں بڑھا سکے، کارکنان ایک جگہ بیٹھ جائیں اس کے بعد میرے اوپر چھوڑ دیں میں سب کو سنبھال لوں گا،میاں صاحب نے ذات ، بر...

نواز لیگ کے خلاف ہر جگہ لڑیں گے،آصف علی زرداری

پاکستان پیپلز پارٹی گوادر دھرنے کے شرکاء کے مطالبات کی مکمل حمایت کرتی ہے ،میر چنگیز خان جمالی وجود - منگل 07 دسمبر 2021

پاکستان پیپلزپارٹی بلوچستان کے صدر میر چنگیز خان جمالی ،جنرل سیکرٹری روزی خان کاکڑ اورسیکرٹری اطلاعات سردارسربلند جوگیزئی نے گوادر دھرنے کے شرکاء کے جائز مطالبات کی مکمل حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکومت نے دھرنے کے شرکاء کے خلاف طاقت کا استعمال کیا تواسے صوبے کے حالات خراب ہونگے۔ یہاں جاری ہونے والے ایک مشترکہ بیان میں انہوں نے کہا کہ گوادر سی پیک بلوچستان میں ہونے کے باوجود اسکے ثمرات سے بلوچستان کے عوام محروم ہیں آج اکیسویں صدی میں بھی گوادرکے عوام پینے کے صاف پانی سمیت ...

پاکستان پیپلز پارٹی گوادر دھرنے کے شرکاء کے مطالبات کی مکمل حمایت کرتی ہے ،میر چنگیز خان جمالی

والد کے بیان حلفی سے مکر جانے کی خبر میں کوئی صداقت نہیں، بیٹا رانا شمیم وجود - منگل 07 دسمبر 2021

گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم کے صاحبزادے احمد حسن کا کہنا ہے کہ والد کے بیان حلفی سے مکر جانے کی خبر میں کوئی صداقت نہیں۔احمد حسن رانا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے خلاف بیان دینے والے گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم اپنے بیان حلفی پر قائم ہیں۔انہوں نے کہا کہ والدکے بیان حلفی سے مکر جانے کی خبر میں کوئی صداقت نہیں۔احمد حسن رانا نے کہا کہ کمرہ عدالت میں والد نے کہا تھا کہ انھوں نے افشا دستاویز کا مشاہدہ نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ اوتھ کمشنر ...

والد کے بیان حلفی سے مکر جانے کی خبر میں کوئی صداقت نہیں، بیٹا رانا شمیم

خفیہ کیمروں کی ویڈیوز سامنے آنے کے بعد خواتین اداکارائیں خوف کا شکار وجود - منگل 07 دسمبر 2021

شالیمار تھیٹرکے ڈریسنگ روم میں خفیہ کیمروں سے کی گئی ریکارڈنگ کی ویڈیوز سامنے آنے کے بعد خواتین اداکارائوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ۔ بتایا گیا ہے کہ شالیمارتھیٹر کے ڈریسنگ روم کی ویڈیوز سامنے آنے کے بعد دیگر تھیٹروںمیں کام کرنے والی اداکارائیں خوف کا شکارہیں اور وہ انتہائی محتاط ہو گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق خواتین اداکارائیں کسی جگہ خفیہ کیمرہ ہونے کی صورت میں اس سے پیشگی آگاہ ہونے کیلئے تکنیکی معلومات بھی حاصل کر رہی ہے۔

خفیہ کیمروں کی ویڈیوز سامنے آنے کے بعد خواتین اداکارائیں خوف کا شکار

جنید جمشید کی پانچویں برسی آج منائی جائے گی وجود - منگل 07 دسمبر 2021

ملک کے معروف نعت خواں جنید جمشید کی پانچویں برسی (آج) منگل7دسمبر کو منائی جائے گی ۔ جنید جمشید 3 ستمبر 1964 کوکراچی میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے وائٹل سائز کے نام سے پاپ موسیقی کا بینڈ تشکیل دیا جس میں بطور گلو کار 1987 میں کیریئر کا آغاز کیا۔اس بینڈکی جانب سے ملی نغمہ دل دل پاکستان جاں جاں پاکستان گایا گیا جس نے عوام میں بے حد مقبولیت حاصل کی۔2004 میں معروف اسکالر مو لانا طارق جمیل سے ملاقات نے جنید جمشید کی زندگی بدل دی اور گلوکاری میں بے پناہ شہرت کے باوجود ان کا رجحان دینی تعل...

جنید جمشید کی پانچویں برسی آج منائی جائے گی

ابوظبی میں اونٹوں کا مقابلہ حسن 14 سے 21 دسمبر تک منعقد ہوگا وجود - منگل 07 دسمبر 2021

امارت ابوظبی میں اونٹوں کا مقابلہ حسن 14 دسمبر سے شروع ہوگا اور یہ 21 دسمبر تک جاری رہے گا۔ پہلے اونٹوں کی خوب صورتی کا یہ مقابلہ 23 دسمبر سے شروع ہونا تھا لیکن اب اس کا نو دن قبل آغاز کیا جارہا ہے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق مدین الزاید میں منعقد ہونے والا اونٹوں کا مقابلہ حسن سالانہ لظفرہ میلے کا حصہ ہے۔ اس میں حصہ لینے والے اونٹوں میں سے سب سے بہترکا فیصلہ ان کی جسمانی خصوصیات کی بنا پرکیا جائے گا۔اس میں اصیل اور مجاحیم کے خون سے تعلق رکھنے والے خالص نسل کے اونٹ حصہ لیں گے۔ لظفر...

ابوظبی میں اونٹوں کا مقابلہ حسن 14 سے 21 دسمبر تک منعقد ہوگا

سائبر جنگ میزائلوں اور بموں کی طرح تباہ کن ہوسکتی ہے،اسرائیلی اہلکار وجود - منگل 07 دسمبر 2021

اسرائیل کے انٹرنیٹ ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ یگال اونا نے انکشاف کیا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے دوران اسرائیل میں سائبر حملوں کی کوششوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیاہے،میڈیارپورٹس کے مطابق اسرائیل ڈیفنس فورسز اور اسرائیل سیکیورٹی ایجنسی کے ایلیٹ 8200 الیکٹرانک یونٹ کے تجربہ کار یونا نے کہا کہ یہ صرف روزانہ کے حملے نہیں تھے بلکہ ہر گھنٹے یا منٹ کے حساب سے کیے جاتے تھے۔انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ دنیا میں ہر جگہ سے حملے آئے۔ پچھلے ڈیڑھ سال کے دوران پہلے سے بھی زیادہ حملے کیے گ...

سائبر جنگ میزائلوں اور بموں کی طرح تباہ کن ہوسکتی ہے،اسرائیلی اہلکار

مضامین
کون نہائے گا وجود منگل 07 دسمبر 2021
کون نہائے گا

دوگززمین وجود پیر 06 دسمبر 2021
دوگززمین

سجدوں میں پڑے رہناعبادت نہیں ہوتی! وجود پیر 06 دسمبر 2021
سجدوں میں پڑے رہناعبادت نہیں ہوتی!

چین کی عسکری صلاحیت’’عالمی رونمائی‘‘ کی منتظر ہے! وجود پیر 06 دسمبر 2021
چین کی عسکری صلاحیت’’عالمی رونمائی‘‘ کی منتظر ہے!

دوگززمین وجود اتوار 05 دسمبر 2021
دوگززمین

یورپ کا مخمصہ وجود هفته 04 دسمبر 2021
یورپ کا مخمصہ

اے چاندیہاں نہ نکلاکر وجود جمعه 03 دسمبر 2021
اے چاندیہاں نہ نکلاکر

تاریخ پررحم کھائیں وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
تاریخ پررحم کھائیں

انوکھی یات۔ٹو وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
انوکھی یات۔ٹو

وفاقی محتسب واقعی کام کرتاہے وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
وفاقی محتسب واقعی کام کرتاہے

ڈی سی کی گرفتاری اور سفارشی کلچر وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
ڈی سی کی گرفتاری اور سفارشی کلچر

ماں جیسی ر یاست اور فہیم۔۔۔ وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
ماں جیسی ر یاست اور فہیم۔۔۔

اشتہار

افغانستان
طالبان کے خواتین سے متعلق حکم نامے کا خیرمقدم کرتے ہیں، تھامس ویسٹ وجود اتوار 05 دسمبر 2021
طالبان کے خواتین سے متعلق حکم نامے کا خیرمقدم کرتے ہیں، تھامس ویسٹ

15 سالہ افغان لڑکی برطانوی اخبار کی 2021 کی 25 با اثر خواتین کی فہرست میں شامل وجود هفته 04 دسمبر 2021
15 سالہ افغان لڑکی برطانوی اخبار کی 2021 کی 25 با اثر خواتین کی فہرست میں شامل

طالبان کی خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے،شادی مرضی سے کرانے کی ہدایت وجود جمعه 03 دسمبر 2021
طالبان کی خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے،شادی مرضی سے کرانے کی ہدایت

جھڑپ میں ایران کے 9سرحدی گارڈز ہلاک ہوئے،طالبان وجود جمعه 03 دسمبر 2021
جھڑپ میں ایران کے 9سرحدی گارڈز ہلاک ہوئے،طالبان

افغان طالبان اور ایرانی بارڈر گارڈز کے درمیان شدید جھڑپیں، بھاری اسلحہ کا استعمال وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
افغان طالبان اور ایرانی بارڈر گارڈز کے درمیان شدید جھڑپیں، بھاری اسلحہ کا استعمال

اشتہار

بھارت
بابری مسجد شہادت کے 29 برس بیت گئے وجود منگل 07 دسمبر 2021
بابری مسجد شہادت کے 29 برس بیت گئے

بھارت ، ٹیکس میں کمی، پیٹرول 8روپے فی لیٹرسستا ہوگیا وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
بھارت ، ٹیکس میں کمی، پیٹرول 8روپے فی لیٹرسستا ہوگیا

بھارت میں مشتعل ہجوم کی چرچ میں تھوڑ پھوڑ ،عمارت کو نقصان،ایک شخص زخمی وجود بدھ 01 دسمبر 2021
بھارت میں مشتعل ہجوم کی چرچ میں تھوڑ پھوڑ ،عمارت کو نقصان،ایک شخص زخمی

بھارت میں نفرت جیت گئی، فنکار ہار گیا،مسلم کامیڈین وجود پیر 29 نومبر 2021
بھارت میں نفرت جیت گئی، فنکار ہار گیا،مسلم کامیڈین

بھارت میں ہندوانتہا پسندوں کی نماز جمعہ کے دوران ہلڑ بازی وجود هفته 27 نومبر 2021
بھارت میں ہندوانتہا پسندوں کی نماز جمعہ کے دوران ہلڑ بازی
ادبیات
جرمن امن انعام زمبابوے کی مصنفہ کے نام وجود منگل 26 اکتوبر 2021
جرمن امن انعام زمبابوے کی مصنفہ کے نام

پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام وجود پیر 25 اکتوبر 2021
پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام

اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا وجود بدھ 13 اکتوبر 2021
اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا

بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف وجود جمعه 01 اکتوبر 2021
بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف

اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب وجود پیر 20 ستمبر 2021
اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
شخصیات
جنید جمشید کی پانچویں برسی آج منائی جائے گی وجود منگل 07 دسمبر 2021
جنید جمشید کی پانچویں برسی آج منائی جائے گی

نامور شاعر ، مزاح نگار پطرس بخاری کی 63 ویں برسی آج منائی جائیگی وجود اتوار 05 دسمبر 2021
نامور شاعر ، مزاح نگار پطرس بخاری کی 63 ویں برسی آج منائی جائیگی

سینئر صحافی ضیاءالدین ا نتقال کر گئے وجود پیر 29 نومبر 2021
سینئر صحافی ضیاءالدین ا نتقال کر گئے

پاکستانی سائنسدان مبشررحمانی مسلسل دوسری بار دنیا کے بااثرمحققین میں شامل وجود جمعرات 25 نومبر 2021
پاکستانی سائنسدان مبشررحمانی مسلسل دوسری بار دنیا کے بااثرمحققین میں شامل

سکھ مذہب کے بانی و روحانی پیشواباباگورونانک کے552ویں جنم دن کی تین روزہ تقریبات کا آغاز وجود جمعه 19 نومبر 2021
سکھ مذہب کے بانی و روحانی پیشواباباگورونانک کے552ویں جنم دن کی تین روزہ تقریبات کا آغاز