وجود

... loading ...

وجود

اسٹیل ملز کے سی اوی او کے کنٹریکٹ میں ایک سالہ توسیع پراسٹیک ہولڈرز گروپ کو تحفظات

جمعرات 04 نومبر 2021 اسٹیل ملز کے سی اوی او کے کنٹریکٹ میں ایک سالہ توسیع پراسٹیک ہولڈرز گروپ کو تحفظات

پاکستان اسٹیل ملز اسٹیک ہولڈرز گروپ نے موجودہ سی ای او بریگیڈیئر (ریٹائرڈ)شجاع حسن خوارزمی کومدت ملازمت میں ایک سالہ توسیع دینے کے وفاقی کابینہ کے حالیہ 2 نومبر کے فیصلے پرشدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور اسے میرٹ کے برخلاف تحریک انصاف حکومت کااپنے منشورسے ہٹ کر سیاسی فیصلہ قرار دیا ہے۔ واضح رہے کہ شجاع حسن کو ابتدائی طور پر 20 اگست 2020 کومنسٹری آف انڈسٹریز اینڈ پروڈکشن کی جانب سے ایک سالہ کنٹریکٹ پرسی ای او تعینات کیا گیا تھا اور اسوقت انکی تقرری کی وفاقی کابینہ سے کوئی منظوری بھی حاصل نہیں کی گئی تھی بلکہ مبینہ طور پرانھیں ایک مرضی کے مطابق بنانے ہوئے(ٹیلرمیڈ)اشتہار کے ذریعے منتخب کروایا گیا جس کے بار ے میں ملازمین تنظیموں کا الزام ہے کہ اسے خاص طور پر چیئرمین بورڈ عامر ممتاز نے انچارج اے اینڈ پی ریاض حسین منگی اور کمپنی سیکرٹری محمد شفیق انجم کے ساتھ ملکرخاص طورپر ڈیزائن کروایااورعمر، قابلیت اور تجربے کے مطلوبہ معیار کوسابقہ اشتہارات کے مقابلے میں قواعدو ضوابط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اور شجاع حسن کے پروفائل کوسامنے رکھتے ہوئے ردوبدل کرکے مشتہر کیاجبکہ شارٹ لسٹڈ امیدواروں میں انجینئر فاروق عثمان صدیقی اور انجینئر طارق اعجاز چوہدری جو کہ مطلوبہ تعلیمی قابلیت اور ملکی وبین الاقوامی اداروں کا متعلقہ تجربہ رکھتے تھے انہیں نظر انداز کرتے ہوئے اور میرٹ کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے شجاع حسن خوارزمی کومنتخب کیا گیا حالانکہ وہ صرف دفاعی ادارے میں کام کاتجربہ اور اسی نوعیت کی تعلیم کے حامل تھے اورکسی کارپوریٹ ادارے میں سینئر پوزیشن پر کام کرنے کا کوئی تجربہ نہیں رکھتے تھے اور پاکستان انجینئرنگ کونسل ایکٹ کے مطابق انجینئرنگ کی تعلیمی قابلیت نہ ہونے کے باعث وہ ملک کے سب سے بڑے انجینئرنگ سے متعلقہ صنعتی ادارے کے سی ای او بننے کے بھی اہل نہیں تھے۔صرف یہی نہیں بلکہ شجاع حسن خوارزمی کی اس خلاف ضابطہ تقرری پر آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے اپنی رپورٹ برائے 2020-2021 میں بھی اعتراض اٹھایا کہ چیف ایگزیکٹو کی تعیناتی متعلقہ تعلیمی قابلیت اور تجربے کے بغیر کی گئی اور بورڈ نے متعلقہ امیدواروں کی صحیح طریقہ کار کے مطابق جانچ پڑتال نہیں کی۔مزیدبرآں اس غیرقانونی تقرری کے خلاف پیپلز ورکرز یونین کا دائر کردہ کیس سی پی 4699 آف 2020سندھ ہائی کورٹ میں گزشتہ سال سے زیر سماعت ہے۔اسٹیک ہولڈرز گروپ کے مطابق جہاں تک موجودہ سی ای او کی کارکردگی کا تعلق ہے صرف جولائی تادسمبر2020 چھ ماہ کے دوران اسٹیل ملز کو8.25 ارب روپے کے نقصان اور واجبات ادائیگیوں کی مد میں 58.92 ارب روپے کے اضافے کا سامنا کرنا پڑا ہے جبکہ جنوری تا جون تک کے آڈٹ شدہ اکائونٹس تاحال دستیاب نہیں ہیں۔موجودہ سی ای او کے سابقہ ایک سالہ دور میں اسٹیل ملز کے پیداواری یونٹس سے میں سے کسی ایک کو بھی بحال نہیں کیا جا سکا اور گیارہ لاکھ ٹن سالانہ کی پیداواری صلاحیت کے حامل پلانٹ سے ایک ٹن اسٹیل بھی پیدا نہیں کیا گیا اور نہ ہی پلانٹ اور مشنری کی ضروری دیکھ بھال پر کوئی توجہ دی گئی۔اس مجرمانہ غفلت کی وجہ سے اب پلانٹ اور اسکا انفراسٹرکچر زنگ آلود ہو کرگلنے لگا ہے اور اسے دانستہ تباہ کیا جا رہا ہے تاکہ یہ پروڈکشن دینے کے قابل نہ رہے۔اسٹیک ہولڈرز گروپ کے مطابق موجودہ سی ای او کے دور میں کروڑوں روپے مالیت کی مشینری، سکریپ اور دیگر قیمتی ساز وسامان چوری ہوئے مگر کسی ذمہ دار کا احتساب نہ ہوا اور حال ہی میں جنرل منیجر سکیورٹی کیپٹن (ریٹائرڈ)بابر برنارڈ کا استعفیٰ مورخہ 17 اکتوبر سے منظور کرتے ہوئے انہیں بغیر کسی احتساب کے جانے کا محفوظ راستہ دیا گیا۔موجودہ سی ای او اب تک اسٹیل ملز سے تین مراحل میں مجموعی طور پر تقریبا 5492 تجربہ کار ملازمین بشمول انجینئرز و افسران بغیر کسی قانونی جواز کے برطرف کر چکے ہیں جسے وہ بڑے فخر سے ادارے کے اخراجات کم کرنے کے لئے اپنا کارنامہ قرار دیتے ہیں جبکہ وہ خود اس بند ادارے سے ماہانہ ساڑھے چار لاکھ روپے سے زائد تنخواہ اور دیگر مراعات وصول کرتے ہیں جن میں رہائش کے لئے سی ای او ہائوس، میڈیکل اخراجات اور گاڑی بمعہ ڈرائیور وفیول وغیرہ شامل ہیں۔ تاہم پچھلے چند ماہ سے وہ اپنی ٹیم کے ہمراہ گیسٹ ہائوس اسٹیل ٹائون میں مقیم ہیں اور لاکھوں روپے کے ماہانہ اخراجات ان افراد کے قیام و طعام اور دیگر لوازمات پر بغیر کسی چیک اینڈ بیلنس اور پیشگی منظوری کے خرچ کیے جا رہے ہیں اوراطلاعات کے مطابق اب اکائونٹس ڈیپارٹمنٹ کے ملازمین پر دبائو ڈالا جا رہا کہ ان تمام خلاف ضابطہ اخراجات کو ریگولرائز کیاجائے۔اسٹیک ہولڈرز گروپ کے مطابق موجودہ سی ای او، اسٹیل ملز کے اثاثوں اور مفادات کا تحفظ کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں اور انکی توجہ صرف پرائیویٹائزیشن کمیشن اور چیئرمین بورڈ عامر ممتاز کے ساتھ مل کر سبسڈری کمپنی بنانا اور اسٹیل ملز پلانٹ، مشنری اور اثاثہ جات کو کم لگائی گئی مالیت پرخریدار پارٹی کے حوالے کرنا اور باقی ماندہ ملازمین وافسران کو بھی ملازمتوں سے غیر قانونی طور پر برطرف کرناہے۔ لہذا انکی مدت ملازمت میں توسیع بظاہر میرٹ یا قواعدو ضوابط کے مطابق نہیں بلکہ حکومت کی ایک سیاسی ضرورت نظر آتی ہے۔اسٹیک ہولڈرز گروپ کے مطابق موجودہ سی ای او جواتنے بھاری نقصانات اور بے قاعدگیوں کے ذمہ دار ہیں، انکا احتساب کرنے کے بجائے انہیں مزید ایک سال کی توسیع دینا قابل مذمت ہے۔ لہذا احتساب کے قومی ادارے، آڈیٹر جنرل آف پاکستان آفس، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان اور انصاف کی فراہمی کے دیگر ادارے اسکا نوٹس لے کر کارروائی کریں۔


متعلقہ خبریں


مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت وجود - جمعه 06 نومبر 2026

میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز وجود - جمعه 06 نومبر 2026

چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی

میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے وجود - جمعه 06 نومبر 2026

ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...

میٹا  نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں وجود - جمعه 06 نومبر 2026

خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر وجود - جمعه 06 نومبر 2026

گوشوارے جمع کروانا الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 137 کے تحت ایک لازمی قانونی تقاضا ہے،الیکشن کمیشن اراکینِ پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کے لیے مالی سال 26ـ2025 کے اثاثہ جات و واجبات کے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقررکردی گئی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کہاگیاہے کہ مالی سال ...

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر