وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

کے ڈی اے،کےایم سی،ایس بی سی اے سمیت کوئی ادارہ نہیں چل رہا،سپریم کورٹ برہم،وزیراعلیٰ سے کراچی کا ماسٹر پلان طلب

پیر 25 اکتوبر 2021 کے ڈی اے،کےایم سی،ایس بی سی اے سمیت کوئی ادارہ نہیں چل رہا،سپریم کورٹ برہم،وزیراعلیٰ سے کراچی کا ماسٹر پلان طلب

سپریم کورٹ نے وزیراعلیٰ سندھ سے کراچی کا ماسٹر پلان طلب کر لیا جبکہ چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے وزیر اعلی سندھ سے استفسار کیا ہے کہ ہم یہاں مسائل سننے نہیں آئے حل بتائیں، آپ ہر بات میں وفاقی حکومت کی بات کر رہے ہیں، اگر وفاق یہاں آکر بیٹھ گیا تو پھر آپ کیا کریں گے۔ پیرکوسپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس قاضی امین پر مشتمل بینچ نے تجاوزات کے خاتمے، سرکلر ریلوے، اورنگی اور گجرنالہ متاثرین کی بحالی سے متعلق کیس کی سماعت کی جبکہ نسلہ ٹاور سے متعلق بھی رپورٹ بھی پیش کی گئی۔ تجاوزات کے خاتمے سے متعلق کیس چیف جسٹس نے کہا کہ وہ حیدرآباد سے ہو کر آئے ہیں، دھول مٹی کے علاوہ کچھ نہیں ہے، یہ صرف کراچی کا نہیں پورے سندھ کا معاملہ ہے، بہتری نظر نہیں آتی۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ سلمان طالب الدین عدالت میں پیش ہوئے۔انہوں نے گجر نالہ متاثرین کی بحالی سے متعلق رپورٹ پیش کی گئی۔چیف جسٹس نے استفسار کیا جی بتائیں کیاپیش رفت ہوئی؟ گجرنالہ متاثرین کی بحالی کے لئے ابتک کیاکیا؟ عملی طورپرگراؤنڈپرکیاہورہاہے ، جس پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بتایا وزیراعلیٰ سندھ نے رپورٹ جمع کرادی، کچھ مالی ایشوزآرہے ہیں۔عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ کے جواب پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کیا ہورہا ہے، وزیراعلیٰ سندھ سے کہیں فوری پہنچیں۔ چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہ بلائیں وزیراعلیٰ سندھ کوابھی ان سے ہی پوچھیں گے، آپ لوگ عدالت کامذاق اڑارہے ہیں؟ یہ کیارپورٹ پیش کی ہے آپ نے؟عدالت کے طلب کرنے پر پروزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ وزیر اعلیٰ سندھ کے سپریم کورٹ میں پیش ہونے کے بعد چیف جسٹس نے کہا کہ پارکوں ،کھیل کے میدانوں پر قبضہ ہوچکا ہے، سڑکوں پر سائن نہیں ہیں، گلستان جوہر، یونیورسٹی روڈ ٹوٹا ہوا ہے، آپ بتائیں کیا پلان ہے آپ کا؟۔چیف جسٹس نے وزیر اعلیٰ سے استفسار کیا کہ اتنے عرصے سے شہر کو بہتر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر کوئی پیش رفت نہیں،کیا ہو رہا ہے کچھ سمجھ نہیں آتا کیسے بہتر ہوگا، کوئی ایک چیز نہیں جس میں بہتری آرہی ہو، سہراب گوٹھ سے جاتے ہوئے کیا حالات ہیں، کیا لوگ شہر میں داخل ہوتے ہیں تو کیا دیکھتے ہیں،آپ کہیں گے یونیورسٹی روڑ بنا دی، یونیورسٹی روڈ پر سب رفاہی پلاٹوں پر قبضہ ہوچکا، آپ قصبہ مافیا سے کسی قسم کی رعایت نہ کریں، ان پر رحم کھانے کی ضرورت نہیں۔ ہر مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل ہوتا ہے، آپ کا وزیر عوام کے لیے کچھ نہیں کرتا۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ کے ماتحت اداروں میں کیا ہو رہا ہے؟ ماسٹر پلان مانگ رہے ہیں وہ نہیں مل رہا، وزیراعلیٰ سندھ نے اعتراف کیا کہ انتظامی مسائل ہیں، کے ڈی اے با اختیار ادارہ ہے،قانون موجود ہے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ بتائیں کراچی کون چلا رہا ہے، کیونکہ سبھی ادارے مفلوج ہیں، کے ڈی اے، کے ایم سی اور ایس بی سی اے سمیت کوئی ادارہ نہیں چل رہا، کیا کراچی خود ہی چل رہا ہے، سندھ حکومت نے ہاتھ کھڑے کر دیے، آپ کا کام تو صوبے چلانا ہوتا ہے، آپ کے ماتحت شہری اداروں کا کام ہے جو وہ نہیں کر رہے، جس کو بلاتے ہیں سب یہی کہتے ہیں کوئی کام نہیں کرنا،شہر میں کثیر المنزلہ عمارتیں بن رہی ہیں، آپ دوسرا بڑا صوبہ ہیں، آپ حکومت ہیں، پیسے لانے کے سیکڑوں راستے ہوتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وزیراعلیٰ صاحب یہ صرف کراچی کا نہیں پورے سندھ کا معاملہ ہے، میں کل حیدر آباد سے ہو کر آیا ہوں دھول مٹی کے علاوہ کچھ نہیں ہے، ابھی ہم انڈونیشیا گئے تھے کراچی سے بڑا ہونے کے باوجود سرسبز تھا۔ چیف جسٹس نے وزیر اعلیٰ سندھ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ آپ بتائیں کیا پلان ہے آپ کا؟ ہماری سڑکیں دیکھیں کہیں سائن وغیرہ کچھ نہیں ہے،کچھ دن پہلے میں گلستان جوہریونیورسٹی روڈ سے آیا سارے روڈ ٹوٹے ہوئے ہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ نالہ متاثرین کو متبادلہ جگہ دینے کا کہا تھا،سندھ حکومت نے ہاتھ کھڑے کرلیے ہیں، اتنے سارے کاموں کے لیے پیسے ہیں متاثرین کے لیے؟ وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ میں عدالت کا شکر گزار ہوں آپ کی رہنمائی چاہتا ہوں،میں بتانا چاہتا ہوں 6 سال سے وزیر اعلیٰ ہوں،میں اس شہر میں ہی پیدا ہوا ہوں،ہم نے جو روڈ بنائے انکی فٹ پاتھ پر دکانیں الاٹ کردی گئی تھیں،ہمیں تجاوزات کے لیے ویسے ہی کام کرنا چاہیے،اس سال کچھ بہتری ہوئی ہے بارشوں میں بھی دیکھا ہوگا، انتظامی مسائل ہیں، مجھے ٹائم دیں میں عدالت کو بتانا چاہتا ہوں۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ بتائیں شارع فیصل بنایا ہے یونیورسٹی روڈ بنایا ہے؟جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ ادارے ہونے چاہئیں جو اس شہر کو چلا سکیں،ادارے ہوں جو اس شہر کو دیکھ سکیں، کے ڈی اے، کے ایم سی وغیرہ،حکومت کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کام کررہے ہیں۔چیف جسٹس نے کہاکہ کے ڈی اے کاڈی جی آیا کہ میں نے حکم امتناع لیا ہوا ہے تب ہی عہدے پر ہوں۔وزیراعلی سندھ نے کہاکہ یہ ادارے با اختیار ہیں، قانون موجود ہے،چیف جسٹس نے ا س پر کہا کہ ویل، بہتری نظر نہیں آتی،جواب میں وزیر اعلی نے کہاکہ یہ کہنا غلط ہوگا کہ سول اداروں کے پاس اختیارات نہیں، ہم نے اداروں کو اختیارات دے رکھے ہیں، ہمیں اکیس گریڈ کے افسران درکار ہیں، وفاق سے سولہ میں سے چار افسران تعینات ہیں، ایک ایک آفسر سے تین تین عہدے چلوا رہے ہیں، وفاق کو متعدد بار کہہ چکے کہ افسران تعینات کریں۔مراد علی شاہ نے کہاکہ گزشتہ سال تاریخی بارش ہوئی جس کی مثال نہیں ملتی، نالہ متاثرین کی بحالی کا کام ہم نے وفاقی حکومت کے ساتھ بیٹھ کر کیا ہے،انہوں نے کہاکہ ہم بھی متاثرین کی بحالی چاہتے ہیں، وفاق سے 36 ارب روپے آباد کاری کے لیے مانگے،ہمیں وفاق کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا،پہلی بار ہوا تاریخ میں وفاق سے کم ریونیو ملا ہے، ریاستوں کے لیے وسائل کا کوئی مسئلہ نہیں ہوتا، واقعی دس ارب سندھ حکومت کے لیے کوئی مسلہ نہیں، متاثرین کے لیے پی سی ون بن چکا، ایک ارب روپے شروع میں جاری کرنے کی کوشش کریں گے، دو سال میں متاثرین کو بحال کر دیں گے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ تیس چالیس سال سے سندھ حکومت نے کسی ہائوسنگ اسکیم کا اعلان نہیں کیا،مراد علی شاہ نے بتایا کہ اس سال کچھ بہتر ریونیو آ رہا ہے وفاق سے گزشتہ مالی سال میں کم پیسے ملے ،ہمیں پتہ ہے لوگوں کے کیا مسائل ہیں لوگوں کو مہنگائی کا سامنا ہے۔جسٹس قاضی امین نے کہاکہ ابھی وہ پیسے آئے نہیں ہیں آپ پیسے مانگ رہے ہیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ سندھ حکومت آٹھ ارب ایک دن میں جنریٹ کرسکتی ہے، مراد علی شاہ نے کہاکہ دس ارب روپے کی ضرورت ہے کابینہ نے ایک ارب کی فوری منظوری دی ہے۔چیف جسٹس نے مراد علی شاہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ ہم یہاں مسائل سننے نہیں آئے حل بتائیں،گرائونڈ پر کچھ ہے تو بتائیں،وزیر اعلی نے بتایا کہ پی سی ون بنا لیا ہے، عدالت جیسے حکم دے گی ہم عمل درآمد کریں گے،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ ہمیں پلان دیں کرنے کیا جارہے ہیں۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ ہمیں کوئی رپورٹ نہیں دی گئی،مراد علی شاہ نے کہاکہ دس ارب صوبے کے لئے کوئی بڑی رقم نہیں ہے۔چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ آپکے پیچھے وزیر بلدیات کھڑے ہیں انہیں بلا کر پوچھ سکتے ہیں،مگر ان کے پاس کچھ ہے نہیں بتانے کو سوائے ٹی وی پر بیان دینے کے،وہ اختیارات پتہ نہیں آپ کے پاس بھی ہیں یا نہیں۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ بہت افسوس کی بات ہے متاثرین کی بحالی کے ہمارے پاس فنڈ نہیں ، جسٹس قاضی امین نے کہاکہ ہم آپ کی عزت کرتے ہیں مگر آپ شرائط عائد نہیں کرسکتے،ہم پورے ملک کی سپریم کورٹ ہیں،یہ وہ لوگ ہیں جنھیں جرائم پیشہ لوگوں نے وہاں بٹھایا،ان لوگوں کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں جوان بچیاں ہیںآپ وزیر اعلی ہیں آپ سکون کی نیند کیسے سو سکتے ہیں۔مراد علی شاہ نے جواب دیا کہ ہم کریں گے دس ارب کوئی مسئلہ نہیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ ہم آپ کا بیان ریکارڈ کریں گے کہ متاثرین کی بحالی کا کام کریں گے،کوئی اگر مگر نہیں بس بحالی کا کام کریں۔وزیر اعلی سندھ نے بتایا کہ سندھ پبلک سروس کمیشن تین ماہ سے غیر فعال ہے،سندھ ہائیکورٹ کے حکم کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کررکھا ہے، چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ آپ اس کیس کا نمبر دے دیں دفتر میں ہم لگوا دیتے ہیں۔مراد علی شاہ نے کہاکہ بہت ساری چیزیں ہیں جو اوپن کورٹ میں نہیں کہہ سکتا، چیف جسٹس پاکستان نے اس پر کہاکہ پھر کبھی موقع ملا تو سنیں گے،ہم سب کچھ قانون کے مطابق ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں مگر یہاں لوگوں نے سڑکوں پر قبضہ کرلیا ہے انتظامیہ کہاں ہے ؟کیا یہ گورنمنٹ آف لا ہے؟ہم عمل درآمد کرنا چاہتے ہیں۔چیف جسٹس نے کہاکہ ہر مسئلے کا حل ہے آپ دیکھ لیں آپ کچھ نہیں کر رہے،آپ وفاقی حکومت وفاقی حکومت کہہ رہے ہیں وہ آکربیٹھ جائے گی توآپ کہاں جائیں گے،مراد علی شاہ بولے کہ میں وہ بات کرنا نہیں چاہتا، سیاسی بات ہوجائے گی۔جسٹس گلزار نے کہاکہ اٹارنی جنرل صاحب ، وزیراعلی سندھ کہہ رہے ہیں کہ وفاق تعاون نہیں کر رہا،آپ وفاقی حکومت سے ہدایت لے کر بتائیں۔جسٹس قاضی امین نے کہاکہ جو افسران انہیں چاہئیں ان کو دیں،چیف جسٹس پاکستان بولے کہ ایسا لگ رہا ہے وفاقی حکومت بھی مفلوج ہے، بڑی تقریریں کرتے تھے گراس روٹ لیول کی حکومت کی،گراس روٹ لیول کی حکومت کہاں ہے؟کوئی بتانے کے لئے تیار نہیں ہے۔چیف جسٹس پاکستان نے مراد علی شاہ سے کہاکہ ڈی جی کے ڈی اے تین ماہ پہلے آیا تھا تبادلہ کردیا ہے کیا کام کرے گا وہ؟ کے ڈی اے کے ڈائریکٹر آپکے پیچھے کھڑے ہیں ان سے پوچھ لیں،وزیر اعل نے کہاکہ میں دیکھ لیتا ہوں۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ اور بھی کئی افسران ہیں جن کیایک ایک دو دو ماہ میں تبادلے کر دئیے جاتے ہیں۔وزیر اعلی نے کہاکہ ڈی جی کے ڈی اے کے پاس دو چارج ہیں،وزیر تعلیم مکمل فعال سیکریٹری تعلیم چاہتے ہیں۔چیف جسٹس نے کہاکہ ہماری بھی پرابلمز حل کریں لوگوں کی پرابلم حل کریں،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ جتنی بھی سوک ایجنسیز ہیں سب غیر فعال ہیں۔مراد علی شاہ نے کہاکہ جی بالکل ہمیں لوگوں نے منتخب کیا ہے،سماعت مکمل ہونے کے بعد وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ سپریم کورٹ سے واپس روانہ ہوگئے۔ضیاء الدین اسپتال کے وکیل انور منصور خان بھی سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس گلزاراحمد نے کہا کہ آپ کے اسپتال کے اطراف تو سب قبضے ہو چکے ہیں۔ کے ڈی اے کے علاقے کا یہ حال ہے۔وکیل انور منصور خان نے بتایا کہ ہم نے قبضہ نہیں کیا، لوگ وہاں گاڑیاں کھڑی کرتے ہیں۔ یہی ہمارا موقف ہے کہ اردگرد قبضے ہیں۔چیف جسٹس نے ڈی جی کے ڈی اے سے سوال کیا کہ یہ بتائیں، سٹرک پر گھر کیسے بنے؟ یہ سب 3 سال کے اندر اندر ہوا۔ گلستان چلے جائیں، 90 فیصد کراچی گرے اسٹرکچر پر ہے۔جسٹس گلزاراحمد نے کہاکہ کراچی تو کسی بھی وقت گر جائے گا۔ آپ لوگ دفتر میں صرف چائے پینے جاتے ہیں ، یہ ہے میٹرو پولیٹن سٹی؟۔جسٹس قاضی محمد امین احمد نے ڈی جی کے ڈی اے سے سوال کیا کہ پھر آپ کر کیا رہے ہیں؟۔ڈی جی کے ڈی اے آصف میمن نے عدالت کو بتایا مسئلہ یہ ہے کہ عہدوں پر کوئی رہتا نہیں، محمد علی شاہ او پی ایس افسر کو ڈی جی بنا دیا تھا۔ لوگ سندھ ہائی کورٹ سے حکم امتناعی لے کر آجاتے ہیں۔چیف جسٹس نے آصف میمن سے پوچھا کلفٹن میں کتنے رفاعی پلاٹس ہیں؟ عدالت کو بتایا گیا کہ کلفٹن میں 3 ہزار کے قریب رفاعی پلاٹس ہیں۔سپریم کورٹ نے سندھ ہائی کورٹ سے جاری حکم امتناع ختم کردیے، عدالت نے تمام تجاوزات کے خاتمے کا حکم دیتے ہوئے کہاکہ جعلی لیز پر قائم مکانات، کمرشل تعمیرات فوری گرائی جائیں۔


متعلقہ خبریں


بابری مسجد شہادت کے 29 برس بیت گئے وجود - منگل 07 دسمبر 2021

بھارت میں مغل دور میں قائم ہونے والی تاریخی بابری مسجد کو شہید ہوئے 29 برس کا عرصہ گزر گیا، بابری مسجد کو بھارتی انتہاپسند ہندو جماعت وشو اہندو پریشد اور بھارتی جنتا پارٹی کے کارکنوں اور حمایتیوں نے حملہ کر کے مسمار کر دیا تھا۔وشوا ہندو پریشد، راشٹریہ سویم سنگھ اور بی جے پی 1980 سے ایودھیا کی بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کی تحریک چلا رہی تھیں۔ 6 دسمبر1992 کو انہی انتہاپسندہندو جماعتوں نے ایودھیا میں ایک ریلی نکالی جس نے پر تشدد صورت اختیار کر لی ، نتیجے میں بابری مسجد ...

بابری مسجد شہادت کے 29 برس بیت گئے

پی ڈی ایم کا آئندہ سال 23مارچ کو مہنگائی مارچ کا اعلان وجود - منگل 07 دسمبر 2021

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ(پی ڈی ایم)نے مہنگائی کے خلاف آئندہ سال 23مارچ کو مارچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمن نے پی ڈی ایم کے اجلاس کے بعداس بات کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ پورے ملک کے کونے کونے سے لوگ اس دن اسلام آباد کی طرف آ ئیں گے اور یہاں مہنگائی، غربت اور بے روزگاری کے حوالے سے بہت بڑا مظاہرہ ہو گا جس میں پوری قوم شریک ہو گی، میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سربراہ پی ڈی ایم نے کہا کہ پی ڈی ایم کے اجلاس میں تمام پارٹی سربراہان اور ان کے نمائندوں نے شرکت کی...

پی ڈی ایم کا آئندہ سال 23مارچ کو مہنگائی مارچ کا اعلان

تمام ایجنسیاں نادرا کو فورا ڈیٹا مہیا کرنے کی پابند، آرڈیننس جاری وجود - منگل 07 دسمبر 2021

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے نادرا(ترمیمی) آرڈیننس 2021 جاری کر دیا۔تفصیلات کے مطابق صدر مملکت نے آرڈیننس آئین کے آرٹیکل 89 کے تحت جاری کیا، آرڈیننس کی مدد سے نادرا آرڈیننس، 2000 کے سیکشن 7 میں ترمیم کی گئی ہے۔ترمیم کے مطابق تمام ایجنسیاں نادرا کو فورا ڈیٹا مہیا کرنے کی پابند ہوں گی اور نادرا کو ڈیٹا مہیا نہ کرنا بے ضابطگی تصور ہو گا جس پر متعلقہ قانون کیتحت کارروائی ہوگی۔قبل ازیں صدرمملکت عارف علوی نے اینٹی ریپ ایکٹ 2021 پر دستخط کردیئے، جس کے بعد ایکٹ گزٹ میں شائع ہوگیا۔

تمام ایجنسیاں نادرا کو فورا ڈیٹا مہیا کرنے کی پابند، آرڈیننس جاری

نواز لیگ کے خلاف ہر جگہ لڑیں گے،آصف علی زرداری وجود - منگل 07 دسمبر 2021

سابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ سازش کی وجہ سے پاکستان خطرے میں ہے ، دنیا پاکستان کو توڑنا چاہتی ہے ، ہم نے پاکستان کو بچانے کا عہد کیا ہواہے ، ہم پاکستان کے لئے لڑیں گے اور اسے بچائیں گے ، میں نے اپنی جماعت سے کہا تھا ہم پنجاب میں الیکشن لڑ سکتے ہیں، میں نے ضمنی انتخاب میں 50ہزار ووٹ ملنے کا اندازہ لگایا ہوا تھا لیکن ہم ووٹرز کو باہر نکال کر ٹرن آؤٹ نہیں بڑھا سکے، کارکنان ایک جگہ بیٹھ جائیں اس کے بعد میرے اوپر چھوڑ دیں میں سب کو سنبھال لوں گا،میاں صاحب نے ذات ، بر...

نواز لیگ کے خلاف ہر جگہ لڑیں گے،آصف علی زرداری

پاکستان پیپلز پارٹی گوادر دھرنے کے شرکاء کے مطالبات کی مکمل حمایت کرتی ہے ،میر چنگیز خان جمالی وجود - منگل 07 دسمبر 2021

پاکستان پیپلزپارٹی بلوچستان کے صدر میر چنگیز خان جمالی ،جنرل سیکرٹری روزی خان کاکڑ اورسیکرٹری اطلاعات سردارسربلند جوگیزئی نے گوادر دھرنے کے شرکاء کے جائز مطالبات کی مکمل حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکومت نے دھرنے کے شرکاء کے خلاف طاقت کا استعمال کیا تواسے صوبے کے حالات خراب ہونگے۔ یہاں جاری ہونے والے ایک مشترکہ بیان میں انہوں نے کہا کہ گوادر سی پیک بلوچستان میں ہونے کے باوجود اسکے ثمرات سے بلوچستان کے عوام محروم ہیں آج اکیسویں صدی میں بھی گوادرکے عوام پینے کے صاف پانی سمیت ...

پاکستان پیپلز پارٹی گوادر دھرنے کے شرکاء کے مطالبات کی مکمل حمایت کرتی ہے ،میر چنگیز خان جمالی

والد کے بیان حلفی سے مکر جانے کی خبر میں کوئی صداقت نہیں، بیٹا رانا شمیم وجود - منگل 07 دسمبر 2021

گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم کے صاحبزادے احمد حسن کا کہنا ہے کہ والد کے بیان حلفی سے مکر جانے کی خبر میں کوئی صداقت نہیں۔احمد حسن رانا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے خلاف بیان دینے والے گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم اپنے بیان حلفی پر قائم ہیں۔انہوں نے کہا کہ والدکے بیان حلفی سے مکر جانے کی خبر میں کوئی صداقت نہیں۔احمد حسن رانا نے کہا کہ کمرہ عدالت میں والد نے کہا تھا کہ انھوں نے افشا دستاویز کا مشاہدہ نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ اوتھ کمشنر ...

والد کے بیان حلفی سے مکر جانے کی خبر میں کوئی صداقت نہیں، بیٹا رانا شمیم

خفیہ کیمروں کی ویڈیوز سامنے آنے کے بعد خواتین اداکارائیں خوف کا شکار وجود - منگل 07 دسمبر 2021

شالیمار تھیٹرکے ڈریسنگ روم میں خفیہ کیمروں سے کی گئی ریکارڈنگ کی ویڈیوز سامنے آنے کے بعد خواتین اداکارائوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ۔ بتایا گیا ہے کہ شالیمارتھیٹر کے ڈریسنگ روم کی ویڈیوز سامنے آنے کے بعد دیگر تھیٹروںمیں کام کرنے والی اداکارائیں خوف کا شکارہیں اور وہ انتہائی محتاط ہو گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق خواتین اداکارائیں کسی جگہ خفیہ کیمرہ ہونے کی صورت میں اس سے پیشگی آگاہ ہونے کیلئے تکنیکی معلومات بھی حاصل کر رہی ہے۔

خفیہ کیمروں کی ویڈیوز سامنے آنے کے بعد خواتین اداکارائیں خوف کا شکار

جنید جمشید کی پانچویں برسی آج منائی جائے گی وجود - منگل 07 دسمبر 2021

ملک کے معروف نعت خواں جنید جمشید کی پانچویں برسی (آج) منگل7دسمبر کو منائی جائے گی ۔ جنید جمشید 3 ستمبر 1964 کوکراچی میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے وائٹل سائز کے نام سے پاپ موسیقی کا بینڈ تشکیل دیا جس میں بطور گلو کار 1987 میں کیریئر کا آغاز کیا۔اس بینڈکی جانب سے ملی نغمہ دل دل پاکستان جاں جاں پاکستان گایا گیا جس نے عوام میں بے حد مقبولیت حاصل کی۔2004 میں معروف اسکالر مو لانا طارق جمیل سے ملاقات نے جنید جمشید کی زندگی بدل دی اور گلوکاری میں بے پناہ شہرت کے باوجود ان کا رجحان دینی تعل...

جنید جمشید کی پانچویں برسی آج منائی جائے گی

ابوظبی میں اونٹوں کا مقابلہ حسن 14 سے 21 دسمبر تک منعقد ہوگا وجود - منگل 07 دسمبر 2021

امارت ابوظبی میں اونٹوں کا مقابلہ حسن 14 دسمبر سے شروع ہوگا اور یہ 21 دسمبر تک جاری رہے گا۔ پہلے اونٹوں کی خوب صورتی کا یہ مقابلہ 23 دسمبر سے شروع ہونا تھا لیکن اب اس کا نو دن قبل آغاز کیا جارہا ہے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق مدین الزاید میں منعقد ہونے والا اونٹوں کا مقابلہ حسن سالانہ لظفرہ میلے کا حصہ ہے۔ اس میں حصہ لینے والے اونٹوں میں سے سب سے بہترکا فیصلہ ان کی جسمانی خصوصیات کی بنا پرکیا جائے گا۔اس میں اصیل اور مجاحیم کے خون سے تعلق رکھنے والے خالص نسل کے اونٹ حصہ لیں گے۔ لظفر...

ابوظبی میں اونٹوں کا مقابلہ حسن 14 سے 21 دسمبر تک منعقد ہوگا

سائبر جنگ میزائلوں اور بموں کی طرح تباہ کن ہوسکتی ہے،اسرائیلی اہلکار وجود - منگل 07 دسمبر 2021

اسرائیل کے انٹرنیٹ ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ یگال اونا نے انکشاف کیا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے دوران اسرائیل میں سائبر حملوں کی کوششوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیاہے،میڈیارپورٹس کے مطابق اسرائیل ڈیفنس فورسز اور اسرائیل سیکیورٹی ایجنسی کے ایلیٹ 8200 الیکٹرانک یونٹ کے تجربہ کار یونا نے کہا کہ یہ صرف روزانہ کے حملے نہیں تھے بلکہ ہر گھنٹے یا منٹ کے حساب سے کیے جاتے تھے۔انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ دنیا میں ہر جگہ سے حملے آئے۔ پچھلے ڈیڑھ سال کے دوران پہلے سے بھی زیادہ حملے کیے گ...

سائبر جنگ میزائلوں اور بموں کی طرح تباہ کن ہوسکتی ہے،اسرائیلی اہلکار

پی ٹی وی نے چیئرمین پی سی بی رمیز راجا کو قانونی نوٹس بھیج دیا وجود - منگل 07 دسمبر 2021

پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) کی جانب سے قومی ٹیم کی سیریز کے نشریاتی حقوق کسی اور چینل کو دینے کے مسئلے پر پاکستان ٹیلی ویڑن(پی ٹی وی) نے چیئرمین پی سی بی رمیز راجا کو قانونی نوٹس بھجوا دیا۔نجی ٹی وی کے مطابق پی ٹی وی کی جانب سے بیرسٹر احمد پنسوتا نے پی سی بی کو لیگل نوٹس بھجوایا گیا ہے جس میں چیئرمین پی سی بی کو فریق بنایا گیاہے۔پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن کے قانونی نوٹس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پاکستان ٹیلی ویڑن کارپوریشن اور پی سی بی کے درمیان پاکستان میں نشریاتی حقوق ...

پی ٹی وی نے چیئرمین پی سی بی رمیز راجا کو قانونی نوٹس بھیج دیا

عام انتخابات میں (ن) نے 89678ووٹ ،تحریک انصاف نے77231 ووٹ حاصل کیے تھے وجود - پیر 06 دسمبر 2021

2018ء میں ہونے والے عام انتخابات میں حلقہ این اے 13 3سے مسلم لیگ(ن) کے امیدوار پرویز ملک نے 89678ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی تھی جبکہ تحریک انصاف کے امیدوار اعجاز احمد چوہدری77231 ووٹ لے کر دوسرے نمبر ،تحریک لبیک پاکستان کے امیدوار مطلوب احمد 13235 ووٹ لے کر تیسرے جبکہ پیپلز پارٹی کے امیدوار اسلم گل نے 5554 ووٹ حاصل کیے تھے۔ضمنی انتخاب میں تحریک انصاف کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر انتخابی میدان میںموجود نہیں تھی۔

عام انتخابات میں (ن) نے 89678ووٹ ،تحریک انصاف نے77231 ووٹ حاصل کیے تھے

مضامین
کون نہائے گا وجود منگل 07 دسمبر 2021
کون نہائے گا

دوگززمین وجود پیر 06 دسمبر 2021
دوگززمین

سجدوں میں پڑے رہناعبادت نہیں ہوتی! وجود پیر 06 دسمبر 2021
سجدوں میں پڑے رہناعبادت نہیں ہوتی!

چین کی عسکری صلاحیت’’عالمی رونمائی‘‘ کی منتظر ہے! وجود پیر 06 دسمبر 2021
چین کی عسکری صلاحیت’’عالمی رونمائی‘‘ کی منتظر ہے!

دوگززمین وجود اتوار 05 دسمبر 2021
دوگززمین

یورپ کا مخمصہ وجود هفته 04 دسمبر 2021
یورپ کا مخمصہ

اے چاندیہاں نہ نکلاکر وجود جمعه 03 دسمبر 2021
اے چاندیہاں نہ نکلاکر

تاریخ پررحم کھائیں وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
تاریخ پررحم کھائیں

انوکھی یات۔ٹو وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
انوکھی یات۔ٹو

وفاقی محتسب واقعی کام کرتاہے وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
وفاقی محتسب واقعی کام کرتاہے

ڈی سی کی گرفتاری اور سفارشی کلچر وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
ڈی سی کی گرفتاری اور سفارشی کلچر

ماں جیسی ر یاست اور فہیم۔۔۔ وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
ماں جیسی ر یاست اور فہیم۔۔۔

اشتہار

افغانستان
طالبان کے خواتین سے متعلق حکم نامے کا خیرمقدم کرتے ہیں، تھامس ویسٹ وجود اتوار 05 دسمبر 2021
طالبان کے خواتین سے متعلق حکم نامے کا خیرمقدم کرتے ہیں، تھامس ویسٹ

15 سالہ افغان لڑکی برطانوی اخبار کی 2021 کی 25 با اثر خواتین کی فہرست میں شامل وجود هفته 04 دسمبر 2021
15 سالہ افغان لڑکی برطانوی اخبار کی 2021 کی 25 با اثر خواتین کی فہرست میں شامل

طالبان کی خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے،شادی مرضی سے کرانے کی ہدایت وجود جمعه 03 دسمبر 2021
طالبان کی خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے،شادی مرضی سے کرانے کی ہدایت

جھڑپ میں ایران کے 9سرحدی گارڈز ہلاک ہوئے،طالبان وجود جمعه 03 دسمبر 2021
جھڑپ میں ایران کے 9سرحدی گارڈز ہلاک ہوئے،طالبان

افغان طالبان اور ایرانی بارڈر گارڈز کے درمیان شدید جھڑپیں، بھاری اسلحہ کا استعمال وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
افغان طالبان اور ایرانی بارڈر گارڈز کے درمیان شدید جھڑپیں، بھاری اسلحہ کا استعمال

اشتہار

بھارت
بابری مسجد شہادت کے 29 برس بیت گئے وجود منگل 07 دسمبر 2021
بابری مسجد شہادت کے 29 برس بیت گئے

بھارت ، ٹیکس میں کمی، پیٹرول 8روپے فی لیٹرسستا ہوگیا وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
بھارت ، ٹیکس میں کمی، پیٹرول 8روپے فی لیٹرسستا ہوگیا

بھارت میں مشتعل ہجوم کی چرچ میں تھوڑ پھوڑ ،عمارت کو نقصان،ایک شخص زخمی وجود بدھ 01 دسمبر 2021
بھارت میں مشتعل ہجوم کی چرچ میں تھوڑ پھوڑ ،عمارت کو نقصان،ایک شخص زخمی

بھارت میں نفرت جیت گئی، فنکار ہار گیا،مسلم کامیڈین وجود پیر 29 نومبر 2021
بھارت میں نفرت جیت گئی، فنکار ہار گیا،مسلم کامیڈین

بھارت میں ہندوانتہا پسندوں کی نماز جمعہ کے دوران ہلڑ بازی وجود هفته 27 نومبر 2021
بھارت میں ہندوانتہا پسندوں کی نماز جمعہ کے دوران ہلڑ بازی
ادبیات
جرمن امن انعام زمبابوے کی مصنفہ کے نام وجود منگل 26 اکتوبر 2021
جرمن امن انعام زمبابوے کی مصنفہ کے نام

پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام وجود پیر 25 اکتوبر 2021
پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام

اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا وجود بدھ 13 اکتوبر 2021
اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا

بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف وجود جمعه 01 اکتوبر 2021
بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف

اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب وجود پیر 20 ستمبر 2021
اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
شخصیات
جنید جمشید کی پانچویں برسی آج منائی جائے گی وجود منگل 07 دسمبر 2021
جنید جمشید کی پانچویں برسی آج منائی جائے گی

نامور شاعر ، مزاح نگار پطرس بخاری کی 63 ویں برسی آج منائی جائیگی وجود اتوار 05 دسمبر 2021
نامور شاعر ، مزاح نگار پطرس بخاری کی 63 ویں برسی آج منائی جائیگی

سینئر صحافی ضیاءالدین ا نتقال کر گئے وجود پیر 29 نومبر 2021
سینئر صحافی ضیاءالدین ا نتقال کر گئے

پاکستانی سائنسدان مبشررحمانی مسلسل دوسری بار دنیا کے بااثرمحققین میں شامل وجود جمعرات 25 نومبر 2021
پاکستانی سائنسدان مبشررحمانی مسلسل دوسری بار دنیا کے بااثرمحققین میں شامل

سکھ مذہب کے بانی و روحانی پیشواباباگورونانک کے552ویں جنم دن کی تین روزہ تقریبات کا آغاز وجود جمعه 19 نومبر 2021
سکھ مذہب کے بانی و روحانی پیشواباباگورونانک کے552ویں جنم دن کی تین روزہ تقریبات کا آغاز