وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

مثالی تعلقات کے بعد خرابی کاتاثر

جمعرات 21 اکتوبر 2021 مثالی تعلقات کے بعد خرابی کاتاثر

اسلام آباد ایک ایساشہرِ اقتدارہے جو اکثر افواہوں کی زد میں رہتا ہے مگر گزشتہ تین برسوں کے دوران افواہوں کی گرم بازاری میں قدرے ٹھہرائو سا دیکھنے میں آیا اسی بنا پراپوزیشن کی پھیلائی تبدیلی کی خبروں کو لوگوں نے سنجیدہ نہ لیا حالانکہ کئی جماعتوں نے تبدیلی کی راہ ہموار کرنے کے لیے انفرادی طورپر اور کچھ نے اتحادوں کے ذریعے ملک گیر تحریک بھی چلائی مگر بات نہ بنی تھک ہار کر چند ایک بڑی جماعتوں نے کارکنوں کو متحرک رکھنے کے لیے خودکو احتجاجی جلسوں تک محدود کر لیاجس سے اِ ن قیافوں کو اب تقویت ملنے لگی کہ حکومت کو خطرہ نہیں بلکہ موجودہ حکمران اقتدار کی مدت پوری کریں گے مگرشہرِ اقتدارکے افواہ ساز حلقوں کا کہنا ہے کہ خارجی وداخلی ناکامیوں اور معاشی تباہی سے عوام کے غضب سے بچنے کے لیے مثالی تعلقات کے بعد خرابی کاتاثر راسخ کرنے میں خودحکومتی ہاتھ ملوث ہیں تاکہ تاکہ عوامی حلقوں میں ناکامیاں گنوانے کی بجائے نئے ایشوپر بات ہو اسی وجہ سے رواں ماہ چھ اکتوبر سے مثالی تعلقات کا منظر نامہ دھندلا دھندلا سا ہے اور حزبِ اقتدار کا محنت شاقہ سے دیا یہ تاثرکہ سویلین و عسکری قیادت ہر معاملے میں ایک پیج پر ہیں اور تمام حالات کی دونوں ذمہ دار دونوں قیادتیںہیں یہ تاثر معدوم ہے اور ایک پیج پر ہونے کی خبریں غیرمصدقہ لگتی ہیں۔
سچ یہ ہے کہ جس تبدیلی کے لیے عوام نے جوق در جوق موجودہ حکمران جماعت کو ووٹ دیے تھے وہ تبدیلی تو نہیں آسکی البتہ عوامی زندگی ضرور اجیرن ہو گئی ہے پہلی بار ڈالرکی قیمت ،مہنگائی اور بے روزگاری ملک کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں اور مستقبل قریب میں بھی بہتری کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے اسی لیے ملک کے دارالحکومت میں نت نئی افواہوں کا بازار گرم ہے کچھ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ موجودہ حالات کی زمہ داری سے بچنے کے لیے کچھ اِدارے بھی فاصلے کا تاثر دینے کی کوشش میں ہیں تاکہ مہنگائی و بے روزگاری پر عوامی غم و غصے سے محفوظ رہیں اور تمام تر نفرت سویلین سیٹ اَپ کے حصے میں آئے اِس استدلال میں اِس لیے وزن محسوس ہوتا ہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تبدیلی پر تبصروں کو جان بوجھ کر ہوا دی گئی ہے ماضی میں نامزدگی کی خبروں سے توعوامی حلقوں کو آگاہی دی جاتی مگر تعیناتی کے احکامات کب جاری ہوئے یا اِس سے قبل کسی قسم کی مشاورت ہوئی یا نہیں اِس حوالے سے عوام یا میڈیا کو باخبر رکھنے کی کبھی ضرورت ہی محسوس نہ کی گئی نہ ہی کسی نے جاننے کی کبھی کوشش کی لیکن چھ اکتوبر سے نامزدگی کے احکامات جاری نہ ہونے کی خبرکے چار دن بعد ہی سویلین و عسکری قیادت کے درمیان اختلافات کے طوفان کی خبرہر خاص و عام تک پہنچ گئی یہ خبر کیسے خواص سے چوپالوں کی زینت بنی؟ اِس بارے مختلف آراء ہیں اِس لیے قرین قیاس یہی ہے کہ ایسا سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا گیا تاکہ موجودہ حالات کی زمہ دار سویلین قیادت ہی قرار پائے۔
یہ جو تبدیلی کی باتوں کاچورن بیچاجارہا ہے اِس میں صداقت محسوس نہیں کیونکہ حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف میں چند ووٹوں کا فرق ہے اِس لیے پنجاب میں تبدیلی مشکل نہیں چند ووٹوں کے فرق کو ایک آدھ اتحادی اور جہانگیرترین کو ساتھ ملاکر ختم کرنا بہت آسان ہے پنجاب میں حمزہ شباز اور شہباز شریف کی قید وبند کے دوران حکومتی اتحادیوں کا فاصلہ رکھنا تا کہ انتقامی کاروائیوں کا حصہ دار نظر نہ آئیں سے ماضی کی تلخیاں کم ہوئی ہیں اسپیکر کی طرف سے حمزہ شہباز کے ہر اجلاس میںپروڈکشن آرڈرکے اجراء سے بھی نزدیکیوں کا احساس ہواہے نجی ہوٹل میں اسمبلی اجلاس کے دوران صوبے کے اپوزیشن لیڈر سے خصوصی سلوک کرتے ہوئے پورے اجلاس کے دوران ہوٹل میں ہی رہائش رکھنے کی سہولت فراہم کرنا بڑھتی قربتوں کا مظہرہے کیونکہ سیاستدانوں کی ایک دوسرے پرایسی نوازشات و کرم نوازیاں خالی از علت نہیں ہوتیں بلکہ طے شدہ حالات کی خبر دیتی ہیں پھر بھی تبدیلی کیوں نہیں آرہی ؟ اِس کا ایک ہی جواب ہے کہ تبدیلی اپوزیشن کا ایجنڈا ہی نہیں بلکہ وہ جان بوجھ کر ناقص حکمرانی پر تنقید تک محدودہے جس کا مقصد موجودہ حکمرانوں کا عوام میں طلسم ختم کرنے میں کوئی کمی نہ رہنے دیناہے تاکہ آمدہ عام انتخابات میں مدمقابل بدنام ہونے سے بھرپور فائدہ اُٹھایا جاسکے۔
موجودہ حکومت کی بقیہ مدتِ اقتدار دوبرس سے بھی کم ہے اوراگلے برس کے درمیان تک انتخابی سرگرمیاں زوروشور سے شروع ہو جائیں گی اِ تنی کم مدت کے لیے تبدیلی کے لیے توانائیاں ضائع کرناکسی کے لیے سیاسی طور پرنفع بخش نہیں کیونکہ قبل از وقت تبدیلی سے اپوزیشن کا بھلا ہونے کی بجائے حکمرانوں کومظلوم بننے کا فائدہ مل سکتاہے اِس لیے تبدیلی کے نعروں کی حالیہ ِ سرگرمی اخلاص پر مبنی نہیں بلکہ وقت گزار اوربدنام کرنے کے منصوبے کا حصہ ہے پھر بھی حزبِ اقتدار کے سانس پھولے اور چہروں پر کیوں ہوائیاں اُڑی نظر آتی ہیں ؟اِس کی وجہ یہ ہے کہ ملک میںحکمران جماعت آج کی طرح کبھی تنہا دکھائی دیں بلکہ اکثر متحارب سیاسی جماعتوں میں بھی سلسلہ جنبانی بحال رہا ہے لیکن ملک کے لائق فائق وزیرِ اعظم نے حریف جماعتوں سے قطع تعلقی اختیار کر رکھی ہے تبھی سیاسی درجہ حرارت کی حدت میں وقفے وقفے سے اضافہ دیکھنے میں آتا ہے اب تو حکمران بھی اِس کوشش میں ہیں کہ آمدہ عام انتخابات کی مُہم میں جانے سے قبل کچھ زادِ راہ کا بندوبست کر لیں لیکن کامیابی نہیں ہورہی حالات جس نہج پر پہنچ چکے ہیں اگرملک میں کوئی ڈرامائی تبدیلی نہ آئی تو ناانصافی کی بنا پر تحریکِ انصاف بدترین انتخابی ناکامی سے دوچار ہو سکتی ہے۔
ہر افواہ درست نہیں ہوتی تو ہر افواہ غلط بھی نہیں ہوتی دھواں وہیں سے نکلتا ہے جہاں آگ ہوتی ہے معاشی گراوٹ کا حکمرانوں کو بھی مکمل ادراک ہے لیکن ملک میں مہنگائی و بے روزگاری کے زہرکو ختم کرنے والے تریاق سے اناڑی لا علم ہیں اِسی لیے شہرِ اقتدارمیں ایک افواہ یہ بھی گردش کر رہی ہے کہ حکومت خود بھی قبل از وقت انتخابی عمل میں جانے کے جوازکی متلاشی ہے تاخیر کی وجہ یہ ہے کہ انتخابی مُہم کے دوران کیسے عوام کو اپنی طرف راغب کر ناہے کچھ سمجھ میں نہیں آرہا ۔ کچھ اہم وزرا ء بھی قبل از وقت الیکشن کرانے کا ایسامضبوط جواز چاہتے ہیں جس کے بعد مہنگائی اور بے روزگاری کی طرف کسی کادھیان نہ جائے یا کوئی کان سے پکڑ کر اقتدار کی غلام گردشوں سے باہر پھینک دے تاکہ مظلوم بن کر عوام سے دوبارہ ووٹ لے سکیں لیکن غیر جمہوری تبدیلی کے آثار قطعی طور پر مفقودہیں کچھ افواہ ساز تو یہاں تک کہتے ہیں کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی روک کر دانستہ طورپر طیش دلانے کی کوشش کی گئی مگر بات نہیں بنی ظاہرہے پی پی اورن لیگ کے بعد بی ٹی آئی سے بھی عسکری قیادت محازآرائی نہیں چاہے گی کیونکہ ملک کی معاشی حالت اتنی دگرگوں ہے جو ایسی کسی اتھل پتھل کی متحمل نہیں اسی لیے شہر ِ اقتدار میں بظاہر سکون ہے اور فوری طور پرکوئی بڑی نوعیت کی تبدیلی قطعی طورپر خارج ازامکان ہے البتہ لاڈلے کا تاثر معدوم ہو نے سے سیاسی تنائو نکتہ عروج کو پہنچ سکتا ہے جس سے آمدہ عام انتخابات کے نتائج کی سمت کا تعین ہو سکے گا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں


مضامین
کون نہائے گا وجود منگل 07 دسمبر 2021
کون نہائے گا

دوگززمین وجود پیر 06 دسمبر 2021
دوگززمین

سجدوں میں پڑے رہناعبادت نہیں ہوتی! وجود پیر 06 دسمبر 2021
سجدوں میں پڑے رہناعبادت نہیں ہوتی!

چین کی عسکری صلاحیت’’عالمی رونمائی‘‘ کی منتظر ہے! وجود پیر 06 دسمبر 2021
چین کی عسکری صلاحیت’’عالمی رونمائی‘‘ کی منتظر ہے!

دوگززمین وجود اتوار 05 دسمبر 2021
دوگززمین

یورپ کا مخمصہ وجود هفته 04 دسمبر 2021
یورپ کا مخمصہ

اے چاندیہاں نہ نکلاکر وجود جمعه 03 دسمبر 2021
اے چاندیہاں نہ نکلاکر

تاریخ پررحم کھائیں وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
تاریخ پررحم کھائیں

انوکھی یات۔ٹو وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
انوکھی یات۔ٹو

وفاقی محتسب واقعی کام کرتاہے وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
وفاقی محتسب واقعی کام کرتاہے

ڈی سی کی گرفتاری اور سفارشی کلچر وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
ڈی سی کی گرفتاری اور سفارشی کلچر

ماں جیسی ر یاست اور فہیم۔۔۔ وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
ماں جیسی ر یاست اور فہیم۔۔۔

اشتہار

افغانستان
طالبان کے خواتین سے متعلق حکم نامے کا خیرمقدم کرتے ہیں، تھامس ویسٹ وجود اتوار 05 دسمبر 2021
طالبان کے خواتین سے متعلق حکم نامے کا خیرمقدم کرتے ہیں، تھامس ویسٹ

15 سالہ افغان لڑکی برطانوی اخبار کی 2021 کی 25 با اثر خواتین کی فہرست میں شامل وجود هفته 04 دسمبر 2021
15 سالہ افغان لڑکی برطانوی اخبار کی 2021 کی 25 با اثر خواتین کی فہرست میں شامل

طالبان کی خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے،شادی مرضی سے کرانے کی ہدایت وجود جمعه 03 دسمبر 2021
طالبان کی خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے،شادی مرضی سے کرانے کی ہدایت

جھڑپ میں ایران کے 9سرحدی گارڈز ہلاک ہوئے،طالبان وجود جمعه 03 دسمبر 2021
جھڑپ میں ایران کے 9سرحدی گارڈز ہلاک ہوئے،طالبان

افغان طالبان اور ایرانی بارڈر گارڈز کے درمیان شدید جھڑپیں، بھاری اسلحہ کا استعمال وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
افغان طالبان اور ایرانی بارڈر گارڈز کے درمیان شدید جھڑپیں، بھاری اسلحہ کا استعمال

اشتہار

بھارت
بابری مسجد شہادت کے 29 برس بیت گئے وجود منگل 07 دسمبر 2021
بابری مسجد شہادت کے 29 برس بیت گئے

بھارت ، ٹیکس میں کمی، پیٹرول 8روپے فی لیٹرسستا ہوگیا وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
بھارت ، ٹیکس میں کمی، پیٹرول 8روپے فی لیٹرسستا ہوگیا

بھارت میں مشتعل ہجوم کی چرچ میں تھوڑ پھوڑ ،عمارت کو نقصان،ایک شخص زخمی وجود بدھ 01 دسمبر 2021
بھارت میں مشتعل ہجوم کی چرچ میں تھوڑ پھوڑ ،عمارت کو نقصان،ایک شخص زخمی

بھارت میں نفرت جیت گئی، فنکار ہار گیا،مسلم کامیڈین وجود پیر 29 نومبر 2021
بھارت میں نفرت جیت گئی، فنکار ہار گیا،مسلم کامیڈین

بھارت میں ہندوانتہا پسندوں کی نماز جمعہ کے دوران ہلڑ بازی وجود هفته 27 نومبر 2021
بھارت میں ہندوانتہا پسندوں کی نماز جمعہ کے دوران ہلڑ بازی
ادبیات
جرمن امن انعام زمبابوے کی مصنفہ کے نام وجود منگل 26 اکتوبر 2021
جرمن امن انعام زمبابوے کی مصنفہ کے نام

پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام وجود پیر 25 اکتوبر 2021
پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام

اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا وجود بدھ 13 اکتوبر 2021
اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا

بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف وجود جمعه 01 اکتوبر 2021
بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف

اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب وجود پیر 20 ستمبر 2021
اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
شخصیات
جنید جمشید کی پانچویں برسی آج منائی جائے گی وجود منگل 07 دسمبر 2021
جنید جمشید کی پانچویں برسی آج منائی جائے گی

نامور شاعر ، مزاح نگار پطرس بخاری کی 63 ویں برسی آج منائی جائیگی وجود اتوار 05 دسمبر 2021
نامور شاعر ، مزاح نگار پطرس بخاری کی 63 ویں برسی آج منائی جائیگی

سینئر صحافی ضیاءالدین ا نتقال کر گئے وجود پیر 29 نومبر 2021
سینئر صحافی ضیاءالدین ا نتقال کر گئے

پاکستانی سائنسدان مبشررحمانی مسلسل دوسری بار دنیا کے بااثرمحققین میں شامل وجود جمعرات 25 نومبر 2021
پاکستانی سائنسدان مبشررحمانی مسلسل دوسری بار دنیا کے بااثرمحققین میں شامل

سکھ مذہب کے بانی و روحانی پیشواباباگورونانک کے552ویں جنم دن کی تین روزہ تقریبات کا آغاز وجود جمعه 19 نومبر 2021
سکھ مذہب کے بانی و روحانی پیشواباباگورونانک کے552ویں جنم دن کی تین روزہ تقریبات کا آغاز