وجود

... loading ...

وجود

ریاست مدینہ میں جو جنرل اچھا کام کرتا تھا اوپر جاتا تھا،عمران خان

بدھ 20 اکتوبر 2021 ریاست مدینہ میں جو جنرل اچھا کام کرتا تھا اوپر جاتا تھا،عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں قومی رحمت اللعالمین ﷺ کانفرنس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کا خاص شکر ادا کرتا ہوں کہ ہم آج بھر پور طریقے سے نبی آخر الزمان ﷺ کے یومِ ولادت کا جشن مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منا رہے ہیں۔اُنہوں نے کہا ہے کہ ریاست مدینہ میں جو جنرل اچھا کام کرتا تھا وہ اوپر آجاتا تھا۔ وہاں میرٹ کی بالادستی تھی، قابلیت پر لوگ اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوتے تھے، کیونکہ قانون کی بالادستی اور متفرق قانون کے خاتمے کے ساتھ ہی طرز معاشرت میں فکری انقلاب لاسکتے ہیں۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ جب تک زندہ ہوں انصاف اور رول آف لاء (قانون کی حکمرانی) کے لیے لڑتا رہوں گا۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہماری نوجوان نسل کو اپنے پیارے نبی ﷺ کی سیرت کے بارے میں علم ہونا چاہیے۔اس موقع پر 5 منٹ دورانیے کی ایک فیچر فلم بھی نشر کی گئی جس کا مقصد مغرب کو آگاہ کرنا تھا کہ ایک مسلمان حضرت محمد ﷺ سے عشق کیوں کرتا ہے۔ عمران خان نے اس موقع پر کہا کہ اسلام تلوار کے زور پر نہیں بلکہ فکری انقلاب سے پھیلا تھا، سوچ بدلی اور ذہن بدلے تھے۔انہوں نے کہا کہ تاریخ شاہد ہے کہ مسلمان جب تک نبی کریم ﷺ کی تعلیمات پر گامزن رہے کامیابی ان کا مقدر بنی اور جو لوگ منحرف ہوئے انہیں پستی نصیب ہوئی، اس طرح مدینہ کی ریاست ایک ماڈل بنی۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ تین سال اقتدار میں رہتے ہوئے مجھے حیرت ہوئی کہ اللہ نے پاکستان کو کتنی نعمتیں بخشی ہیں لیکن ہمیں اپنا راستہ ٹھیک کرنا ہے اور اس کوشش میں مجھے اور میری پارٹی کو 25 سال ہوگئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریاستِ مدینہ کا پہلا اصول اخلاقی معیار تھا، حضرت محمد ﷺ نے معاشرے میں اچھے اور برے کے فرق سے متعلق آگاہ کیا اور دنیا نے ایسے معاشرے اور فرد کو اہمیت دی۔عمران خان نے کہا کہ قانون کی بالادستی اور متفرق قانون کے خاتمے کے ساتھ ہی طرز معاشرت میں فکری انقلاب لاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاستِ مدینہ کے اہم ستون میں فلاحی ریاست کا تصور بھی شامل ہے، حضرت محمد ﷺ نے دنیا کی پہلی فلاحی ریاست کی بنیاد رکھی اور ریاست نے نچلے طبقے کو بنیادی حقوق دیے اور انصاف اور انسانیت کی بدولت قومیں ایک ہوجاتی ہیں۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ملک میں جاگیردانہ نظام کو کیا فرق پڑتا ہے کہ بیرونی طاقت آکر ملک میں اپنی حکمرانی کا جھنڈا نصب کردے، اس لیے برصغیر کو فتح کرنا آسان تھا لیکن افغانستان کو فتح نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ادھر جاگیردانہ نظام نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاست مدینہ میں میرٹ کی بالادستی تھی، قابلیت کی بنیاد پر لوگ اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوتے تھے اور اسی معاشرے میں لیڈرز پیدا ہوئے، شخصیت سازی کی بدولت صحابہ لیڈر بن گئے اور جو جنرل اچھا کام کرتا تھا وہ اوپر آجاتا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ کرکٹ سمیت تمام دیگر شعبہ جات میں اگر لیڈر صادق و امین نہ ہو تو اس کی عزت نہیں ہوتی، مدینہ کی ریاست میں پہلی مرتبہ خواتین کو وراثت اور غلاموں کو حقوق فراہم کیے۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ جس طرح مغرب میں ملازمین کو رکھا جاتا ہے اور جو صورتحال یہ یہاں ہے، اس کو دیکھ کر شرم آتی ہے۔انہوں نے برطانیہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں ایک جھوٹ بولنے پر مقامی بااثر شخص کو جیل بھیج دیا گیا اور اگر میں پاناما کی بات کروں تو ہر روز نئے جھوٹ کہے گئے اور قطری خط آگیا، قطری خط 2007 میں آتا ہے اور 2006 کا فونٹ استعمال کیا جاتا ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ اگر انگلینڈ میں قطری خط آجاتا تو اسی وقت کیس رکنا تھا، اس طرح حلف نامے پر جھوٹ بولا گیا، برطانیہ کا عدالتی نظام اور پاکستان کے عدالتی نظام سے بہت مختلف ہے، اگر مورل اتھارٹی نہ ہو تو انصاف نہیں ہوسکتا یہاں سب کو معلوم ہے کہ سینیٹ میں بھی پیشہ چلتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ 90 لاکھ پاکستانی بیرون ملک موجود ہے، اگر 30 سے 40 ہزار پاکستان آکر سرمایہ کاری کردیں تو آئی ایم ایف کی ضرورت نہیں پڑے گی، میں ایک ایسے پاکستانی کو جانتا ہوں جس کی اتنی دولت ہے جتنا پاکستان پر آئی ایم ایف کا قرض ہے۔عمران خان نے کہا کہ لیکن پاکستان کا سسٹم انہیں پاکستان نہیں آنے دیتا، وہ پاکستان آنے کے لیے بے قرار رہتے ہیں۔انہوں نے اقوام متحدہ کی رپورٹ کا حوالہ دیا اور کہا کہ امیر اور غریب ممالک کے مابین واضح فرق کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان جیسے ممالک سے ہر سال ایک ہزار ڈالر منی لانڈنگ کے ذریعے برطانیہ، امریکا جیسے ممالک میں پہنچتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ قوم وسائل سے غریب نہیں ہوتی بلکہ قانون اور انصاف نہ ہونے پر غریب ہوتی ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے ملک کے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے نوجوانوں کو صحیح راستے پر لگانا چیلنج ہے، سوشل میڈیا کے بعد نوجوانوں کو بامقصد کام میں لانا بہت بڑا چیلنج ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اکثر کہا جاتا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے خود کو زندگی کے مزے لے لیے اور اب ہمیں ریاست مدینہ کا درست دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ رحمت اللعالمین ﷺ اتھارٹی کا مقصد یہ ہے کہ نوجوان نسل کو ریاست مدینہ کے اصول بتائے جائیں، انہیں نبی کریم ﷺ کی اسوہ حسنہ سے متعلق آگاہی دیں، کم از کم ہم نوجوانوں صحیح اور غلط راستوں کی نشاندہی تو کرواسکتے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ جب تک زندہ رہوں گا انصاف کی بالادستی کے لیے لڑتا رہوں گا، میری زندگی محض ایک دائرے میں نہیں ہے بلکہ ہمارا منشور ہی یہ ہے اور اتھارٹی کے ذریعے ہم راستہ دکھائیں گے کیونکہ دین میں کوئی زبردستی نہیں ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ احساس اور کامیاب نوجوان پروگرام کے تحت نوجوانوں کو بہتر مواقع فراہم کیے جائیں گے تاکہ زندگی کے میدان میں خود کچھ کرسکیں، قرضے بلاسود ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ آئندہ برس مارچ تک پنجاب میں تمام لوگوں کو ہیلتھ کارڈز مل جائیں گے، ایک متوسط گھر کے پاس 10 لاکھ روپے کا علاج کرانے کی سہولت ہوگی، گندم پر سبسڈی دیں گے۔علاوہ ازیں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ معاشرے میں ریپ کیسز کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ ہورہا ہے، جو یقیناً ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔ایک مرتبہ پھر انہوں نے برطانیہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس معاشرے میں فحاشی بتدریج متعارف کرائی گئی، جس کا براہ راست اثر ادھر ہونے والی شادیوں اور خاندانی نظام پر پڑا اور پھر جب وہ نظام برباد ہوا تو ہمیں سمجھ آیا کہ پردے کا تصور کسی بھی معاشرے میں کیوں ضروری ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جو ثقافت بالی ووڈ سے ہالی ووڈ اور اس کے بعد پاکستان پہنچ رہی ہے، یہ کلچر ہمارے خاندانی نظام کو برباد کردے گا۔انہوں نے کہا کہ بچوں سے موبائل فون نہیں لے سکتے، سوشل میڈیا پر پابندی نہیں لگا سکتے لیکن اپنے بچوں کو موبائل کے استعمال کے معاملے میں ان کی تربیت کرسکتے ہیں، اسکول کے اندر 9 اور 10 ویں کلاس میں سیرت نبی ﷺ میں کورس شروع کیا ہے اور اس کی مانیٹرنگ کی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ آج کل ٹی وی پر ایسے پروگرام آرہے ہیں جس کے بارے میں متعدد شکایات موصول ہوتی ہیں، انہیں روکنا مشکل ہے۔عمران خان نے کہا کہ رحمت اللعالمین ﷺ کے نام پر اسکالرشپ دی جائیں گی اور بتدریج اس کا دائرہ کار کو وسعت دیں گے۔


متعلقہ خبریں


ایرانی حملے جاری،امریکی ڈرون مار گرایا،اسرائیلی بمباری سے شہادتیں 1332 ہو گئیں وجود - هفته 07 مارچ 2026

7 اسرائیلی ڈرونز مار گرائے، دشمن پر 500 سے زیادہ میزائل اور 2 ہزار ڈرونز فائر کیے،ڈرون ایرانی فضائی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے جنہیں ایئر ڈیفنس سسٹم کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، ایران لبنان پر اسرائیلی بمباری جاری، 123 شہادتیں، ہزاروں افراد گھر چھوڑنے پر مجبور ہوگئے،تل ا...

ایرانی حملے جاری،امریکی ڈرون مار گرایا،اسرائیلی بمباری سے شہادتیں 1332 ہو گئیں

سبسڈی ختم کریں، آئی ایم ایف کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں فوری بڑھانے کا مطالبہ وجود - هفته 07 مارچ 2026

قیمتوں میں اضافے کا اثر براہِ راست صارفین تک منتقل کیا جائے بجٹ ، مالیاتی ہدف متاثر نہ ہو، پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کے 30 جون تک 1468 ارب کے ہدف کو متاثر نہیں ہونا چاہیے، عالمی مالیاتی فنڈ مذاکرات میں اسکول اور کالجز کو آن لائن کلاسز پر منتقل کرنے، دکانوں اور مارکیٹس کے اوقات مقر...

سبسڈی ختم کریں، آئی ایم ایف کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں فوری بڑھانے کا مطالبہ

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ہر ہفتے مقرر ہوں گی، سرکاری ملازم گھر پر رہ کر ڈیوٹی کرینگے،وزیراعظم وجود - هفته 07 مارچ 2026

آبنائے ہرمز کی بندش:پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے ہفتہ وار تعین کی منظوری، دفاتر کیلئے کام کے دنوں میں کمی پر غور توانائی بحران کے سبب دفاتر و تعلیمی اداروں کیلئے کوڈ 19 والی تعطیلات اپنانے، ورک فراہم ہوم کی تجاویز سامنے آئی ہیں آبنائے ہرمز کی بندش اور توانائی بحران کے خدش...

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ہر ہفتے مقرر ہوں گی، سرکاری ملازم گھر پر رہ کر ڈیوٹی کرینگے،وزیراعظم

ایرانی بحری جہاز پرامریکی حملے سے 87اموات وجود - جمعرات 05 مارچ 2026

امریکی آبدوز نے بحیرہ ہند میں’کوایٹ ڈیتھ‘ نامی حملے میں ایرانی جنگی بحری جہاز کو غرق کر دیا ہے یہ دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلا موقع ہے کہ امریکہ نے کسی دشمن جہاز کو ٹارپیڈو سے ڈبویا ، امریکی وزیر دفاع امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کا دائرہ اس وقت وسیع ہو گیا جب بدھ کو پینٹاگو...

ایرانی بحری جہاز پرامریکی حملے سے 87اموات

جنگی صورت حال پاکستان دباؤ میں،آئی ایم ایف کا پاکستان سے ہنگامی معاشی پلان طلب وجود - جمعرات 05 مارچ 2026

ایف بی آر نے نظرثانی شدہ 13 ہزار 979ارب روپے کا ٹیکس ہدف حاصل کرنا مشکل قرار دے دیا، آئی ایم ایف کا اصلاحات کو تیز کرنے ٹیکس وصولی بڑھانے کے لیے مزید مؤثر اقدامات پر زور 2025کے اختتام تک 54 ہزار سرکاری نوکریاں ختم کی جا چکیں، سالانہ 56ارب روپے کی بچت متوقع ، آئی ایم ایف وفد کے...

جنگی صورت حال پاکستان دباؤ میں،آئی ایم ایف کا پاکستان سے ہنگامی معاشی پلان طلب

پیپلزپارٹی کا وزیر اعظم سے حکومتی قانون سازی پرتحفظات کا اظہار وجود - جمعرات 05 مارچ 2026

شہباز شریف سے پیپلزپارٹی وفد کی ملاقات، پارلیمان میں قانون سازی سے متعلق امور زیرِ غور آئے وزیرِ اعظم نے حکومتی رہنماؤں کو قانون سازی میں اتحادی جماعت کو اعتماد میں لینے کی ہدایت کی،ذرائع وزیرِ اعظم شہباز شریف سے پاکستان پیپلز پارٹی کے وفد نے ملاقات کی ہے۔ذرائع کے مطابق ملاقا...

پیپلزپارٹی کا وزیر اعظم سے حکومتی قانون سازی پرتحفظات کا اظہار

خامنہ ای کے ہر جانشین کو نشانہ بنائیں گے، اسرائیل کی نئی دھمکی وجود - جمعرات 05 مارچ 2026

جو شخص بھی ایران کی قیادت سنبھالے گا اسے بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے،اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل ایران کے خلاف اپنی حکمت عملی میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتے گا،یسرائیل کاٹز فضائی حملے میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو شہید کرنے کے بعد اسرائیل نے تمام عالمی قوانین اور اخل...

خامنہ ای کے ہر جانشین کو نشانہ بنائیں گے، اسرائیل کی نئی دھمکی

ایران حملہ،فوجی اڈے نہ دینے پر ٹرمپ کی اسپین کو دھمکی وجود - جمعرات 05 مارچ 2026

امریکی صدر کی اسپین کو تجارتی، معاشی دھمکیوں پر یورپی یونین کا بڑا بیان سامنے آگیا یورپی یونین اپنے رکن ممالک کے مفادات کے مکمل تحفظ کو ہر صورت یقینی بنائے گی صدر ٹرمپ نے اسپین کو تجارتی تعلقات منقطع کرنے کی دھمکی دی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اسپین کو تجارتی اور معاشی دھمکیوں...

ایران حملہ،فوجی اڈے نہ دینے پر ٹرمپ کی اسپین کو دھمکی

ایران کا ریاض میں امریکی سفارتخانے پر ڈرون حملہ،تہران اور تل ابیب میںفضائی بمباری وجود - بدھ 04 مارچ 2026

ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں میں شہید افراد کی تعدادا 787 ہوگئی،176 بچے شامل،آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے، پاسداران انقلاب نے خبردار کردیا ایران کے ساتھ بات چیت کیلئے اب بہت دیر ہو چکی، فوجی مہم چار ہفتے جاری رہ سکتی ہے(ٹرمپ)ایران کی وزارت...

ایران کا ریاض میں امریکی سفارتخانے پر ڈرون حملہ،تہران اور تل ابیب میںفضائی بمباری

خطے کی کشیدہ صورت حال،وزیراعظم بریفنگ مخصوص ارکان کو نہیں پوری پارلیمنٹ کو دیں،اپوزیشن اتحاد کا مطالبہ وجود - بدھ 04 مارچ 2026

ہمیں کہا گیا یہ بات آپ وزیراعظم کے سامنے کر دیں تو میں نے کہا ہے کہ ساتھیوں سے مشورہ کریں گے،خطے کے حالات خطرناک ہیں لہٰذا پارلیمنٹ کواعتماد میں لیا جائے،قائد حزب اختلاف آج صبح تک حکومت کو فیصلے سے آگاہ کر دیں گے(محمود خان اچکزئی)خطے کی صورت حال اور ایران پر حملے پر بریفنگ کی...

خطے کی کشیدہ صورت حال،وزیراعظم بریفنگ مخصوص ارکان کو نہیں پوری پارلیمنٹ کو دیں،اپوزیشن اتحاد کا مطالبہ

کراچی قونصلیٹ کے باہر مظاہرین پر فائرنگ امریکی میرینز نے کی وجود - بدھ 04 مارچ 2026

واضح نہیں میرینزکی فائرکی گئی گولیاں لگیں یا ہلاکت کاسبب بنیں، سکیورٹی اہلکاروں نے فائرنگ کی یا نہیں،امریکی حکام امریکی فوج نے معاملہ محکمہ خارجہ کے سپرد کر دیا ،گولیاں قونصل خانے کے احاطے کے اندر سے چلائی گئیں، پولیس حکام (رپورٹ:افتخار چوہدری)امریکی حکام کے مطابق کراچی قونصل...

کراچی قونصلیٹ کے باہر مظاہرین پر فائرنگ امریکی میرینز نے کی

ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای شہید،تباہ کن کارروائی جلد شروع ہوگی،صدر کا بدلہ لینے کا اعلان وجود - پیر 02 مارچ 2026

سپریم لیڈرکی بیٹی، نواسی، داماد اور بہو شہید ، علی شمخانی اور کمانڈر پاکپور کی شہادت کی تصدیق ، سات روز کیلئے چھٹی ، چالیس روزہ سوگ کا اعلان،مقدس روضوں پر انقلاب کی علامت سرخ لائٹیں روشن کردی گئیں مشہد میں حرم امام رضا کے گنبد پر سیاہ پرچم لہرایا دیا گیا، ویڈیو جاری ،کئی افراد غ...

ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای شہید،تباہ کن کارروائی جلد شروع ہوگی،صدر کا بدلہ لینے کا اعلان

مضامین
نئے حاکم ۔۔۔ وجود هفته 07 مارچ 2026
نئے حاکم ۔۔۔

ماسکو اور بیجنگ ایران کے ساتھ کھڑے ہوں گے! وجود هفته 07 مارچ 2026
ماسکو اور بیجنگ ایران کے ساتھ کھڑے ہوں گے!

بھارتی تعلیمی اداروں میں مسلم طلبہ سے امتیازی سلوک وجود هفته 07 مارچ 2026
بھارتی تعلیمی اداروں میں مسلم طلبہ سے امتیازی سلوک

غنڈہ ریاست وجود جمعه 06 مارچ 2026
غنڈہ ریاست

بھارت کی عالمی دہشت گردی وجود جمعه 06 مارچ 2026
بھارت کی عالمی دہشت گردی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر