... loading ...
وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں قومی رحمت اللعالمین ﷺ کانفرنس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کا خاص شکر ادا کرتا ہوں کہ ہم آج بھر پور طریقے سے نبی آخر الزمان ﷺ کے یومِ ولادت کا جشن مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منا رہے ہیں۔اُنہوں نے کہا ہے کہ ریاست مدینہ میں جو جنرل اچھا کام کرتا تھا وہ اوپر آجاتا تھا۔ وہاں میرٹ کی بالادستی تھی، قابلیت پر لوگ اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوتے تھے، کیونکہ قانون کی بالادستی اور متفرق قانون کے خاتمے کے ساتھ ہی طرز معاشرت میں فکری انقلاب لاسکتے ہیں۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ جب تک زندہ ہوں انصاف اور رول آف لاء (قانون کی حکمرانی) کے لیے لڑتا رہوں گا۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہماری نوجوان نسل کو اپنے پیارے نبی ﷺ کی سیرت کے بارے میں علم ہونا چاہیے۔اس موقع پر 5 منٹ دورانیے کی ایک فیچر فلم بھی نشر کی گئی جس کا مقصد مغرب کو آگاہ کرنا تھا کہ ایک مسلمان حضرت محمد ﷺ سے عشق کیوں کرتا ہے۔ عمران خان نے اس موقع پر کہا کہ اسلام تلوار کے زور پر نہیں بلکہ فکری انقلاب سے پھیلا تھا، سوچ بدلی اور ذہن بدلے تھے۔انہوں نے کہا کہ تاریخ شاہد ہے کہ مسلمان جب تک نبی کریم ﷺ کی تعلیمات پر گامزن رہے کامیابی ان کا مقدر بنی اور جو لوگ منحرف ہوئے انہیں پستی نصیب ہوئی، اس طرح مدینہ کی ریاست ایک ماڈل بنی۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ تین سال اقتدار میں رہتے ہوئے مجھے حیرت ہوئی کہ اللہ نے پاکستان کو کتنی نعمتیں بخشی ہیں لیکن ہمیں اپنا راستہ ٹھیک کرنا ہے اور اس کوشش میں مجھے اور میری پارٹی کو 25 سال ہوگئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریاستِ مدینہ کا پہلا اصول اخلاقی معیار تھا، حضرت محمد ﷺ نے معاشرے میں اچھے اور برے کے فرق سے متعلق آگاہ کیا اور دنیا نے ایسے معاشرے اور فرد کو اہمیت دی۔عمران خان نے کہا کہ قانون کی بالادستی اور متفرق قانون کے خاتمے کے ساتھ ہی طرز معاشرت میں فکری انقلاب لاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاستِ مدینہ کے اہم ستون میں فلاحی ریاست کا تصور بھی شامل ہے، حضرت محمد ﷺ نے دنیا کی پہلی فلاحی ریاست کی بنیاد رکھی اور ریاست نے نچلے طبقے کو بنیادی حقوق دیے اور انصاف اور انسانیت کی بدولت قومیں ایک ہوجاتی ہیں۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ملک میں جاگیردانہ نظام کو کیا فرق پڑتا ہے کہ بیرونی طاقت آکر ملک میں اپنی حکمرانی کا جھنڈا نصب کردے، اس لیے برصغیر کو فتح کرنا آسان تھا لیکن افغانستان کو فتح نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ادھر جاگیردانہ نظام نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاست مدینہ میں میرٹ کی بالادستی تھی، قابلیت کی بنیاد پر لوگ اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوتے تھے اور اسی معاشرے میں لیڈرز پیدا ہوئے، شخصیت سازی کی بدولت صحابہ لیڈر بن گئے اور جو جنرل اچھا کام کرتا تھا وہ اوپر آجاتا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ کرکٹ سمیت تمام دیگر شعبہ جات میں اگر لیڈر صادق و امین نہ ہو تو اس کی عزت نہیں ہوتی، مدینہ کی ریاست میں پہلی مرتبہ خواتین کو وراثت اور غلاموں کو حقوق فراہم کیے۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ جس طرح مغرب میں ملازمین کو رکھا جاتا ہے اور جو صورتحال یہ یہاں ہے، اس کو دیکھ کر شرم آتی ہے۔انہوں نے برطانیہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں ایک جھوٹ بولنے پر مقامی بااثر شخص کو جیل بھیج دیا گیا اور اگر میں پاناما کی بات کروں تو ہر روز نئے جھوٹ کہے گئے اور قطری خط آگیا، قطری خط 2007 میں آتا ہے اور 2006 کا فونٹ استعمال کیا جاتا ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ اگر انگلینڈ میں قطری خط آجاتا تو اسی وقت کیس رکنا تھا، اس طرح حلف نامے پر جھوٹ بولا گیا، برطانیہ کا عدالتی نظام اور پاکستان کے عدالتی نظام سے بہت مختلف ہے، اگر مورل اتھارٹی نہ ہو تو انصاف نہیں ہوسکتا یہاں سب کو معلوم ہے کہ سینیٹ میں بھی پیشہ چلتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ 90 لاکھ پاکستانی بیرون ملک موجود ہے، اگر 30 سے 40 ہزار پاکستان آکر سرمایہ کاری کردیں تو آئی ایم ایف کی ضرورت نہیں پڑے گی، میں ایک ایسے پاکستانی کو جانتا ہوں جس کی اتنی دولت ہے جتنا پاکستان پر آئی ایم ایف کا قرض ہے۔عمران خان نے کہا کہ لیکن پاکستان کا سسٹم انہیں پاکستان نہیں آنے دیتا، وہ پاکستان آنے کے لیے بے قرار رہتے ہیں۔انہوں نے اقوام متحدہ کی رپورٹ کا حوالہ دیا اور کہا کہ امیر اور غریب ممالک کے مابین واضح فرق کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان جیسے ممالک سے ہر سال ایک ہزار ڈالر منی لانڈنگ کے ذریعے برطانیہ، امریکا جیسے ممالک میں پہنچتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ قوم وسائل سے غریب نہیں ہوتی بلکہ قانون اور انصاف نہ ہونے پر غریب ہوتی ہے۔
وزیر اعظم عمران خان نے ملک کے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے نوجوانوں کو صحیح راستے پر لگانا چیلنج ہے، سوشل میڈیا کے بعد نوجوانوں کو بامقصد کام میں لانا بہت بڑا چیلنج ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اکثر کہا جاتا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے خود کو زندگی کے مزے لے لیے اور اب ہمیں ریاست مدینہ کا درست دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ رحمت اللعالمین ﷺ اتھارٹی کا مقصد یہ ہے کہ نوجوان نسل کو ریاست مدینہ کے اصول بتائے جائیں، انہیں نبی کریم ﷺ کی اسوہ حسنہ سے متعلق آگاہی دیں، کم از کم ہم نوجوانوں صحیح اور غلط راستوں کی نشاندہی تو کرواسکتے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ جب تک زندہ رہوں گا انصاف کی بالادستی کے لیے لڑتا رہوں گا، میری زندگی محض ایک دائرے میں نہیں ہے بلکہ ہمارا منشور ہی یہ ہے اور اتھارٹی کے ذریعے ہم راستہ دکھائیں گے کیونکہ دین میں کوئی زبردستی نہیں ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ احساس اور کامیاب نوجوان پروگرام کے تحت نوجوانوں کو بہتر مواقع فراہم کیے جائیں گے تاکہ زندگی کے میدان میں خود کچھ کرسکیں، قرضے بلاسود ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ آئندہ برس مارچ تک پنجاب میں تمام لوگوں کو ہیلتھ کارڈز مل جائیں گے، ایک متوسط گھر کے پاس 10 لاکھ روپے کا علاج کرانے کی سہولت ہوگی، گندم پر سبسڈی دیں گے۔علاوہ ازیں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ معاشرے میں ریپ کیسز کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ ہورہا ہے، جو یقیناً ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔ایک مرتبہ پھر انہوں نے برطانیہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس معاشرے میں فحاشی بتدریج متعارف کرائی گئی، جس کا براہ راست اثر ادھر ہونے والی شادیوں اور خاندانی نظام پر پڑا اور پھر جب وہ نظام برباد ہوا تو ہمیں سمجھ آیا کہ پردے کا تصور کسی بھی معاشرے میں کیوں ضروری ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جو ثقافت بالی ووڈ سے ہالی ووڈ اور اس کے بعد پاکستان پہنچ رہی ہے، یہ کلچر ہمارے خاندانی نظام کو برباد کردے گا۔انہوں نے کہا کہ بچوں سے موبائل فون نہیں لے سکتے، سوشل میڈیا پر پابندی نہیں لگا سکتے لیکن اپنے بچوں کو موبائل کے استعمال کے معاملے میں ان کی تربیت کرسکتے ہیں، اسکول کے اندر 9 اور 10 ویں کلاس میں سیرت نبی ﷺ میں کورس شروع کیا ہے اور اس کی مانیٹرنگ کی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ آج کل ٹی وی پر ایسے پروگرام آرہے ہیں جس کے بارے میں متعدد شکایات موصول ہوتی ہیں، انہیں روکنا مشکل ہے۔عمران خان نے کہا کہ رحمت اللعالمین ﷺ کے نام پر اسکالرشپ دی جائیں گی اور بتدریج اس کا دائرہ کار کو وسعت دیں گے۔
مہنگائی بتدریج کم ہوئی، شرحِ نمو 3۔7 فیصد تک پہنچ گئی، پچھلے 4 سال کی سب سے بہترین معاشی ترقی، تجارتی غیر یقینی کے بعد پھر سیلاب آیا، مارچ میں خطے میں عدم استحکام ہوا، وفاقی وزیر خزانہ تمام چیلنجز سے درست نبردآزما ہوئے،مالی سال کے دوران 3 بڑے چیلنجز سے کامیابی سے نمٹا گیا،اکنا...
امریکا مستقبل میں خارگ جزیرے سمیت ایران کے اہم تیل اور گیس کے انفراسٹرکچر پر قبضہ کرکے ان کی توانائی منڈیوں کا مکمل کنٹرول سنبھال لے گا، پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان یہ حکمت عملی اسی طرز پر ہوگی جس طرح امریکا نے وینزویلا میں توانائی کے شعبے سے متعلق اقدامات کیے تھے، اامریکا...
منصوبہ اپنی تکمیل کے بعد روزانہ تین لاکھ تک مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرے گا 21 کلومیٹر طویل مخصوص بی آر ٹی کوریڈور داؤد چورنگی سے نمائش تک قائم کیا جائے گا کراچی کے یلو لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کے لئے 256 الیکٹرک بسیں خریدی جائیں گی جبکہ منصوبہ اپنی تکمیل ک...
اسٹاف پر ہاتھ اٹھایا، ڈی جی میڈیا اور پولیس اہلکاروں سے بدتمیزی کی جو ناقابل قبول ہے (ن) لیگ کی رکن فرح ناز اکبر نے رکنیت معطل کرنے کی تحریک پیش جسے منظور کرلیا گیا اسپیکر قومی اسمبلی نے اسٹاف اور سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ بدتمیزی پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اقبال ...
صومالی سفیر دفتر خارجہ طلب ، یرغمالیوں کی رہائی کیلئے جاری کوششوں پر تبادلہ خیال دو روز قبل وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے صومالیہ کے وزیر خارجہ عبدالسلام علی سے رابطہ کیا ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ صومالیہ میں ایک بحری جہاز پر سوار پاکستانی شہری گزشتہ 15 روز سے یرغمال ہیں اور پ...
ایم آئی 17ہیلی کاپٹر مظفر آباد کے قریب حادثے کی درست تکنیکی وجوہات جاننے کیلئے بورڈ آف انکوائری بنانے کا حکم دے دیا گیا ہے جو اپنی تفصیلی رپورٹ مرتب کرے گا،آئی ایس پی آر فیلڈ مارشل ، صدر مملکت و وزیراعظم کا حادثے میں شہید تمام اہلکاروں کو خراجِ عقیدت ،پوری قوم اپنے بہادر سپوتو...
9جون کو موسی درہ میں فیڈرل کانسٹیبلری کی چوکی پر دہشتگرد حملہ ہوا ،2جون کو شمالی وزیرستان میں فوجی چوکی پر گاڑی میں نصب خودکش بم حملہ ہوا ،9مئی کو بنوں کے پولیس اسٹیشن پر خودکش حملہ کیا گیا دہشتگردکیمپوں اور محفوظ ٹھکانوں کوانتہائی درستگی اور احتیاط سے نشانہ بنایا گیا، تباہ کیے ...
سزائے موت کا فیصلہ کالعدم، ایم کیو ایم کے بیرسٹر فروغ نسیم اور حسان صابر ایڈوکیٹ بطور وکیل عدالت میں پیش استغاثہ کے پاس ایسا کوئی ٹھوس ثبوت یا چشم دید گواہ موجود نہیں جس نے ملزمان کو آگ لگاتے دیکھا ہو،وکیل صفائی سپریم کورٹ نے سانحہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کیس کے مرکزی ملزمان رحما...
فریقین نے تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کیا تو یہ کشیدگی بڑے بحران میں بدل سکتی ہے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کا سلامتی کونسل میں اجلاس سے خطاب اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں عدم پھیلاؤ سے متعلق اجلاس کے دوران پاکستان نے ایک بار پھر عالمی امن، علاقائی استحکام ...
کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور گجرات میں سروسز عوامی سہولت کیلئے جمعہ کو کھلی رہیں گی ملک بھر میں اوقات کار رات 10 بجے تک بڑھا دییگئے،ہفتہ اتوار کھلے رہیں گے توانائی بچت مہم کے دور ان کریانہ اسٹورز کے اوقات بڑھانے کا فیصلہ کرلیا گیا ۔نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسح...
گلگت بلتستان میں 22 امیدوار میدان میں تھے،پوری جمع تفریق کے بعد 15 نشستوں پر جیتے ہیں،ہمیں دو نشستیں دے کر ہماری 13 نشستیں کسی اور کو دیں گے تو ہم اس کو نہیں مانتے، بیرسٹر گوہر بجٹ سیشن میں شریک ہوں نہ ہوں عوام کو ریلیف ملنا چاہیے، کشمیر پر ہمارا واضح مؤقف ہے، مسائل کو افہام و ...
28ویں ترمیم کا شوشہ چھوڑ کر سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے لیے کام کر رہی ہیں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے، عوامی مسائل بدستور حل طلب ہیں، پریس کانفرنس امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی حکومتوں کو مکمل بااختیار بنایا جائے اور آئندہ و...