وجود

... loading ...

وجود

آٹا مہنگا ہوجائے تو سمجھو وزیراعظم چور ہے،مریم نواز

اتوار 17 اکتوبر 2021 آٹا مہنگا ہوجائے تو سمجھو وزیراعظم چور ہے،مریم نواز

پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے وزیر اعظم عمران خان پر ایک بار پھر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیب قانون بدلنے اور چیئرمین کو ایکسٹینشن دینے سے تم اپنے آپ کو احتساب سے نہیںبچا سکتے ،کہتے ہیں تحفوں کی تفصیل نہیں بتا سکتا، غیر ملکی سربراہان ناراض ہوجائیں گے،قوم کو کیا سننے کو ملا، پنڈورا میں عمران خان کا نام نہیں ،کبھی سنا ہے جو چوروں کا سردار ہے وہ ایماندار ہے،عمران خان کہا کرتا تھا جب آٹا مہنگا ہوجائے تو سمجھو وزیراعظم چور ہے، آج روٹی پچیس روپے کی ہوگئی تو چور کون ہے؟رات کے بارہ بج جائیں گے، عمران خان کی کرپشن کی داستانیں ختم نہیں ہوں گی،عمران خان کا مودی فون نہیں اٹھاتا ، بائیڈن فون نہیں کرتا،جب کوئی معاملہ اللہ پر چھوڑے تو تمام طاقت اور ایک پیج کے باوجود رسوائی مقدر بنتی ہے،نوازشریف کے مخالفین کو اللہ نے عبرت کا نشان بنایا،عمران خان نے فوج کے ادارے پر خود کش حملہ کر دیا ہے ، اعلیٰ تقرریاں جن بھوت کر رہے ہیں،ایک شخص کو عہدے پر رکھنے کی خاطر پاکستان کی افواج کو پوری دنیا میں تماشا بنا کر رکھ دیا۔ پی ڈی ایم کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہونے کہاکہ نواز شریف پر ظلم ہورہا تھا اور ان سے انتقام لیا رہا تھا تو انہوں نے کہا تھا میں اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑتا ہوں۔مریم نواز نے کہاکہ جب نواز شریف نے اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑا، جب انسان اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑتا ہے تو دنیا کی تمام طاقت ہونے کے باوجود، ایک پیج پر ہونے کے باوجود تاریخی ناکامی، ذلت اور رسوائی ظالم مقدر بنتی ہے۔انہوں نے کہا کہ آج کیا نواز شریف کے مخالفین کو اللہ نے عبرت کا نشان بنایا، جس نے اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑا اس کو اللہ نے سرخرو کیا اور ظالم کو اللہ نے نامراد کردیا۔نائب صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ عمران خان کہا کرتا تھا جب آٹا اور چینی مہنگی ہوجائے تو سمجھ لو وزیراعظم چور ہے، جب بجلی اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوتو سمجھ جاؤ وزیراعظم چور ہے۔انہوںنے کہاکہ نواز شریف کے دور میں چینی 50 روپے کلو تھی آج تین سال بعد چینی 120 سے بھی مہنگی ہوئی تو چور کون ہوا، نواز شریف کے دور میں روٹی 5 روپے کی تھی اور اب 25 روپے کی ہوگئی تو چور کون ہے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے دور میں بجلی 11 روپے فی یونٹ ہوا کرتی تھی آج جب بجلی 24 سے 26 روپے یونٹ ہے تو چور کون ہے، نواز شریف کے دور میں پیٹرول 70 روپے لیٹر تھا آج 138 روپے لیٹر ہے تو چور کون ہے۔مہنگائی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے دور میں گھی، کوکنگ آئل 140 روپے اور آج 340 روپے تو چور کون ہے، آج پیٹرول، ڈیزل اور کوکنگ آئل مہنگا ہوگیا اور تاریخی سطح پر قیمتیں پہنچ گئی ہیں۔انہوںنے کہاکہ عمران خان نے ایک وعدہ پوا کیا کہ میں ان کو رلاؤں گا اور اس نے پوری قوم کو رلا دیا، آج گھروں میں بیٹھے خواتین بزرگ اور کمانے والے مرد سب جھولیاں اٹھا اٹھا کر بد دعائیں دے رہے ہیں۔مریم نواز نے کہا کہ نواز شریف نے فون کرکے مجھے بتایا کہ میری طرف سے بھی عوام سے ہمدردی کا اظہار کرنا اور فیصل آبا، خیبرپختونخوا، بلوچستان اور سندھ کے عوام سے کہنا ہے جب تم پر ظلم ہوتا ہے تو نواز شریف کا دل خون کے آنسو روتا ہے۔انہونے کہاکہ مہنگائی کرکے ان کو تسلی نہیں ہوئے اور انتے بے حس لوگ ہیں کہ پیٹرول اور ڈیزل میں اضافہ ایسے کرتے ہیں کہ جیسے عوام کو دو نفل شکرانے کے پڑھنے چاہیے کہ عمران خان نے عوام کے 7 نسلوں پر بڑا احسان کیا ہے کہ صرف 12 روپے بڑھائے ہیں، اتنے بے حس ہیں کہ ان کے وزرا عوام کے نوالے گنتے ہیں۔نائب صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ ان کے وزرا عوام کو درس دیتے ہیں کہ دو روٹیوں کے بجائے ایک روٹی کھالو اور صبر کرلو، اگر چند لائنوں میں عمران خان کی ساڑھے تین سال کا خلاصہ یہ ہے کہ عمران خان کہتا ہے کہ میں اگر آٹا، سبزی مہنگی کردوں تو آپ نے کھانا کھانا نہیں، اگر اسکول کی فیسوں بڑھا دوں تو بچوں کو پڑھانا نہیں، اگر دوائی کی قیمت میں 500 گنا اضافہ کروں تو علاج نہیں کروانا۔وزیراعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان اپنے وزرا سے کہتے ہیں کہ ڈٹ کر جھوٹ بولو اور شرمانا نہیں، تاریخ کے بدترین کرپشن اسکینڈلز پر چپ کسی کو بتانا نہیں۔انہوں نے کہا کہ پہلے پورا ملک کورونا کی لپیٹ میں تھا اور ہے اور اب ان کی نالائقی، نااہلی اور بے حسی کی وجہ سے دنیا ڈینگی سے عوام مر رہے ہیں لیکن ان کو پرواہ نہیں ہے، نواز شریف کے بغیر عوام رل گئے ہیں اور شہباز شریف کو آج عوام بلا رہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ آج جب کورونا سے بچانے والا انجکشن بلیک میں 7،7 لاکھ روپے کا بکتا ہے تو لوگ نواز شریف اور شہباز شریف کو آوازیں دیتے ہیں، ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ کس نے کیا تھا اور اوپر سے عوام کو بھاشن دیتا ہے گھبرانا نہیں، سکون صرف قبر میں ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کی حکومت کایہ حال ہے کہ گرمی آتی ہے تو بجلی غائب اور سردیاں آتی ہیں گیس غائب، عمران خان کہتا تھا کہ نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) چور ہے تو وقت نے ثابت کیا کہ نوازشریف اور شہباز سے بڑا دیانت دار پاکستان کی تاریخ میں کوئی نہیں آیا۔مریم نواز نے کہاکہ نواز شریف کے احتساب سے پہلے اقامہ نکلا، پھر جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی گواہی نکلی اور پھر مرحوم جج ارشد ملک نکلا اور برطانیہ کی عدالت نے کہہ دیا کہ شہباز شریف پر منی لانڈرنگ ثابت نہیں ہوئی تو پھر میں نیکہا مبارک ہو اللہ نے آپ کو انٹرنیشنل صادق اور امین بنا دیا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کی حکومت کا تاریخ کا سب سے بڑا 122 ارب کا ایل این جی کا ڈھاکا، آج جس وجہ سے مہنگی بجلی مل رہی ہے اور لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے اس کی وجہ عمران خان اور اس کی اے ٹی ایمز نے جان بوجھ کر دیر سے ایل این جی منگائی اور مہنگے داموں خریدی، عوام کی محنت کی کمائی، عمران خان کے دوستوں کے جیبوں میں گئی جس کی وجہ سے آج مہنگی بجلی ملتی ہے۔مریم نواز نے کہا کہ تاریخ کا سب سے بڑا آٹے کا اسکینڈل اور تاریخ کا سب سے بڑا چینی کا اسکینڈل، پشاور ریپڈ بس اسکینڈل، کرپشن کی داستانیں ختم نہیں ہوں گی۔وزیراعظم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مخالفین پر نیب استعمال کیا اور انتقام لیا اور جب اپنا حساب کتاب دینے کی باری آئی تو نیب کا قانون ہی بدل دیا، چاہے نیب کا قانون بدل دو، ان کے چیئرمین کو توسیع دو لیکن خود کو اور اپنے وزرا کو احتساب سے نہیں بچا سکتے ہو۔مریم نواز نے کہاکہ نواز شریف، شہباز شریف، مسلم لیگ (ن) اور تمام قیادت نے اپنی تین تین نسلوں کا حساب دیا ہے، اور جب تمھاری باری آئی تو یہ کہا کہ مجھے جو غیرملکیوں سے تحفے ملے ہیں اس کی تفصیل نہیں بتاسکتا کیونکہ وہ غیر ملکی سربراہ ناراض ہوجاتے ہیں تو جب ان سے تحفے لے کر اپنے جیب میں ڈالتے تھے تو اس وقت کسی کا خیال نہیں آیا۔انہوں نے کہا کہ پینڈورا پیپرز میں تحریک انصاف اور عمران خان کے وزرا اور ان کی پارٹی اول نمبر پر آئی ہے اور قوم کو سننے کو ملا ہے اس میں عمران خان کا نام نہیں ہے، تو کیا کبھی سنا ہے کہ چوروں کا جو سردار ہے وہ ایمان دار ہے، ہر گز نہیں تو پھر کہاں ہے وہ جے آئی ٹی اور کہاں وہ جسٹس جس نے عمران خان کو کہا تھا کہ میرے پاس آؤ میں فیصلہ کرتا ہوں، پھر فیصلہ ہوا اور نواز شریف کو وزیراعظم کی کرسی سے نکال دیا۔مریم نواز نے کہاکہ پینڈورا پیپرز پر ٹی وی میں وہ ہیجان کہاں ہے، وہ 4 ہزار ٹاک شوز کہاں ہیں جو پاناما پیپر پر میڈیا سے کروائے گئے تھے، قوم انتظار کر رہی ہے۔مریم نواز نے کہا کہ مکافات عمل دیکھو کہ کہتا تھا کہ نواز شریف جب وزیراعظم تھا تو غیر ملکیوں کے سامنے چٹ سے پڑھتا ہے لیکن یہ تو خود چٹ سے بھی غلط پڑھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے دور میں خارجہ پالیسی ایسی تھی کہ غیرملکی سرمایہ کاری آرہی تھی اور غیرملکی سربراہاں خود چل کر آتے تھے لیکن عمران خان کی خارجہ پالیسی ایسی ہے کہ مودی فون نہیں تھا اور جوبائیڈن فون نہیں کرتا۔مریم نواز نے کہاکہ امریکی ٹی وی پر بیٹھ کر لوگ کہتے ہیں عمران خان کا اختیار اسلام آباد کے میئر سے زیادہ نہیں ہے، غیرملکیوں کو انٹرویو میں سوال کرتے ہیں جوبائیڈن فون نہیں کرتا تو منہ نیچے کرتا ہے، اس طرح پاکستان کی بے عزتی کروا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ کہتا تھا نواز شریف اداروں سے لڑتا ہے، نواز شریف نے اداروں کو پنجاب پولیس بنادیا ہے لیکن نواز شریف نے جب بھی اسٹینڈ لیا تو عوام کیلئے لیا، جب بھی ٹکراؤ ہوا تو پاکستان کے عوام کی خاطر، ووٹ کی عزت کی خاطر ہوا، وزیراعظم دفتر کی عزت، سویلین بالادستی کی خاطر تھا۔نائب صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ نواز شریف نے صرف اسٹینڈ نہیں لیا بلکہ اس اسٹینڈ کی اتنی بڑی قیمت ادا کی ہے، اس کی پاداش میں نواز شریف نے اپنی تین حکومتیں گنوائیں، جیل برداشت کی، بیٹی اور پوری جماعت کو جیل جاتا دیکھا، جھوٹے مقدمے، جھوٹے فیصلے برداشت کیے اور انتقام کا سامنا کیا۔ انہوںنے کہاکہ عمران خان کی باری آئی تو فوج کے ادارے پر حملہ نہیں کیا بلکہ خود کش حملہ کیا، اپنی باری آئی تو اس ایک شخص کو کرسی پر رکھنے کے لیے، جو شخص اس کی کرسی بچاتا ہے اس کو بچانے کیلئے حملہ کیا، وہ شخص جو آپ کی حکومت چلاتا ہے اور تمہارے مخالفین کو پکڑتا ہے اور مارتا ہے، جو ججوں پر دباؤ ڈالتا ہے، عدلیہ کا چہرہ داغ دار کرتا ہے، وہ شخص جو ججوں کو بلیک میل کرتا ہے، جو صحافیوں کو اغوا کرتا اور صحافیوں کی زبانیں بند کرتا ہے اور ان کو نوکریوں سے نکلواتا ہے، وہ شخص جو تمھارے لیے چینلز بند کراتا ہے، وہ شخص جو تمھارے لیے ڈبے بھی اٹھواتا ہے اور الیکشن چوری بھی کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس ایک شخص کو عہدے پر رکھنے کی خاطر پاکستان کی افواج کو پوری دنیا میں تماشا بنا کر رکھ دیا، اس ایک شخص کی وجہ سے فوج میں ہونے والی تمام تقرریاں ہوا میں لٹک گئیں، ان افسران کا کیا قصور تھا ان کا تقرر بھی ان کے ساتھ ہوا تھا، ان کا بھی تماشا پوری دنیا میں بنا کر رکھ دیا گیا۔مریم نواز نے وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرکے کہا کہ کیا یہ وجہ تھی کہ تم اپنی گرتی ہوئی حکومت بچانا چاہتے تھے یا تمہارا حساب کتاب ٹھیک نہیں چل رہا ہے، تقرریاں جن بھوت کر رہے ہیں۔


متعلقہ خبریں


طالبان حکام دہشت گردوں کی سہولت کاری بند کریں،ترجمان پاک فوج وجود - اتوار 30 نومبر 2025

  پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارت کی بندش کا مسئلہ ہماری سیکیورٹی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ سے جڑا ہے ،خونریزی اور تجارت اکٹھے نہیں چل سکتے ،بھارتی آرمی چیف کا آپریشن سندور کو ٹریلر کہنا خود فریبی ہے خیبرپختونخوا میں سرحد پر موجودہ صورتحال میں آمد و رفت کنٹرول...

طالبان حکام دہشت گردوں کی سہولت کاری بند کریں،ترجمان پاک فوج

عمران خان کی صحت سے متعلق خبروں کا مقصد عوام کا ردعمل جانچنا ہے ،علیمہ خانم وجود - اتوار 30 نومبر 2025

  یہ ٹیسٹ رن کر رہے ہیں، دیکھنے کے لیے کہ لوگوں کا کیا ردعمل آتا ہے ، کیونکہ یہ سوچتے ہیں اگر لوگوں کا ردعمل نہیں آتا، اگر قابل انتظام ردعمل ہے ، تو سچ مچ عمران خان کو کچھ نہ کر دیں عمران خان ایک 8×10 کے سیل میں ہیں، اسی میں ٹوائلٹ بھی ہوتا ہے ،گھر سے کوئی کھانے کی چیز...

عمران خان کی صحت سے متعلق خبروں کا مقصد عوام کا ردعمل جانچنا ہے ،علیمہ خانم

پی ٹی آئی کا اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا اعلان وجود - اتوار 30 نومبر 2025

سہیل آفریدی کی زیر صدارت پارٹی ورکرزاجلاس میں بھرپور احتجاج کا فیصلہ منگل کے دن ہر ضلع، گاؤں ، یونین کونسل سے وکررز کو اڈیالہ جیل پہنچنے کی ہدایت پاکستان تحریک انصاف نے اگلے ہفتے اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا اعلان کر دیا، احتجاج میں آگے لائحہ عمل کا اعلان بھی کیا جائے گا۔وزیر ...

پی ٹی آئی کا اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا اعلان

سندھ کی تقسیم کی افواہوں پر پریشان ہونا چھوڑ دیں،مراد علی شاہ وجود - اتوار 30 نومبر 2025

جب 28ویں ترمیم سامنے آئے گی تو دیکھیں گے، ابھی اس پر کیا ردعمل دیں گورنر کی تقرری کا اختیار وزیراعظم اور صدر کا ہے ، ان کے علاوہ کسی کا کردار نہیں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ کی تقسیم کی افواہوں پر پریشان ہونا چھوڑ دیں۔سیہون میں میڈیا سے گفتگو میں مراد ...

سندھ کی تقسیم کی افواہوں پر پریشان ہونا چھوڑ دیں،مراد علی شاہ

پاکستان میں فلائٹ آپریشن متاثر ہونے کا خدشہ وجود - اتوار 30 نومبر 2025

دنیا بھر میںایئربس اے 320طیاروں میں سافٹ ویئر کے مسئلے سے ہزاروں طیارے گراؤنڈ پی آئی اے کے کسی بھی جہاز میں مذکورہ سافٹ ویئر ورژن لوڈڈ نہیں ، طیارے محفوظ ہیں ،ترجمان ایئر بس A320 طیاروں کے سافٹ ویئر کا مسئلہ سامنے آنے کے بعد خدشہ ہے کہ پاکستان میں بھی فلائٹ آپریشن متاثر ہو سک...

پاکستان میں فلائٹ آپریشن متاثر ہونے کا خدشہ

عمران خان سے ملاقات کی درخواستوں پر سماعت مکمل،فیصلہ محفوظ وجود - اتوار 30 نومبر 2025

37روز سے کسی کی ملاقات نہیں کرائی جارہی، بہن علیمہ خانم کو ملاقات کی اجازت کا حکم دیا جائے سپرنٹنڈنٹ کو حکم دیا جائے کہ سلمان اکرم راجہ،فیصل ملک سے ملاقات کی اجازت دی جائے ، وکیل بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے جیل میں ملاقات سے متعلق درخواستوں پر سماعت مکمل ہونے کے بعد ف...

عمران خان سے ملاقات کی درخواستوں پر سماعت مکمل،فیصلہ محفوظ

تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے وجود - هفته 29 نومبر 2025

پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کر انے وانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ''بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائو '' کے نعرے لگا ئے جبکہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ جمعہ کو سی...

تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور وجود - هفته 29 نومبر 2025

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل فیکٹری ناکے پر جاری دھرنا جمعہ کی صبح ختم کر دیا ۔ دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ علامہ ناصر عباس کے آنے کے بعد ہونے والی مشاورت میں کیا گیا، علامہ ناصر عباس، محمود اچکزئی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، مینا خان، شاہد خٹک اور مشال یوسفزئی مشاو...

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان وجود - هفته 29 نومبر 2025

  واشنگٹن واقعہ عالمی سطح پر دہشت گردی کی واپسی کو ظاہر کرتا ہے عالمی برادری افغان دہشت گردی کو روکنے کے لیے اقدامات کرے ،تین چین باشندوں کی ہلاکت کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے راج ناتھ کا بیان سرحدوں کے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ، بھارتی بیانات خام خیا...

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط وجود - هفته 29 نومبر 2025

4 نومبر سے اہل خانہ کی ملاقات نہیں ہوئی،عمران خان کی صحت پر تشویش ہے، علیمہ خانم عمران خان کی صحت پر تشویش کے حوالے سے علیمہ خان نے صوبائی محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط لکھ دیا۔میڈیارپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ اور آئی...

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

مضامین
کشمیر ٹائمز کے دفتر پر چھاپہ کیا بتاتا ہے! وجود اتوار 30 نومبر 2025
کشمیر ٹائمز کے دفتر پر چھاپہ کیا بتاتا ہے!

مقبوضہ کشمیر سے مسلم تشخص کا خاتمہ وجود اتوار 30 نومبر 2025
مقبوضہ کشمیر سے مسلم تشخص کا خاتمہ

بھارت و افغان گٹھ جوڑاورامن وجود اتوار 30 نومبر 2025
بھارت و افغان گٹھ جوڑاورامن

تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا وجود هفته 29 نومبر 2025
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا

وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں وجود هفته 29 نومبر 2025
وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر