وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

سنجیدہ لوگ، ماحولیات اور بچے

هفته 16 اکتوبر 2021 سنجیدہ لوگ، ماحولیات اور بچے

پال کرگمین
کیا آپ کو وہ دن یاد ہیں جب سمپسن بائولز نے ہمیں قرضوں میں کمی کا ایک پلان دیا تھا؟ ایک عشرہ قبل امریکا میں اشرافیہ پر ایک ہی جنون سوار تھا کہ بجٹ کے خسارے پر قابو پانے کے لیے فوری ایکشن لینے کی ضرورت ہے۔ میں جنہیں ’’بہت ہی سنجیدہ لوگ‘‘ کہتا اور لکھتا ہوں‘ اس مسئلے پر ان کے درمیان اتنا مضبوط اتفاقِ رائے پایا جاتا تھا کہ ٹائمز کے موجودہ لکھاری ایزرا کلین نے لکھا تھا کہ یہ خسارہ اتنا اہم مسئلہ بن چکا ہے جس پر غیر جانبدارانہ رپورٹنگ کے اصولوں کا اطلاق بھی نہیں ہوتا۔ نیوز میڈیا نے کم وبیش اس خسارے میں کمی کے بارے میں زیادہ لکھنے کی کوشش نہیں کی مگر خاص طور پر مستقبل میں میڈی کیئر اور سوشل سکیورٹی کے فوائد میں کٹوتی کے بارے میں پوری وضاحت اور صراحت سے لکھا۔ ان کٹوتیوں کے بارے میں ہر سمجھ دار انسان کا مو?قف تھا کہ یہ قوم کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے لازمی ہیں۔ مگر ایسا نہیں تھا۔
میرا ایک سوال ہے۔ اگر اشرافیہ کو قوم کے مستقبل کی اتنی ہی فکر ہے تو ان میں ماحولیات اور بچوں پر رقم خرچ کرنے سے متعلق ایکشن پر اتفاقِ رائے کیوں نہیں ہے۔ یہ دونوں باتیں صدر جو بائیڈن کے ’’بِلڈ بیک بیٹر‘‘ ایجنڈا کا حصہ ہیں اور یہ کیس فوائد میں کٹوتیوں کے کیس کے مقابلے میں بہت مضبوط کہا جا سکتا ہے؛ تاہم سوشل سکیورٹی میں کٹوتیوں کے مطالبے کو بجا طور پر سیاسی سنجیدگی کے زمرے میں لیا جاتا تھا مگر ماحولیات اور بچوں کے معاملے پر فوری ایکشن کو اتنا سنجیدہ نہیں سمجھا جاتا۔ اگر جو بائیڈن کے روایتی انفراسٹرکچر پر معقول سرمایہ کاری کو محدود کرنے کے لیے کسی چیز کو ذمہ دار سمجھا جا رہا ہے تو ترقی پسند یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ امریکا کے مستقبل پر سرمایہ کاری ایک غیر سنجیدہ عمل ہے۔استحقاق سے متعلق اصلاحات (Entitlement Reform) کے مطالبے کی دلیل ہمیشہ مشکوک رہی ہے۔ یہ بات درست ہے کہ عمر رسیدہ آبادی اور ہیلتھ کیئر پر بڑھتے ہوئے اخراجات ہمیں مجبور کر سکتے ہیں کہ ہم ٹیکس بڑھانے اور فوائد میں کمی کرنے میں سے ایک کا انتخاب کر یں مگر 2010ئ￿ میں ہی یہ ایکشن لینا اتنا ضروری کیوں تھا؟ چند سال مزید انتظار کر لینے سے کیا نقصان ہو جاتا؟ اگر ا?پ نے اس مسئلے پر کبھی غور و خوض کیا تھا تو اشرافیہ کی اکثریت میں یہ اتفاقِ رائے پایا جاتا تھا کہ ہمارا اپنے مستقبل کے فوائد میں کٹوتی کا اصل مقصد یہ ہے کہ ہمیں آنے والے دنوں میں ان فوائد میں مزید کمی نہ کرنی پڑے۔ اس کے برعکس ماحولیات اور بچوں کے معاملے میں تاخیر کی قیمت بہت بھاری اور حقیقی ہو گی۔
جہاں تک ماحولیات کی بات ہے تو دنیا ہر سال گرین ہائوس گیسز کے اخراج کو محدود کرنے میں ناکام نظر ا?تی ہے۔ ہم ہر سال 35 بلین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس خارج کرتے ہیں اور یہ خارج شدہ گیسز ہماری فضا میں ہی موجود رہیں گی اور ہمارے سیارے کو کئی صدیوں تک گرم کرنے کا سبب بنیں گی۔ ہم ماحولیاتی تبدیلیوں کی قیمت پہلے ہی خشک سالی اور شدید موسمیاتی مضمرات کی شکل میں ادا کر چکے ہیں۔ وسیع تر سائنسی اتفاقِ رائے اس بات پر ہے کہ آنے والے عشروں میں ہمیں یہ قیمت بدترین شکل میں چکانا پڑے گی لہٰذا ماحولیات کے بارے میں اپنے اقدامات میں تاخیر کر کے ہم اپنے مستقبل کو سنگین نقصان پہنچا رہے ہیں۔
جہاں تک بچوں کی بات ہے تو امریکا میں بچوں میں پائی جانے والی غربت ایک بڑا اور اہم مسئلہ ہے۔ اس بات کے بھاری ثبوت موجود ہیں کہ بچوں میں غربت سے متعلق پروگراموں پر بھاری ادائیگیاں کی جا رہی ہیں۔ جو بچے بھی ان پروگراموں سے مدد لیتے ہیں وہ صحت مند بالغ نوجوان بن کر سامنے ا?تے ہیں۔ دوسرے بچوں کے مقابلے میں ان کی کما ئی بہت زیادہ ہوتی ہے۔ ہمیں سڑکوں اور پلوں پر سرمایہ کاری کر نے سے اتنا فائدہ حاصل نہیں ہوتا جتنا فائدہ بچوں پر سرمایہ کاری سے حاصل ہوتا ہے؛ چنانچہ ہم اگر ہر سال ٹیکس کریڈٹ میں توسیع دے کر بچوں کی مدد میں اضافہ نہیں کرتے تو ہم دہائیوں کے لیے انسانی وسائل کو ضائع کر تے ہیں؛ تاہم اشرافیہ کی رائے اور سوچ کی جس طرح رپورٹنگ کی جاتی ہے تو ہم کلین انرجی کے منصوبوں کی غیر ذمہ دارانہ مخالفت کر کے اس امر کی نشاندہی کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں کہ ہم کس طرح بچوں کی غربت پر توجہ نہ دے کر بھاری انسانی وسائل کے ضیاع کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ الٹا ہر وقت 3 ٹریلین ڈالرز‘ 3 ٹریلین ڈالرز کی رٹ لگائی جاتی ہے مگر ہم یہ نہیں بتاتے کہ یہ مجوزہ رقم ایک سال میں نہیں‘ 10 سال میں خرچ کرنے کا منصوبہ ہے اور یہ رقم ہماری جی ڈی پی کا محض 1.2 فیصد ہو گی۔ میں اس حوالے سے دہرے معیارکو سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ہمارے ان سنجیدہ حضرات پر یہ جنون کیوں اور کب سے سوار ہو گیا ہے کہ ہمیں گورنمنٹ کے قرضوں کو فوری طور پر محدود کرنے کی ضرورت ہے اور جن امور کا ہمارے مستقبل سے اہم تعلق ہے‘ یہ اگر ان تجاویز کے اتنے مخالف نہیں ہیں تو پھر سیخ پا کس بات پر ہیں؟
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اس سارے مسئلے میں مالی وسائل نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ امریکی چیمبر آف کامرس جیسے کارپوریٹ گروپس استحقاق سے متعلق اصلاحات پر بہت بیزار ہیں بلکہ ’’بِلڈ بیک بیٹر‘‘ کے خلاف زبردست لابنگ کرنے میں مصروف ہیں۔ اس میں یقینا کوئی شک نہیں کہ ڈیمو کریٹک پارٹی کے ارکان کانگرس صدر جو بائیڈن کے ایجنڈے کے حوالے سے جتنے متحرک نظر ا?رہے ہیں یہ دیکھ کر بجا طور پر انہیں مرکزیت پسند سے زیادہ پارٹی کا کارپوریٹ ونگ کہا جا سکتا ہے۔ اب تک ہونے والے پولز کے نتائج کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ جن پالیسیوں کی مخالفت کرنے پر اترے ہوئے ہیں‘ انہیں عوام میں خاصی مقبولیت حاصل ہے۔ اس تناظر میں اگر دیکھا جائے تو وہ سیاسی سنٹر میں دائیں بازو کے زیادہ قریب نظر آتے ہیں مگر یہ کہنا بھی مناسب نہیں ہے کہ اس وقت جو کوئی بھی روایتی فہم و فراست کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کر رہا ہے اس نے کوئی نہ کوئی مالی مفاد حاصل کیا ہوگا۔ یہاں ہمیں سیاست کے میدان کے ساتھ ساتھ میڈیا میں بھی ایک سماجی حرکیات نظر ا? رہی ہیں جس سے ہم پر ان حلقوں کی بھی بہتر انداز میں عکاسی ہو رہی ہے جس میں ہمارے صاحب الرائے حضرات گھومتے پھرتے ہیں اور یہ ان لوگوں کے ساتھ بھی منسلک رہتے ہیں جو عام امریکی شہریوں کی زندگیوں کو مشکل اور سخت تر بنانا چاہتے ہیں جبکہ جو لوگ کارپویشنز اور امیر طبقے پر ٹیکسز کی شرح میں اضافہ کر نا چاہتے ہیں‘ ان کو یہ لوگ غیر حقیقت پسند اور پیچیدہ انسان سمجھتے ہیں۔اس حرکیات کی خواہ کچھ بھی وجہ ہو‘ ان کے خلاف ایک جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے۔ عین اس وقت ہمارے پاس یہ موقع موجود ہے کہ اس ضمن میں ہم کوئی درست فیصلہ اور اقدام کر سکیں۔ اگر اس مرتبہ بھی ہم نے یہ موقع ضائع کر دیا تو اسے ایک المیے کے سوا کیا کہا جا سکتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں


مضامین
کون نہائے گا وجود منگل 07 دسمبر 2021
کون نہائے گا

دوگززمین وجود پیر 06 دسمبر 2021
دوگززمین

سجدوں میں پڑے رہناعبادت نہیں ہوتی! وجود پیر 06 دسمبر 2021
سجدوں میں پڑے رہناعبادت نہیں ہوتی!

چین کی عسکری صلاحیت’’عالمی رونمائی‘‘ کی منتظر ہے! وجود پیر 06 دسمبر 2021
چین کی عسکری صلاحیت’’عالمی رونمائی‘‘ کی منتظر ہے!

دوگززمین وجود اتوار 05 دسمبر 2021
دوگززمین

یورپ کا مخمصہ وجود هفته 04 دسمبر 2021
یورپ کا مخمصہ

اے چاندیہاں نہ نکلاکر وجود جمعه 03 دسمبر 2021
اے چاندیہاں نہ نکلاکر

تاریخ پررحم کھائیں وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
تاریخ پررحم کھائیں

انوکھی یات۔ٹو وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
انوکھی یات۔ٹو

وفاقی محتسب واقعی کام کرتاہے وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
وفاقی محتسب واقعی کام کرتاہے

ڈی سی کی گرفتاری اور سفارشی کلچر وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
ڈی سی کی گرفتاری اور سفارشی کلچر

ماں جیسی ر یاست اور فہیم۔۔۔ وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
ماں جیسی ر یاست اور فہیم۔۔۔

اشتہار

افغانستان
طالبان کے خواتین سے متعلق حکم نامے کا خیرمقدم کرتے ہیں، تھامس ویسٹ وجود اتوار 05 دسمبر 2021
طالبان کے خواتین سے متعلق حکم نامے کا خیرمقدم کرتے ہیں، تھامس ویسٹ

15 سالہ افغان لڑکی برطانوی اخبار کی 2021 کی 25 با اثر خواتین کی فہرست میں شامل وجود هفته 04 دسمبر 2021
15 سالہ افغان لڑکی برطانوی اخبار کی 2021 کی 25 با اثر خواتین کی فہرست میں شامل

طالبان کی خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے،شادی مرضی سے کرانے کی ہدایت وجود جمعه 03 دسمبر 2021
طالبان کی خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے،شادی مرضی سے کرانے کی ہدایت

جھڑپ میں ایران کے 9سرحدی گارڈز ہلاک ہوئے،طالبان وجود جمعه 03 دسمبر 2021
جھڑپ میں ایران کے 9سرحدی گارڈز ہلاک ہوئے،طالبان

افغان طالبان اور ایرانی بارڈر گارڈز کے درمیان شدید جھڑپیں، بھاری اسلحہ کا استعمال وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
افغان طالبان اور ایرانی بارڈر گارڈز کے درمیان شدید جھڑپیں، بھاری اسلحہ کا استعمال

اشتہار

بھارت
بابری مسجد شہادت کے 29 برس بیت گئے وجود منگل 07 دسمبر 2021
بابری مسجد شہادت کے 29 برس بیت گئے

بھارت ، ٹیکس میں کمی، پیٹرول 8روپے فی لیٹرسستا ہوگیا وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
بھارت ، ٹیکس میں کمی، پیٹرول 8روپے فی لیٹرسستا ہوگیا

بھارت میں مشتعل ہجوم کی چرچ میں تھوڑ پھوڑ ،عمارت کو نقصان،ایک شخص زخمی وجود بدھ 01 دسمبر 2021
بھارت میں مشتعل ہجوم کی چرچ میں تھوڑ پھوڑ ،عمارت کو نقصان،ایک شخص زخمی

بھارت میں نفرت جیت گئی، فنکار ہار گیا،مسلم کامیڈین وجود پیر 29 نومبر 2021
بھارت میں نفرت جیت گئی، فنکار ہار گیا،مسلم کامیڈین

بھارت میں ہندوانتہا پسندوں کی نماز جمعہ کے دوران ہلڑ بازی وجود هفته 27 نومبر 2021
بھارت میں ہندوانتہا پسندوں کی نماز جمعہ کے دوران ہلڑ بازی
ادبیات
جرمن امن انعام زمبابوے کی مصنفہ کے نام وجود منگل 26 اکتوبر 2021
جرمن امن انعام زمبابوے کی مصنفہ کے نام

پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام وجود پیر 25 اکتوبر 2021
پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام

اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا وجود بدھ 13 اکتوبر 2021
اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا

بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف وجود جمعه 01 اکتوبر 2021
بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف

اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب وجود پیر 20 ستمبر 2021
اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
شخصیات
جنید جمشید کی پانچویں برسی آج منائی جائے گی وجود منگل 07 دسمبر 2021
جنید جمشید کی پانچویں برسی آج منائی جائے گی

نامور شاعر ، مزاح نگار پطرس بخاری کی 63 ویں برسی آج منائی جائیگی وجود اتوار 05 دسمبر 2021
نامور شاعر ، مزاح نگار پطرس بخاری کی 63 ویں برسی آج منائی جائیگی

سینئر صحافی ضیاءالدین ا نتقال کر گئے وجود پیر 29 نومبر 2021
سینئر صحافی ضیاءالدین ا نتقال کر گئے

پاکستانی سائنسدان مبشررحمانی مسلسل دوسری بار دنیا کے بااثرمحققین میں شامل وجود جمعرات 25 نومبر 2021
پاکستانی سائنسدان مبشررحمانی مسلسل دوسری بار دنیا کے بااثرمحققین میں شامل

سکھ مذہب کے بانی و روحانی پیشواباباگورونانک کے552ویں جنم دن کی تین روزہ تقریبات کا آغاز وجود جمعه 19 نومبر 2021
سکھ مذہب کے بانی و روحانی پیشواباباگورونانک کے552ویں جنم دن کی تین روزہ تقریبات کا آغاز