وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

آسام میں پولیس کی درندگی

جمعه 15 اکتوبر 2021 آسام میں پولیس کی درندگی

(مہمان کالم)

رام پنیانی

حال ہی میں آسام کے ضلع درانگ میں واقع پساجھار میں احتجاجی مظاہرین پر پولیس کی کھلے عام فائرنگ ان تمام افراد کے لیے ایک انتباہ ہے جو انسانیت اور اخوت میں یقین رکھتے ہیں۔ وہاں سے جو تصاویر اور وڈیو فوٹیجز منظر عام پر آئی ہیں‘ خاص طور پر ایک فوٹوگرافر بیجو بنیا کی انسانیت سوز حرکت کی تصاویر اور فوٹیج‘ اس نے پورے بھارت کو خبردار کردیا۔ بیجو بنیا نے جس درندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دم توڑتے معین الحق کے پیٹ پر اچھل کود کی‘ اس نے ہر ذی حس انسان کو رنجیدہ کردیا اور اس خطرناک منظر کو دیکھنے والے یہ سوچ کر سکتے میں ہیں۔ کیا کوئی انسان دوسرے انسان کے ساتھ اس طرح کا وحشیانہ سلوک بھی روا رکھ سکتا ہے؟ 27 سالہ معین الحق تین چھوٹے چھوٹے بچوں کا باپ تھا۔ بوڑھے ماں باپ اور بیوی بچوں کی ساری ذمہ داری اسی کے کاندھوں پر تھی۔ زمین کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے پر سبزی اگاکر اسے فروخت کرکے گھر چلاتا تھا۔ سرکاری اراضی پر ناجائز قبضہ خالی کرانے کی مہم کے دوران آسام پولیس نے معین الحق کے سینے میں گولی ماری۔ پولیس فائرنگ کی زد میں آکر اپنی زندگی سے محروم ہونے والا دوسراشخص12 سالہ شیخ فرید تھا جو موضع دھول پور کا رہنے والا تھا۔ مذکورہ واقعے نے ہمیں بھارتی معاشرے کی سنگدلی دکھا دی ہے اور بتا دیا ہے کہ ہمارا معاشرہ کسی قدر سنگدل ہوگیا ہے اور جہاں انسانیت کی کوئی اہمیت ہی نہیں ہے۔
جب آسام حکومت نے سرکاری اراضیات پر آباد لوگوں کو بے دخل کرنے کی مہم شروع کی تو ابتدا میں کسی نے بھی اس مہم کی مخالفت نہیں کی۔ بے دخلی کے دوسرے مرحلے کے دوران جب انہدامی کارروائی میں مبینہ طور پر غریب مکینوں کی چھوٹی سی اراضی پر نصب کی گئی جھونپڑیوں کو آگ لگانے کا عمل شامل کیا گیا تو مقامی آبادی نے اس کی مزاحمت کی اور پھر تشدد اور فساد پھوٹ پڑا۔ دھول پور گورو کھوتی گائوں میں احتجاج کیا گیا اور جھڑپیں ہوئی جن میں کئی افراد بشمول 9 پولیس والے بھی زخمی ہوئے جبکہ دو مظاہرین کی موت ہوئی۔ اس واقعے کے وڈیو میں معین الحق کو ایک پولیس آفیسر کا پیچھا کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس کے ہاتھ میں ایک لاٹھی تھی۔ وڈیو میں پولیس بھی نہایت نزدیکی فاصلے سے اس پر فائرنگ کرتی دکھائی دے رہی تھی۔ ایک گولی مار کر اسے زخمی کرنے کے بجائے پولیس اہلکاروں نے کئی گولیاں مار کر اس کی جان لینے پر اکتفا کیا۔
حسبِ توقع حکومت نے اس سارے تشدد کے لیے پاپولر فرنٹ آف انڈیا کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔ آسام کی ریاستی حکومت نے مقامی افراد کے ان الزامات کو بھی مسترد کردیا جن میں کہا گیا تھا کہ انہدامی و بے دخلی کی مہم شروع کرنے سے قبل ان لوگوں کو مناسب نوٹس نہیں دیے گئے تھے۔ حکومت اور پولیس کا دعویٰ ہے کہ دم توڑتے معین الحق کے سینے اور پیٹ پر اچھل کود کر کے اپنی درندگی کا مظاہرہ کرنے والے فوٹو گرافر بنیا کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے لیکن یہاں پولیس کا امتیازی و جانبدارانہ رویہ ا?شکار ہوتا ہے اور یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اتنی کثیر تعداد میں موجودگی کے باوجود‘ ہاتھ میں لاٹھی تھامے آگے بڑھنے والے آدمی پر قابو پانے میں وہ ناکام کیسے رہی۔ میں یہ بات اس لیے کہہ رہا ہوں کہ اس مقام پر پولیس کی بھاری نفری موجود تھی۔ کیا پولیس فائرنگ کرنے کے بجائے کوئی اور یا متبادل طریقہ اختیار نہیں کرسکتی تھی؟ جہاں تک شوٹنگ یا فائرنگ کا سوال ہے‘ یہ آخری اقدام ہونا چاہئے لیکن سج پا جھار میں صرف لاٹھی تھامے ایک شخص کے خلاف پولیس نے فائرنگ کا آخری حربہ اختیار کیا اور وہ ایسے کہ اس کے سینے میں گولیاں اتار دیں۔
یہ اندوہناک واقعہ اس لیے پیش ا?یا کیونکہ بی جے پی کے ہیمنت بسوا سرما کی زیرِقیادت ریاستی حکومت نے ایک ایسے علاقے سے لوگوں کو بے دخل کرانے کی ہدایت دی، جہاں وہ کئی عشروں سے زندگی گزار رہے تھے۔ امن و انسانی حقوق کے کارکن ہرش مندر نے حال ہی میں لکھا کہ چیف منسٹر بنتے ہی ہیمنت بسوا سرما نے ان ’’قبضوں‘‘ کو ہٹانے سے متعلق اپنی حکومت کے عہد کا اعادہ کیا تھا۔ انہوں نے اس بات کی وضاحت نہیں کی تھی کہ انہدامی کارروائی کے لیے صرف بنگالی نڑاد مسلمانوں کی کثیر ا?بادی والی بستیوں کا انتخاب ہی کیوں کیا گیا؟
یہ ایسا سوال ہے جو ایک طویل عرصہ تک بھارت کا تعاقب کرتا رہے گا۔اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھی فرقہ پرست بی جے پی نے ہمیشہ بنگالی بولنے والے مسلمانوں کو بیرونی باشندے قرار دیا ہے۔ ان فرقہ پرستوں نے اس علاقے میں ان مسلمانوں کی طویل تاریخ کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ ان کی تاریخ آسام کی وسیع و عریض خالی زمین پر انگریز سامراج کے شجرکاری پروگرام سے شروع ہوتی ہے۔ نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (NRC) کا عمل سپریم کورٹ کی نگرانی میں کیا گیا لیکن ریاستی حکام پر مسلسل فرقہ وارانہ تعصب کے الزامات عائد کیے جاتے رہے۔ این آر سی نے ریاست آسام میں 19.5 لاکھ مکینوں کو ان کے حقِ شہریت سے محروم کردیا اور اپنے دامن میں بسنے والے غریبوں کو ناقابلِ بیان مشکلات سے دوچار کردیا۔ این آر سی کے اختتام کے بعد دعوے کیے گئے کہ ان 19.5 لاکھ مکینوں میں 12 لاکھ تو ہندو ہیں جس کے نتیجہ میں ہی حکومت این آر سی عمل کے بارے میں دوبارہ سوچنے پر مجبور ہوئی۔ حقوق انسانی پر کام کرنے والے کارکنوں کا دعویٰ ہے کہ بنگالی زبان بولنے والی اقلیتوں کو اس مہم میں خصوصی طور پر نشانہ بنایا گیا ہے اور فرقہ پرست انہیں بنگلہ دیشی یا بیرونی باشندے قرار دیتے ہیں۔ یہ ایسا جھوٹ ہے جس پر بھارت کا حکمران طبقہ بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔
جب تعصب کا دور دورہ ہو اور کمزور طبقات بالخصوص اقلیتوں کو ایک منظم سازش کے تحت دشمن کے طور پر پیش کیا جائے تو پھر شیخ فرید کے بارے میں بات کرنے کا کہاں موقع ملے گا۔ 12 سالہ شیخ فرید‘ بتایا جاتا ہے کہ‘ پوسٹ آفس سے اپنا آدھار کارڈ لیے واپس جارہا تھا کہ تشدد کی زد میں آگیا۔ کیا اس چھوٹے سے لڑکے پر قابو پانے کے لیے گولی کی ضرورت تھی؟ پولیس کو جرائم پر قابو پانے کی تربیت دی جاتی ہے‘ بے قصور لوگوں پر حملوں کی نہیں۔ آسام پولیس کو تربیت کی ضرورت ہے۔ کئی پولیس کمیشنوں نے ریاستی پولیس میں اصلاحات کی سفارش کی ہے۔ صرف آسام میں ہی نہیں بلکہ پورے بھارت میں پولیس میں اصلاحات کے لیے سفارشات پیش کی گئیں۔
حکومت عوام کی سرپرست سمجھی جاتی ہیں۔ لوگ جو کئی عشروں سے ایک علاقے میں مقیم ہیں، وہ چھوٹی چھوٹی کاشت کرکے یا چھوٹے موٹے کاروبار کرتے ہوئے اپنی زندگیاں گزارتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو مستقل شکار بنایا گیا ہے۔ پہلے وہ آفاتِ سماوی سے پریشان تھے‘ پھر انہیں سرکاری استحصال کا شکار بنایا گیا اور اب پولیس نے ان پر گولیاں چلادیں۔ درانگ ضلع میں برہم پترا سب سے بڑی ندی ہے۔ اس سے جو کٹائو ہوتا ہے‘ اس سے لوگوں کو بار بار مقامات بدلنا پڑتے ہیں، لیکن اقتدار میں نسلی قوم پرست بیٹھے ہیں ایسے میں غریبوں کے اپنے عدمِ احساسیت پائی جاتی ہے۔ نوجوان فوٹوگرافر کی حرکتیں نئی نہیں ہیں لیکن اس سے یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ نفرتیں کس قدر گہرائی تک سرایت کرچکی ہیں۔ ایک دَم توڑتے انسان پر حملے نے ساری انسانیت کو شرمسار کردیا ہے۔ یہ سب بھارت کے کارپوریٹ میڈیا، سوشل میڈیا اور بدنام زمانہ ا?ئی ٹی سیل کی ناپاک کوششوں کا نتیجہ ہے جنہوں نے جھوٹی خبریں پھیلائے اور معاشرہ کو بانٹنے کا ٹھیکہ لیا ہوا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں


مضامین
کون نہائے گا وجود منگل 07 دسمبر 2021
کون نہائے گا

دوگززمین وجود پیر 06 دسمبر 2021
دوگززمین

سجدوں میں پڑے رہناعبادت نہیں ہوتی! وجود پیر 06 دسمبر 2021
سجدوں میں پڑے رہناعبادت نہیں ہوتی!

چین کی عسکری صلاحیت’’عالمی رونمائی‘‘ کی منتظر ہے! وجود پیر 06 دسمبر 2021
چین کی عسکری صلاحیت’’عالمی رونمائی‘‘ کی منتظر ہے!

دوگززمین وجود اتوار 05 دسمبر 2021
دوگززمین

یورپ کا مخمصہ وجود هفته 04 دسمبر 2021
یورپ کا مخمصہ

اے چاندیہاں نہ نکلاکر وجود جمعه 03 دسمبر 2021
اے چاندیہاں نہ نکلاکر

تاریخ پررحم کھائیں وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
تاریخ پررحم کھائیں

انوکھی یات۔ٹو وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
انوکھی یات۔ٹو

وفاقی محتسب واقعی کام کرتاہے وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
وفاقی محتسب واقعی کام کرتاہے

ڈی سی کی گرفتاری اور سفارشی کلچر وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
ڈی سی کی گرفتاری اور سفارشی کلچر

ماں جیسی ر یاست اور فہیم۔۔۔ وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
ماں جیسی ر یاست اور فہیم۔۔۔

اشتہار

افغانستان
طالبان کے خواتین سے متعلق حکم نامے کا خیرمقدم کرتے ہیں، تھامس ویسٹ وجود اتوار 05 دسمبر 2021
طالبان کے خواتین سے متعلق حکم نامے کا خیرمقدم کرتے ہیں، تھامس ویسٹ

15 سالہ افغان لڑکی برطانوی اخبار کی 2021 کی 25 با اثر خواتین کی فہرست میں شامل وجود هفته 04 دسمبر 2021
15 سالہ افغان لڑکی برطانوی اخبار کی 2021 کی 25 با اثر خواتین کی فہرست میں شامل

طالبان کی خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے،شادی مرضی سے کرانے کی ہدایت وجود جمعه 03 دسمبر 2021
طالبان کی خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے،شادی مرضی سے کرانے کی ہدایت

جھڑپ میں ایران کے 9سرحدی گارڈز ہلاک ہوئے،طالبان وجود جمعه 03 دسمبر 2021
جھڑپ میں ایران کے 9سرحدی گارڈز ہلاک ہوئے،طالبان

افغان طالبان اور ایرانی بارڈر گارڈز کے درمیان شدید جھڑپیں، بھاری اسلحہ کا استعمال وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
افغان طالبان اور ایرانی بارڈر گارڈز کے درمیان شدید جھڑپیں، بھاری اسلحہ کا استعمال

اشتہار

بھارت
بابری مسجد شہادت کے 29 برس بیت گئے وجود منگل 07 دسمبر 2021
بابری مسجد شہادت کے 29 برس بیت گئے

بھارت ، ٹیکس میں کمی، پیٹرول 8روپے فی لیٹرسستا ہوگیا وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
بھارت ، ٹیکس میں کمی، پیٹرول 8روپے فی لیٹرسستا ہوگیا

بھارت میں مشتعل ہجوم کی چرچ میں تھوڑ پھوڑ ،عمارت کو نقصان،ایک شخص زخمی وجود بدھ 01 دسمبر 2021
بھارت میں مشتعل ہجوم کی چرچ میں تھوڑ پھوڑ ،عمارت کو نقصان،ایک شخص زخمی

بھارت میں نفرت جیت گئی، فنکار ہار گیا،مسلم کامیڈین وجود پیر 29 نومبر 2021
بھارت میں نفرت جیت گئی، فنکار ہار گیا،مسلم کامیڈین

بھارت میں ہندوانتہا پسندوں کی نماز جمعہ کے دوران ہلڑ بازی وجود هفته 27 نومبر 2021
بھارت میں ہندوانتہا پسندوں کی نماز جمعہ کے دوران ہلڑ بازی
ادبیات
جرمن امن انعام زمبابوے کی مصنفہ کے نام وجود منگل 26 اکتوبر 2021
جرمن امن انعام زمبابوے کی مصنفہ کے نام

پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام وجود پیر 25 اکتوبر 2021
پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام

اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا وجود بدھ 13 اکتوبر 2021
اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا

بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف وجود جمعه 01 اکتوبر 2021
بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف

اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب وجود پیر 20 ستمبر 2021
اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
شخصیات
جنید جمشید کی پانچویں برسی آج منائی جائے گی وجود منگل 07 دسمبر 2021
جنید جمشید کی پانچویں برسی آج منائی جائے گی

نامور شاعر ، مزاح نگار پطرس بخاری کی 63 ویں برسی آج منائی جائیگی وجود اتوار 05 دسمبر 2021
نامور شاعر ، مزاح نگار پطرس بخاری کی 63 ویں برسی آج منائی جائیگی

سینئر صحافی ضیاءالدین ا نتقال کر گئے وجود پیر 29 نومبر 2021
سینئر صحافی ضیاءالدین ا نتقال کر گئے

پاکستانی سائنسدان مبشررحمانی مسلسل دوسری بار دنیا کے بااثرمحققین میں شامل وجود جمعرات 25 نومبر 2021
پاکستانی سائنسدان مبشررحمانی مسلسل دوسری بار دنیا کے بااثرمحققین میں شامل

سکھ مذہب کے بانی و روحانی پیشواباباگورونانک کے552ویں جنم دن کی تین روزہ تقریبات کا آغاز وجود جمعه 19 نومبر 2021
سکھ مذہب کے بانی و روحانی پیشواباباگورونانک کے552ویں جنم دن کی تین روزہ تقریبات کا آغاز