وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

یہ عوام کے ساتھ کیاہورہاہے

جمعرات 07 اکتوبر 2021 یہ عوام کے ساتھ کیاہورہاہے

کہتے ہیں کہ ایک بادشاہ نے رات کو گیدڑوں کی آوازیں سنی تو صبح وزیروں سے پو چھا کہ رات کو یہ گیدڑ بہت شور کررہے تھے۔کیا وجہ ہے؟۔اس وقت کے وزیر عقل مند ہوتے تھے۔انھوں نے کہا جناب کھانے پینے کی چیزوں کی کمی ہوگئی ہے اس لیے فریاد کررہے ہیں۔تو حاکم وقت نے آرڈر دیا کہ ان کے لیے کھانے پینے کے سامان کابندوبست کیا جائے۔وزیر صاحب نے کچھ مال گھر بھجوادیا اور کچھ رشتہ داروں اور دوستوں میں تقسیم کیا۔اگلی رات کو پھر وہی آوازیں آئیں، تو صبح بادشاہ نے وزیر سے فرمایا کہ کل آپ نے سامان نہیں بھجوایا کیا،تو وزیر نے فوری جواب دیا کہ جی بادشاہ سلامت بھجوایا تو تھا۔اس پر بادشاہ نے فرمایا کہ پھر شور کیوں ؟۔تو وزیر نے کہا جناب سردی کی وجہ سے شور کررہے ہیں ،تو بادشاہ نے آرڈر جاری کیا کہ بستروں کا انتظام کیا جائے جس پر وزیر صاحب کی پھر موجیں لگ گئیں۔حسب عادت کچھ بستر گھر بھیج دیئے اور کچھ رشتہ داروں اور دوستوں میں تقسیم کیے۔جب پھر رات آئی تو بدستورآوازیں آنا شروع ہوگئیں تو بادشاہ کو غصہ آیا اور اسی وقت وزیر کو طلب کیا کہ کیا بستروں کا انتظام نہیں کیا گیاتو وزیر نے کہا کہ جناب وہ سب کچھ ہوگیا ہے تو بادشاہ نے فرمایا کہ پھر یہ شور کیوں ؟تو وزیر نے اب بادشاہ کو تو مطمئن کرنا ہی تھا اور اوکے رپورٹ بھی دینی تھی تو وہ باہر گیا کہ پتہ کرکے آتا ہوں ،جب واپس آئے تو مسکراہٹ لبوں پر سجائے آداب عرض کیا کہ بادشاہ سلامت یہ شور نہیں کررہے بلکہ آپ کا شکریہ ادا کررہے ہیں اور روزانہ کرتے رہیں گے،بادشاہ سلامت یہ سن کے بہت خوش ہوا اور وزیر کو انعام سے بھی نوازا۔
اب یہی حال ہمارے ملک کا بھی ہے ،ملازمین و عوام مہنگائی سے پریشان ہیں ،مگر یہاں رپورٹ سب اوکے دی جارہی ہے اور بادشاہ سلامت خوش ہیں۔ 05 فروری 2021 کواخبار میں افسوس ناک خبرپڑھی کہ لاہور کے علاقہ کاہنہ میں 12 سالہ بچے نے خود کشی کرلی بتایا گیاہے غربت نے 12 سالہ بچے ثقلین نے نئی پینٹ کی خواہش پوری نہ ہونے پر موت کو گلے لگا لیا، لخت جگر کی موت پر والدین غم سے نڈھال ہو گئے۔،بچے کے والد کا کہنا ہے کہ میرے چھ بچے ہیں اور ثقلین بہن بھائیوں میں سب سے بڑا تھا جس کی عمر 12 سال تھی، میں بہت غریب آدمی ہوں،ثقلین نے مجھ سے نئی پینٹ کی خواہش کی تھی، میرے لیے دو وقت کی روٹی پوری کرنا مشکل ہے ، نئی پینٹ کی خواہش کہاں سے پوری کرتا ؟ جس پر دلبرداشتہ ہو کر 12 سالہ ثقلین نے گلے میں پھندا ڈال کر موت کو گلے لگا لیا۔ ماں بچے کی تڑپ دیکھ کر ادھار پر پینٹ لائی لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ ایسے خودکشی کے واقعات تو پورے ملک میں افراط سے ہورہے ہیں عمران خان صاحب نے کہاتھاکہ سب کورلائوں گا،جب بھی یہ جملہ سنتے ہیں تو ذہن میں سوالات اٹھتے ہیں کہ آخر خان صاحب کس سے مخاطب تھے؟ کس کو رلانے کی بات کر رہے تھے؟ لیکن اب جب ملک کے موجودہ حالات کودیکھتے ہیں توخان صاحب کایہ جملہ اپوزیشن اورچوروں لٹیروں کے لیے نہیں تھابلکہ پاکستانی عوام کے لیے تھاجسے خان صاحب نے واقعی رلادیاہے لیکن ہمارے بادشاہ سلامت کے پاس زمینی حقائق دیکھنے یاعوام کی مشکلات پرتوجہ دینے کے لیے وقت ہی نہیں اوریہ بھی نہیں سوچاان کے تین سالہ دورحکومت میں مہنگائی کی ستائی عوام پرکیاگذررہی ہے اس کے برعکس ان کے وزیرباتدبیرسب اوکے کی رپورٹ دے رہے ہیں کہ اب عوام خوشحال ہوگئی ہے روزانہ عمران خان زندہ بادکے نعرے لگاتی ہے اب ان کے مسائل رہ ہی نہیں گئے یہ توصرف اپوزیشن کی کارستانی ہے جومسائل کاشورمچارہی ہے۔
وزیراعظم عمران خان کی حکومت نے پاکستان کے حالات اس نہج پر لا کھڑا کیا ہے کہ لوگ بھوک بدحالی سے خودکشیاں کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں ،12سالہ غریب والدین کے معصوم بچے کی خودکشی کاذمہ دارکون ہے ؟ کیاحاکم وقت سے اس ناحق موت کاحساب نہیں لیا جائے گا؟ناجانے کیوں ہم من حیث القوم آخری ہدوں کوچھورہے ہیں،امریکہ میں جارج فلائیڈ کی موت نے ساری امریکن قوم کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور پورا امریکہ نسل پرستی کے خلاف متحد ہوکے کھڑا ہوگیا اور حکومت کو اپنے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا،لاطینی امریکہ کے ملک چلی میں ایک سٹریٹ سنگرکی ایک پولیس والے کے ہاتھوں ہلاکت پرپورے چلی میں عوام سڑکوں پر آگئے،ہمارے ملک میں کتنے بیگناہوں کوپولیس نے قتل کردیاگیا ساہیوال کا واقعہ کو زیادہ وقت نہیں گذرا ،سانحہ ماڈل ٹائون میں نہتے لوگوںکو گولیاں مارنے والوں کی ویڈیو سب کے سامنے ہیں ان کو شناخت بھی کیا جاسکتاہے ،بلوچستان کے ایک سابق وزیر نے ڈیوٹی پرمامور ٹریفک پولیس کے ایک جوان کو دن دیہاڑے کچل کر مار ڈالا ا کچھ ماہ پہلے کشمالہ طارق کے بیٹے نے چارنوجوانوں کو کچل ڈالا ،ہم یہ نہیں کہیں گے کہ گاڑی ڈرائیوکون کررہاتھا؟ مگر ہمارے حکمران شاید کسی بہت ہی بڑے سانحے کے انتظار میں ہیں ،حکمرانوں کویہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے جب عوام اپنے حقوق اپنے ساتھ ہونے والے ظلم و زیادتیوں اور ناانصافیوں کے خلاف کندھے سے کندھا ملا کر فسطائیت اور رجعت پسند حاکمیت کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی توپھرانہیں روکنے والاکوئی نہیں ہوگااورخان صاحب کوسب اوکے کی رپورٹ دینے والے بھی کہیں نظرنہیں آئیں گے۔
خان صاحب نے فرمایا تھا کہ جب ڈالر مہنگاہوتاہے تو سمجھ لو کہ آپ کا وزیراعظم چور ہے، آج الحمدللہ ان کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد ڈالر کے ریٹ میں کتنا اضافہ ہو چکا ہے لیکن پھر بھی وزیراعظم نہ چور ہیں نہ ڈاکو بلکہ صادق و امین ہیں، وہ فرماتے تھے کہ پیٹرول چالیس سے پینتالیس روپے کا ہونا چاہیے آج خدا کا شکر ہے کہ ان کی حکومت میں پیٹرول 125 روپے میں عوام لینے پرمجبورہے مگر وزیراعظم کو سلام ہے کہ وہ آج بھی خطے کے دیگر ممالک سے کم قیمت میں پیٹرول فراہم کرکے عوام پر احسانِ عظیم کر رہے ہیں۔عمران خان نے حکومت سنبھالی تو چینی 52 روپے کلو تھی آج ان کے دورحکومت میں خیر سے100روپے سے اوپرجاکر خان صاحب کے نوٹس لینے کی لاج رکھ چکی ہے، آٹا تیس روپے کلو ملتا تھا مگر چینی کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے آٹے نے بھی اڑان بھری ،پہلے آٹاہے ہی نایاب اگرکہیں ملتاہے تو70سے 80روپے کلو،خان صاحب کے وزیرکہیں گے کہ ہم توعوام کو960روپے میں 20کلوگرام آٹے کاتھیلافراہم کررہے ہیں،تو جناب جوآٹاٹرالیوں میں لوڈکرکے عوام کو ساراسارادن لائن میں لگواکردیاجارہاہے اتناناقص کوالٹی کاہے جسے جانوربھی نہ کھائیں،پاکستان میں پہلی بارایماندارحکومت آئی ہے جس کے تمام معاملات کی رپورٹس اوکے ہیں۔خان صاحب کے دور حکومت میں بجلی، گیس سمیت اشیا ضروریہ کی قیمتیں بار باربڑھائی جارہی ہیں، خان صاحب نوٹس پر نوٹس لیکر قیمتوں میں مزید اضافے کا سبب بنتے جارہے ہیں اوراب توعوام یہاں تک کہہ اٹھی ہے خداراخان صاحب اب کسی چیزکانوٹس نہ لیں۔
ادویات کی قیمتیں اتنی بڑھ چکی ہیں اب غریب عوام دوائی نہ خریدسکنے کی وجہ سے موت کے منہ میں جارہے ہیں مگرہمارے خان صاحب کوسب اوکے نظرآرہاہے اورمسلسل کہے جارہے کہ گھبرانانہیں۔عمران خان ماشااللہ اپنے فرمودات اور منشور کے مطابق پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہیں انہوں فرمایا تھا کہ کسی کو نہیں چھوڑوں گا، میں سب کو رلاں گااب پاکستانی عوام دیکھ رہی ہے کہ خان صاحب اپنے وعدے کے کتنے پکے نکلے کہ کسی کو بھی نہ چھوڑا دیہاڑی دار مزدور سے لیکر سرکاری ملازم، بیوروکریسی سے لیکر تاجر صنعتکار ہر امیر غریب سارے ملک ساری قوم کوہی صرف اپنے تین سالہ اقتدارمیں خون کے آنسو رلادیا ہے۔خان صاحب کے سنہری دورحکومت میں تعلیم کابیڑاغرق ہوگیاہے مہنگائی کی و جہ سے معصوم طالب علم ا سکول چھوڑ کر اپنااورگھروالوں کے پیٹ کادوزخ بھرنے کے لیے اپنے ننھے ہاتھوں سے مزدوری کرنے پر مجبورہوگئے ہیں ،بچوں کے سکول چھوڑنے کااعتراف وزیرتعلیم صاحب بھی کرچکے ہیں لیکن سوشل میڈیا میں تواتر سے آرہاہے ہمارے بادشاہ سلامت بنی گالہ میں سکون سے کتوں کیساتھ چہل قدمی کرتے دکھائی دیتے ہیں کوئی اس بات کی تردید بھی نہیں کرتا گورنر سندھ اپنے کتوںکے ساتھ سیرکرنے جاتے ہیں یہ عوام کے ساتھ ہوکیا رہاہے ؟ اب پنڈورا پیپرزنے جو پنڈورا کھول کر شرفاء کا کچہ چٹھہ چوراہے میں بے عزت کردیاہے اب کے خلاف کب ایکشن لیا جائے گا؟ بہرحال مخالفین اور ناقدین جو مرضی کہیں، یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ حکومت کی’’ تاریخی‘‘ کامیابیوں کی ایک طویل فہرست ہے، عمران احمد خان نے کنٹینر پر کھڑے ہو کر حکمرانوں کے بارے میں جو کچھ کہاتھا حکومت میں آ کر سب سچ ثابت کردکھایاہے سب کوواقعی رلادیاہے اورخان صاحب کے مشیرسب اوکے کی رپورٹ دیکرانہیں خوش کررہے ہیں اوراگلے پانچ سال کی بھی نوید سنارہے ہیں۔آخر میں ہم صرف یہی عرض کریں گے کہ خان صاحب وزیروں مشیروں کی فوج ظفرموج کے گھیرے باہر نکلیے اورحقیقت کاسامناکیجئے اورعوام کے مسائل کاادراک کیجئے ورنہ نہیں تاریخ کاحصہ بنتے دیرنہیں لگتی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں


مضامین
کون نہائے گا وجود منگل 07 دسمبر 2021
کون نہائے گا

دوگززمین وجود پیر 06 دسمبر 2021
دوگززمین

سجدوں میں پڑے رہناعبادت نہیں ہوتی! وجود پیر 06 دسمبر 2021
سجدوں میں پڑے رہناعبادت نہیں ہوتی!

چین کی عسکری صلاحیت’’عالمی رونمائی‘‘ کی منتظر ہے! وجود پیر 06 دسمبر 2021
چین کی عسکری صلاحیت’’عالمی رونمائی‘‘ کی منتظر ہے!

دوگززمین وجود اتوار 05 دسمبر 2021
دوگززمین

یورپ کا مخمصہ وجود هفته 04 دسمبر 2021
یورپ کا مخمصہ

اے چاندیہاں نہ نکلاکر وجود جمعه 03 دسمبر 2021
اے چاندیہاں نہ نکلاکر

تاریخ پررحم کھائیں وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
تاریخ پررحم کھائیں

انوکھی یات۔ٹو وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
انوکھی یات۔ٹو

وفاقی محتسب واقعی کام کرتاہے وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
وفاقی محتسب واقعی کام کرتاہے

ڈی سی کی گرفتاری اور سفارشی کلچر وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
ڈی سی کی گرفتاری اور سفارشی کلچر

ماں جیسی ر یاست اور فہیم۔۔۔ وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
ماں جیسی ر یاست اور فہیم۔۔۔

اشتہار

افغانستان
طالبان کے خواتین سے متعلق حکم نامے کا خیرمقدم کرتے ہیں، تھامس ویسٹ وجود اتوار 05 دسمبر 2021
طالبان کے خواتین سے متعلق حکم نامے کا خیرمقدم کرتے ہیں، تھامس ویسٹ

15 سالہ افغان لڑکی برطانوی اخبار کی 2021 کی 25 با اثر خواتین کی فہرست میں شامل وجود هفته 04 دسمبر 2021
15 سالہ افغان لڑکی برطانوی اخبار کی 2021 کی 25 با اثر خواتین کی فہرست میں شامل

طالبان کی خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے،شادی مرضی سے کرانے کی ہدایت وجود جمعه 03 دسمبر 2021
طالبان کی خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے،شادی مرضی سے کرانے کی ہدایت

جھڑپ میں ایران کے 9سرحدی گارڈز ہلاک ہوئے،طالبان وجود جمعه 03 دسمبر 2021
جھڑپ میں ایران کے 9سرحدی گارڈز ہلاک ہوئے،طالبان

افغان طالبان اور ایرانی بارڈر گارڈز کے درمیان شدید جھڑپیں، بھاری اسلحہ کا استعمال وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
افغان طالبان اور ایرانی بارڈر گارڈز کے درمیان شدید جھڑپیں، بھاری اسلحہ کا استعمال

اشتہار

بھارت
بابری مسجد شہادت کے 29 برس بیت گئے وجود منگل 07 دسمبر 2021
بابری مسجد شہادت کے 29 برس بیت گئے

بھارت ، ٹیکس میں کمی، پیٹرول 8روپے فی لیٹرسستا ہوگیا وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
بھارت ، ٹیکس میں کمی، پیٹرول 8روپے فی لیٹرسستا ہوگیا

بھارت میں مشتعل ہجوم کی چرچ میں تھوڑ پھوڑ ،عمارت کو نقصان،ایک شخص زخمی وجود بدھ 01 دسمبر 2021
بھارت میں مشتعل ہجوم کی چرچ میں تھوڑ پھوڑ ،عمارت کو نقصان،ایک شخص زخمی

بھارت میں نفرت جیت گئی، فنکار ہار گیا،مسلم کامیڈین وجود پیر 29 نومبر 2021
بھارت میں نفرت جیت گئی، فنکار ہار گیا،مسلم کامیڈین

بھارت میں ہندوانتہا پسندوں کی نماز جمعہ کے دوران ہلڑ بازی وجود هفته 27 نومبر 2021
بھارت میں ہندوانتہا پسندوں کی نماز جمعہ کے دوران ہلڑ بازی
ادبیات
جرمن امن انعام زمبابوے کی مصنفہ کے نام وجود منگل 26 اکتوبر 2021
جرمن امن انعام زمبابوے کی مصنفہ کے نام

پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام وجود پیر 25 اکتوبر 2021
پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام

اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا وجود بدھ 13 اکتوبر 2021
اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا

بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف وجود جمعه 01 اکتوبر 2021
بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف

اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب وجود پیر 20 ستمبر 2021
اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
شخصیات
جنید جمشید کی پانچویں برسی آج منائی جائے گی وجود منگل 07 دسمبر 2021
جنید جمشید کی پانچویں برسی آج منائی جائے گی

نامور شاعر ، مزاح نگار پطرس بخاری کی 63 ویں برسی آج منائی جائیگی وجود اتوار 05 دسمبر 2021
نامور شاعر ، مزاح نگار پطرس بخاری کی 63 ویں برسی آج منائی جائیگی

سینئر صحافی ضیاءالدین ا نتقال کر گئے وجود پیر 29 نومبر 2021
سینئر صحافی ضیاءالدین ا نتقال کر گئے

پاکستانی سائنسدان مبشررحمانی مسلسل دوسری بار دنیا کے بااثرمحققین میں شامل وجود جمعرات 25 نومبر 2021
پاکستانی سائنسدان مبشررحمانی مسلسل دوسری بار دنیا کے بااثرمحققین میں شامل

سکھ مذہب کے بانی و روحانی پیشواباباگورونانک کے552ویں جنم دن کی تین روزہ تقریبات کا آغاز وجود جمعه 19 نومبر 2021
سکھ مذہب کے بانی و روحانی پیشواباباگورونانک کے552ویں جنم دن کی تین روزہ تقریبات کا آغاز