وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

جرمن الیکشن کے یورپ پر اثرات

منگل 05 اکتوبر 2021 جرمن الیکشن کے یورپ پر اثرات

 

مارک سینٹورا

اتوار کے روز جرمنی میں ہونے والے قومی الیکشن کا مرحلہ مکمل ہوگیا‘ جس کے نتیجے میں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی اور اس کے امیدوار اولف شلز فتح یا ب قرار پائے ہیں۔یہ ایک سنٹر لیفٹ سیاسی پارٹی کی شاندار واپسی ہے جو یورپ کی اپنی دیگرہم خیال سیاسی جماعتوں کی طرح گزشتہ کئی عشروں سے بیلٹ باکس کے نتائج پربار بار شکست کھارہی تھی‘ لہٰذ ااس الیکشن کے نتائج کو دیکھتے ہوئے فوری طور ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا مسٹر اولف شلز کی انتخابی فتح بڑے پیمانے پر سنٹر لیفٹ کی ان دوسری سیاسی پارٹیوں کے احیا کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے جو کبھی براعظم یورپ کی سیاست کا مرکز و محور ہوا کرتی تھیں؟
جرمنی میں اولف شلز اب گرینز اور فری ڈیموکریٹس کے ساتھ مذاکرات کی تیاری کرر ہے ہیں تاکہ بائیں بازو کی طرف جھکائو رکھنے والی مخلوط حکومت بنائی جا سکے۔ان کی مرکز مائل الیکشن مہم کے بعدجرمنی میں بائیں بازو کی طر ف جھکائو رکھنے والی حکومت کا قائم ہوناایک کھلا سوال ہے اور اس وقت کسی بات کی کوئی گارنٹی نہیںدی جا سکتی۔اولف شلز کے قدامت پسندحریف جنہوں نے صرف 1.6فیصدووٹوں کے مارجن سے شکست کھائی ہے ابھی تک ہارماننے کے لیے تیار نظر نہیں آرہے اور وہ بھی ایک مخلوط حکومت قائم کرنے کی سرتوڑ کوشش کر رہے ہیں۔اگرچہ اتوار کو آنے والے الیکشن کے نتائج نے اولف شلز کے سیاسی حریفوں کومکمل طور پر پچھاڑ دیا ہے مگر سنٹر لیفٹ کا منظر نامہ پھر بھی ان کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ یورپ کے دیگر ممالک میں سنٹر لیفٹ کی کئی پارٹیوں کومحض اس وجہ سے اپنے مقبول ووٹ بینک سے محروم ہوناپڑا تھاکیونکہ ان کی زیادہ تر سیاسی حمایت صنعتی کارکنوں اور ورکرز یونینز میں پائی جاتی تھی اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ سیاسی بلاکس چھوٹی چھوٹی جماعتوں میں بٹ گئے‘ مگر حالیہ برسوں میں دائیں بازو میں بھی ان کی مقبولیت میں اضافے کے بعد ایسے اشارے ملے ہیں کہ جن کی بدولت شایدان کی سیاست ایک مرتبہ پھر سے زندہ ہو جائے۔یہاں ہم ان عوامل کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں کہ کیا یورپ میں ایک مرتبہ پھر سنٹر لیفٹ کی پارٹیوں کا احیا ممکن ہے یا نہیں؟
جرمنی میں ہونے والے حالیہ الیکشن نے اس رجحان کے تسلسل کو بڑی حد تک ریلیف فراہم کیا ہے جو پہلے سے پورے بر اعظم یورپ میں نظر آرہا تھا یعنی سیاسی حمایت میں تیزی اور اتار چڑھائو۔صرف تین عشرے قبل جرمنی کی تین بڑی سیاسی جماعتوں نے قومی الیکشن میں 80فیصدسے زائد ووٹ حاصل کیے تھے جبکہ اتوار کو ہونے والے الیکشن میں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی نے محض 25.7فیصدووٹ لیے ہیں جبکہ کرسچین ڈیموکریٹس نے اپنی بیویرین اتحادی جماعت کرسچین سوشل یونین کے ساتھ مل کر صرف24.1فیصدووٹ حاصل کیے ہیںجس کے بعد ان کی واکس پارٹی کے طو رپرشہرت کے بارے میں سوالات اْٹھ گئے ہیںکہ کیا یہ سوسائٹی کے تمام عناصر کی نمائندگی کرتی ہیں یا نہیں۔جو سیاسی جماعتیں کبھی اکثریتی پارٹیا ں سمجھی جاتی تھیں اب ان کے ووٹ کہیں کم ہو گئے ہیں اور ایسا لگ رہا ہے کہ کم ہونے والے یہ سارے ووٹ ان سیاسی جماعتوں کو پڑ گئے ہیں جنہیں کبھی برائے نام سیاسی جماعتیں سمجھا جا تا تھا۔وہ خواہ گرینز پارٹی ہو‘ جو ماحولیاتی آلودگی کے مسئلے کو اٹھا کر سیاسی طو رپر دوبارہ زندہ ہو گئی ہے یاآزادی پسند جماعت فری ڈیموکریٹک پارٹی۔اگر جرمنی کے ووٹر کا ووٹ دائیں اور بائیں بازو کے روایتی نظریے کی بنیاد پر ہی تقسیم ہو نا تھا تو اس ووٹ کو تقریباًمساوی بنیاد پر تقسیم ہونا چاہئے تھااور ہر فریق کو 45فیصدووٹ پڑنے چاہئیںتھے۔
جب دنیا بھر میں کورونا کا مہلک وائرس پھیلناشروع ہوا تو اس کے ابتدائی دنوں میں ہی 2019ئ￿ میں امریکہ کے معروف پیو ریسرچ سنٹر نے یورپی یونین کے 14ممالک میں ایک سروے منعقد کرایا تھا جس کے نتائج سے یہ معلوم ہوا تھاکہ سروے میں حصہ لینے والے کئی ووٹرز نے سیاسی جماعتوں کے بارے میں اپنے مثبت خیالا ت کا اظہار کیا۔ان ممالک کی پچاس فیصدسے زائد ا?بادی میں سے لوگوں نے اس سروے میں حصہ لیا تھا۔ اس رائے شماری میں شامل ہونے والے60رضا کاروں میں سے صرف چھ نے سیاسی جماعتوں کے حق میں اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا۔پورے براعظم یورپ کی مقبول جماعتوںکو بھی اپنے بارے میں بڑے پیمانے پر منفی ریویوز ہی برداشت کرنا پڑے تھے۔تاہم ابھی یہ مشاہدہ کرنا باقی ہے کہ کیا جرمنی کے سوشل ڈیموکریٹس اتنی سمجھ بوجھ رکھتے ہیں کہ وہ اپنے ہاں مناسب اور معقول انداز میںایک مخلوط حکومت چلا سکیں؟ بفرض محال وہ مخلوط حکومت چلانے کا تجربہ کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ نسبتاً ایک چھوٹے سے کلب میں شمار کیے جائیںگے۔
اس وقت یورپی یونین بلاک 27چھوٹے بڑے ممالک پر مشتمل ہے ‘مگر اس وقت ان میں سے صرف پرتگال ‘سپین ‘ڈنمارک‘ سویڈن ‘فن لینڈ اور مالٹا ہی ایسے ممالک ہیں جہاں نمایا ں طور پر سنٹر لیفٹ نظریات رکھنے والی حکومتیں قائم ہیں۔ماضی میں مخلوط ووٹوں کی بدولت 1945 کے بعد پورے براعظم یورپ میں سنٹر لیفٹ کو اقتدار میں لانے والوں میں صنعتی کارکن‘ سرکاری شعبے میں کام کرنے والے ملازمین اور شہروں میں رہنے والے پروفیشنلز شامل ہوا کرتے تھے‘مگر یہ گروہ‘ جن کے پس پردہ بنیادی طو رپر طبقاتی تقسیم اور معاشی ضروریات کارفرماہوا کرتی تھیں اب ٹکڑوں میں بٹ گئے ہیں۔
اگر ہم آج سے دو عشرے پہلے کے سیاسی منظر نامے پر نظر ڈالیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کی سیاسی جماعت لیبر پارٹی نے برطانیہ میں ری الیکشن کرانے کا فیصلہ کیا تھا ‘جس طرح امریکی صدر بل کلنٹن نے امریکہ میں سنٹر لیفٹ کی پالیسیوں کو فروغ دینے کی کوشش کی تھی ایسی ہی پالیسیوں کو پروموٹ کرنے کے لیے ایک کوشش ٹونی بلیئر نے بھی برطانیہ میں کی تھی۔اب صورتحال کچھ یوں ہے کہ لیبر پارٹی گزشتہ ایک دہائی سے اقتدار کے محلوں سے باہر ہے اور حال ہی میں ہونے والے کئی الیکشنز میںلیبر پارٹی کو برطانیہ میں اس ورکنگ کلاس کے ووٹ بینک سے ہاتھ دھونا پڑا ہے جہاں کبھی اس پارٹی کی مقبولیت اپنے عروج پر نظر آتی تھی
فرانس میں سینٹر لیفٹ کی سوشلسٹ پارٹی صدر فرانکو ہولیندے کی غیر مقبولیت اور الیکشن میں ان کی تباہ کن کارکردگی کی وجہ سے دوبارہ کبھی اپنے پائوں پر کھڑی نہ ہو سکی۔ اس وقت سے فرانس کا جھکائو سوشلسٹس کی حمایت اور بائیں بازو کی جماعتوں کے کمزور ہونے کی وجہ سے بڑی تیزی سے دائیں بازو کی طرف ہو گیا ہے۔ فرانس میں آئندہ اپریل میں ہونے والے الیکشن کے پیش نظر صدر ایمانوئل میکرون‘ جو 2017ء سے ایک سینٹرسٹ کے طور پر حکومت چلا رہے ہیں‘ اب ووٹرز کو دائیں بازو کی طرف مائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اب تک ہونے والے سرویز سے پتا چلتا ہے کہ وہ اور انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے میرن لی پین ایسے دو پسندیدہ امیدوار ہیں جو پہلے رائونڈ کے بعد رن آف کے مرحلے میں ایک دوسرے کا مقابلہ کریں گے۔ پیرس کی میئر اور سوشلسٹ صدارتی امیدوار این ہڈالگو ستمبر میں اپنے امیدوار ہونے کا اعلان کرنے کے بعد سے مسلسل اپنی حمایت کھو رہی ہیں۔ 23 ستمبر کو جاری ہونے والے ایک سروے کے نتائج کے مطابق صرف 4 فیصد ووٹرز کا کہنا ہے کہ وہ اگلے اپریل میں ہونے والے پہلے انتخابی رائونڈ میں ان کی حمایت کریں گے۔
جنگ عظیم دوم کے بعد جونہی مارشل پلان کے تحت یورپ میں برے پیمانے پر سرمایہ کاری کا آغاز ہوا اور اس کے نتیجے میں صنعتوں کا عروج آیا تو عوام کی ایک کثیر تعداد کمیونزم کی مخالفت کرنے کے باوجود اس تشویش میں مبتلا تھی کہ سینٹر لیفٹ کی جماعتوں کی چھتری تلے سرمایہ کارانہ نظام یورپ میں عدم استحکام اور عدم مساوات کا موجب بنے گا۔ انہوں نے طاقتور ٹریڈ یونینز اور ان فلاحی ریاستوں کی حمایت کی جن میں تعلیم اور صحت عامہ پر فراخدلانہ اخراجات کیے جاتے ہیں۔ دیگر ممالک کی طرح جرمنی میں بھی کچھ عرصہ پہلے سینٹر لیفٹ اور سینٹر رائٹ میں پائی جانے والی لائن مفقود ہو رہی تھی لیکن اگر سینٹر لیفٹ اور سینٹر رائٹ کے ووٹرز میں کسی اہم مسئلے پر کوئی اختلاف پیدا ہو تو یورپی یونین کو ان ممالک کے گورننس کے امور میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ بہت سی انتہائی دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں نے برسلز کو اپنا ریگولیٹری آقا تسلیم کر لیا ہے اور وہ یورپی یونین کے رکن ممالک کے طور پر اپنی خودمختاری سے ہاتھ دھو بیٹھی ہیں۔ اس کے برعکس جرمن چانسلراینجلا مرکل جیسے قدامت پسند رہنما یورپی یونین کے زبردست حامی ہیں؛ تاہم وہ اس بلاک کے اندر رہتے ہوئے مالیاتی تعلقات کو مضبوط کرنے کے معاملے میں ایک محتاط رویے کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ دوسری طرف بہت سے سوشل ڈیمو کریٹس یہ استدلال پیش کرتے ہیں کہ ایک گہرے اور مضبوط اتحاد اور انضمام کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہمیں یورپی یونین کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔ یورپی اتحاد اور اشتراک کی اصل آزمائش کورونا وائرس کے مہلک حملے کے دوران ہوئی اور اس عمل سے شاید سوشل ڈیمو کریٹس کی براہِ راست مدد بھی ہوئی ہو کیونکہ جرمنی نے کووڈ کے دوران ہونے والے ہنگامی اخراجات سے نبرد آزما ہونے کے لیے یورپی یونین کے مشترکہ قرضوں میں حصہ ڈالنے سے اپنی روایتی ناپسندیدگی کا اظہار نہیں کیا۔
اصل منصوبہ یہ تھا کہ اولف شلز‘ جو اس وقت جرمنی کے وزیر خزانہ ہیں‘ اپنے فرانسیسی ہم منصب کے ساتھ یہ معاملہ اٹھائیں گے۔ اینجلا مرکل‘ جنہوں نے اس ڈیل کی منظوری دی تھی‘ متعدد بار اس بات کی نشاندہی کر چکی ہیں کہ یہ ڈیل صرف ایک مرتبہ کے لیے ہی تھی۔ اولف شلز‘ جنہوں نے یہ ڈیل تیار کرنے میں مرکز ی کردار ادا کیا تھا‘ نے کھل کر خود کو ان جرمنوں کے پلڑے میں شامل رکھا جو اپنے یورپی ہمسایہ ممالک کے ساتھ ہمیشہ سخت اور محتاط تعلقات رکھنے کے حق میں ہیں۔ یورپی یونین کے سیاسی پس منظر میں مزید انتشار کا باعث بننے والا مشترکہ عنصر یہ ہے کہ ووٹرز کے نزدیک روایتی پارٹیوں اور ان کی جانب سے اٹھائے گئے ایشوز کے بجائے یہاں سیاسی شخصیات زیادہ اہمیت کی حامل سمجھی جاتی ہیں۔ یورپ کے سیاسی ا سٹیج پر ہمیشہ بھاری بھر کم سیاسی شخصیا ت موجود رہی ہیں۔ برطانیہ کی سابق وزیراعظم مارگریٹ تھیچر ہوں یا فرانس کے سابق صدر فرانکو متراں‘ جرمنی کے سابق چانسلر ہیلمٹ کول ہوں یا ولی برانٹ جیسے لیڈر۔ یہ تمام وہ شخصیات ہیں جنہوں نے ذاتی مفادات کے بجائے ہمیشہ اپنے نظریاتی رہنما اصولوں کی پاسداری کو ہی ترجیح دی تھی۔
یہاں ہمیں ایک اور امر پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ یورپی یونین میں شامل ممالک کے ووٹرز کو اس وقت جن اہم اور سنگین ترین مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے‘ ان ممالک کی معروف سیاسی جماعتیں ان روز مرہ مسائل کی طرف توجہ دینے میں بری طرح ناکام رہی ہیں‘ جس کے نتیجے میں سیاسی رہنمائوں کی ایک ایسی نئی نسل سامنے آئی ہے جو اپنی پہلی نسل کے برخلاف خود کوہمیشہ روایات کی پاسداری کے جھمیلوں سے دور رکھنا چاہتی ہے۔ وہ فرانس کے موجودہ صدر عمانویل میکرون ہوں یا برطانیہ کے موجودہ وزیراعظم بورس جانسن‘ دونوں اسی نئی نسل کے سیاسی نظریات کے ترجمان اور عکاس سمجھے جاتے ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ ان کی یہ شہرت بھی ہے کہ دونوں موقع پرستی کا کوئی چانس ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ یہ دونوں رہنما روایات کی تضحیک کرنے کا کوئی موقع نہیں گنواتے اور دونوں خود کو ایک عہد ساز طلسماتی شخصیت کے طور پر پیش کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ وہ ایسا صرف اپنے عوا م کی توجہ اور سیاسی حمایت حاصل کرنے کی نیت سے کرتے ہیں۔ اب تک دونوں اپنے اس مقصد میں کامیاب نظر آتے ہیں اور عوام نے بھی بھرپور سیاسی حمایت کی صورت میں ان کا ساتھ دیا ہے۔
جہاں تک جرمنی کی موجودہ چانسلر اینجلا مرکل کی شخصیت کا تعلق ہے‘ وہ اس نئی نسل کے بالکل برعکس ایک مختلف سیاسی رہنما کی شہرت رکھتی ہیں۔ وہ سیاست کے میدان میں تمام تر نظریاتی اختلافات سے ماورا استحکام اور استقامت کا ایک پہاڑ نظر آتی تھیں مگر ان کی سیاسی جماعت کی طرف سے چانسلر کے امیدوار ارمن لاشیٹ اپنے ووٹر ز کواس بات پر قائل کرنے میں ناکام رہے کہ وہ اینجلا مرکل کے صحیح جانشین اور ترجمان ثابت ہوں گے۔ ان کی اس ناکامی نے ہی اولف شلز کے لیے کامیابی کے دروازے کھولے ہیں اور وہ جرمنی کے عوام پر یہ ثابت کرنے میں کامیاب رہے کہ اگرچہ وہ ایک دوسری سیاسی جماعت میں شامل ہیں مگر اینجلا مرکل کے صحیح اور حقیقی متبادل وہی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں


مضامین
دوگززمین وجود پیر 06 دسمبر 2021
دوگززمین

سجدوں میں پڑے رہناعبادت نہیں ہوتی! وجود پیر 06 دسمبر 2021
سجدوں میں پڑے رہناعبادت نہیں ہوتی!

چین کی عسکری صلاحیت’’عالمی رونمائی‘‘ کی منتظر ہے! وجود پیر 06 دسمبر 2021
چین کی عسکری صلاحیت’’عالمی رونمائی‘‘ کی منتظر ہے!

دوگززمین وجود اتوار 05 دسمبر 2021
دوگززمین

یورپ کا مخمصہ وجود هفته 04 دسمبر 2021
یورپ کا مخمصہ

اے چاندیہاں نہ نکلاکر وجود جمعه 03 دسمبر 2021
اے چاندیہاں نہ نکلاکر

تاریخ پررحم کھائیں وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
تاریخ پررحم کھائیں

انوکھی یات۔ٹو وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
انوکھی یات۔ٹو

وفاقی محتسب واقعی کام کرتاہے وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
وفاقی محتسب واقعی کام کرتاہے

ڈی سی کی گرفتاری اور سفارشی کلچر وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
ڈی سی کی گرفتاری اور سفارشی کلچر

ماں جیسی ر یاست اور فہیم۔۔۔ وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
ماں جیسی ر یاست اور فہیم۔۔۔

انسانیت کی معراج وجود اتوار 28 نومبر 2021
انسانیت کی معراج

اشتہار

افغانستان
طالبان کے خواتین سے متعلق حکم نامے کا خیرمقدم کرتے ہیں، تھامس ویسٹ وجود اتوار 05 دسمبر 2021
طالبان کے خواتین سے متعلق حکم نامے کا خیرمقدم کرتے ہیں، تھامس ویسٹ

15 سالہ افغان لڑکی برطانوی اخبار کی 2021 کی 25 با اثر خواتین کی فہرست میں شامل وجود هفته 04 دسمبر 2021
15 سالہ افغان لڑکی برطانوی اخبار کی 2021 کی 25 با اثر خواتین کی فہرست میں شامل

طالبان کی خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے،شادی مرضی سے کرانے کی ہدایت وجود جمعه 03 دسمبر 2021
طالبان کی خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے،شادی مرضی سے کرانے کی ہدایت

جھڑپ میں ایران کے 9سرحدی گارڈز ہلاک ہوئے،طالبان وجود جمعه 03 دسمبر 2021
جھڑپ میں ایران کے 9سرحدی گارڈز ہلاک ہوئے،طالبان

افغان طالبان اور ایرانی بارڈر گارڈز کے درمیان شدید جھڑپیں، بھاری اسلحہ کا استعمال وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
افغان طالبان اور ایرانی بارڈر گارڈز کے درمیان شدید جھڑپیں، بھاری اسلحہ کا استعمال

اشتہار

بھارت
بھارت ، ٹیکس میں کمی، پیٹرول 8روپے فی لیٹرسستا ہوگیا وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
بھارت ، ٹیکس میں کمی، پیٹرول 8روپے فی لیٹرسستا ہوگیا

بھارت میں مشتعل ہجوم کی چرچ میں تھوڑ پھوڑ ،عمارت کو نقصان،ایک شخص زخمی وجود بدھ 01 دسمبر 2021
بھارت میں مشتعل ہجوم کی چرچ میں تھوڑ پھوڑ ،عمارت کو نقصان،ایک شخص زخمی

بھارت میں نفرت جیت گئی، فنکار ہار گیا،مسلم کامیڈین وجود پیر 29 نومبر 2021
بھارت میں نفرت جیت گئی، فنکار ہار گیا،مسلم کامیڈین

بھارت میں ہندوانتہا پسندوں کی نماز جمعہ کے دوران ہلڑ بازی وجود هفته 27 نومبر 2021
بھارت میں ہندوانتہا پسندوں کی نماز جمعہ کے دوران ہلڑ بازی

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے بھارتی دعوت نامہ مسترد کر دیا وجود جمعرات 25 نومبر 2021
چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے بھارتی دعوت نامہ مسترد کر دیا
ادبیات
جرمن امن انعام زمبابوے کی مصنفہ کے نام وجود منگل 26 اکتوبر 2021
جرمن امن انعام زمبابوے کی مصنفہ کے نام

پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام وجود پیر 25 اکتوبر 2021
پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام

اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا وجود بدھ 13 اکتوبر 2021
اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا

بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف وجود جمعه 01 اکتوبر 2021
بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف

اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب وجود پیر 20 ستمبر 2021
اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
شخصیات
نامور شاعر ، مزاح نگار پطرس بخاری کی 63 ویں برسی آج منائی جائیگی وجود اتوار 05 دسمبر 2021
نامور شاعر ، مزاح نگار پطرس بخاری کی 63 ویں برسی آج منائی جائیگی

سینئر صحافی ضیاءالدین ا نتقال کر گئے وجود پیر 29 نومبر 2021
سینئر صحافی ضیاءالدین ا نتقال کر گئے

پاکستانی سائنسدان مبشررحمانی مسلسل دوسری بار دنیا کے بااثرمحققین میں شامل وجود جمعرات 25 نومبر 2021
پاکستانی سائنسدان مبشررحمانی مسلسل دوسری بار دنیا کے بااثرمحققین میں شامل

سکھ مذہب کے بانی و روحانی پیشواباباگورونانک کے552ویں جنم دن کی تین روزہ تقریبات کا آغاز وجود جمعه 19 نومبر 2021
سکھ مذہب کے بانی و روحانی پیشواباباگورونانک کے552ویں جنم دن کی تین روزہ تقریبات کا آغاز

صحافتی بہادری کا ایوارڈ، چینی اور فلسطینی خواتین صحافیوں کے نام وجود جمعه 19 نومبر 2021
صحافتی بہادری کا ایوارڈ، چینی اور فلسطینی خواتین صحافیوں کے نام