وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

جنت کا محل

پیر 04 اکتوبر 2021 جنت کا محل

آج کا موسم شاید زیادہ ہی خوشگوار تھا صبح کے وقت باد ِ نسیم اتنی لطیف اور سبک رفتار تھی کہ وہ چہل قدمی کرتے ہوئے اپنے محل سے خاصا دور آن نکلے تھے
’’ چلو اب واپس چلتے ہیں خلیفہ ہارون الرشید نے اپنی اہلیہ زبیدہ سے کہا اس نے ایک دل آویزمسکراہٹ کے ساتھ سراثبات میں ہلایااور واپسی کے لئے قدم اٹھایا ہی تھا کہ اسے کچھ دور کوئی ریت پر گھروندے بناتا دکھائی دیا، اشتیاق سے وہ مڑی اور تیزی سے اس کی جانب بڑھنے لگی ’’تم کہاں جارہی ہوخلیفہ ہارون الرشید نے آہستگی سے بڑی محبت سے پکارا ملکہ زبیدہ نے خلیفہ کی آواز سنی نہیں یا پھر سنی ان سنی کرتی گھروندے بنانے والے کے پاس جا پہچی
’’ارے یہ آپ ہیں، ملکہ نے ریت پر بیٹھے بہلول ؒدانا کو دیکھ کر حیرت سے پوچھایہ آپ کیا کررہے ہیں؟
’’میں جنت کے محل بناکر فروخت کررہاہوں بہلولؒ دانانے سر اٹھاکر ملکہ کو دیکھا پھر ایک شان ِ بے نیازی سے پوچھا آپ خریدیں گی؟
’’ ضرور خریدوںگی ملکہ نے انتہائی محبت سے جواب دیا جنت کا محل کتنے میں بیچو گے؟ ’’میں تو100 سونے کے سکے لوں گا
بہلولؒ دانا نے بڑی سنجیدگی سے کہا ’’ یہ لو ملکہ نے اپنی عباء سے سونے کے سکے نکالے اور بہلول کی طرف بڑھا دیے اتنے میں خلیفہ ہارون الرشید بھی ان کے پاس پہنچ گئے بہلولؒ نے کہا جناب میں تو جنت کے محل بناکر فروخت کررہاہوں آپ بھی ایک خرید لیں خلیفہ نے انکار میں سرہلایا۔
’’افسوس بہلولؒ نے اداس لہجے میں کہا آپ بھی خرید لیتے توکیا ہی اچھا ہوتا۔۔ خلیفہ مسکرایا اور وہاں سے چل دیا۔
رات کوخلیفہ ہارون الرشید نے ایک خواب دیکھا وہ بہت بڑے انتہائی خوبصورت باغ میں چہل قدمی کررہاہے وہاں کچھ سات منزلہ اونچے محل نظر آئے جن پر کمال مہارت سے نقاشی کی گئی تھی ۔ رنگین اسے بڑے انداز سے سجایا ہوا تھا محل کی ایک طرف دریا بہہ رہا تھا جس کا پانی صاف شفاف تھا ،طرح طرح کے پھل اور پھولدار درختوںکی ڈالیاں جھکی ہوئی تھیں، اسے محل میں خدمت گاروں کی موجودگی کااحساس ہونے لگا وہ سوچنے لگا یقینا یہ جگہ جنت ہے ۔وہ تجسس سے کچھ دور آگے گیا تو ایک اورمحل نظرآیا جس کے دروازے پر اس کی اہلیہ ملکہ زبیدہ کا نام لکھا ہوا تھا، وہ تیزی سے آگے بڑھا اور اندر داخل ہوناچا ہا نہ جانے کہاں سے کئی دربان اس کے راستے میں حائل ہوگئے، ایک نے کہا آپ اس محل میں نہیں جاسکتے ،کیا آپ نے محل پر ملکہ زبیدہ کا نام لکھا نہیں دیکھا؟
اتنے میںخلیفہ ہارون الرشید کی آنکھ کھل گئی وہ دل ہی دل میں افسوس کرنے لگا کہ میںنے کیوں بہلولؓ کی بات نہ مانی۔اس نے صبح اپنے خواب کے بارے میں ملکہ کو بتایا زبیدہ بہت خوش ہوئی اور کسی کو بہلول لانے کے لیے بھیج دیا۔ جب بہلول آیا تو خلیفہ نے اسے دیکھتے ہی کہا ، ’’میں چاہتا ہوں کہ تم مجھ سے دگنے سونا لے لو اور مجھے اپنا ایک محل بیچ دو ، جیسا کہ تم نے زبیدہ کو دیا تھا۔”
’’ملکہ نے بغیر دیکھے مجھ پر یقین کرکے سودا کیا تھا، بہلول نے انکار کرتے ہوئے جواب دیا اور آپ دیکھ کر خریدنا چاہتے ہیں اب وقت گزرگیاہے لیکن یادر کھو یقین والوںکا بیڑا پار ہوہی جاتاہے۔
عباسی خلیفہ المنصور کی پوتی، خلیفہ ہارون الرشیدکی بیوی ملکہ زبیدہ بنت جعفر وہ انتہائی حساس،نرم خواورپرہیزگاخاتون تھیں ،اتنی دردمندکہ کسی کو تکلیف میں دیکھ کر تڑپ تڑپ اٹھتی ۔ملکہ زبیدہ کی تاریخ پیدائش معلوم نہیں ہے لیکن یہ مشہور ہے کہ وہ خلیفہ ہارون الرشید سے کم از کم ایک سال چھوٹی تھی ان کے والد جعفر عباسی خلیفہ المہدی کے سوتیلے بھائی تھے۔ ان کا سلسلہ نسب زبیدہ بنت جعفر ابن المنصور ابن محمد ابن علی ابن عبد اللہ جاملتاہے زبیدہ ایک پالتو جانور کا نام ہے ، جسے اس کے دادا خلیفہ المنصور نے دیا ہے۔ اس نام کا ایک مطلب “چھوٹی مکھن کی گیند” بھی ہے کہاجاتاہے کہ پیدائش کے وقت زبیدہ کا اصل نام سکینہ یا امت العزیز تھا۔
اس کی برسو ں سے آرزو تھی کہ وہ فریضہ حج کی ادائیگی کے لئے مکہ مکرمہ آئیں۔ خاتم الانبیاء کے روضہ اظہرکی سنہری جالیوںسے لپٹ کر د رود سلام پیش کریں ملکہ زبیدہ اس اندازسے حجاز ِ مقدس پہنچیں کہ ان کے ہمراہ تلاوت ِقرآن حکیم کرتیں اور درود و سلام پڑھتی ایک سو خادمائیں تھیں، جس نے بھی انہیں اس انداز سے دیکھا متاثرہوئے بغیرنہ رہ سکا ۔ملکہ زبیدہ یہاں آکرملول ہوگئیں کہ اہل مکہ اور حْجاج کرام پانی کی دشواری اور مشکلات میں مبتلا ہیں ۔انہیں سخت افسوس ہوا چنانچہ انہوں نے اسی وقت اپنے ذاتی اخراجات سے ایک عظیم الشان نہر کھودنے کا حکم دے دیا ،کہاجاتاہے یہ ایک ایسا فقید المثال کارنامہ ہے جو رہتی دنیا تک یاد رہے گا۔ملکہ کی جانب سے نہر کی کھدائی کا منصوبہ سامنے آیا تو مختلف علاقوں سے ماہر سے ماہر انجینئرز بلوائے گئے جنہوں نے حالات کا جائزہ لے کر مکہ مکرمہ سے 35 کلومیٹر شمال مشرق میں وادی حنین کے ’’ جبال طاد ‘‘ سے نہر نکالنے کا مشورہ دیا جسے انہوں نے منظورکرلیا جب نہر زبیدہ کی منصوبہ بندی شروع ہوئی تو اس منصوبہ کا منتظم انجینئر آیا اور کہنے لگا : آپ نے جس کام کا حکم دیا ہے اس کے لئے خاصے اخراجات درکار ہیں، کیونکہ اس کی تکمیل کیلئے بڑے بڑے پہاڑوں کو کاٹنا پڑے گا، چٹانوں کو توڑنا پڑے گا، نشیب و فراز کی مشکلات سے نمٹنا پڑے گا، سینکڑوں مزدوروں کو دن رات محنت کرنی پڑے گی ،ہو سکتا ہے کچھ مزدور جاں بحق بھی ہو جائیں ۔تب کہیں جا کر اس عظیم الشان منصوبہ کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ یہ سن کر ملکہ زبیدہ نے چیف انجینئر سے کہا : اس کام کو شروع کر دو، خواہ کلہاڑے کی ایک ضرب پر ایک سونے کا دینار خرچ آتا ہو۔اس طرح جب نہر کا منصوبہ تکمیل کو پہنچ گیا تو منتظمین اور نگران حضرات نے اخراجات کی تفصیلات ملکہ کی خدمت میں پیش کیں۔ اس وقت ملکہ دریائے دجلہ کے کنارے واقع اپنے محل میں کھڑی تھیں۔اس وقت عظیم منصوبے پر سترہ لاکھ ( 17,00,000 ) دینار خرچ ہوئے تھے جو آج کھربوں روپے بنتے ہیں ۔ملکہ نے وہ تمام کاغذات لیے ،ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے ملکہ نے اخراجات کے حساب کی دستاویز کھول کر دیکھے بغیر دریا برد کر دی اور روتے ہوئے سجدے میں گر کرکہنے لگیں : ’’ الٰہی! میں نے دنیا میں کوئی حساب کتاب نہیں لینا، تْو بھی مجھ سے قیامت کے دن کوئی حساب نہ لینا ‘‘ ۔
اس نے کوفہ اور مکہ کے درمیان صحرا کے نو سو میل کے فاصلے پر حاجی راستے کو بھی بہتر بنایا۔ سڑک ہموار اور بولڈاروں سے پاک ہوگئی تھی اور وہ وقفے وقفے سے پانی کے ذخیرے جمع کرتی تھی۔ پانی کے ٹینکوں نے طوفانی بارشوں کے اضافی بارش کا پانی بھی پکڑ لیا جس میں کبھی کبھار لوگ ڈوب جاتے تھے۔ معروف سیاح ابن بطوطہ نے ملکہ زبیدہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھاہے کہ “اس سڑک کا ہر ذخیرہ ، حوض یا کنواں جو مکہ سے بغداد کی طرف جاتا ہے اس کی ذاتی کوششوں کی وجہ سے قائم ہوا ۔جس سے لوگوںکو آمدورفت میں بہت آسانی ہوگئی ۔ خاص طور پر ابن ِ بطوطہ نے برکت المارجم اور القرضہ میں آبی ذخائر کا ذکر کیا ہے۔ ملکہ زبیدہ نے ہارون سے آزاد ، متعدد کاروباری منصوبوں میں اپنی جائیدادوں کا انتظام کرنے اور اپنی طرف سے کام کرنے کے لئے معاونین کے عملے کی خدمات حاصل کیں۔ اس کا نجی گھر بھی پُر آسائش طریقے سے زیر انتظام تھا۔ اس کا کھانا اس وقت عام طور پر استعمال ہونے والی چرمی ٹرے کی بجائے سونے اور چاندی کی پلیٹوں پر پیش کیا جاتا تھا ، اور اس نے جواہرات سے سلے ہوئے سینڈل پہننے کے فیشن رجحان کو متعارف کرایا تھا۔ وہ چاندی ، آبنوس سے بنی ہوئی پالکی پر بھی جاتی تھی اور ریشم بڑے اہتمام کے ساتھ زیب ِ تن کیاکرتی تھی۔ ملکہ زبیدہ نے اپنے لئے ایک انتہائی خوبصورت محل تعمیرکروایا جس میں ایک بڑے کارپٹ ضیافت کا ہال تھا جس کی مدد سے ہاتھی دانت اور سونے سے بنے ستون تھے۔ قرآن مجید کی آیات جابجا دیواروں پر سونے کے حروف میں کندہ تھیں۔ اس محل سے ملحقہ بڑاسا باغ غیر معمولی جانوروں اور پرندوں سے بھرا ہوا تھا۔ اس نے گھڑسوار فوجی کی حیثیت سے ایک پالتو جانور بندر باندھا تھا اور اس بندر کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے 30 نوکروں کی خدمات حاصل کی تھیں۔ اس نے 791 میں تباہ کن زلزلے کے بعد تبریز کو دوبارہ تعمیر کروایا ۔بلاشبہ عباسی خلفاء میں ملکہ زبیدہ جیسی نستعلیق خاتون کا کوئی ثانی نہیں تھا جس میں خوف ِ خدا کوٹ کوٹ کربھرا ہوا تھا جس نے عرب میںاپنے کارناموں اور انسان دوستی سے اپنا سکہ منوالیا۔ملکہ زبیدہ وفات کے بعداپنی ایک قریبی سہیلی بلقیس کے خواب میں آئی وہ ایک بڑے سے محل میں بڑے جاہ و جلال سے بیٹھی ہوئی تھی ۔اس کے سامنے رنگ برنگے مور ناچ رہے تھے ۔سہیلی نے پوچھا کیاحال ہے ؟ اس نے مسکرا کر جواب دیا بہت مزے میں ہوں ۔اللہ تعالیٰ نے بہت سی نعمتوں سے سرفرازکررکھا ہے میں آج اسی جنت کے محل میں مقیم ہوں جو میں نے بہلولؒ سے خریدا تھا۔ ( ماخوذ)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں


مضامین
دوگززمین وجود پیر 06 دسمبر 2021
دوگززمین

سجدوں میں پڑے رہناعبادت نہیں ہوتی! وجود پیر 06 دسمبر 2021
سجدوں میں پڑے رہناعبادت نہیں ہوتی!

چین کی عسکری صلاحیت’’عالمی رونمائی‘‘ کی منتظر ہے! وجود پیر 06 دسمبر 2021
چین کی عسکری صلاحیت’’عالمی رونمائی‘‘ کی منتظر ہے!

دوگززمین وجود اتوار 05 دسمبر 2021
دوگززمین

یورپ کا مخمصہ وجود هفته 04 دسمبر 2021
یورپ کا مخمصہ

اے چاندیہاں نہ نکلاکر وجود جمعه 03 دسمبر 2021
اے چاندیہاں نہ نکلاکر

تاریخ پررحم کھائیں وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
تاریخ پررحم کھائیں

انوکھی یات۔ٹو وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
انوکھی یات۔ٹو

وفاقی محتسب واقعی کام کرتاہے وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
وفاقی محتسب واقعی کام کرتاہے

ڈی سی کی گرفتاری اور سفارشی کلچر وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
ڈی سی کی گرفتاری اور سفارشی کلچر

ماں جیسی ر یاست اور فہیم۔۔۔ وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
ماں جیسی ر یاست اور فہیم۔۔۔

انسانیت کی معراج وجود اتوار 28 نومبر 2021
انسانیت کی معراج

اشتہار

افغانستان
طالبان کے خواتین سے متعلق حکم نامے کا خیرمقدم کرتے ہیں، تھامس ویسٹ وجود اتوار 05 دسمبر 2021
طالبان کے خواتین سے متعلق حکم نامے کا خیرمقدم کرتے ہیں، تھامس ویسٹ

15 سالہ افغان لڑکی برطانوی اخبار کی 2021 کی 25 با اثر خواتین کی فہرست میں شامل وجود هفته 04 دسمبر 2021
15 سالہ افغان لڑکی برطانوی اخبار کی 2021 کی 25 با اثر خواتین کی فہرست میں شامل

طالبان کی خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے،شادی مرضی سے کرانے کی ہدایت وجود جمعه 03 دسمبر 2021
طالبان کی خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے،شادی مرضی سے کرانے کی ہدایت

جھڑپ میں ایران کے 9سرحدی گارڈز ہلاک ہوئے،طالبان وجود جمعه 03 دسمبر 2021
جھڑپ میں ایران کے 9سرحدی گارڈز ہلاک ہوئے،طالبان

افغان طالبان اور ایرانی بارڈر گارڈز کے درمیان شدید جھڑپیں، بھاری اسلحہ کا استعمال وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
افغان طالبان اور ایرانی بارڈر گارڈز کے درمیان شدید جھڑپیں، بھاری اسلحہ کا استعمال

اشتہار

بھارت
بھارت ، ٹیکس میں کمی، پیٹرول 8روپے فی لیٹرسستا ہوگیا وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
بھارت ، ٹیکس میں کمی، پیٹرول 8روپے فی لیٹرسستا ہوگیا

بھارت میں مشتعل ہجوم کی چرچ میں تھوڑ پھوڑ ،عمارت کو نقصان،ایک شخص زخمی وجود بدھ 01 دسمبر 2021
بھارت میں مشتعل ہجوم کی چرچ میں تھوڑ پھوڑ ،عمارت کو نقصان،ایک شخص زخمی

بھارت میں نفرت جیت گئی، فنکار ہار گیا،مسلم کامیڈین وجود پیر 29 نومبر 2021
بھارت میں نفرت جیت گئی، فنکار ہار گیا،مسلم کامیڈین

بھارت میں ہندوانتہا پسندوں کی نماز جمعہ کے دوران ہلڑ بازی وجود هفته 27 نومبر 2021
بھارت میں ہندوانتہا پسندوں کی نماز جمعہ کے دوران ہلڑ بازی

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے بھارتی دعوت نامہ مسترد کر دیا وجود جمعرات 25 نومبر 2021
چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے بھارتی دعوت نامہ مسترد کر دیا
ادبیات
جرمن امن انعام زمبابوے کی مصنفہ کے نام وجود منگل 26 اکتوبر 2021
جرمن امن انعام زمبابوے کی مصنفہ کے نام

پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام وجود پیر 25 اکتوبر 2021
پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام

اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا وجود بدھ 13 اکتوبر 2021
اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا

بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف وجود جمعه 01 اکتوبر 2021
بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف

اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب وجود پیر 20 ستمبر 2021
اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
شخصیات
نامور شاعر ، مزاح نگار پطرس بخاری کی 63 ویں برسی آج منائی جائیگی وجود اتوار 05 دسمبر 2021
نامور شاعر ، مزاح نگار پطرس بخاری کی 63 ویں برسی آج منائی جائیگی

سینئر صحافی ضیاءالدین ا نتقال کر گئے وجود پیر 29 نومبر 2021
سینئر صحافی ضیاءالدین ا نتقال کر گئے

پاکستانی سائنسدان مبشررحمانی مسلسل دوسری بار دنیا کے بااثرمحققین میں شامل وجود جمعرات 25 نومبر 2021
پاکستانی سائنسدان مبشررحمانی مسلسل دوسری بار دنیا کے بااثرمحققین میں شامل

سکھ مذہب کے بانی و روحانی پیشواباباگورونانک کے552ویں جنم دن کی تین روزہ تقریبات کا آغاز وجود جمعه 19 نومبر 2021
سکھ مذہب کے بانی و روحانی پیشواباباگورونانک کے552ویں جنم دن کی تین روزہ تقریبات کا آغاز

صحافتی بہادری کا ایوارڈ، چینی اور فلسطینی خواتین صحافیوں کے نام وجود جمعه 19 نومبر 2021
صحافتی بہادری کا ایوارڈ، چینی اور فلسطینی خواتین صحافیوں کے نام