وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

موت کافرشتہ

جمعه 01 اکتوبر 2021 موت کافرشتہ

15 اکتوبر 1218ء کو پیدا ہونے والے ہلاکو خان کو دنیا کا سفاک ترین انسان کہاجاسکتاہے ظلم و بربریت کی نئی مثالیں قائم کرنے کے حوالے سے اس نے اتنے ریکارڈبنائے کہ انسانیت بھی شرما شرما گئی مفتوح ملکوں کے شہریوں کی کھوپڑیوںکے میناربنانا ہلاکو خان کا محبوب مشغلہ تھا یہی وجہ تھی کہ وہ وحشت،ظلم اور تباہی وبربادی کی علامت بن کر آج بھی تاریخ میں زندہ ہے۔
8 فروری 1265 ء کا سورج بڑی آب وتاب سے چمک رہاتھادوپہرکے وقت مسلمان قیدیوں کو جب قطاراندرقطار دنیا کے سب سے بڑے ظالم ا ور وحشی ترین انسان ہلاکو خان کے سامنے لایا گیاڈرے ڈرے سہمے سہمے قیدی اپنے گھوڑے پہ شان سے بیٹھے ہلاکو خان کو دیکھ کر مزید خوفزدہ ہوگئے ان کے چاروں طرف تاتاری افواج کی صف آراستہ کھڑی تھیں، اس کے حکم پر قیدی مسلمانوں کی تین صفیں بنادی گئیں اسی اثناء میں کئی جلاد ننگی تلواریں لیے ان کے سامنے آکھڑے ہوئے دھوپ میں تلواروںکے پھل چمکتے تو کئی قیدیوںکے دل دہل دہل جاتے ہلاکو خان نے اپنے گھوڑے کو ایڑھی لگائی اور ایک صف کے مقابل آن کھڑاہوا اس نے اشارے ے دو ہٹے کٹے جلادوںکوآنے کا اشارہ کیا انہوںنے حکم کی تعمیل کی ہلاکو خان نے بڑی نخوت اورفرعونیت سے کہا انکے سر قلم کردو!اس کے لہجے میں بلاکی سفاکیت تھی دونوں جلادوں نے لوگوں کے سر قلم کرنا شروع کردئیے صف میں آہ ہ فغان اور رونے کی آوازوں سے رقت طاری ہوگئی آن واحد میں سر تن سے جدا ہونے لگے تھے چاروں جانب قتل ہونے والے مسلمان قیدیوں کے جسموںسے ابلنے والے لہو کے فواروں کے چھینٹے دور دور گرنے لگے ، پہلی صف میں ایک کی گردن گئی پھردوسرے کی گردن کٹ گئی، تیسرے چوتھے کا سرتن سے جدا ہو اپھر درجنوں بے گناہ مارے گئے، پہلی صف کے آخرمیں نورانی چہرے والا ایک بوڑھا قیدی بھی کھڑا تھا جب اس کی باری آئی وہ موت کے ڈر سے دوسری صف میں بھاگ گیاہلاکو خان نے اس بوڑھے کی ا س حرکت کو دیکھا تواس کے چہرے پر سفاکیت ابھر آئی موت کی سفاکیت ۔۔۔ہلاکوخان گھوڑے پہ بیٹھا ہوا ہاتھ میں ایک طاقتور گرز اچھال کر اس موت کے کھیل سے لطف اندوز ہونے لگا ۔اب دوسری صف میں جلادوں نے قیدیوں کوموت کا کفن پہناناشروع کردیا تھا تلوار کے وار وںسے قیدی گاجرمولیوں کی طرح کٹ کٹ کر گرنے لگے درندگی ماحول پر اس قدر غالب آگئی کہ مسلمان قیدیوںکی آہ وفغان جیسے ان کے سینوںمیں گھٹ کرہ گئی آنسو جیسے آنکھوںمیں منجمند ہوگئے ہوں اتنی بے بسی، اتنی ذلت، اتناظلم کہ ہرقسم کی دعائیں،خداتعالیٰ سے شکوے دل ہی دل میں دم توڑ گئے انہوںنے جان لیا تھا کہ اس قضا کو کوئی نہیں ٹال سکتا۔ادھرجلاد بڑی مہارت ے تلوار چلا رہے تھے اور قیدیوںکے جسموں سے خون کے فوارے چھوٹتے اور سر تن سے جداہوکر لاشے زمین پرگرتے کچھ دیر تڑپتے اورپھر آرے ترچھے ہوکر ٹھنڈے ہوجاتے نہ جان کب تلک موت کا یہ کھیل جاری رہا پہلی صف سے بھاگ کر آنے والے بوڑھے کو اس وقت ہوش آیا جب اس نے محسوس کیا کہ اب میری باری آنے والی ہے تو وہ بھاگ کر تیسری صف کے آخرمیں کھڑا ہوگیا ایک جلاد تیزی سے اس کی طرف لپکا لیکن ہلاکو خان نے اسے اشارے سے روک دیا شاید اسے بوڑھے کی بے بسی پر مزا آنے لگا تھا ہلاکو خان نے دل ہی دل میں سوچا بکرے کی ماں آخر کب تک خیرمنائے گی؟ اس کی نظریں مسلسل بوڑھے پر جمی ہوئی تھیں کہ تیسری صف تو آخری ہے اسکے بعد یہ بوڑھاکہاں چھپنے کی کوشش میںبھاگ کر کہاںجائے گا ؟ بیوقوف کہیں کا۔ ہلاکو خان سوچ رہاتھا میرے حکم پر نہ جانے کتنے لاکھوں انسان قتل کردئیے گئے نہ جانے کتنے انسانی کھوپڑیوںکے مینار بنا کرمیں تاریخ میں امر ہوگیاہوں یہ بوڑھا کب تک موت سے بچے گا ؟اسے بوڑھے کی حرکت پر غصہ بھی آرہاتھا حیرت بھی ہونے لگی تیسری صف کااختتام قریب تھا ہلاکو خان کی نظریں مسلسل اس بوڑھے پہ تھیں جو انتہائی مضطرب تھا ،بے چین بھی،بے قرار بھی۔۔۔پھر اس کی باری بھی آگئی بھاگنے کو کوئی جا نہیں تھی لیکن اس عالم میں بھی بوڑھے کے چہرے پر ایک عجب آسودگی تھی ۔ جلاد نے تلوار بلندکی بوڑھے نے کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے آنکھیں بندکرلیں اسی اثناء میں ہلاکو خان کی آواز نے ماحول کا طلسم توڑ ڈالا رک جاؤ! اس کو ابھی کچھ نہ کہو ۔۔یقینی موت ٹل چکی تھی تین صفوںکے سینکڑوں قیدیوںمیں ایک وہی زندہ بچا تھا وہ اس کے سامنے ابھی تک سانس لے رہاتھا جس کے حکم پرسینکڑوں افراد کو موت کے گھاٹ اتاردیا گیا بوڑھے کے ہونٹوںپر مسکراہٹ پھیل گئی یقینا مارنے والے سے بچانے والا قوی ہے۔اسی دوران ہلاکوخان ایک شان ِ بے نیازی سے لاشوں کے درمیان سے گھوڑا لیے اس کے پاس آکھڑاہوااس نے قہقہہ لگاکر کہا بوڑھے موت کے خوف سے توپہلی صف سے تو دوسری صف میں بھاگ گیا پھر تیسری صف تک آگیا بتا اب تو بھاگ کر کہاں جائیگا؟۔ بوڑھا خاموشی سے اسے تکنے لگا پھر ہلاکو خان نے بڑے تکبرسے پوچھا اب تجھے مجھ سے کون بچائے گا ؟
بوڑھے نے آسمان کی طرف دیکھا اور بڑی متانت سے کہا، میں پہلی صف کو اس لیے چھوڑدیا کہ شاید میں دوسری صف میں جاکرموت سے بچ جاؤں، لیکن ایسا نہ ہوا وہاں بھی موت میرے تعاقب میں تھی پھراس امیدپراس صف بھی کو چھوڑ دیا کہ شاید میں بچ جاؤں۔
ہلاکو خان نے گرز کو ہاتھ میں اچھالتے ہوئے کہا بوڑھے لگتاہے موت کو سامنے دیکھ کر تمہارا دماغ چل گیاہے اسی لیے تم بہکی بہکی باتیں کررہے ہو بھلا کوئی تمہیں موت بھی بچا سکتا ہے؟
’’یقینا بچا سکتاہے بوڑھے نے ہلاکو خان کی آنکھوںمیں آنکھیں ڈال کر بڑی جرأت سے جواب دیا
ہلاکو خان نے ایک زور دار قہقہہ لگایاجب تمہارے سامنے سینکڑوں افراد قتل کردئیے گئے تو تم کس باغ کی مولی ہو وہ دیکھو میرے سپاہی قتل ہونے والوں کی کھوپڑیوں کا مینار بنارہے ہیں تمہاری کھوپڑی میں سب سے اوپررکھنے کا حکم دوں گا۔ بوڑھے کہا زمین وآسمان کی ہر چیز کا مالک اللہ تعالیٰ ہے جس کی مرضی کے بغیر پتہ بھی نہیں ہلتا وہی زندگی اور موت پر قادرہے وہ چاہے تو مجھے تجھ سے بچا سکتا ہے ۔
’’کیسے بچا سکتا ہے؟ میں دیکھتاہوں وہ تمہیں مجھ سے کیسے بچاتاہے؟ ہلاکو خان نے ا نتہائی تکبر میں آکر غصے سے کہا ۔ یہ کہتے ہوئے ا اسکے ہاتھ سے گرز گر پڑا۔ہلاکو خان ایک بہترین سپہ سالار، چابک دست ہوشیار جنگجو اور چالاک انسان تھا اس نے گھوڑے کے اوپر بیٹھے بیٹھے گرے ہوئے گرز کو اٹھانے کے لیے خود کو جھکایا اس کی کوشش کی تھی کہ گرز کو زمین پہ گرنے سے پہلے اسے ہوا میں ہی پکڑ لے لیکن وہ توازن کھو بیٹھا ہلاکو خان کا ایک پاؤں رکاب سے نکل گیاجبکہ دوسرا پاؤں رکاب میں ہی پھنس کر رہ گیا تھا لوگوںکے سامنے عجیب منظرتھا دنیاکا بے ر حم ترین انسان کا آدھا جسم گھوڑے پرتھا وہ خودسرکے بل الٹا ہوگیاتھا اس صورت ِ حال میں ہلاکو خان کا گھوڑا اتنا خوفزدہ ہوا کہ آناً فاناً بھاگ کھڑا ہوا ہلاکو خان نے سنبھلنے اور خود کو بچانے کی بڑی کو شش کی لشکر بھی حرکت میں آگیا لیکن طاقتورگھوڑا اس قدر تیزرفتار تھا کہ کسی کے قابو میں نہ آیاوہ ہلاکو خان کو پتھروں میں گھسیٹتا ہوابھاگتا رہا ہلاکو خان کا سر پتھروں سے پٹخ پٹخ کر اس قدر لہولہان ہوگیا کہ اس کی شکل کسی سے پہچانی نہیں جارہی تھی چند ہی منٹوں میں ہلاکو خان تڑپ تڑپ کرہلاک ہوگیا دنیا کے سب سے بڑے مطلق العنان حکمران کی المناک موت نے سب کو حیران پریشان کردیا بوڑھا اللہ کے حضور ربسجدہ ہوگیا پھروہ اٹھا اسے دیکھ کر فوجی انتہائی خوفزدہ ہوگئے وہ جدھرسے گذرتا اسے دیکھ کر تاتارری فوجی چیخیں مارتے ہوئے بھاگ کھڑے ہوتے جیسے انہوںنے موت کے فرشتے کو دیکھ لیا ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں


مضامین
کون نہائے گا وجود منگل 07 دسمبر 2021
کون نہائے گا

دوگززمین وجود پیر 06 دسمبر 2021
دوگززمین

سجدوں میں پڑے رہناعبادت نہیں ہوتی! وجود پیر 06 دسمبر 2021
سجدوں میں پڑے رہناعبادت نہیں ہوتی!

چین کی عسکری صلاحیت’’عالمی رونمائی‘‘ کی منتظر ہے! وجود پیر 06 دسمبر 2021
چین کی عسکری صلاحیت’’عالمی رونمائی‘‘ کی منتظر ہے!

دوگززمین وجود اتوار 05 دسمبر 2021
دوگززمین

یورپ کا مخمصہ وجود هفته 04 دسمبر 2021
یورپ کا مخمصہ

اے چاندیہاں نہ نکلاکر وجود جمعه 03 دسمبر 2021
اے چاندیہاں نہ نکلاکر

تاریخ پررحم کھائیں وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
تاریخ پررحم کھائیں

انوکھی یات۔ٹو وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
انوکھی یات۔ٹو

وفاقی محتسب واقعی کام کرتاہے وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
وفاقی محتسب واقعی کام کرتاہے

ڈی سی کی گرفتاری اور سفارشی کلچر وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
ڈی سی کی گرفتاری اور سفارشی کلچر

ماں جیسی ر یاست اور فہیم۔۔۔ وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
ماں جیسی ر یاست اور فہیم۔۔۔

اشتہار

افغانستان
اقوام متحدہ میں افغانستان کی نمائندگی کا فیصلہ ملتوی وجود بدھ 08 دسمبر 2021
اقوام متحدہ میں افغانستان کی نمائندگی کا فیصلہ ملتوی

طالبان کے خواتین سے متعلق حکم نامے کا خیرمقدم کرتے ہیں، تھامس ویسٹ وجود اتوار 05 دسمبر 2021
طالبان کے خواتین سے متعلق حکم نامے کا خیرمقدم کرتے ہیں، تھامس ویسٹ

15 سالہ افغان لڑکی برطانوی اخبار کی 2021 کی 25 با اثر خواتین کی فہرست میں شامل وجود هفته 04 دسمبر 2021
15 سالہ افغان لڑکی برطانوی اخبار کی 2021 کی 25 با اثر خواتین کی فہرست میں شامل

طالبان کی خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے،شادی مرضی سے کرانے کی ہدایت وجود جمعه 03 دسمبر 2021
طالبان کی خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے،شادی مرضی سے کرانے کی ہدایت

جھڑپ میں ایران کے 9سرحدی گارڈز ہلاک ہوئے،طالبان وجود جمعه 03 دسمبر 2021
جھڑپ میں ایران کے 9سرحدی گارڈز ہلاک ہوئے،طالبان

اشتہار

بھارت
بابری مسجد شہادت کے 29 برس بیت گئے وجود منگل 07 دسمبر 2021
بابری مسجد شہادت کے 29 برس بیت گئے

بھارت ، ٹیکس میں کمی، پیٹرول 8روپے فی لیٹرسستا ہوگیا وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
بھارت ، ٹیکس میں کمی، پیٹرول 8روپے فی لیٹرسستا ہوگیا

بھارت میں مشتعل ہجوم کی چرچ میں تھوڑ پھوڑ ،عمارت کو نقصان،ایک شخص زخمی وجود بدھ 01 دسمبر 2021
بھارت میں مشتعل ہجوم کی چرچ میں تھوڑ پھوڑ ،عمارت کو نقصان،ایک شخص زخمی

بھارت میں نفرت جیت گئی، فنکار ہار گیا،مسلم کامیڈین وجود پیر 29 نومبر 2021
بھارت میں نفرت جیت گئی، فنکار ہار گیا،مسلم کامیڈین

بھارت میں ہندوانتہا پسندوں کی نماز جمعہ کے دوران ہلڑ بازی وجود هفته 27 نومبر 2021
بھارت میں ہندوانتہا پسندوں کی نماز جمعہ کے دوران ہلڑ بازی
ادبیات
جرمن امن انعام زمبابوے کی مصنفہ کے نام وجود منگل 26 اکتوبر 2021
جرمن امن انعام زمبابوے کی مصنفہ کے نام

پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام وجود پیر 25 اکتوبر 2021
پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام

اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا وجود بدھ 13 اکتوبر 2021
اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا

بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف وجود جمعه 01 اکتوبر 2021
بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف

اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب وجود پیر 20 ستمبر 2021
اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
شخصیات
جنید جمشید کی پانچویں برسی آج منائی جائے گی وجود منگل 07 دسمبر 2021
جنید جمشید کی پانچویں برسی آج منائی جائے گی

نامور شاعر ، مزاح نگار پطرس بخاری کی 63 ویں برسی آج منائی جائیگی وجود اتوار 05 دسمبر 2021
نامور شاعر ، مزاح نگار پطرس بخاری کی 63 ویں برسی آج منائی جائیگی

سینئر صحافی ضیاءالدین ا نتقال کر گئے وجود پیر 29 نومبر 2021
سینئر صحافی ضیاءالدین ا نتقال کر گئے

پاکستانی سائنسدان مبشررحمانی مسلسل دوسری بار دنیا کے بااثرمحققین میں شامل وجود جمعرات 25 نومبر 2021
پاکستانی سائنسدان مبشررحمانی مسلسل دوسری بار دنیا کے بااثرمحققین میں شامل

سکھ مذہب کے بانی و روحانی پیشواباباگورونانک کے552ویں جنم دن کی تین روزہ تقریبات کا آغاز وجود جمعه 19 نومبر 2021
سکھ مذہب کے بانی و روحانی پیشواباباگورونانک کے552ویں جنم دن کی تین روزہ تقریبات کا آغاز