وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

بلوچستان میں بگاڑ کی سیاست !!

جمعرات 30 ستمبر 2021 بلوچستان میں بگاڑ کی سیاست !!

وزیراعلیٰ بلوچستا ن جام کمال خان عالیانی نادیدہ ہیں نا ہوس میں مبتلا ہیں۔ اپنی جماعت میں جام کمال ہی قیادت اور وزارت اعلیٰ کے منصب کے لیے اہل اور صلاحیتوں کی بدولت ممتاز ہیں۔انہیں اپنی صفوں سے مشکلات اور تخریب کا سامنا ہے۔ اسپیکر عبدالقدوس بزنجو اور سردار صالح بھوتانی کی رقابت اول روز سے عیاں ہے۔ بعض دوسرے وزارتوں پر متمکن ہوکر مفادات سمیٹنے کے ساتھ کینہ و عناد بھی پالے رکھے ہیں۔ بالآخر ان کے باطن ظاہر ہوگئے۔ کوئی مے نوشی کی حالت میں مغلظات کہتا کہ جام، درمیان میں نہ ہوتے تو وہ صوبے کے وزیراعلیٰ ہوتے۔ کوئی وزارت چھوڑتا ہے تو کوئی کابینہ سے نکلنے کی دھمکی دیتا ہے۔ بعض دوسرے بھی حرکت میں ہیں ۔ ٹی وی واخبارات کے نمائندے طلب کئے گئے ،جہاں بعض نے سطحی گفتگوکے ساتھ جام کمال کی برائیاں بیان کیں۔ سو انہیں وزیراعلیٰ کے خلاف بولنے اور لکھنے کی شے دی گئی۔ دراصل جام کمال کے مخالفین اور نادیدہ کردار کے مابین اشتراک کار، ارادوں کا اظہار اور معقولات میں مداخلت عیاں ہوئی ہے ۔ ماضی قریب وبعید میں بھی بلوچستان کے اندر حکومتوں کو گڈی گڈیوں کا کھیل بنایا جاچکا ہے۔تماشا لگانے کی یہ مکروہ سعی اسی کا تسلسل ہے۔ بلوچستان اسمبلی میں متحدہ حزب اختلاف اس سیاہ کھیل میں دیدہ و دانستہ شامل ہے۔ جبکہ حزب اختلاف کے بڑے صبح شام سیاست میں عدم مداخلت، قانون ، آئین ، پارلیمنٹ کی بالادستی جمہور کی حکمرانی کے گن گاتے رہتے ہیں۔ کسی صاحب نے اپنی اپنی جماعت کے پارلیمانی رہنمائوں کی گوش مالی نہ کی کہ وہ کس اصول او ر کس کے اشارے پر مہر ے بنے ہوئے ہیں۔ کم از کم مولانا فضل الرحمان اور محمود خان اچکزئی سے اس بگاڑ کے تدارک کی توقع کی جاتی ہے۔ سردار اختر مینگل سے اس لیے نہیں کہ وہ صوبے میں نیشنل پارٹی، نواز لیگ اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی حکومت کے خلاف پہلی رو میں کھڑے ہوکر ساتھ دے چکے ہیں۔ یقینا جمعیت علماء اسلام اور عوامی نیشنل پارٹی اس گناہ میں شامل تھیں ،جس کے نتیجے میں عبدالقدوس بزنجو وزیراعلیٰ بنائے گئے۔اس گناہ نے باپ پارٹی کو جنم دیا ۔
غرضیکہ 14ستمبر2021ء کو اسکرپٹ کے عین مطابق صوبے کی اسمبلی میں متحدہ حزب اختلاف کے23میں سے16ارکان نے جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرادی۔ کھیل کے تحت اسپیکر عبدالقدوس بزنجو ، صوبائی وزیر بہبود آبادی و خوراک سردار عبدالرحمان کھیتران، سردار صالح بھوتانی، وزیراعلیٰ کے مشیر برائے ماہی گیری اکبر اسکانی، پارلیمانی سیکریٹری بشریٰ رند، محمد خان لہڑی، تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر سردار یار محمد رند، بی این پی عوامی سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر اسد بلوچ بھی متحرک ہوگئے ۔گویا حزب اختلاف اور ان کے درمیان ساز باز اور گٹھ جوڑ مزید مبہم نہ رہی۔صوبہ اضطرابی کیفیت کی لپیٹ میں آگیا۔سیاسی و صحافتی حلقوں میںبات عام ہوئی کہ باپ پارٹی کے اندر سے بغاوت ٹھنڈ اکرانے انٹر سروسزانٹیلی جنس کے چیف لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید، میجر جنرل شعیب اور بریگیڈیئر ریٹائرڈ خالد فرید کو آنا پڑا۔ خالد فرید ا س جماعت کے خالق ہیں۔ پیش ازیں چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کی معیت میں سینیٹر سرفراز احمد بگٹی،سینیٹر منظور کاکڑ ،سینیٹر احمد خان خلجی،سینیٹر نصیب اللہ بازئی ،سینیٹر عبدالقادر ،اراکین قومی اسمبلی خالد مگسی اور اسرار ترین بھی پہنچ گئے۔ چناں چہ مختلف سطح پر ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوا۔۔اس طرح ان حکام کے روابط کے بعد اتنا ہوا کہ حزب اختلاف کی عدم اعتماد کی تحریک کی درخواست گورنر نے تکنیکی وجوہات کہہ کر واپس کردی۔ دیکھا جائے تو عدم اعتماد کے شور و غوغا بپا کرانے سے صوبے کے اندر مایوسی پھیلی اور عوام نے اعصابی طور منفی اثر لیا ہے۔درحقیقت وزیر اعلیٰ کی تبدیلی کی صورت میں صوبے کے اندر جاری ترقیاتی عمل میں یقینی ٹھہرائو کے با عث لامحالہ صوبہ نقصان سے دوچار ہوگا ۔ ذیل میںحزب اختلاف اپنے دعوئوں اور بیانیے میں سچی نہیں رہی ہے،نہ ا ن سے مصالحت کار مخفی ہیں ۔ یہ امر بھی پوشیدہ نہیں کہ جام کے ہٹائے جانے کے بعد کس کو کیا حصہ دینے اور دلانے کا سمجھوتہ ہوا ہے ۔ خامی جام کمال میں بھی ہوگی ،یقینا وہ مبرا بھی نہیں۔ مگر قصہ یہ ہے کہ مخالفین درحقیقت کُھلی من مانی چاہتے ہیں۔ برہم ہیں کہ ان کی فائلیں بغیر دیکھے پڑھے کیوں آگے بڑھنے نہیں دی جاتیں۔ کوئی زیر دست ڈپٹی کمشنر کا خواہاں ہے، کوئی ضلع کے ڈی پی او کا تبادلہ چاہتا ہے۔ کسی کو پرکشش وزارت نہ ملنے کا دکھ ہے۔ کوئی سرکاری محکموں میں من پسند افراد کی بھرتی چاہتا ہے ۔آسکانی کو سندھ سے بلوچستان کے سمندر میں مچھلیوں کے شکار کے لیے غیر قانونی ٹرالرز کی آمد کی اجازت دینے سے روکا گیا۔ کہ قدغن سے یومیہ لاکھوں روپے کا دھندہ بند ہوا۔ اسپیکر عبدالقدوس بزنجو کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے ۔بڑے منصب پر فائز یہ شخص لے تو چکے ہیں، مگر دے نہیں پائے ہیں۔حال یہ ہے کہ ایک بار سردار آپس میں اس بنا اُلجھ پڑ ے کہ کیوں اس کی کرسی وزیر اعلیٰ جام کمال کی کرسی کے ساتھ نہ لگائی گئی ۔ تخلیق کار نے اول تو جام کمال کو حزب اختلاف کو دیوار سے لگانے پر مجبور کیا۔ دوئم ان کے خلاف اسے استعمال بھی کررہے ہیں۔
در حقیقت اگر جام کمال حزب اختلاف سے معاملہ بہتر رکھتے بھی تو سب سے پہلے ان کی پارلیمانی جماعت ہی واویلا شروع کرتی۔ عبدالقدوس بزنجو وغیرہ اس طرز عمل کو ان کے خلاف بطور کارڈ استعمال کرتے۔ چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی بھی اس بازی میں شامل شمار کئے جاتے ہیں کہ جام کمال ان کی بے جا سفار شیں لائق اعتنا نہیں سمجھے ہیں۔ بہر حال وزیراعظم عمران خان حکومت نہ گرانے کی یقین دہانی کراچکے ہیں۔ وزیراعظم کو چاہیے کہ صوبے کے اندر اپنی جماعت کے اراکین اسمبلی کو بھی مزید کسی فساد کا حصہ نہ بننے کی تنبیہ کریں۔البتہ جام کمال خان پر عزم ہیں ۔ 27ستمبر کو افواج پاکستان کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی ملاقات کی۔ امید ہے کہ مزید کسی کو صوبہ بلوچستان اپنی خواہشات و اغراض کے حصول کے لیے تماشا گاہ نہ بننے دیا جا ئے گا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں


مضامین
غم و شرمندگی وجود بدھ 08 دسمبر 2021
غم و شرمندگی

گامیرے منوا وجود بدھ 08 دسمبر 2021
گامیرے منوا

گوادر دھرنا اورابتر گورننس وجود بدھ 08 دسمبر 2021
گوادر دھرنا اورابتر گورننس

تندور بنتی دنیا وجود بدھ 08 دسمبر 2021
تندور بنتی دنیا

کون نہائے گا وجود منگل 07 دسمبر 2021
کون نہائے گا

دوگززمین وجود پیر 06 دسمبر 2021
دوگززمین

سجدوں میں پڑے رہناعبادت نہیں ہوتی! وجود پیر 06 دسمبر 2021
سجدوں میں پڑے رہناعبادت نہیں ہوتی!

چین کی عسکری صلاحیت’’عالمی رونمائی‘‘ کی منتظر ہے! وجود پیر 06 دسمبر 2021
چین کی عسکری صلاحیت’’عالمی رونمائی‘‘ کی منتظر ہے!

دوگززمین وجود اتوار 05 دسمبر 2021
دوگززمین

یورپ کا مخمصہ وجود هفته 04 دسمبر 2021
یورپ کا مخمصہ

اے چاندیہاں نہ نکلاکر وجود جمعه 03 دسمبر 2021
اے چاندیہاں نہ نکلاکر

تاریخ پررحم کھائیں وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
تاریخ پررحم کھائیں

اشتہار

افغانستان
اقوام متحدہ میں افغانستان کی نمائندگی کا فیصلہ ملتوی وجود بدھ 08 دسمبر 2021
اقوام متحدہ میں افغانستان کی نمائندگی کا فیصلہ ملتوی

طالبان کے خواتین سے متعلق حکم نامے کا خیرمقدم کرتے ہیں، تھامس ویسٹ وجود اتوار 05 دسمبر 2021
طالبان کے خواتین سے متعلق حکم نامے کا خیرمقدم کرتے ہیں، تھامس ویسٹ

15 سالہ افغان لڑکی برطانوی اخبار کی 2021 کی 25 با اثر خواتین کی فہرست میں شامل وجود هفته 04 دسمبر 2021
15 سالہ افغان لڑکی برطانوی اخبار کی 2021 کی 25 با اثر خواتین کی فہرست میں شامل

طالبان کی خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے،شادی مرضی سے کرانے کی ہدایت وجود جمعه 03 دسمبر 2021
طالبان کی خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے،شادی مرضی سے کرانے کی ہدایت

جھڑپ میں ایران کے 9سرحدی گارڈز ہلاک ہوئے،طالبان وجود جمعه 03 دسمبر 2021
جھڑپ میں ایران کے 9سرحدی گارڈز ہلاک ہوئے،طالبان

اشتہار

بھارت
بابری مسجد شہادت کے 29 برس بیت گئے وجود منگل 07 دسمبر 2021
بابری مسجد شہادت کے 29 برس بیت گئے

بھارت ، ٹیکس میں کمی، پیٹرول 8روپے فی لیٹرسستا ہوگیا وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
بھارت ، ٹیکس میں کمی، پیٹرول 8روپے فی لیٹرسستا ہوگیا

بھارت میں مشتعل ہجوم کی چرچ میں تھوڑ پھوڑ ،عمارت کو نقصان،ایک شخص زخمی وجود بدھ 01 دسمبر 2021
بھارت میں مشتعل ہجوم کی چرچ میں تھوڑ پھوڑ ،عمارت کو نقصان،ایک شخص زخمی

بھارت میں نفرت جیت گئی، فنکار ہار گیا،مسلم کامیڈین وجود پیر 29 نومبر 2021
بھارت میں نفرت جیت گئی، فنکار ہار گیا،مسلم کامیڈین

بھارت میں ہندوانتہا پسندوں کی نماز جمعہ کے دوران ہلڑ بازی وجود هفته 27 نومبر 2021
بھارت میں ہندوانتہا پسندوں کی نماز جمعہ کے دوران ہلڑ بازی
ادبیات
جرمن امن انعام زمبابوے کی مصنفہ کے نام وجود منگل 26 اکتوبر 2021
جرمن امن انعام زمبابوے کی مصنفہ کے نام

پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام وجود پیر 25 اکتوبر 2021
پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام

اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا وجود بدھ 13 اکتوبر 2021
اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا

بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف وجود جمعه 01 اکتوبر 2021
بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف

اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب وجود پیر 20 ستمبر 2021
اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
شخصیات
جنید جمشید کی پانچویں برسی آج منائی جائے گی وجود منگل 07 دسمبر 2021
جنید جمشید کی پانچویں برسی آج منائی جائے گی

نامور شاعر ، مزاح نگار پطرس بخاری کی 63 ویں برسی آج منائی جائیگی وجود اتوار 05 دسمبر 2021
نامور شاعر ، مزاح نگار پطرس بخاری کی 63 ویں برسی آج منائی جائیگی

سینئر صحافی ضیاءالدین ا نتقال کر گئے وجود پیر 29 نومبر 2021
سینئر صحافی ضیاءالدین ا نتقال کر گئے

پاکستانی سائنسدان مبشررحمانی مسلسل دوسری بار دنیا کے بااثرمحققین میں شامل وجود جمعرات 25 نومبر 2021
پاکستانی سائنسدان مبشررحمانی مسلسل دوسری بار دنیا کے بااثرمحققین میں شامل

سکھ مذہب کے بانی و روحانی پیشواباباگورونانک کے552ویں جنم دن کی تین روزہ تقریبات کا آغاز وجود جمعه 19 نومبر 2021
سکھ مذہب کے بانی و روحانی پیشواباباگورونانک کے552ویں جنم دن کی تین روزہ تقریبات کا آغاز