وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

عاجزی کاتحفہ

اتوار 26 ستمبر 2021 عاجزی کاتحفہ

والی ٔ کونین معراج شریف کے دوران سرِلامکاں تشریف لے گئے یہ مقام۔یہ مرتبہ۔یہ اعزاز ان سے پہلے کسی اور نبی کے حصہ میں نہیں آیا تھا یہ وہ لمحات تھے جب انوارو تجلیات کے سب پردے ہٹا دئیے گئے طالب و مطلوب نے جی بھر کر ایک دوسرے کا دیدار کیا اس موقع پر اللہ تبارک تعالیٰ نے پوچھا اے میرے محبوب ﷺ میرے لیے کیا تحفہ لائے ہو؟
نبیوں کے سردار کے چہرہ ٔ انوارپر تبسم پھیل گیا آپ ﷺ نے اتنا جامع، مکمل اور مدلل جواب دیا کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ فرمایا یا باری تعالیٰ!میں وہ تحفہ لے کر آیا ہوںجو تیرے پاس نہیں ہے۔سبحان اللہ خالق ِ کون ومکاں کے پاس کیا نہیں وہ تو ہر شے پر قدرت رکھنے والا ہے۔اللہ یقینا جانتاہے پھر بھی تجسس، شوق اور الفت سے دریافت کیا اے محبوب ﷺ میرے لیے کیا تحفہ لائے ہو؟۔ آپ نے فرمایایا رب العالمین میں آپ کے حضور عاجزی لے کر آیاہوں یقینا اللہ کے پاس ہر چیزہے لیکن عاجزی نہیں۔ بلاشبہ اللہ تبارک تعالیٰ کو عاجزی بہت پسندہے اور طاقت رکھنے کے باوجود عاجز بندوں سے اسے بڑی محبت ہے غرور، تکبر اور اپنے آپ کو دوسروںسے افضل سمجھنا اللہ کو انتہائی ناگوارگذرتاہے۔ عاجزی تکبرکا الٹ ہے اور اللہ کو عاجزی بہت پسندہے لیکن خاکی انسان کو اتنی سی بات سمجھ نہیں آتی سمجھنے کو کیا یہ کافی نہیں کہ جو80,000سال فرشتوںکے ساتھ رہا اسے اللہ تعالیٰ نے40,000 سال جنت کا خزانچی رہنے کا اعزاز بخشا،30,000سال مقربین کا سرداررہا،20,000سال فرشتوںکو وعظ و تلقین کرتا رہا،14,000سال عرش کا طواف کرتارہا پہلے آسمان پراس کا نام عابد تھا۔دوسرے آسمان پراس کا نام زاہد تھا۔تیسرے آسمان پراس کا نام بلال۔ چوتھے آسمان پراس کا نام والی تھا۔پانچویں آسمان پراس کا نام تقی تھا۔چھٹے آسمان پراس کا نام کبازان تھا اورساتویں آسمان پراس کا نام عزازیل تھا اب لوح ِ محفوظ پر اس کا نام ابلیس ہے لوگ اسے شیطان مردود کہتے ہیں اللہ سے اس کی پناہ مانگتے ہیں دیکھیں۔ سوچیں۔
غور کریں غرور، تکبر اور اپنے آپ کو دوسروںسے افضل سمجھنے کی خواہش نے اسے کیا سے کیا بنا ڈالا۔بے شک عبرت کا مقام ہے لیکن ہم میں سے بیشتر سمجھناہی نہیں چاہتے۔ تسلیم نہ بھی کریں اظہار ،انکار گومگو کی کیفیت یا کسی خاص جذبے کے تحت نہ مانیں تو پھرکیا۔۔ حقیقت بدل سکتی ہے؟ ۔نہیں ۔کبھی نہیں سچی بات تو یہ ہے کہ روپے پیسے یا مادی وسائل کے بغیر گذراوقات ممکن نہیں لیکن کیا اس کا یہ مطلب لے لیا جائے کہ جائز ناجائز۔۔حلال حرام اور اخلاقی اقدارکا قطعی کوئی خیال نہ رکھا جائے۔ یاپھر دولت اور اختیارات کے غرور و تکبر میں انسان کو انسان نہ سمجھائے ایسا کرنے والے انسانیت کے مقام سے گر جاتے ہیں انسان جو مخلوقات میں افضل ہے۔ اشرف ہے۔ممتازہے اس کا خاصایہی ہونا چاہیے کہ وہ عاجزی اختیار کرے بڑائی تو اللہ کو مقدم ہے اسی کو زیباہے واضح کہا ہے کہ زمین پر اکڑ کر مت چلو تم زمین کو پھاڑ سکتے ہو نہ یہاڑوںکی بلندی کو چھونے پر قادرہو۔ہمارے آس پاس اردگرد کتنے ہی ایسے کردارہوںگے اکڑ، غرور اورتکبر جن کا شیوہ ہے بات بہ بات پر اپنے آپ کو افضل اور دوسروںکو کمترجاننا جن کا شیوہ ہے ۔ ان کو کوئی پسند کرنا پسندنہیں کرتا۔کبھی غورکرو تو محسوس ہوگا دنیا میں کتنے لوگ پیدا ہوئے مرگئے ان کی تعداد شاید کروڑوں، اربوں یا کھربوں میں پہنچ چکی ہوگی ان میں کتنے ہوںگے جن کا نام محض دولت کی وجہ سے آج بھی زندہ ہے قارون کے علاوہ شاید دوسرے تیسرے کا نام بھی آپ نہیں جانتے ہوں گے۔ لیکن بنی نوع انسان کی بھلائی کرنے والے آج بھی زندہ ہیں ان کا تعلق کسی بھی مذہب ہو وہ دنیا کے لیے ایک مثال بن گئے ہیں اللہ تعالیٰ نے رہتی دنیا تک ان کو امرکردیا اور تکبر۔غرور اور اپنے آپ کو افضل قراردینے والوں کو کوئی جانتا تک نہیں دوسروں کو کمتر اور گھٹیا جاننا ایک خوفناک بات ہے دنیاکے اکثرحکمران،اشرافیہ کے بیشتر لوگ اسی بیماری میں مبتلا ہیں جو انسان کو انسان بھی نہیں سمجھتے اسی طرز ِ عمل کی وجہ سے ترقی نہیں ہورہی۔
یہ بھی کتنی عجیب بات ہے کہ ٹیکس چور، بجلی چور ،کرپٹ اور گیس چور قوم کو اخلاقیات کا درس دیتے ہیں یہ بھی تو تکبر،رعونیت اور فرعونیت کی بدترین مثال ہے دیکھیں۔ سوچیں۔ غور کریں غرور، تکبر اور اپنے آپ کو دوسروںسے افضل سمجھنے کی خواہش نے شیطان کو کیا سے کیا بنا ڈالا۔بے شک عبرت کا مقام ہے لیکن ہم میں سے بیشتر سمجھناہی نہیں چاہتے۔ تسلیم نہ بھی کریں اظہار ،انکار گومگو کی کیفیت یا کسی خاص جذبے کے تحت نہ مانیں تو پھرکیا۔۔ حقیقت بدل سکتی ہے؟۔ بلاشبہ اللہ تبارک تعالیٰ کو عاجزی بہت پسندہے اور طاقت رکھنے کے باوجود عاجز بندوں سے اسے بڑی محبت ہے غرور، تکبر اور اپنے آپ کو دوسروںسے افضل سمجھنا اللہ کو انتہائی ناگوارگذرتاہے۔ عاجزی تکبرکا الٹ ہے اور اللہ کو عاجزی بہت پسندہے اور جس نے اس رازکو پالیا گویا اس کے ہاتھ نسخہ ٔ کیمیا آگیا اسلام نے تو ہمیں سادگی اور میانہ روی کا حکم دیاہے وسائل ہوتے ہوئے بھی سادگی اختیارکرنا کتنا اچھا عمل ہے لیکن اکڑ،غرور اور تکبرکااظہار تو ٹھاٹھ باٹھ سے ہی عیاںہوتاہے سادگی اور عاجزی کا آغاز حکمرانوںسے شروع ہوناچاہیے وہ قوم کے لیے رول ماڈل ہوتے ہیں اس کا اثر عوام پر لازمی پڑے گا تو اللہ کا نام لے کر اس کی شروعات کردینی چاہیے اس سے نہ صرف اللہ اور اس کا رسول ﷺ خوش ہوگا بلکہ عوام کی زندگی آسان ہوجائے گی یہ خوشگوار تبدیلی بھی آغاز بھی ہوسکتاہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں


مضامین
دوگززمین وجود پیر 06 دسمبر 2021
دوگززمین

سجدوں میں پڑے رہناعبادت نہیں ہوتی! وجود پیر 06 دسمبر 2021
سجدوں میں پڑے رہناعبادت نہیں ہوتی!

چین کی عسکری صلاحیت’’عالمی رونمائی‘‘ کی منتظر ہے! وجود پیر 06 دسمبر 2021
چین کی عسکری صلاحیت’’عالمی رونمائی‘‘ کی منتظر ہے!

دوگززمین وجود اتوار 05 دسمبر 2021
دوگززمین

یورپ کا مخمصہ وجود هفته 04 دسمبر 2021
یورپ کا مخمصہ

اے چاندیہاں نہ نکلاکر وجود جمعه 03 دسمبر 2021
اے چاندیہاں نہ نکلاکر

تاریخ پررحم کھائیں وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
تاریخ پررحم کھائیں

انوکھی یات۔ٹو وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
انوکھی یات۔ٹو

وفاقی محتسب واقعی کام کرتاہے وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
وفاقی محتسب واقعی کام کرتاہے

ڈی سی کی گرفتاری اور سفارشی کلچر وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
ڈی سی کی گرفتاری اور سفارشی کلچر

ماں جیسی ر یاست اور فہیم۔۔۔ وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
ماں جیسی ر یاست اور فہیم۔۔۔

انسانیت کی معراج وجود اتوار 28 نومبر 2021
انسانیت کی معراج

اشتہار

افغانستان
طالبان کے خواتین سے متعلق حکم نامے کا خیرمقدم کرتے ہیں، تھامس ویسٹ وجود اتوار 05 دسمبر 2021
طالبان کے خواتین سے متعلق حکم نامے کا خیرمقدم کرتے ہیں، تھامس ویسٹ

15 سالہ افغان لڑکی برطانوی اخبار کی 2021 کی 25 با اثر خواتین کی فہرست میں شامل وجود هفته 04 دسمبر 2021
15 سالہ افغان لڑکی برطانوی اخبار کی 2021 کی 25 با اثر خواتین کی فہرست میں شامل

طالبان کی خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے،شادی مرضی سے کرانے کی ہدایت وجود جمعه 03 دسمبر 2021
طالبان کی خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے،شادی مرضی سے کرانے کی ہدایت

جھڑپ میں ایران کے 9سرحدی گارڈز ہلاک ہوئے،طالبان وجود جمعه 03 دسمبر 2021
جھڑپ میں ایران کے 9سرحدی گارڈز ہلاک ہوئے،طالبان

افغان طالبان اور ایرانی بارڈر گارڈز کے درمیان شدید جھڑپیں، بھاری اسلحہ کا استعمال وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
افغان طالبان اور ایرانی بارڈر گارڈز کے درمیان شدید جھڑپیں، بھاری اسلحہ کا استعمال

اشتہار

بھارت
بھارت ، ٹیکس میں کمی، پیٹرول 8روپے فی لیٹرسستا ہوگیا وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
بھارت ، ٹیکس میں کمی، پیٹرول 8روپے فی لیٹرسستا ہوگیا

بھارت میں مشتعل ہجوم کی چرچ میں تھوڑ پھوڑ ،عمارت کو نقصان،ایک شخص زخمی وجود بدھ 01 دسمبر 2021
بھارت میں مشتعل ہجوم کی چرچ میں تھوڑ پھوڑ ،عمارت کو نقصان،ایک شخص زخمی

بھارت میں نفرت جیت گئی، فنکار ہار گیا،مسلم کامیڈین وجود پیر 29 نومبر 2021
بھارت میں نفرت جیت گئی، فنکار ہار گیا،مسلم کامیڈین

بھارت میں ہندوانتہا پسندوں کی نماز جمعہ کے دوران ہلڑ بازی وجود هفته 27 نومبر 2021
بھارت میں ہندوانتہا پسندوں کی نماز جمعہ کے دوران ہلڑ بازی

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے بھارتی دعوت نامہ مسترد کر دیا وجود جمعرات 25 نومبر 2021
چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے بھارتی دعوت نامہ مسترد کر دیا
ادبیات
جرمن امن انعام زمبابوے کی مصنفہ کے نام وجود منگل 26 اکتوبر 2021
جرمن امن انعام زمبابوے کی مصنفہ کے نام

پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام وجود پیر 25 اکتوبر 2021
پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام

اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا وجود بدھ 13 اکتوبر 2021
اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا

بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف وجود جمعه 01 اکتوبر 2021
بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف

اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب وجود پیر 20 ستمبر 2021
اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
شخصیات
نامور شاعر ، مزاح نگار پطرس بخاری کی 63 ویں برسی آج منائی جائیگی وجود اتوار 05 دسمبر 2021
نامور شاعر ، مزاح نگار پطرس بخاری کی 63 ویں برسی آج منائی جائیگی

سینئر صحافی ضیاءالدین ا نتقال کر گئے وجود پیر 29 نومبر 2021
سینئر صحافی ضیاءالدین ا نتقال کر گئے

پاکستانی سائنسدان مبشررحمانی مسلسل دوسری بار دنیا کے بااثرمحققین میں شامل وجود جمعرات 25 نومبر 2021
پاکستانی سائنسدان مبشررحمانی مسلسل دوسری بار دنیا کے بااثرمحققین میں شامل

سکھ مذہب کے بانی و روحانی پیشواباباگورونانک کے552ویں جنم دن کی تین روزہ تقریبات کا آغاز وجود جمعه 19 نومبر 2021
سکھ مذہب کے بانی و روحانی پیشواباباگورونانک کے552ویں جنم دن کی تین روزہ تقریبات کا آغاز

صحافتی بہادری کا ایوارڈ، چینی اور فلسطینی خواتین صحافیوں کے نام وجود جمعه 19 نومبر 2021
صحافتی بہادری کا ایوارڈ، چینی اور فلسطینی خواتین صحافیوں کے نام