وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

اپوزیشن کے بغیر طاقتور احتجاج

بدھ 22 ستمبر 2021 اپوزیشن کے بغیر طاقتور احتجاج

برکھادت

اس سے قطع نظر کہ آپ کسانوں کے متعلق نئے قوانین پر کیا رائے رکھتے ہیں، کسانوں کا احتجاج چند غلطیوں یا بے ترتیبی کے باوجود انتہائی منظم ہے، یہ کامیاب ہو یا ناکم اس سے قطع نظر اس قدر منظم کہ وہ اپنے اعصاب و حواس پر قابو رکھے ہوئے ہیں۔ حکومت کے خلاف اتنا منظم احتجاج شہریت قانون میں تبدیلی کے خلاف ’’مہذب‘‘ سول سوسائٹی کا بھی نہ تھا۔ اس سے ہندوستان میں جمہوریت کے حوالے سے کی گئی ایک سازش بھی آشکار ہوتی ہے۔
اس میں ایک مثبت پہلو بھی ہے کہ اگر لوگوں کی ایک بڑی تعداد ایسا کرنا چاہے تو اختلافی معاملات پر بھی سسٹم کو چیک اور بیلنس پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ اس کا منفی پہلو یہ ہے کہ ہندوستانی سیاست میں اپوزیشن کا وجود کہیں نظر نہیں آتا۔ اب یہ بات بالکل واضح ہے کہ اس وقت تک جب تک کہ ایک نیا قومی متبادل، خواہ شخصیت ہو، پارٹی یا نظریہ پر مبنی، سامنے نہیں آتا، عوام کی طرف سے حکومت کے سنگین اقدامات کی اپنے طور پر مخالفت کی جاتی رہے گی۔
2019 میں، انتخابات سے پہلے، اروند کیجریوال کے مجھے دیئے گئے ایک انٹرویو کی بات یاد آئی، ’’لوگ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو شکست دیں گے، کسی سیاستدان کی ضرورت نہیں ہو گی۔‘‘ جب یہ موقع آیا تو لوگوں نے، جس طرح کہ ماضی میں ہوتا آیا ہے، وزیر اعظم کو شکست سے دوچار کرنے کے بجائے اس کو بھرپور ووٹوں سے نوازا۔ لیکن کیجریوال کی بات میں ایک دانشمندانہ حقیقت چھپی ہوئی تھی۔ مجھے یقین نہیں ہے کہ ان کا مطلب اسی طرح تھا، لیکن بی جے پی کے سیاسی غلبے اور انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کی صلاحیت نے ہندوستان کو ایک جماعتی جمہوریت کی سمت میں لا کھڑا کیا ہے۔ ایک متبادل طاقت جس کی کسی بھی صحت مند جمہوریت کی ضرورت ہوتی ہے، اب ہندوستان کی کسی سیاسی جماعت میں نہیں بلکہ یہ ذمہ داری اب اس کے شہری نبھا رہے ہیں۔
یقینی طور پر، اپوزیشن پارلیمنٹ کے فلور پر کچھ سخت اور تند و تیز بیان بازی کرتی نظر آتی ہے۔ اس کے علاوہ مختلف مواقع پر ریلیاں نکالی اور گورنروں یا صدر کو درخواست کی جاتی ہے اور گورنرز یا صدر کو درخواستیں پیش کرتا ہے لیکن یہاں تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ ان کی شنوائی نہیں ہوتی۔ مجھے نہیں یاد پڑتا کہ آخری مرتبہ کب حزب اختلاف کے کسی بڑے رہنما نے کسی مسئلے پر پندرہ روز تک مسلسل احتجاج کیا تھا، جیسا کہ کسانوں نے کیا ہے؟ سیاسی رہنماؤں کے زیادہ تر احتجاج تصاویر بنوانے تک محیط ہوتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ مرکزی دھارے کی سیاست میں منظر کشی اور علامت کی اپنی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ لیکن، ہم کہتے ہیں کہ ہیتھراس کا اجتماعی عصمت دری کیس اب کہاں ہے۔ مقتول دلت لڑکی کے اہلخانہ کے ساتھ گاندھی خاندان نے بے تحاشا تصویر بنوائیں مگر کیا انہوں نے توجہ مرکوز رکھی کہ اس مسئلہ میں کیا ہو رہا اور کیس کی تحقیقات کہاں تک پہنچی؟ یا اس سال تارکین وطن کے ساتھ کیا ہوا۔ راہول گاندھی نے عالمی معاشی ماہرین کے ساتھ زوم انٹرویو کرنے کے بجائے دیہاتوں کے مسائل کے لیے شہروں کی طرف بھاگتے ہوئے مردوں، خواتین اور بچوں کے ساتھ اپنا وقت صرف کیا ہوتا تو کیا وہ کہیں بہتر سیاسی مقام پر نظر نہ آتے بلکہ ان کے مخالفین بھی انہیں مختلف انداز میں دیکھتے؟ کسانوں کے احتجاج نے حزب اختلاف کی طرف سے چلائی جانے والی کسی بھی تحریک کے مقابلے میں زیادہ پْرعزم اور مستحکم رہ کر توجہ حاصل کی ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ ہندوستان کی اپوزیشن، خاص طور پر قومی دھارے میں شامل پارٹیاں، پارٹ ٹائم سیاستدانوں پر مشتمل ہے۔ ریاستوں میں، البتہ کچھ ایسے سیاستدان رہے ہیں جنہوں نے کل وقتی سیاست کے لیے عزم، ارادے اور نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا لیکن ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ، جیتنے کے بعد، اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو وہ مرکز سے واضح طور پر نکمے یا غیر سود مند سمجھے جاتے ہیں۔ اس فریم ورک کے اندر، وہ مرکزی حکومت کی حمایت کرنے کے دوران اپنی ریاستوں کے پیرامیٹرز سے باہر کام نکل جاتے ہیں اور عیش و عشرت میں وقت گزارنے لگتے ہیں۔ چاہے دہلی، آندھرا پردیش، تلنگانہ یا اوڈیشہ ہو، ہم نے اسی طرح کے نمونے دیکھے ہیں، مخالفانہ مقامی سیاست ریاستی انتخابات کے بعد کسی نہ کسی طرح کی مفاہمت میں بدل جاتی ہے۔ در حقیقت یہ بھی سچ ہے کہ تحریکیں جو سیاستدانوں کے بجائے لوگوں کے ذریعہ چلائی جاتی ہیں زیادہ مقبولیت حاصل کرتی ہیں۔ کسانوں کی تحریک پارٹی کے سیاستدانوں کو اپنے سٹیج پر نہ رکھنے کا اخلاقی فائدہ اٹھا رہی ہے۔
لیکن ابھی تک کی تلخ حقیقت یہ ہے کہدو سال قبل مودی حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے صرف دو ہی لمحے آئے ہیں جب وہ کسی بات چیت میں شامل ہونے یا انتظامیہ کی طرف سے کسی فیصلے کو روکنے پر راضی ہوئے۔ پہلی بار جب ہندوستان بھر کے طلبا نے نیشنل رجسٹر آف سیٹیزنز (این آر سی) کے معاملہ پر اس قدر دباؤ بڑھایا کہ بی جے پی کو ووٹ ڈالنے والے گھرانے بھی ان کی تائید پر مجبور ہو گئے۔ اور اب، جب پنجاب سے سکھوں کے زہر اہتمام کسان تحریک کے نتیجے میں کم از کم وزرا اور مظاہرین کے مابین مذاکارت کے کئی ادوار ہو چکے ہیں۔
ان دونوں ہی واقعات میں، سڑکوں پر موجود مظاہرین کے حامیوں میں، وجہ چاہے غصہ ہو یا جذبات، مودی کے حمایتی بھی شامل ہیں۔ یہاں تک کہ جب انہیں اس بات کا یقین نہیں تھا کہ وہ اصل قانون سازی پر کہاں کھڑے ہیں، اس احتجاج میں اتنی شدت اور صداقت ہے کہ بی جے پی ووٹرز بھی چاہتے ہیں، حکومت کسانوں سے ہمدردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بات چیت کرے۔ حکومت کے لیے، کسانوں کا احتجاج ایک سبق ہے، اس سے قطع نظر کہ آپ کتنے ہی طاقت ور کیوں نہ ہوں، پھر بھی روزنوں کے ذریعے لوگوں کی آواز اٹھتی ہے۔ اپوزیشن کے لیے، یہ اس کی بڑھتی ہوئی نااہلی اور ناقص کارکردگی کی یاد دہانی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں


مضامین
چین اور امریکا کے درمیان ہائپر سونک جنگ کی کتھا وجود پیر 25 اکتوبر 2021
چین اور امریکا کے درمیان ہائپر سونک جنگ کی کتھا

مسلم آبادی بڑھنے کا سفید جھوٹ وجود پیر 25 اکتوبر 2021
مسلم آبادی بڑھنے کا سفید جھوٹ

ابن ِعربی وجود اتوار 24 اکتوبر 2021
ابن ِعربی

اصل ڈکیت وجود اتوار 24 اکتوبر 2021
اصل ڈکیت

ایک خوفناک ایجادکی کہانی وجود هفته 23 اکتوبر 2021
ایک خوفناک ایجادکی کہانی

مہنگائی اور احتجاج وجود هفته 23 اکتوبر 2021
مہنگائی اور احتجاج

امریکا میں ڈیلٹا وائرس میں کمی وجود هفته 23 اکتوبر 2021
امریکا میں ڈیلٹا وائرس میں کمی

بھوک اورآنسو وجود جمعه 22 اکتوبر 2021
بھوک اورآنسو

جام کمال کی عداوت میں منفی سرگرمیاں وجود جمعرات 21 اکتوبر 2021
جام کمال کی عداوت میں منفی سرگرمیاں

دل پردستک وجود جمعرات 21 اکتوبر 2021
دل پردستک

مثالی تعلقات کے بعد خرابی کاتاثر وجود جمعرات 21 اکتوبر 2021
مثالی تعلقات کے بعد خرابی کاتاثر

شہدائے کارساز‘‘ کے لواحقین کو چارہ گر کی تلاش ہے وجود جمعرات 21 اکتوبر 2021
شہدائے کارساز‘‘ کے لواحقین کو چارہ گر کی تلاش ہے

اشتہار

افغانستان
افغانستان کے پڑوسیوں کا اجلاس کل،طالبان کا شرکت نہ کرنے کا اعلان وجود پیر 25 اکتوبر 2021
افغانستان کے پڑوسیوں کا اجلاس کل،طالبان کا شرکت نہ کرنے کا اعلان

افغانستان کی صورتحال ، امریکی نائب وزیر خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی وجود جمعرات 07 اکتوبر 2021
افغانستان کی صورتحال ، امریکی نائب وزیر خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی

طالبان کا داعش کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم وجود جمعرات 30 ستمبر 2021
طالبان کا داعش کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم

طالبان حکومت کے بعد پاکستان کی افغانستان کیلئے برآمدات دگنی ہوگئیں وجود جمعه 17 ستمبر 2021
طالبان حکومت کے بعد پاکستان کی افغانستان کیلئے برآمدات دگنی ہوگئیں

امریکا کا نیا کھیل شروع، القاعدہ آئندہ چند سالوں میں ایک اور حملے کی صلاحیت حاصل کر لے گی،ڈپٹی ڈائریکٹر سی آئی اے وجود بدھ 15 ستمبر 2021
امریکا کا نیا کھیل شروع،  القاعدہ آئندہ چند سالوں میں ایک اور حملے کی صلاحیت حاصل کر لے گی،ڈپٹی ڈائریکٹر سی آئی اے

اشتہار

بھارت
موبائل فون خریدنے کے لیے بھارتی خاوند نے اپنی بیوی فروخت کردی وجود پیر 25 اکتوبر 2021
موبائل فون خریدنے کے لیے بھارتی خاوند نے اپنی بیوی فروخت کردی

علیحدہ کشمیر مانگ رہے ہیں تو دے دو، فوجی کی بیوہ مودی کے خلاف صف آرا وجود جمعرات 21 اکتوبر 2021
علیحدہ کشمیر مانگ رہے ہیں تو دے دو، فوجی کی بیوہ مودی کے خلاف صف آرا

بھارت،چین کے درمیان 17 ماہ سے جاری سرحدی کشیدگی پر مذاکرات ناکام وجود منگل 12 اکتوبر 2021
بھارت،چین کے درمیان 17 ماہ سے جاری سرحدی کشیدگی پر مذاکرات ناکام

مزاحمتی تحریک سے وابستہ کشمیریوں کے خلاف بھارتی کارروائیوں میں تیزی لانے کا منصوبہ وجود هفته 09 اکتوبر 2021
مزاحمتی تحریک سے وابستہ کشمیریوں کے خلاف بھارتی کارروائیوں میں  تیزی لانے کا منصوبہ

مرکزی بینک آف انڈیاا سٹیٹ بینک آف پاکستان کا 45 کروڑ 60 لاکھ کا مقروض نکلا وجود جمعه 08 اکتوبر 2021
مرکزی بینک آف انڈیاا سٹیٹ بینک آف پاکستان کا 45 کروڑ 60 لاکھ کا مقروض نکلا
ادبیات
پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام وجود پیر 25 اکتوبر 2021
پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام

اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا وجود بدھ 13 اکتوبر 2021
اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا

بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف وجود جمعه 01 اکتوبر 2021
بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف

اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب وجود پیر 20 ستمبر 2021
اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب

تاجکستان بزنس کنونشن میں عمران خان پر شعری تنقید، اتنے ظالم نہ بنو،کچھ تو مروت سیکھو! وجود جمعه 17 ستمبر 2021
تاجکستان بزنس کنونشن میں عمران خان پر شعری تنقید، اتنے ظالم نہ بنو،کچھ تو مروت سیکھو!
شخصیات
سابق امریکی وزیرخارجہ کولن پاول کورونا کے باعث انتقال کرگئے وجود منگل 19 اکتوبر 2021
سابق امریکی وزیرخارجہ کولن پاول کورونا کے باعث انتقال کرگئے

معروف کالم نگار ڈاکٹر اجمل نیازی انتقال کر گئے وجود پیر 18 اکتوبر 2021
معروف کالم نگار ڈاکٹر اجمل نیازی انتقال کر گئے

سابق افغان وزیرِ اعظم احمد شاہ احمد زئی انتقال کر گئے وجود پیر 18 اکتوبر 2021
سابق افغان وزیرِ اعظم احمد شاہ احمد زئی انتقال کر گئے

ڈاکٹرعبدالقدیرخان کے لیے دو قبروں کا انتظام، تدفین ایچ8 میں کی گئی وجود اتوار 10 اکتوبر 2021
ڈاکٹرعبدالقدیرخان کے لیے دو قبروں کا انتظام، تدفین ایچ8 میں کی گئی

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نمازِجنازہ ادا کردی گئی وجود اتوار 10 اکتوبر 2021
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نمازِجنازہ ادا کردی گئی