وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

ریاستِ مدینہ کابھرم بھی کہاں ٹوٹنا تھا!!

هفته 18 ستمبر 2021 ریاستِ مدینہ کابھرم بھی کہاں ٹوٹنا تھا!!

وزیراعظم عمران خان وہاں داخل ہوگئے۔ انگریزی محاورہ جس کی موزوں وضاحت کرتا ہے۔
fools rush in where angels fear to tread
(بے وقوف وہاں جاگھستے ہیں جہاں فرشتے بھی گریزاں رہتے ہیں)
وزیراعظم عمران خان اسلام کو نوازلیگ یا پیپلزپارٹی کے بدعنوان ٹولے جیسا معاملہ سمجھتے ہیں۔ سیاست میں ”طاقت ور حلقوں” کی ”مدد” سے وہ حریفوں پر قابو پاسکتے ہیں ،اس دنیا کی حقیر ترین چیزوں میں شامل اقتدار کی غلام گردشوں کا مزہ لے سکتے ہیں، جو ،نہیں خود کو وہ بھی دکھا سکتے ہیں، جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ بھی باور کراسکتے ہیں، سیاسی حمایت کا دھوکا بھی تخلیق کرسکتے ہیں۔ مگر مذہب کا معاملہ قدرے مختلف ہے۔ اسلام کے ساتھ چھیڑ چھاڑ وہ پاکستان کی تو کیا امریکا کی فوج لے کر بھی نہیںکرسکتے۔ یہ آخری حد ہے۔ یہ مسلمانوںکی سرخ لکیر ہے۔ یہاں سے مزاحمت کا آغاز اور قربانیوں کا سفر شروع ہوتا ہے۔ یہاں نیب مددگار نہیں ہوگا، ایف آئی اے کے جعلی مقدمات کارآمد نہ ہوں گے، یہاںفیک نیوز کے نام پر مہم موثر نہ ہوگی۔ یہاں لوہے کا خوف باقی نہیں رہتا۔ طاقت ور حلقوں کا تحفظ کام نہیں کرتا۔ کوئی مرگلہ کی پہاڑیوں سے چیخ کر بتائے، عمران خان آپ سن رہے ہیں!!!آپ مذہب کی جبری تبدیلی کی قانون سازی میں کامیاب نہ ہوں گے۔ یہاںسے رسوائیوں کا آغاز ہوتا ہے۔ اقتدار کے انجام کا بھی آغاز!!
یہ سادہ غلطی نہیں! پاکستان میں مذہب اسلام کو قبول کرنے سے روکنے کی ایک منظم مہم عرصہ دراز سے جاری ہے۔ حقائق سے ناآگاہ اس کھیل کے پسِ منظر، تہہِ منظر اور پیشِ منظر میں کروٹیں لیتی سازشوں کا ادراک نہیں رکھتے ۔ اس کی تفصیلات آگے بیان کرتے ہیں۔پہلے اس بل کو اچھی طرح تول ، ٹٹول اور کھول، کھنگال لیں۔ اس بل کو جبری ٔ تبدیلی مذہب کا قانون کہا جارہا ہے۔ اول تو یہ نام ہی غلط ہے۔ کیونکہ پاکستان میں جبراً مذہب تبدیل کرنے کا کوئی ایک واقعہ بھی کہیں پیش نہیںآیا۔ تبدیلی ٔ مذہب کے تمام واقعات رضاکارانہ ہیں۔ رضاکارانہ مذہب کی تبدیلی کو اس کھیل کے پیچھے متحرک قوتیں خوب خوب سمجھتی ہیں۔ مگر اُنہوں نے بل کو جبری تبدیلی مذہب کی آڑ دی ہے۔ جو سراسر خلافِ واقعہ ہے۔ درحقیقت بل کا جوہری مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ یہ بل جبری مذہب کی تبدیلی کو روکتا نہیں، بلکہ رضاکارانہ قبولِ اسلام کے عمل کو جبراً روک رہا ہے ۔شرمناک بل کے مطابق مذہب قبول کرنے والوں کو عمر کے دو خانوںمیں تقسیم کیا گیا ہے۔ نو صفحات اور 24دفعات پر مشتمل اس شرمناک بل کی دفعہ 3 میں اٹھارہ سال اور اس سے کم عمر کے لوگوں کے تبدیلی ٔ مذہب کے عمل کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ تبدیلی ٔ مذہب کا یہ بل اٹھارہ سال سے کم عمر بچوں کے قبولِ اسلام کو سرے سے مانتا ہی نہیں۔یعنی وہ اسلام بھی قبول کرلیں تو وہ اپنے پچھلے مذاہب پر ہی تصور کیے جائیں گے۔بل کے مطابق اٹھارہ سال کی عمر کا شخص بھی دراصل بچہ ہی تصور کیا جائے گا۔ اگر اس عمر کے بچوں کے لیے کوئی بھی مسلمان باعثِ ہدایت بنتا ہے تو بل کی دفعہ 4 اُن کے لیے سزائیں تجویز کرتا ہے۔ جس کے مطابق وہ پانچ سے لے کر دس سال تک قید کیا جاسکے گااور ایک سے لے کر دولاکھ روپے تک اُسے جرمانہ کیا جاسکے گا۔ غور کیجیے! اٹھارہ برس اور اس سے کم عمر کے بچوں کو اسلام کی طرف متوجہ کرانے والوں کے لیے جرمانے سے زیادہ قید کی سزا کی مدت کو زیادہ سے زیادہ رکھا گیا ہے۔ جو اکثر مجرمانہ سرگرمیوں میں بھی بہت کم ہوتی ہیں۔ مگر یہاں قید کی سزا کو پانچ سے دس برس رکھ کر اسلام کی تبلیغ کو ہولناک اور ڈراؤنا عمل بنانے کی انتہائی دانستہ اور سفاکانہ کوشش کی گئی ہے۔ یہ ہر اعتبار سے اسلام کے خلاف ایک مجرمانہ ہتھیار ہے جو عمران خان کی جانب سے ریاست ِ مدینہ کی بظاہر مسلسل تکرار کے ساتھ پسِ پردہ تیار کیا گیا ہے۔ اب ذرادورِ نبویۖ میںاسلام قبول کرنے والے اٹھارہ سال سے کم عمر بچوں کا ماجرا بھی ذہن میں رکھیں۔
عمران خان کی ریاست ِ مدینہ میں حضرت علی اسلام قبول نہیں کرسکتے تھے۔ حضرت علی نے دس برس کی عمر میںاسلام قبول کیا تھا۔ اس حوالے سے ایک پوری فہرست ہے۔ حضرت عمیر بن ابی وقاص نے سولہ برس ، حضرت معاذ بن عمرو بن جموح نے تیرہ برس اور حضرت معاذ بن عفرانے تیرہ برس میں اسلام قبول کیا تھا۔یہ تینوں جلیل القدر اصحاب رسولۖ صرف کم عمری میں ہی اسلام قبول کرنے والے نہ تھے، بلکہ جنگ بدر کے شہداء میں بھی شامل ہیں۔ ان میں حضرت معاذ بن عمرو اور حضرت معاذ بن عفرا وہ ہیں جنہوں نے ابو جہل کو جہنم واصل کیا تھا۔ ان کے علاوہ حضرت زید بن ثابت گیارہ برس کی عمر میں قبولِ اسلام کے ساتھ مکہ سے مدینہ ہجرت کرنے والوں میں شامل رہے۔ حضرت عمیر بن سعد دس برس میں حلقہ بگوشِ اسلام ہوئے۔ حضرت ابو سعید خدری تیرہ برس کی عمر میںاسلام قبول کرکے غزوہ احد میں شریک ہونے کے لیے پیش ہوئے۔حضرت انس بن مالک جب خاتم النبیۖ کے خادم خاص بنے تو آپ کی عمر مبارک آٹھ برس تھی۔ کم سنی میں اسلام قبول کرکے تکالیف سہنے والے سینکڑوں اصحاب میں سے یہ چند نام ہیں، جو شیریں مزاریں کی وزارت میں ایک سازش کی طرح پروان چڑھنے والے بل کی تاریکی میں عمران خان کی ریاست مدینہ میںمشرف بہ اسلام ہی نہ سمجھے جاتے بلکہ قابلِ سزا بھی ہوتے۔
بل کا دوسرا حصہ اٹھارہ برس سے زیادہ عمر کے لوگوں سے متعلق ہے۔ اٹھارہ برس سے زیادہ عمر کے لوگ اسلام قبول کرنا چاہیںتوا نہیں ایسی شرطوں سے باندھا گیا ہے، کہ وہ سن کر ہی اسلام قبول کرنے سے تائب ہو جائیں۔ اٹھارہ سال سے زائد عمر کے غیر مسلم اسلام قبول کرنے سے پہلے تبدیلی ٔ مذہب کا ایک سرٹیفکیٹ لینے کے پابند کردیے گئے ہیں۔ مگر یہ سرٹیفکیٹ اُنہیں آسانی سے نہیں ملے گا۔غیر مسلم کو مذہب کی تبدیلی کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لیے مقامی ایڈیشنل سیشن جج سے رجوع کرنا ہوگا۔ اب یہاں سے قبول اسلام کے خواہش مند اور ایڈیشنل جج پر پابندیوں کی ابتدا ہوتی ہے۔ ایڈیشنل جج سات روز کے اندر درخواست گزار کے انٹرویو کی تاریخ مقرر کرے گا۔ مقررہ تاریخ پر غیر مسلم درخواست گزار ایڈیشنل سیشن جج کے سامنے یہ ثابت کرے گا کہ وہ قبولِ اسلام کسی دباؤ ، غلط بیانی یا دھوکا دہی کی بنیاد پر نہیں کررہا ۔ اس کے باوجود یہ بات کافی نہ ہوگی۔ ایڈیشنل سیشن جج اب اس غیر مسلم درخواست گزار کو کسی مذہبی اسکالرز سے ملوائے گا۔ اس کے باوجود بھی وہ تبدیلیٔ مذہب کے سرٹیفکیٹ کا مستحق نہیں سمجھا جائے گا۔ اب اُسے مذاہب کے تقابلی مطالعے کے بعد ایڈیشنل سیشن جج کے دفتر میںواپس آنے کے لیے مزید نوے دن کا وقت دیا جائے گا۔ ایڈیشنل سیشن جج ان تمام شرائط کو پوری کرنے کا پابند ہوگا۔ جو غیر مسلم درخواست گزار پر تبدیلی مذہب کا سرٹیفیکٹ حاصل کرنے کے لیے لاگو کی گئی ہیں۔ اگر اس پورے طریقے میں غیر مسلم تھک کر قبول اسلام سے ہی انکار کردے تو پھر اس کواسلام کی طرف راغب کرنے والا قصوروار سمجھا جائے گا اور اُسے مختلف قسم کی وہی سزائیں ملیں گی جو اٹھارہ برس یا اس سے کم عمر بچوں کو قبول اسلام کی طرف راغب کرنے والوں کے لیے متعین کی گئی ہیں۔ ذرا اندازا لگائیں ، اس عمل سے گزرنے میں اس بات کا کہیں بھی کوئی لحاظ نہیںرکھا گیا کہ کیا ہر شخص مذہب کی تبدیلی تقابل ادیان کے مطالعے کے بعد ہی کرتا ہے؟ کیا تقابل ادیان کا مطالعہ خود ایڈیشنل سیشن جج نے بھی کیا ہوتا ہے یا نہیں؟ کیا یہ بل بنانے والے بھی یہ جانتے ہیں کہ دنیا میں رائج مذاہب کے درمیان کہاںکہاں کیا کیا فرق ہے؟ ایک غیر مسلم کے قبول اسلام میں ان شرائط کے اندر کہیں اس امر کا اندازا ہی نہیںہوتا کہ تبدیلی مذہب کا خواہش مند ایک عام آدمی بھی ہوسکتا ہے۔ جو کسی کتاب کے مطالعے کے قابل بھی نہ ہو۔اس طرح یہ بل غلط طور پر یہ فرض کرلیتا ہے کہ پاکستان میں ہر شخص علم کی اس سطح پر پہنچ گیا ہے،جہاں وہ تبدیلی ٔ مذہب سے قبل تقابل ادیان کا مطالعہ کرنے کے قابل ہے۔ یہ سارے غلط مفروضے صرف تبدیلی سرکار میں ہی قائم کیے جاسکتے ہیں اور اس قسم کا غیر منطقی بل صرف عمران خان کے لائق فائق وزراء ہی پیش کرسکتے ہیں۔
عمران خان کی حکومت یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ پاکستانی معاشرہ درحقیقت کیا ہے؟ پاکستان میں روشن خیال ، لبرل اور سیکولر سمجھے جانے والے پورے طبقے کے بھی پس منظر میں کوئی نہ کوئی مذہبی پسِ منظر موجود ہے۔ یہاں کاروشن خیال، لبرل اور سیکولر بھی روشن خیال، لبرل اور سیکولر ٹھیٹھ اپنے بیان کردہ تصور کے مطابق نہیں ہے۔ وہ اپنے تعصبات کو اس روشن خیالی، لبرل ازم اور سیکولر ازم کی چادر اوڑھ کر چھپاتا ہے۔ اور اسے بطور ہتھیار استعمال کرتا ہے۔ یہ بل اسی تعصب کی پیداوار ہے۔ ایک طرف سیکولر اقدار یہ دعویٰ کرتی ہے کہ مذہب ایک نجی معاملہ ہونا چاہئے۔ اور اس میں ریاست کا کوئی عمل دخل نہیں ہونا چاہئے۔ دوسری طرف ان اقدار کے حامل لوگ ریاست کی طاقت کو ایک شخص کے ذاتی تبدیلی ٔ مذہب کے فیصلے پر اثرانداز ہونے کے لیے بے رحمانہ طریقے سے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان ایک طرف ریاست مدینہ کی تکرار کرتے ہوئے نہیں تھکتے ، دوسری طرف اُن کی ریاست مدینہ میں کوئی اسلام بھی اپنی مرضی سے قبول نہیں کرسکتا۔ اُسے اپنے تبدیلی مذہب کی مرضی کو ریاست کی بے رحمانہ تحویل میںدیناہوگا۔ یعنی مذہب کی تبدیلی ،عقائد ، نظریات، اخلاقیات اور علم کا معاملہ نہیںبلکہ یہ اب ایک طریقہ کار ، ریاست کی نگرانی اور اس سے بھی بڑھ کر لوگوں کے تصورات تک پر اثرانداز ہونے کا خطرناک معاملہ بن چکا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت اب ایک خطرناک چہرہ لے کر ظاہر ہورہی ہے۔ یہ مختلف قوانین کے ساتھ عوام کو بے رحمانہ طور پر جکڑنے کی سازشوں کی آلہ کار بنتی جارہی ہے۔ تبدیلیٔ مذہب کا یہ غیر منطقی اور اسلام دشمن بل پاکستانی سماج کی مختلف جہتوں میں حشرات الارض کی طرح رینگتی سازشوں کی چغلی کھا رہا ہے۔ اس کا تذکرہ بعد پر اُٹھا رکھتے ہیں۔ تحریک ِ انصاف کی حکومت اب وہاں داخل ہو رہی ہے جہاں اس کو رعایت دینا ضمیر اور پاکستان پر ایک بوجھ بن جائے گا۔آہ! عمران خان کی ریاست مدینہ کا بھرم بھی کہاں آکر ٹوٹا ہے؟
٭٭٭٭٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
چین اور امریکا کے درمیان ہائپر سونک جنگ کی کتھا وجود پیر 25 اکتوبر 2021
چین اور امریکا کے درمیان ہائپر سونک جنگ کی کتھا

مسلم آبادی بڑھنے کا سفید جھوٹ وجود پیر 25 اکتوبر 2021
مسلم آبادی بڑھنے کا سفید جھوٹ

ابن ِعربی وجود اتوار 24 اکتوبر 2021
ابن ِعربی

اصل ڈکیت وجود اتوار 24 اکتوبر 2021
اصل ڈکیت

ایک خوفناک ایجادکی کہانی وجود هفته 23 اکتوبر 2021
ایک خوفناک ایجادکی کہانی

مہنگائی اور احتجاج وجود هفته 23 اکتوبر 2021
مہنگائی اور احتجاج

امریکا میں ڈیلٹا وائرس میں کمی وجود هفته 23 اکتوبر 2021
امریکا میں ڈیلٹا وائرس میں کمی

بھوک اورآنسو وجود جمعه 22 اکتوبر 2021
بھوک اورآنسو

جام کمال کی عداوت میں منفی سرگرمیاں وجود جمعرات 21 اکتوبر 2021
جام کمال کی عداوت میں منفی سرگرمیاں

دل پردستک وجود جمعرات 21 اکتوبر 2021
دل پردستک

مثالی تعلقات کے بعد خرابی کاتاثر وجود جمعرات 21 اکتوبر 2021
مثالی تعلقات کے بعد خرابی کاتاثر

شہدائے کارساز‘‘ کے لواحقین کو چارہ گر کی تلاش ہے وجود جمعرات 21 اکتوبر 2021
شہدائے کارساز‘‘ کے لواحقین کو چارہ گر کی تلاش ہے

اشتہار

افغانستان
افغانستان کے پڑوسیوں کا اجلاس کل،طالبان کا شرکت نہ کرنے کا اعلان وجود پیر 25 اکتوبر 2021
افغانستان کے پڑوسیوں کا اجلاس کل،طالبان کا شرکت نہ کرنے کا اعلان

افغانستان کی صورتحال ، امریکی نائب وزیر خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی وجود جمعرات 07 اکتوبر 2021
افغانستان کی صورتحال ، امریکی نائب وزیر خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی

طالبان کا داعش کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم وجود جمعرات 30 ستمبر 2021
طالبان کا داعش کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم

طالبان حکومت کے بعد پاکستان کی افغانستان کیلئے برآمدات دگنی ہوگئیں وجود جمعه 17 ستمبر 2021
طالبان حکومت کے بعد پاکستان کی افغانستان کیلئے برآمدات دگنی ہوگئیں

امریکا کا نیا کھیل شروع، القاعدہ آئندہ چند سالوں میں ایک اور حملے کی صلاحیت حاصل کر لے گی،ڈپٹی ڈائریکٹر سی آئی اے وجود بدھ 15 ستمبر 2021
امریکا کا نیا کھیل شروع،  القاعدہ آئندہ چند سالوں میں ایک اور حملے کی صلاحیت حاصل کر لے گی،ڈپٹی ڈائریکٹر سی آئی اے

اشتہار

بھارت
موبائل فون خریدنے کے لیے بھارتی خاوند نے اپنی بیوی فروخت کردی وجود پیر 25 اکتوبر 2021
موبائل فون خریدنے کے لیے بھارتی خاوند نے اپنی بیوی فروخت کردی

علیحدہ کشمیر مانگ رہے ہیں تو دے دو، فوجی کی بیوہ مودی کے خلاف صف آرا وجود جمعرات 21 اکتوبر 2021
علیحدہ کشمیر مانگ رہے ہیں تو دے دو، فوجی کی بیوہ مودی کے خلاف صف آرا

بھارت،چین کے درمیان 17 ماہ سے جاری سرحدی کشیدگی پر مذاکرات ناکام وجود منگل 12 اکتوبر 2021
بھارت،چین کے درمیان 17 ماہ سے جاری سرحدی کشیدگی پر مذاکرات ناکام

مزاحمتی تحریک سے وابستہ کشمیریوں کے خلاف بھارتی کارروائیوں میں تیزی لانے کا منصوبہ وجود هفته 09 اکتوبر 2021
مزاحمتی تحریک سے وابستہ کشمیریوں کے خلاف بھارتی کارروائیوں میں  تیزی لانے کا منصوبہ

مرکزی بینک آف انڈیاا سٹیٹ بینک آف پاکستان کا 45 کروڑ 60 لاکھ کا مقروض نکلا وجود جمعه 08 اکتوبر 2021
مرکزی بینک آف انڈیاا سٹیٹ بینک آف پاکستان کا 45 کروڑ 60 لاکھ کا مقروض نکلا
ادبیات
پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام وجود پیر 25 اکتوبر 2021
پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام

اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا وجود بدھ 13 اکتوبر 2021
اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا

بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف وجود جمعه 01 اکتوبر 2021
بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف

اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب وجود پیر 20 ستمبر 2021
اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب

تاجکستان بزنس کنونشن میں عمران خان پر شعری تنقید، اتنے ظالم نہ بنو،کچھ تو مروت سیکھو! وجود جمعه 17 ستمبر 2021
تاجکستان بزنس کنونشن میں عمران خان پر شعری تنقید، اتنے ظالم نہ بنو،کچھ تو مروت سیکھو!
شخصیات
سابق امریکی وزیرخارجہ کولن پاول کورونا کے باعث انتقال کرگئے وجود منگل 19 اکتوبر 2021
سابق امریکی وزیرخارجہ کولن پاول کورونا کے باعث انتقال کرگئے

معروف کالم نگار ڈاکٹر اجمل نیازی انتقال کر گئے وجود پیر 18 اکتوبر 2021
معروف کالم نگار ڈاکٹر اجمل نیازی انتقال کر گئے

سابق افغان وزیرِ اعظم احمد شاہ احمد زئی انتقال کر گئے وجود پیر 18 اکتوبر 2021
سابق افغان وزیرِ اعظم احمد شاہ احمد زئی انتقال کر گئے

ڈاکٹرعبدالقدیرخان کے لیے دو قبروں کا انتظام، تدفین ایچ8 میں کی گئی وجود اتوار 10 اکتوبر 2021
ڈاکٹرعبدالقدیرخان کے لیے دو قبروں کا انتظام، تدفین ایچ8 میں کی گئی

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نمازِجنازہ ادا کردی گئی وجود اتوار 10 اکتوبر 2021
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نمازِجنازہ ادا کردی گئی