وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

نائن الیون: دہشت گردی کے خلاف جنگ امریکا کو بہت مہنگی پڑی

هفته 11 ستمبر 2021 نائن الیون: دہشت گردی کے خلاف جنگ امریکا کو بہت مہنگی پڑی

بیس سال قبل امریکا میں ورلڈ ٹریڈ ٹاؤر پر ایک پراسرار حملے کی حقیقت پر بحث آج بھی جاری ہے۔ امریکا نے اس اپراسرار حملے کے بعد ”دہشت گردی“کے خلاف نام نہاد جنگ کا اعلان کر دیا۔ اس جنگ کے نتائج سے ساری دنیا طویل عرصے تک نمٹنے کی جدوجہد کرتی رہے گی۔ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق نیویارک کے گراونڈ زیرو پر ایک نئے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ٹاورز کھڑے کیے جا رہے ہیں ساتھ ہی ان حملوں کے ان تین ہزار متاثرین کی یادگار بھی تعمیر کی جا رہی ہے جنہوں نے امریکا سمیت تمام دنیا کے دلوں پر گہرے نقوش چھوڑے۔ ان صدمات سے گزرنے والا شہر نیویارک کافی حد تک سنبھل گیا اور دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا بھی ہوگیا اور کورونا کی وبا تک اس شہر کی معیشت خوب پھل پھول رہی تھی۔ تاہم امریکا سے لے کر مشرق وسطی کے وسیع تر حصے اور ہندو کش کی ریاست افغانستان تک کچھ بھی پہلے جیسا باقی نہیں رہا۔حال ہی میں کابل کے ہوائی اڈے پر امریکی فوج کی انخلاء کی کارروائی کے دوران ہونے والے دہشت گردانہ حملوں میں قریب 170 افغان باشندے اور ایک درجن سے زیادہ امریکی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ ان حملوں کی ذمہ داری، ایک بار پھر اسلامی گروپوں کی جانب سے ذمہ داری قبول کرنے کے روایتی مگر مشکوک طریقے سے داعش نے قبول کی یا قبول کرادی گئی۔

امریکی انخلاء سے قبل ڈرون حملہ جس میں داعش کو نشانا بنانے کادعویٰ کیا گیا مگر ہلاک شخص امریکی این جی اوز کا ہی ملازم نکلا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسلامک اسٹیٹ یا داعش کا 20 سال قبل کوئی وجود ہی نہیں تھا۔جرمن شہر ہیمبرگ سے تعلق رکھنے والے ایک مورخ بیرنڈ گرائنر کے مطابق ”ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ آئی ایس کا عروج 2003 میں صدام حسین کی حکومت گرنے کا براہ راست نتیجہ تھا۔ جرمن تاریخ دان نے مزید وضاحت کی کہ داعش کے جنگجوں کی پہلی نسل کا ایک بڑا حصہ صدام حسین کی پرانی فوج سے تعلق رکھتا تھا۔ ” صدام کی فوج کو امریکا نے فورا سے پیشتر ختم کر دیا جس کے نتیجے میں لاکھوں نوجوان بغیر کسی مستقبل اور روزگار کے امکانات کے سڑکوں پر کھڑے تھے۔ جرمن ماہر کےبقول یہ صورتحال انتہا پسندی اور بنیاد پرستی کے رجحان کے لیے کھاد کی حیثیت رکتی ہے۔


ورلڈ ٹریڈ سینٹر معاشی قوت کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ پراسرار حملون کا نشانا پینٹا گون بھی تھا۔ ان حملوں میں بڑی تعداد میں ہونے والی ہلاکتوں نے عوامی جذبات بھڑکا دیے اور امریکی قوم صدمے کا شکار ہو گئی۔ ان حملوں میں مسافر طیاروں کو بطور ہتھیار استعمال کیا گیا۔ اس کے بعد امریکا میں بغیر شواہد کے یہ دعوی کردیا گیا کہ تمام دہشت گردانہ کارروائیاں افغانستان کے ایک خیمے میں بیٹھے ایک سعودی باشندے’اسامہ بن لادن‘ کے اشاروں پر ہو رہی تھیں۔ دنیا کی سب سے بڑی قوت کے لیے یہ بے مثال خجالت اور تذلیل تھی۔ وہ ملک جو سرد جنگ کے درجنوں سالوں بعد اور سوویت یونین کا شیرازہ بکھرنے کے بعد شاید اپنی طاقت کے عروج پر تھا، جو خود کو بہت مضبوط، ناقابل تسخیر تصور کرتا تھا۔ امریکا نے مایوسی اور دکھ کے ساتھ رد عمل ظاہر کیا اور تمام عالمی برادری کی ہمدردی سمیٹ لی جس نے بھرپور غصے کا مظاہرہ اور بدلہ لینے کا مطالبہ شروع کر دیا۔ ہمارے وقار پر اب سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ امریکا نے افغانستان میں تو کوئی کامیابی نہیں سمیٹی لیکن پاکستان میں ایک ”پراسرار“حملے اور کارروائی سے اپنی جنگ میں واضح شکست کی خجالت کا سامان کچھ کم کیا۔

ایبٹ آباد کا وہ کمپاؤنڈ جہاں اسامہ بن لاد ن کو نشانا بنانے کا دعویٰ کیا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امریکا نے ایبٹ آباد آپریشن کے ذریعے یہ دعویٰ کیا کہ یہاں اسامہ بن لادن کو ہد ف بنایا گیا۔ اس سے قبل افغانستان میں کارروائی سے قبل جس طرح نوگیارہ کے حملوں کے”ذمہ داران“کے خلاف کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا تھا۔امریکا نے اپنی بے پناہ طاقت سے صرف اس دعوے کو کافی سمجھا کہ اس کے پیچھے اسامہ بن لادن ہے۔ آج نو گیارہ کے بیس سال بعد بھی اس دعوے کے حق میں کوئی قابل اعتبار ثبوت سامنے نہیں آسکا۔ ٹھیک اسی طرح ایبٹ آباد کارروائی کے اب بھی بہت سے گوشے نظروں سے اوجھل ہیں۔ آج تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ اس کارروائی میں اسامہ بن لادن کو نشانا بنایا گیا تھا یا نہیں؟ کیونکہ اس کارروائی سے کئی سال پیشتر سے اسامہ بن لادن کی زندگی کے کوئی آثار کہیں سے نہیں مل رہے تھے۔ اس کارروائی میں نشانہ بننے والے اسامہ بن لادن کے خاندان کے دیگر افراد کے متعلق آج تک معلوم نہیں ہوسکا کہ وہ کہاں ہیں۔ اس حوالے سے متبادل ذرائع سے معلومات کے تمام دروازے ایک بندوبست کے ذریعے مقفل کردیے گئے۔ تاہم اس کارروائی کو پہلی بار مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کی تاریخ میں مشترکہ مقدمہ قرار دیا گیا اور اس فوجی کارروائی کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اس اتحاد نے اپنے مشترکہ دفاع کے طور پر جائز قرار دیا۔نوگیارہ کے چند ہفتوں کے اندر افغانستان میں طالبان حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔
2003 میں اس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے عراق پر حملہ کر دیا۔ تب تو اس کا کوئی قانونی جواز موجود نہیں رہا تھا۔

صدام حسین کے نائن الیون کے حملہ آوروں سے کسی قسم کے روابط اور آمر عراقی حکمران کی طرف سے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار سازی کے دعوے فسق اور جھوٹے تھے۔امریکا کے بہت سے سیاستدانوں نے گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے واقعات کے بعد یہ سوچا کہ ان کے پاس یہ ایک موقع ہے پوری دنیا کے سامنے اپنی قوت کے مظاہرے کا، یہ ظاہر کرنے کا کہ امریکی ایک ‘ ناگزیر قوم ہے۔ ایک امریکی مرخ اسٹیفن ویرتھ ہائم نے ان خیالات کا اظہارکچھ اس طرح کیا ”امریکا کو ایک ناگزیر قوم کی حیثیت سے منوانے کے لیے امریکی سیاستدانوں نے ایک پورے ملک اور خطے کو نئے سرے سے ڈیزائن کرنے کی کوش کی“۔جرمن مورخ بیرنڈ گرائنردہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ کا پیرایہ ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں:”امریکا دنیا، خاص طور سے عرب دنیا کو یہ باور کرانا چاہتا تھا کہ کوئی بھی جو مستقبل میں اس سے الجھے گا، وہ اپنی بقا کو داؤپر لگائے گا“۔ جرمن مورخ کے مطابق ”دراصل افغانستان اور عراق دونوں میں امریکی کارروائی علامتی حیثیت رکھتی ہے۔سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کی اعلان کردہ ‘دہشت گردی کے خلاف جنگ“کبھی نا ختم ہونے والی نام نہاد جنگ بن کر رہ گئی۔ ایک ایسی جنگ جس کی نہ وقتی نہ ہی جغرافیائی وضاحت کی جا سکتی ہے۔ یہ بس عالمی سطح پر لڑی جا رہی تھی۔ برلن میں قائم ایک تھنک ٹینک ایس ڈبلیو پی سے منسلک ایک ماہر ژوہانس تھم کے بقول، ”دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تقریبا 9 لاکھ تیس ہزار انسانی جانیں ضائع ہوئیں اور یہ تمام افراد براہ راست جنگ میں مارے گئے۔ ان میں سے قریب چار لاکھ عام شہری تھے۔مذکورہ جنگ پر آنے والی لاگت یا تخمینے کے مطابق ‘ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ میں صرف امریکا کو اربوں ڈالر کی ناقابل تصور قیمت ادا کرنا پڑی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی ماہر بیرنڈ گرائنر اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ”پوری دنیا پر اس کے اثرات سے قطع نظر امریکا کو عراق اور افغانستان میں اس ہیجانی جنگ سے بہت بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔


متعلقہ خبریں


سندھ میں قومی اسمبلی کے 56 حلقوں میں آبادی سے زائد ووٹرز کے اندراج کا انکشاف وجود - هفته 25 ستمبر 2021

سندھ میں قومی اسمبلی کے 56 حلقوں میں مردم شماری میں ریکارڈ آبادی سے زیادہ ووٹرز کے اندراج کا انکشاف ہوا ہے، اعداد و شمار میں فرق پر الیکشن کمیشن نے نوٹس لے لیا۔رپورٹ کے مطابق شہر قائد کے ضلع وسطی کے 529 سینسز بلاکس میں آبادی سے زیادہ ووٹرز کے نام درج کیے گئے جبکہ ضلع شرقی میں 15، سکھر میں 3، قمبر شہداد کوٹ میں آبادی سے 2 فیصد زائد ووٹرز کا اندراج کیا گیا۔سندھ کے تین ہزار 540 شماریاتی بلاکس میں آبادی سے زائد ووٹرز کے اندراج کا انکشاف ہوا ہے، رپورٹ کے مطابق کراچی کے ضلع وسطی، ش...

سندھ میں قومی اسمبلی کے 56 حلقوں میں آبادی سے زائد ووٹرز کے اندراج کا انکشاف

ملک کے95 فیصد عوام نے پنجاب میں قرآن کی تعلیم لازمی قرار دینے کا فیصلہ درست قرار دیدیا، گیلپ وجود - هفته 25 ستمبر 2021

گیلپ پاکستان کے مطابق ملک بھر کے95 فیصد عوام نے پنجاب میں پہلی سے 12ویں جماعت تک قرآن پاک کی تعلیم لازمی قرار دینے کا فیصلہ درست قرار دے دیا۔گیلپ پاکستان نے پنجاب حکومت کی جانب سے پہلی سے 12 ویں جماعت تک قرآن پاک کی تعلیم لازمی قرار دینے کے فیصلے سے متعلق ایک سروے کیا جس میں ملک بھر سے 1400 سے زائد افراد شریک ہوئے۔سروے کے مطابق دیہی اور شہری حلقوں میں پنجاب حکومت کے فیصلے کی بھرپور حمایت کی گئی، دیہی علاقوں میں 96 فیصد جبکہ شہری علاقوں کے 95 فیصد عوام پنجاب حکومت کے فیصلے کے ...

ملک کے95 فیصد عوام نے پنجاب میں قرآن کی تعلیم لازمی قرار دینے کا فیصلہ درست قرار دیدیا، گیلپ

کملا ہیرس سے ملاقات، مودی شدید تنقید کی زد میں آگئے وجود - هفته 25 ستمبر 2021

امریکا میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی امریکی نائب صدر کملا ہیرس سے ملاقات کے بعد بھارتی میڈیا میں مودی پر شدید تنقید کی جارہی ہے۔امریکی نائب صدر سے ملاقات کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اس حوالے سے 9 ٹوئٹ کیے جبکہ کملا ہیرس نے ایک بھی ٹوئٹ نہیں کیا۔بھارت کے ایک مبصر نے کہا کہ کوئی مہمان بن کر جائے تو اسے دھکا تو نہیں دیا جاتا مگر کملا ہیرس اور امریکی انتظامیہ مودی سرکار کو پسند نہیں کرتے۔ ایک ٹی وی شو میں بھارتی مبصر نے کہا کہ کملا ہیرس مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارتی...

کملا ہیرس سے ملاقات، مودی شدید تنقید کی زد میں آگئے

امریکا نے عالمی تنظیموں کو طالبان اور حقانی نیٹ ورک سے لین دین کی اجازت دیدی وجود - هفته 25 ستمبر 2021

امریکا نے افغانستان کو انسانی بحران سے محفوظ رکھنے کے لیے عالمی تنظیموں کو طالبان اور حقانی نیٹ ورک سے لین دین کی اجازت دیدی۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکا افغانستان میں امداد کے بہاؤ کی مزید راہ ہموار کرنے کے لیے دو لائسنس جاری کر رہا ہے کیونکہ امریکا کو خدشہ ہے کہ اس کی طالبان پر عائد پابندیاں افغانستان میں انسانی بحران کو بڑھا سکتی ہیں۔امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ایک لائسنس امریکی حکومت، این جی اوز اور اقوام متحدہ سمیت مخصوص عالمی تنظیموں کو طالبان یا حقانی نیٹ ورک کے ساتھ...

امریکا نے عالمی تنظیموں کو طالبان اور حقانی نیٹ ورک سے لین دین کی اجازت دیدی

کراچی میں بغیر ویکسینیشن کارڈ راہگیروں پر مقدمات سے روک دیا گیا وجود - هفته 25 ستمبر 2021

ایڈیشنل آئی جی کراچی یعقوب منہاس نے تھانیداروں کو کورونا وائرس کا ویکسینیشن کارڈ نہ ہونے پر شہریوں کیخلاف مقدمات کے اندراج سے روک دیا۔ایڈیشنل آئی جی کراچی یعقوب منہاس نے تھانیداروں کو کارروائیاں شادی ہالز، ہوٹلز اور تفریح مقامات تک محدود رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسسٹنٹ کمشنر کی موجودگی میں پبلک مقامات پر کارروائی کی جائے۔

کراچی میں بغیر ویکسینیشن کارڈ راہگیروں پر مقدمات سے روک دیا گیا

پاکستان بھارت کے درمیان ایک اور جنگ کو روکا جائے، وزیراعظم کا اقوام متحدہ سے خطاب وجود - هفته 25 ستمبر 2021

وزیراعظم عمران خان نے ایک بارپھر واضح کیا ہے کہ جنوبی ایشیاء میں امن کا دارومدار مسئلہ کشمیر کے حل میں ہے ،مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے گھنائونے اقدامات جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے مترادف ہیں،بھارت کی فوجی طاقت میں اضافہ، جوہری ہتھیاروں کی تیاری اور غیر مستحکم کرنے والی روایتی صلاحیتوں کا حصول دونوں ممالک کے درمیان باہمی ڈیٹرنس کو سبوتاژ کر سکتا ہے،پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک اور جنگ کو روکا جائے،مناسب اسلامی رسوم کے ساتھ سیّد علی گیلانی کے جسد خاکی کی شہد...

پاکستان  بھارت کے درمیان ایک اور جنگ کو روکا جائے، وزیراعظم کا اقوام متحدہ سے خطاب

ہمیں سب سے بڑا مسئلہ فیک نیوز اور پروپیگنڈے سے ہے، وزیراعظم وجود - هفته 25 ستمبر 2021

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ان پر تنقید کریں تو سچی تنقید کریں ،ہمیں سب سے بڑا مسئلہ فیک نیوز اور پراپیگنڈے سے ہے۔ڈیجیٹل میڈیا ڈیولپمنٹ پروگرام کے آغاز کے حوالے سے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہمیں سب سے بڑا مسئلہ فیک نیوز اور پراپیگنڈے سے ، صحافت میں جھوٹی خبر والا زیادہ دیر پائیدار نہیں ہوسکتا، ہماری حکومت چاہتی ہے سچ لکھیں، جس طرح ہم نے میڈیا کو آزاد چھوڑا ہے پاکستان کی تاریخ میں کبھی میڈیا اتنا آزاد نہیں ہوا، آزاد کشمیر کے وزیراعظم کے حوالے سے ...

ہمیں سب سے بڑا مسئلہ فیک نیوز اور پروپیگنڈے سے ہے، وزیراعظم

مشکوک ٹرانزیکشن کیس'آصف زرداری فردجرم عائد کرنے کیلئے 29ستمبر کو طلب وجود - جمعه 24 ستمبر 2021

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے آٹھ ارب کی مشکوک ٹرانزیکشن کے کیس میں پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو فرد جرم کیلئے طلبی کا سمن ارسال کر دیا ۔سمن کے مطابق آصف زرداری 29ستمبر کو صبح ساڑھے آٹھ بجے احتساب عدالت اسلام آباد نمبر تین پیش ہوں۔ فرد جرم کا جواب دینے کیلئے ذاتی حیثیت میں پیشی لازم ہے۔آصف علی زرداری کو سمن بلاول ہاؤس کراچی کے پتے پر ارسال کیا گیا۔ رجسٹرار احتساب عدالت کی جانب سے جاری سمن نیب تفتیشی نے ارسال کیا۔آصف زرداری پر آٹھ ارب سے زائد کی مبینہ م...

مشکوک ٹرانزیکشن کیس'آصف زرداری فردجرم عائد کرنے کیلئے 29ستمبر کو طلب

چیئرمین نیب کی مدت ملازمت کا معاملہ آئندہ ہفتے واضح ہوگا وجود - جمعه 24 ستمبر 2021

وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان چیئرمین نیب کیلئے ایک نہیں بلکہ مختلف ناموں پرغور کریں گے، آئندہ ہفتے چیئرمین نیب کی مدت ملازمت کا معاملہ واضح ہوگا ۔چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق وفاقی وزیر قانون نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں توسیع کیلئے آرڈیننس کا مسودہ تیار نہیں، توسیع پر وزیراعظم کے سامنے 4 سے 5 بار معاملہ زیربحث آیا، آئندہ ہفتے چیئرمین نیب کی مدت ملازمت کا معاملہ واضح ہوگا۔انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب کے ن...

چیئرمین نیب کی مدت ملازمت کا معاملہ آئندہ ہفتے  واضح ہوگا

مودی کی واشنگٹن آمد پر سکھ مظاہرین کا احتجاج وجود - جمعه 24 ستمبر 2021

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے واشنگٹن آمد پر سکھ مظاہرین نے احتجاج کیا ہے۔بھارتی وزیر اعظم نریندرمودی ولرڈ ہوٹل میں مقیم ہیں جس کے باہر سکھ مظاہرین نے دھرنا دے دیا۔سکھ فار جسٹس کمیونٹی نے ولرڈ ہوٹل کے باہر خالصتان کے پرچم لہرا دیے، مظاہرین نے مودی کے خلاف اور خالصتان کی آزادی کے لیے نعرے بازی بھی کی۔

مودی کی واشنگٹن آمد پر سکھ مظاہرین کا احتجاج

نواز شریف کے کورونا ویکسین کا جعلی اندراج ، ہسپتال کے ایم ایس اور ایم او معطل وجود - جمعه 24 ستمبر 2021

مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف کے کورونا ویکسین کے جعلی اندراج کے معاملے پر کوٹ خواجہ سعید ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر احمد ندیم اور غفلت کے باعث سینئر میڈیکل آفیسر ڈاکٹر منیر کو معطل کر دیا گیا۔ محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ادھر پنجاب حکومت کی جانب سے بنائی گئی چار رکنی تحقیقاتی ٹیم نے رپورٹ تیار کر کے وزیراعلیٰ پنجاب کو پیش کر دی جس میں تہلکہ خیز انکشافات کیے گئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ کوررونا ویکسیشن ڈیٹا چوکیدار اور وارڈ بوائے رجسٹرڈ کرتے ...

نواز شریف کے کورونا ویکسین کا جعلی اندراج ، ہسپتال کے ایم ایس اور ایم او معطل

دبئی ایکسپو میں فرعون کے تابوت کی بھی نمائش ہوگی وجود - جمعه 24 ستمبر 2021

دبئی ایکسپو میں فرعون کے تابوت کی بھی نمائش ہوگی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق آئندہ ماہ منعقد ہونے والے دبئی ایکسپو میں فرعون کا تابوت مصر کے پویلین میں نمائش کیلئے رکھا جائے گا۔ سامتک کا قدیم تابوت رنگین لکڑی کا ہے جو حال ہی میں دریافت ہوا ہے۔ مصر کا پویلین آثار قدیمہ اور سیاحتی مقامات کو پیش کرے گا۔

دبئی ایکسپو میں فرعون کے تابوت کی بھی نمائش ہوگی

مضامین
عوام کے آئیڈیل وجود هفته 25 ستمبر 2021
عوام کے آئیڈیل

کھیل پر سیاست وجود هفته 25 ستمبر 2021
کھیل پر سیاست

سائنس بھی بھارتی سیاست کی بھینٹ چڑھنے لگی وجود هفته 25 ستمبر 2021
سائنس بھی بھارتی سیاست کی بھینٹ چڑھنے لگی

کفن کی جیب وجود جمعه 24 ستمبر 2021
کفن کی جیب

چھوٹے قد،بڑھتے مسلمان۔۔ وجود جمعه 24 ستمبر 2021
چھوٹے قد،بڑھتے مسلمان۔۔

ٹرمپ، جنرل مارک ملی اور چین وجود جمعه 24 ستمبر 2021
ٹرمپ، جنرل مارک ملی اور چین

کھیل کے ساتھ کھلواڑ کاعالمی تماشہ وجود جمعرات 23 ستمبر 2021
کھیل کے ساتھ کھلواڑ کاعالمی تماشہ

حیدرآباد دکن کا ہولو کاسٹ! وجود جمعرات 23 ستمبر 2021
حیدرآباد دکن کا ہولو کاسٹ!

خطہ پنجاب تاریخ کے آئینے میں وجود بدھ 22 ستمبر 2021
خطہ پنجاب تاریخ کے آئینے میں

ایشیا کا میدان وجود بدھ 22 ستمبر 2021
ایشیا کا میدان

قانون کا ڈنڈا وجود بدھ 22 ستمبر 2021
قانون کا ڈنڈا

اپوزیشن کے بغیر طاقتور احتجاج وجود بدھ 22 ستمبر 2021
اپوزیشن کے بغیر طاقتور احتجاج

اشتہار

افغانستان
طالبان حکومت کے بعد پاکستان کی افغانستان کیلئے برآمدات دگنی ہوگئیں وجود جمعه 17 ستمبر 2021
طالبان حکومت کے بعد پاکستان کی افغانستان کیلئے برآمدات دگنی ہوگئیں

امریکا کا نیا کھیل شروع، القاعدہ آئندہ چند سالوں میں ایک اور حملے کی صلاحیت حاصل کر لے گی،ڈپٹی ڈائریکٹر سی آئی اے وجود بدھ 15 ستمبر 2021
امریکا کا نیا کھیل شروع،  القاعدہ آئندہ چند سالوں میں ایک اور حملے کی صلاحیت حاصل کر لے گی،ڈپٹی ڈائریکٹر سی آئی اے

طالبان دہشت گرد ہیں تو پھر نہرو،گاندھی بھی دہشت گرد تھے، مہتمم دارالعلوم دیوبند کا بھارت میں کلمہ حق وجود بدھ 15 ستمبر 2021
طالبان دہشت گرد ہیں تو پھر نہرو،گاندھی بھی دہشت گرد تھے، مہتمم دارالعلوم دیوبند کا بھارت میں کلمہ حق

نئے افغان آرمی چیف نے عہدے کا چارج سنبھال لیا وجود بدھ 15 ستمبر 2021
نئے افغان آرمی چیف نے عہدے کا چارج سنبھال لیا

افغان قیادت نے مشکل کی گھڑی میں قطر کے تعاون کا شکریہ ادا کیا، سہیل شاہین وجود پیر 13 ستمبر 2021
افغان قیادت نے مشکل کی گھڑی میں قطر کے تعاون کا شکریہ ادا کیا، سہیل شاہین

اشتہار

بھارت
کملا ہیرس سے ملاقات، مودی شدید تنقید کی زد میں آگئے وجود هفته 25 ستمبر 2021
کملا ہیرس سے ملاقات، مودی شدید تنقید کی زد میں آگئے

مودی پر منشیات اسمگلنگ کے الزامات وجود جمعه 24 ستمبر 2021
مودی پر منشیات اسمگلنگ کے الزامات

پاکستان میں بم دھماکے کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا،سابق'' را'' ایجنٹ کا اعتراف وجود جمعرات 23 ستمبر 2021
پاکستان میں بم دھماکے کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا،سابق'' را'' ایجنٹ کا اعتراف

سکھوں کے قتل کا الزام' امریکی عدالت نے نریندر مودی کو سمن جاری کردیا وجود جمعرات 23 ستمبر 2021
سکھوں کے قتل کا الزام' امریکی عدالت نے نریندر مودی کو سمن جاری کردیا

بھارت‘ مذہبی اعتبار سے آبادی کے تناسب میں تبدیلی‘مسلم آبادی میں اضافہ وجود جمعرات 23 ستمبر 2021
بھارت‘ مذہبی اعتبار سے آبادی کے تناسب میں تبدیلی‘مسلم آبادی میں اضافہ
ادبیات
اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب وجود پیر 20 ستمبر 2021
اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب

تاجکستان بزنس کنونشن میں عمران خان پر شعری تنقید، اتنے ظالم نہ بنو،کچھ تو مروت سیکھو! وجود جمعه 17 ستمبر 2021
تاجکستان بزنس کنونشن میں عمران خان پر شعری تنقید، اتنے ظالم نہ بنو،کچھ تو مروت سیکھو!

طالبان کا ’بھگوان والمیکی‘ سے موازنے پر منور رانا کے خلاف ایک اور مقدمہ وجود منگل 24 اگست 2021
طالبان کا ’بھگوان والمیکی‘ سے موازنے پر منور رانا کے خلاف ایک اور مقدمہ

عظیم ثنا ء خواں،شاعر اورنغمہ نگار مظفر وارثی کی دسویں برسی منائی گئی وجود جمعرات 28 جنوری 2021
عظیم ثنا ء خواں،شاعر اورنغمہ نگار مظفر وارثی کی دسویں برسی منائی گئی

لارنس آف عربیا، بچپن کیسے گزرا؟ وجود منگل 20 اکتوبر 2020
لارنس آف عربیا، بچپن کیسے گزرا؟
شخصیات
سینئرصحافی و افغان امورکے ماہر رحیم اللہ یوسف زئی انتقال کر گئے وجود جمعه 10 ستمبر 2021
سینئرصحافی و افغان امورکے ماہر رحیم اللہ یوسف زئی انتقال کر گئے

بلوچستان کے قوم پرست رہنما ، سردار عطااللہ مینگل کراچی میں انتقال کرگئے وجود جمعه 03 ستمبر 2021
بلوچستان کے قوم پرست رہنما ، سردار عطااللہ مینگل کراچی میں انتقال کرگئے

سچے پاکستانی، سینئر کشمیری حریت رہنما سید علی گیلانی انتقال کرگئے وجود جمعرات 02 ستمبر 2021
سچے پاکستانی، سینئر کشمیری حریت رہنما سید علی گیلانی انتقال کرگئے

پاکستان کے امجد ثاقب ایشیا کا سب سے بڑا ایوارڈ جیتنے میں کامیاب وجود بدھ 01 ستمبر 2021
پاکستان کے امجد ثاقب ایشیا کا سب سے بڑا ایوارڈ جیتنے میں کامیاب

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی طبیعت بگڑ گئی وجود بدھ 01 ستمبر 2021
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی طبیعت بگڑ گئی