وجود

... loading ...

وجود

نائن الیون: دہشت گردی کے خلاف جنگ امریکا کو بہت مہنگی پڑی

هفته 11 ستمبر 2021 نائن الیون: دہشت گردی کے خلاف جنگ امریکا کو بہت مہنگی پڑی

بیس سال قبل امریکا میں ورلڈ ٹریڈ ٹاؤر پر ایک پراسرار حملے کی حقیقت پر بحث آج بھی جاری ہے۔ امریکا نے اس اپراسرار حملے کے بعد ”دہشت گردی“کے خلاف نام نہاد جنگ کا اعلان کر دیا۔ اس جنگ کے نتائج سے ساری دنیا طویل عرصے تک نمٹنے کی جدوجہد کرتی رہے گی۔ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق نیویارک کے گراونڈ زیرو پر ایک نئے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ٹاورز کھڑے کیے جا رہے ہیں ساتھ ہی ان حملوں کے ان تین ہزار متاثرین کی یادگار بھی تعمیر کی جا رہی ہے جنہوں نے امریکا سمیت تمام دنیا کے دلوں پر گہرے نقوش چھوڑے۔ ان صدمات سے گزرنے والا شہر نیویارک کافی حد تک سنبھل گیا اور دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا بھی ہوگیا اور کورونا کی وبا تک اس شہر کی معیشت خوب پھل پھول رہی تھی۔ تاہم امریکا سے لے کر مشرق وسطی کے وسیع تر حصے اور ہندو کش کی ریاست افغانستان تک کچھ بھی پہلے جیسا باقی نہیں رہا۔حال ہی میں کابل کے ہوائی اڈے پر امریکی فوج کی انخلاء کی کارروائی کے دوران ہونے والے دہشت گردانہ حملوں میں قریب 170 افغان باشندے اور ایک درجن سے زیادہ امریکی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ ان حملوں کی ذمہ داری، ایک بار پھر اسلامی گروپوں کی جانب سے ذمہ داری قبول کرنے کے روایتی مگر مشکوک طریقے سے داعش نے قبول کی یا قبول کرادی گئی۔

امریکی انخلاء سے قبل ڈرون حملہ جس میں داعش کو نشانا بنانے کادعویٰ کیا گیا مگر ہلاک شخص امریکی این جی اوز کا ہی ملازم نکلا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسلامک اسٹیٹ یا داعش کا 20 سال قبل کوئی وجود ہی نہیں تھا۔جرمن شہر ہیمبرگ سے تعلق رکھنے والے ایک مورخ بیرنڈ گرائنر کے مطابق ”ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ آئی ایس کا عروج 2003 میں صدام حسین کی حکومت گرنے کا براہ راست نتیجہ تھا۔ جرمن تاریخ دان نے مزید وضاحت کی کہ داعش کے جنگجوں کی پہلی نسل کا ایک بڑا حصہ صدام حسین کی پرانی فوج سے تعلق رکھتا تھا۔ ” صدام کی فوج کو امریکا نے فورا سے پیشتر ختم کر دیا جس کے نتیجے میں لاکھوں نوجوان بغیر کسی مستقبل اور روزگار کے امکانات کے سڑکوں پر کھڑے تھے۔ جرمن ماہر کےبقول یہ صورتحال انتہا پسندی اور بنیاد پرستی کے رجحان کے لیے کھاد کی حیثیت رکتی ہے۔


ورلڈ ٹریڈ سینٹر معاشی قوت کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ پراسرار حملون کا نشانا پینٹا گون بھی تھا۔ ان حملوں میں بڑی تعداد میں ہونے والی ہلاکتوں نے عوامی جذبات بھڑکا دیے اور امریکی قوم صدمے کا شکار ہو گئی۔ ان حملوں میں مسافر طیاروں کو بطور ہتھیار استعمال کیا گیا۔ اس کے بعد امریکا میں بغیر شواہد کے یہ دعوی کردیا گیا کہ تمام دہشت گردانہ کارروائیاں افغانستان کے ایک خیمے میں بیٹھے ایک سعودی باشندے’اسامہ بن لادن‘ کے اشاروں پر ہو رہی تھیں۔ دنیا کی سب سے بڑی قوت کے لیے یہ بے مثال خجالت اور تذلیل تھی۔ وہ ملک جو سرد جنگ کے درجنوں سالوں بعد اور سوویت یونین کا شیرازہ بکھرنے کے بعد شاید اپنی طاقت کے عروج پر تھا، جو خود کو بہت مضبوط، ناقابل تسخیر تصور کرتا تھا۔ امریکا نے مایوسی اور دکھ کے ساتھ رد عمل ظاہر کیا اور تمام عالمی برادری کی ہمدردی سمیٹ لی جس نے بھرپور غصے کا مظاہرہ اور بدلہ لینے کا مطالبہ شروع کر دیا۔ ہمارے وقار پر اب سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ امریکا نے افغانستان میں تو کوئی کامیابی نہیں سمیٹی لیکن پاکستان میں ایک ”پراسرار“حملے اور کارروائی سے اپنی جنگ میں واضح شکست کی خجالت کا سامان کچھ کم کیا۔

ایبٹ آباد کا وہ کمپاؤنڈ جہاں اسامہ بن لاد ن کو نشانا بنانے کا دعویٰ کیا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امریکا نے ایبٹ آباد آپریشن کے ذریعے یہ دعویٰ کیا کہ یہاں اسامہ بن لادن کو ہد ف بنایا گیا۔ اس سے قبل افغانستان میں کارروائی سے قبل جس طرح نوگیارہ کے حملوں کے”ذمہ داران“کے خلاف کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا تھا۔امریکا نے اپنی بے پناہ طاقت سے صرف اس دعوے کو کافی سمجھا کہ اس کے پیچھے اسامہ بن لادن ہے۔ آج نو گیارہ کے بیس سال بعد بھی اس دعوے کے حق میں کوئی قابل اعتبار ثبوت سامنے نہیں آسکا۔ ٹھیک اسی طرح ایبٹ آباد کارروائی کے اب بھی بہت سے گوشے نظروں سے اوجھل ہیں۔ آج تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ اس کارروائی میں اسامہ بن لادن کو نشانا بنایا گیا تھا یا نہیں؟ کیونکہ اس کارروائی سے کئی سال پیشتر سے اسامہ بن لادن کی زندگی کے کوئی آثار کہیں سے نہیں مل رہے تھے۔ اس کارروائی میں نشانہ بننے والے اسامہ بن لادن کے خاندان کے دیگر افراد کے متعلق آج تک معلوم نہیں ہوسکا کہ وہ کہاں ہیں۔ اس حوالے سے متبادل ذرائع سے معلومات کے تمام دروازے ایک بندوبست کے ذریعے مقفل کردیے گئے۔ تاہم اس کارروائی کو پہلی بار مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کی تاریخ میں مشترکہ مقدمہ قرار دیا گیا اور اس فوجی کارروائی کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اس اتحاد نے اپنے مشترکہ دفاع کے طور پر جائز قرار دیا۔نوگیارہ کے چند ہفتوں کے اندر افغانستان میں طالبان حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔
2003 میں اس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے عراق پر حملہ کر دیا۔ تب تو اس کا کوئی قانونی جواز موجود نہیں رہا تھا۔

صدام حسین کے نائن الیون کے حملہ آوروں سے کسی قسم کے روابط اور آمر عراقی حکمران کی طرف سے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار سازی کے دعوے فسق اور جھوٹے تھے۔امریکا کے بہت سے سیاستدانوں نے گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے واقعات کے بعد یہ سوچا کہ ان کے پاس یہ ایک موقع ہے پوری دنیا کے سامنے اپنی قوت کے مظاہرے کا، یہ ظاہر کرنے کا کہ امریکی ایک ‘ ناگزیر قوم ہے۔ ایک امریکی مرخ اسٹیفن ویرتھ ہائم نے ان خیالات کا اظہارکچھ اس طرح کیا ”امریکا کو ایک ناگزیر قوم کی حیثیت سے منوانے کے لیے امریکی سیاستدانوں نے ایک پورے ملک اور خطے کو نئے سرے سے ڈیزائن کرنے کی کوش کی“۔جرمن مورخ بیرنڈ گرائنردہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ کا پیرایہ ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں:”امریکا دنیا، خاص طور سے عرب دنیا کو یہ باور کرانا چاہتا تھا کہ کوئی بھی جو مستقبل میں اس سے الجھے گا، وہ اپنی بقا کو داؤپر لگائے گا“۔ جرمن مورخ کے مطابق ”دراصل افغانستان اور عراق دونوں میں امریکی کارروائی علامتی حیثیت رکھتی ہے۔سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کی اعلان کردہ ‘دہشت گردی کے خلاف جنگ“کبھی نا ختم ہونے والی نام نہاد جنگ بن کر رہ گئی۔ ایک ایسی جنگ جس کی نہ وقتی نہ ہی جغرافیائی وضاحت کی جا سکتی ہے۔ یہ بس عالمی سطح پر لڑی جا رہی تھی۔ برلن میں قائم ایک تھنک ٹینک ایس ڈبلیو پی سے منسلک ایک ماہر ژوہانس تھم کے بقول، ”دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تقریبا 9 لاکھ تیس ہزار انسانی جانیں ضائع ہوئیں اور یہ تمام افراد براہ راست جنگ میں مارے گئے۔ ان میں سے قریب چار لاکھ عام شہری تھے۔مذکورہ جنگ پر آنے والی لاگت یا تخمینے کے مطابق ‘ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ میں صرف امریکا کو اربوں ڈالر کی ناقابل تصور قیمت ادا کرنا پڑی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی ماہر بیرنڈ گرائنر اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ”پوری دنیا پر اس کے اثرات سے قطع نظر امریکا کو عراق اور افغانستان میں اس ہیجانی جنگ سے بہت بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔


متعلقہ خبریں


پی ٹی آئی رہنما شہباز گل اسلام آباد بنی گالہ چوک سے گرفتار وجود - منگل 09 اگست 2022

پی ٹی آئی رہنما شہباز گل کو عاشور کے روز اسلام آباد سے گرفتار کرلیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق اُنہیں اسلام آباد بنی گالہ چوک سے گرفتار کیا گیا۔ شہباز گل کے خلاف تھانہ بنی گالہ میں بغاوت پر اُکسانے کا مقدمہ بھی درج کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ ذرائع کے مطابق شہباز گل کی گرفتاری کے دوران ڈ...

پی ٹی آئی رہنما شہباز گل اسلام آباد بنی گالہ چوک سے گرفتار

مائنس عمران خان کی پیشکش لانے والے کون تھے نہیں بتا سکتا، اسد عمر وجود - منگل 09 اگست 2022

پاکستان تحریک انصاف کے جنرل سیکریٹری اور سابق وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا ہے کہ مائنس عمران خان کی پیشکش لانے والے کون تھے نہیں بتا سکتا۔ ایک انٹرویو میں تحریک انصاف کے سینئر رہنما اسد عمر نے کہا کہ مائنس عمران خان کی پیشکش لانے والے کون تھے نہیں بتا سکتا، لیکن ایک بات واضح کرتا ہو...

مائنس عمران خان کی پیشکش لانے والے کون تھے نہیں بتا سکتا، اسد عمر

یوم عاشورآج مذہبی عقیدت و احترام سے منایا جائیگا وجود - منگل 09 اگست 2022

سیکیورٹی کے سخت انتظامات،موبائل سروس بند،ڈبل سواری پرپابندی کراچی سمیت ملک بھر میں ذوالجناح اور تعزیے کے جلوس برآمد ،روایتی راستوں سے ہوتے ہوئے دس محرم کو اختتام پذیر ہونگے جلوسوں کے اختتام پر شام غریباں برپا کی جائیں گی، پولیس کے ساتھ پاک فوج ، رینجرز اور ایف سی کے دستے بھی ...

یوم عاشورآج مذہبی عقیدت و احترام سے منایا جائیگا

فوج میں اعلیٰ عہدوں پرتبادلے ، لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کور کمانڈر بہاولپورتعینات وجود - منگل 09 اگست 2022

ملٹری سیکریٹری پاکستان آرمی لیفٹیننٹ جنرل سردار حسن اظہر حیات کور کمانڈر پشاور تعینات ،بہاولپور کے موجودہ کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل خالد ضیا کو ملٹری سیکرٹری پاکستان آرمی تعینات کردیاگیا لیفٹیننٹ جنرل سردار حسن اظہر حیات مغربی سرحد کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور وہ جی او سی میران شا...

فوج میں اعلیٰ عہدوں پرتبادلے ، لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کور کمانڈر بہاولپورتعینات

اے پی ایس حملے کا ماسٹرمائنڈ عمرخالد خراسانی بم دھماکے میں ہلاک وجود - منگل 09 اگست 2022

افغانستان کے صوبے پکتیکا میں ہونے الے دھماکے میں ٹی ٹی پی ترجمان عمرخالد خراسانی کے دو ساتھی مفتی حسن اورحافظ دولت بھی ہلاک ہوئے عمرخالد خراسانی کا شمار ٹی ٹی پی کے اہم کمانڈروں میں کیا جاتا تھا عمرخالد خراسانی نے کابل میں پاکستان کے ساتھ امن مذاکرات میں حصہ بھی لیا تھا،ان کی زن...

اے پی ایس حملے کا ماسٹرمائنڈ عمرخالد خراسانی بم دھماکے میں ہلاک

اسری یونیورسٹی کے چانسلر کی گرفتاری، مزید انکشافات وجود - منگل 09 اگست 2022

یف آئی آر ایک اعلیٰ پولیس افسر کی ہدایات پر کاٹی گئی، حمید اللہ قاضی کی گرفتاری سے قبل اسری ولیج میں ولی اللہ قاضی کی گرفتاری کیلئے چھاپہ مارا گیا ڈاکٹر حمید اللہ قاضی کی ہٹڑی تھانے پر ہتھکڑیاں لگی فوٹو نکال کر سوشل میڈیا پر وائرل ،تعلیمی و عوامی حلقوں میں پولیس کی کارروائی پر ش...

اسری یونیورسٹی کے چانسلر کی گرفتاری، مزید انکشافات

ایم این اے فنڈسے بنائی گئی سڑکیں بارش میں بہہ گئیں وجود - منگل 09 اگست 2022

ملک میں سیاسی بساط بچھانے والوں کوکراچی کی کوئی فکرنہیں حافظ نعیم الرحمن اب کراچی والوں کو بھی سمجھنا چاہیئے کہ اب ہمیں ایسے لوگوںکے پیچھے نہیں جانا چاہیئے جو 35 سال سے کراچی کا استحصال کررہے ہیں قوم اور ذات کے نام پر تقسیم کرنے والوں کو مسترد کردیں،28 اگست کو ترازو پر مہر لگا...

ایم این اے فنڈسے بنائی گئی سڑکیں بارش میں بہہ گئیں

ارشد ندیم نے گولڈ میڈل جیت کرتاریخ رقم کردی وجود - منگل 09 اگست 2022

ارشدندیم 90 میٹر کی تھرو کرنیوالے جنوبی ایشیا کے پہلے ایتھلیٹ بن گئے ،انھوں نے پانچویں باری میں 90.18 میٹر کی ریکارڈ تھرو کی ارشد ندیم سب سے بڑی تھرو کرنے والے جنوبی ایشیا کے پہلے اوردوسرے ایشین بن گئے ہیں،صدر،وزیراعظم ،آرمی چیف سمیت اہم شخصیات کی مبارکباد بر منگھم (فارن ڈیسک)...

ارشد ندیم نے گولڈ میڈل جیت کرتاریخ رقم کردی

پاکستان میں ریل کاسفرخطرے کی علامت بن گیا وجود - منگل 09 اگست 2022

ریلوے کو کمرشل بنیادوں پر چلانے، سرمایہ کاری ،اصلاحات،کراس بارڈر فریٹ ریلویزاورکمرشلائزیشن کے وسیع مواقع ہیں، اے ڈی پی پاکستان سمیت دیگر ممالک کو ریلوے کی کارکردگی بہتری بنانے کی ضرورت ہے ،ماڈرن کمرشل اکائونٹنگ سسٹم متعارف کرانا نا گزیر ہے کراچی(نیوز:ایجنسیاں)ایشیائی ترقیاتی بی...

پاکستان میں ریل کاسفرخطرے کی علامت بن گیا

چند استعفوں کی منظوری حکومت کی سیاسی چال اور بدنیتی ہے ، شاہ محمود قریشی وجود - منگل 09 اگست 2022

الیکشن کمیشن نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا تو عمران خان نو حلقوں سے انتخاب لڑیں گے، پک اینڈ چوز کرنا بدنیتی ہے پاکستان کو برباد کرنے والوں کا مقابلہ سیاسی طور پر کریں گے، پریڈ گراؤنڈ میں جگہ نہ ملی تو راولپنڈی میں جلسہ کریں گے، میڈیا سے گفتگو ملتان (نیوز:ایجنسیاں) پاکستان تحریک ان...

چند استعفوں کی منظوری حکومت کی سیاسی چال اور بدنیتی ہے ، شاہ محمود قریشی

ہیلی کاپٹر حادثے پر توہین آمیز مہم کی تحقیقاتی کمیٹی میں آئی ایس آئی، آئی بی افسران بھی شامل وجود - منگل 09 اگست 2022

اسلام آباد (بیورورپورٹ)سانحہ لسبیلہ ہیلی کاپٹر حادثہ و شہداء سے متعلق سوشل میڈیا پر منفی پراپیگنڈے کی تحقیقات کے معاملے پر جوائنٹ انکوائری ٹیم کا دائرہ کار بڑھا کر انٹیلی جنس ایجنسیز کے دو افسران بھی ٹیم میں شامل کر لیے گئے۔وزارت داخلہ نے ایف آئی اے کی جانب سے تشکیل دی جانے وال...

ہیلی کاپٹر حادثے پر توہین آمیز مہم کی تحقیقاتی کمیٹی میں آئی ایس آئی، آئی بی افسران بھی شامل

پی ٹی آئی والوں نے اگر دھونس، دھمکی دی تو 25 مئی سے برا حشر ہوگا، رانا ثناء اللہ وجود - منگل 09 اگست 2022

نشاندہی ہوگئی ہے کون لوگ قوم کو گمراہ کرتے ہیں، کون ٹرینڈ چلاتے ہیں، شہداء کے خلاف ٹرینڈ چلانے والے گمراہی کا شکار ہیں الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد کوئی شک نہیں رہا عمران خان غیرملکی ایجنٹ ہے،توشپ خانہ سے عمران خان نے کچھ نہیں چھوڑا،وزیرداخلہ اسلام آبا د(بیورورپورٹ)وفاقی وزیر ...

پی ٹی آئی والوں نے اگر دھونس، دھمکی دی تو 25 مئی سے برا حشر ہوگا، رانا ثناء اللہ

مضامین
جشن آزادی ۔۔ وجود اتوار 14 اگست 2022
جشن آزادی ۔۔

مزاحمت کی علامت وجود هفته 13 اگست 2022
مزاحمت کی علامت

ہنسو،ہنساؤ، کولیسٹرول گھٹاؤ وجود جمعه 12 اگست 2022
ہنسو،ہنساؤ، کولیسٹرول گھٹاؤ

خانہ فرہنگ ایران میں ایک نشست وجود جمعه 12 اگست 2022
خانہ فرہنگ ایران میں ایک نشست

ستاروں سے بھی آگے وجود جمعه 12 اگست 2022
ستاروں سے بھی آگے

میں بھی یہیں کہیں کا ہوں! وجود جمعرات 11 اگست 2022
میں بھی یہیں کہیں کا ہوں!

اشتہار

تہذیبی جنگ
یورپین سول سوسائٹی کی تنظیموں کا اسلاموفوبیا سے نبرد آزما ہونے کے لیے اتحاد کا فیصلہ وجود جمعرات 16 جون 2022
یورپین سول سوسائٹی کی تنظیموں کا اسلاموفوبیا سے نبرد آزما ہونے کے لیے اتحاد کا فیصلہ

گستاخانہ بیانات:چین بھی ہندو انتہا پسند بھارتی حکومت پر برہم ہو گیا وجود منگل 14 جون 2022
گستاخانہ بیانات:چین بھی ہندو انتہا پسند بھارتی حکومت پر برہم ہو گیا

بی جے پی کا ایک اور گستاخ، پیغمبرِ اسلامۖ کے خلاف توہین آمیز ٹوئٹس پر گرفتار وجود بدھ 08 جون 2022
بی جے پی کا ایک اور گستاخ، پیغمبرِ اسلامۖ کے خلاف توہین آمیز ٹوئٹس پر گرفتار

گستاخانہ بیان پر انڈونیشیا، ملائیشیا کا بھارت سے احتجاج وجود بدھ 08 جون 2022
گستاخانہ بیان پر انڈونیشیا، ملائیشیا کا بھارت سے احتجاج

بھارتی سیاست دانوں کا رویہ دہشت گردی پر مبنی ہے، مصری درسگاہ جامعہ الازہر وجود منگل 07 جون 2022
بھارتی سیاست دانوں کا رویہ دہشت گردی پر مبنی ہے، مصری درسگاہ جامعہ الازہر

گستاخانہ بیان پر بی جے پی ترجمان کو پولیس نے طلب کرلیا وجود منگل 07 جون 2022
گستاخانہ بیان پر بی جے پی ترجمان کو پولیس نے طلب کرلیا

اشتہار

بھارت
اگنی پتھ اسکیم نے بھارت میں آگ لگادی ،مظاہروں میں شدت وجود اتوار 19 جون 2022
اگنی پتھ اسکیم نے بھارت میں آگ لگادی ،مظاہروں میں شدت

سکھوں کا بھارتی پنجاب کی علیحدگی کے لیے ریفرنڈم کا اعلان، خالصتان کا نقشہ جاری وجود جمعرات 09 جون 2022
سکھوں کا بھارتی پنجاب کی علیحدگی کے لیے ریفرنڈم کا اعلان، خالصتان کا نقشہ جاری

بی جے پی کا ایک اور گستاخ، پیغمبرِ اسلامۖ کے خلاف توہین آمیز ٹوئٹس پر گرفتار وجود بدھ 08 جون 2022
بی جے پی کا ایک اور گستاخ، پیغمبرِ اسلامۖ کے خلاف توہین آمیز ٹوئٹس پر گرفتار

گستاخانہ بیان پر انڈونیشیا، ملائیشیا کا بھارت سے احتجاج وجود بدھ 08 جون 2022
گستاخانہ بیان پر انڈونیشیا، ملائیشیا کا بھارت سے احتجاج
افغانستان
طالبان کا متحدہ عرب امارات سے ائیرپورٹس چلانے کا معاہدہ کرنے کا اعلان وجود بدھ 25 مئی 2022
طالبان کا متحدہ عرب امارات سے ائیرپورٹس چلانے کا معاہدہ کرنے کا اعلان

خواتین براڈ کاسٹرز پر برقع مسلط نہیں کرتے، چہرہ ڈھانپنے کا کہا ہے،طالبان وجود پیر 23 مئی 2022
خواتین براڈ کاسٹرز پر برقع مسلط نہیں کرتے، چہرہ ڈھانپنے کا کہا ہے،طالبان

سقوطِ کابل کے بعد بہت سے افغان فوجی پاکستان فرار ہوئے، امریکا وجود پیر 23 مئی 2022
سقوطِ کابل کے بعد بہت سے افغان فوجی پاکستان فرار ہوئے، امریکا

بھارت کی افغانستان میں سفارتخانہ کھولنے کے لیے طالبان سے بات چیت وجود بدھ 18 مئی 2022
بھارت کی افغانستان میں سفارتخانہ کھولنے کے لیے طالبان سے بات چیت
ادبیات
مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع کردار پرنئی کتاب شائع وجود هفته 23 اپریل 2022
مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع  کردار پرنئی کتاب شائع

مستنصر حسین تارڑ کا ادبی ایوارڈ لینے سے انکار وجود بدھ 06 اپریل 2022
مستنصر حسین تارڑ کا ادبی ایوارڈ لینے سے انکار

پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل وجود منگل 04 جنوری 2022
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل

پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی
شخصیات
عامر لیاقت کی تدفین کردی گئی، نماز جنازہ بیٹے نے پڑھائی وجود جمعه 10 جون 2022
عامر لیاقت کی تدفین کردی گئی، نماز جنازہ بیٹے نے پڑھائی

تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عامر لیاقت حسین انتقال کر گئے وجود جمعرات 09 جون 2022
تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عامر لیاقت حسین انتقال کر گئے

چیف جسٹس عمر عطا بندیال ٹائم میگزین کے سال کے 100 بااثر ترین افراد میں شامل وجود منگل 24 مئی 2022
چیف جسٹس عمر عطا بندیال ٹائم میگزین کے سال کے 100 بااثر ترین افراد میں شامل

گوگل کا ڈوڈل گاما پہلوان کے نام وجود اتوار 22 مئی 2022
گوگل کا ڈوڈل گاما پہلوان کے نام