وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

عورتیں زمانہ قدیم سے ہی جنگجو ہیں

جمعه 10 ستمبر 2021 عورتیں زمانہ قدیم سے ہی جنگجو ہیں

(مہمان کالم)

اینالی نیوٹز

اگرچہ یہ بات قابل ذکر ہے کہ آخر کار ریاست ہائے متحدہ امریکا میں ایک خاتون نائب صدر کو فرائض سنبھالے آٹھ ماہ ہو چکے ہیں لیکن اسے ایک بے مثال کامیابی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ جیسا کہ آثار قدیمہ کے کچھ حالیہ مطالعات سے پتا چلتا ہے، ہزاروں سال سے خواتین رہنما، جنگجو اور شکاری رہی ہیں۔ یہ نئی تحقیق قدیم تاریخ میں صنف کے قدرتی نام نہاد کردار کے بارے میں دیرینہ عقائد کو چیلنج کر رہی ہے اور دعوت دے رہی ہے کہ ہم اسے نئے سرے سے زیر بحث لائیں کہ آج ہم خواتین کے کام کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔
گزشتہ ماہ ماہر بشریات اور دوسرے محققین کے ایک گروپ نے اینڈیس میں دفن 9000 سال پرانی ایک بڑے شکاری کی باقیات کے بارے میں علمی جریدے سائنس ایڈوانسس میں ایک مقالہ شائع کیا۔ اس دور کے دوسرے شکاریوں کی طرح، اس شخص کو ایک خصوصی ٹول کٹ کے ساتھ دفن کیا گیا جس میں شکار کا تعاقب کرنے، زمانہ قدیم کی ساختہ گولیاں، کھال اتارنے کے لیے کھرچنی اور چاقو کی طرح نظر آنے والا ایک آلہ شامل تھا۔ میت کے بارے میں خاص طور پر کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی، البتہ بالغ مرد شکاری کی نسبت ٹانگوں کی ہڈیاں نسبتاً پتلی تھیں۔ لیکن جب سائنس دانوں نے دانتوں کے تامچینی کا جدید طریقہ استعمال کرتے ہوئے فرانزک تجزیہ کیا تا کہ معلوم ہو کہ ڈھانچہ مرد کا ہے یا عورت کا تو شکاری لڑکی نکلی۔
یہ معلومات سامنے آنے کے بعد، محققین نے امریکا میں تقریباً اسی دور کی 107 دیگر قبروں سے باقیات کا دوبارہ جائزہ لیا۔ انہیں یہ جان کر حیرت ہوئی کہ شکار کے آلات والی 26 قبروں میں سے 10 خواتین کی ہیں۔ یونیورسٹی آف اوکلاہوما، نارمن کے ماہر آثار قدیمہ بونی پٹ بلڈو نے سائنس میگزین کو بتایا، ان نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ ’’خواتین ہمیشہ سے شکار کرنے کے قابل رہی ہیں اور حقیقت میں ان کا شکار کیا گیا ہے۔‘‘ نئے اعداد و شمار نے آثار قدیمہ کے میدان میں ایک مسلمہ اصول پر سوال اٹھائے ہیں۔ انسان کو ’’شکاری‘‘ کا لقب دیا جاتا ہے۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ قدیم معاشروں سے مرد اور خواتین کے کردار کو سختی سے طے کر دیا گیا تھا: مرد شکار کرتے تھے اور خواتین جمع کرتی تھیں۔ اب یہ نظریہ ختم ہو سکتا ہے۔
اینڈینز سے متعلق تحقیق کے نتائج قابل ذکر ہیں، لیکن یہ آثار قدیمہ کے پرانے شواہد کا جدید سائنسی تکنیکوں کے استعمال کے ذریعے دوبارہ جائزہ لینے سے ملنے والی پہلی خاتون شکاری یا جنگجو نہیں تھی اور نہ ہی اس قسم کی دریافت ایک گروہ یا دنیا کے ایک حصے تک ہی محدود تھی۔
تین سال پہلے، سائنس دانوں نے 19 ویں صدی کے آخر میں سویڈن میں آثار قدیمہ کے ماہر ہجالمر سٹالپ کی طرف سے کھدائی کر کے نکالی گئی 10 ویں صدی کے بحری ڈاکو کی باقیات کا دوبارہ جائزہ لیا۔ یہ ڈھانچہ ایک پہاڑی کی چوٹی پر بڑے پْر وقار اور شاندار طریقے سے دفن کیا گیا تھا، قبر میں ایک تلوار، دو ڈھالیں، تیر اور دو گھوڑے بھی تھے۔ اس کھدائی کو کئی دہائیاں گزرنے تک آثار قدیمہ کے ماہرین کا خیال تھا کہ یہ ڈھانچہ کسی آدمی کا ہے۔ جب 1970 کی دہائی میں محققین نے ڈھانچے کی دوبارہ تشخیص کی تو انہیں شبہ ہونے لگا کہ بحری قذاق در حقیقت ایک عورت ہے۔ لیکن یہ عقدہ 2017 میں کھلا جب سویڈن کے آثار قدیمہ اور جینیاتی ماہرین کے ایک گروہ نے باقیات سے ڈی این اے نکالا تو جنگجو کی جنس عورت ثابت ہوئی۔ اس کھوج سے تنازع پیدا ہوا کہ آیا یہ ڈھانچہ واقعتاً ایک جنگجو کا تھا،ا سکالرز اور پنڈتوں نے اس پر احتجاج کیا اور اس کو انہوں نے تاریخ میں ترمیم قرار دیا۔ اگرچہ سائنس کے مطابق اس کی جنس غیر متنازع طور پر عورت تھی (ڈھانچے کی ہڈیوں میں دو ایکس کروموسوم تھے)، اس تنقید نے سویڈش محققین کو مجبور کیا کہ شواہد کا دوبارہ جائزہ لیا جائے اور 2019 میں باریک بینی سے دوسرا تجزیہ کیا گیا۔ اس کا حتمی نتیجہ یہی تھا کہ ڈھانچہ درحقیقت ایک عورت کا تھا جو جنگجو تھی۔ نقادوں نے نئے اور منصفانہ نکات اٹھائے ہیں۔ آثار قدیمہ میں، جیسا کہ محققین نے اعتراف کیا، ہم ہمیشہ نہیں جان سکتے کہ ایک گروہ نے کسی کو کسی خاص چیز کے ساتھ کیوں دفن کیا۔ اور ایک خاتون کے جنگجو ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ بہت سی خواتین رہنما تھیں، بالکل اسی طرح جیسے ملکہ الزبتھ اول کا دور حکومت کسی بھی بڑی نسائی تحریک کا حصہ نہیں تھا۔
امریکا کی ابتدائی ثقافتوں کے نئے امتحانات میں بھی انسان کے شکاری ہونے کو نئے چیلنجز کا سامنا ہوا ہے۔ 1960 کی دہائی میں کاہوکیہ کے قدیم شہر، جو اب جنوب مغربی الینوائے میں ہے، میں ایک ہزار سے لے کر 1200 سال قدیم قبرستان کی کھدائی کے دوران انکشاف ہوا کہ دو مرکزی قبریں جو دیگر قبروں سے بلند اور ان کی گھیرے میں ہیں ان کے مقبرے شیل کے موتیوں کی مالا، گولے اور دیگر لگڑری اشیاء سے بھرے ہوئے تھے۔ اس وقت، ماہرین ا?ثار قدیمہ نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ دونوں قبریں سرداروں کی ہیں جبکہ اطراف میں ان کے سپاہی مدفون ہیں۔
لیکن 2016 میں آثار قدیمہ کے ماہرین نے مرکزی قبروں کا نئے سرے سے معائنہ کیا۔ معلوم ہوا کہ دونوں مرکزی شخصیات میں سے ایک مرد اور ایک خاتون تھیں۔ ان کے چاروں طرف موجود قبروں میں بھی دوسرے مرد اور مادہ جوڑے تھے۔ تھامس ایمرسن، جنہوں نے الینوائے یونیورسٹی کے ساتھیوں اور دوسرے اداروں کے سائنسدانوں کے ساتھ ایلی نوائے اسٹیٹ کے آثار قدیمہ کا مطالعہ کیا، نے بیان کیا ہے کہ کاہوکیہ کی دریافت نے مرد اور خواتین کی شرافت کے وجود کو ظاہر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس ایسا کوئی نظام نہیں ہے جس میں مرد غالب شخصیات ہوں اور خواتین کا کردار بہت محدود ہو۔آرمچیر ہسٹری بوفس ایمیزونز اور والکیریز جیسی خواتین جنگجوئوں کے زیر اثر افسانوی معاشروں کے بارے میں جاننا پسند کرتے ہیں۔ لیکن ایک بات واضح ہے کہ یہ تحقیقات کسی مادرسری نظام کی توثیق نہیں کرتے نہ ہی وہ ان معاشروں کے نظریہ کو کوئی سند دیتے ہیں جن کے مطابق مرد مکمل طور پر غلبہ حاصل تھا۔ وہ جو بیان کرتے ہیں وہ اس سب کی نسبت بہت زیادہ منطقی اور قابل ذکر ہے: کچھ خواتین جنگجو اور رہنما تھیں، بہت سی نہیں تھیں۔ عدم مساوات تھی لیکن یہ مطلق نہیں تھی اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بہت ساری تبدیلیاں بھی ہوئیں۔ اس ساری تفصیل کا حاصل یہی ہے کہ جب بات خواتین کو استحکام بخشنے، با اختیار بنانے اور صنفی کرداروں کی ہو تو، ماضی کی طرح ان کا حال بھی مبہم ہی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں


مضامین
چین اور امریکا کے درمیان ہائپر سونک جنگ کی کتھا وجود پیر 25 اکتوبر 2021
چین اور امریکا کے درمیان ہائپر سونک جنگ کی کتھا

مسلم آبادی بڑھنے کا سفید جھوٹ وجود پیر 25 اکتوبر 2021
مسلم آبادی بڑھنے کا سفید جھوٹ

ابن ِعربی وجود اتوار 24 اکتوبر 2021
ابن ِعربی

اصل ڈکیت وجود اتوار 24 اکتوبر 2021
اصل ڈکیت

ایک خوفناک ایجادکی کہانی وجود هفته 23 اکتوبر 2021
ایک خوفناک ایجادکی کہانی

مہنگائی اور احتجاج وجود هفته 23 اکتوبر 2021
مہنگائی اور احتجاج

امریکا میں ڈیلٹا وائرس میں کمی وجود هفته 23 اکتوبر 2021
امریکا میں ڈیلٹا وائرس میں کمی

بھوک اورآنسو وجود جمعه 22 اکتوبر 2021
بھوک اورآنسو

جام کمال کی عداوت میں منفی سرگرمیاں وجود جمعرات 21 اکتوبر 2021
جام کمال کی عداوت میں منفی سرگرمیاں

دل پردستک وجود جمعرات 21 اکتوبر 2021
دل پردستک

مثالی تعلقات کے بعد خرابی کاتاثر وجود جمعرات 21 اکتوبر 2021
مثالی تعلقات کے بعد خرابی کاتاثر

شہدائے کارساز‘‘ کے لواحقین کو چارہ گر کی تلاش ہے وجود جمعرات 21 اکتوبر 2021
شہدائے کارساز‘‘ کے لواحقین کو چارہ گر کی تلاش ہے

اشتہار

افغانستان
افغانستان کے پڑوسیوں کا اجلاس کل،طالبان کا شرکت نہ کرنے کا اعلان وجود پیر 25 اکتوبر 2021
افغانستان کے پڑوسیوں کا اجلاس کل،طالبان کا شرکت نہ کرنے کا اعلان

افغانستان کی صورتحال ، امریکی نائب وزیر خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی وجود جمعرات 07 اکتوبر 2021
افغانستان کی صورتحال ، امریکی نائب وزیر خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی

طالبان کا داعش کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم وجود جمعرات 30 ستمبر 2021
طالبان کا داعش کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم

طالبان حکومت کے بعد پاکستان کی افغانستان کیلئے برآمدات دگنی ہوگئیں وجود جمعه 17 ستمبر 2021
طالبان حکومت کے بعد پاکستان کی افغانستان کیلئے برآمدات دگنی ہوگئیں

امریکا کا نیا کھیل شروع، القاعدہ آئندہ چند سالوں میں ایک اور حملے کی صلاحیت حاصل کر لے گی،ڈپٹی ڈائریکٹر سی آئی اے وجود بدھ 15 ستمبر 2021
امریکا کا نیا کھیل شروع،  القاعدہ آئندہ چند سالوں میں ایک اور حملے کی صلاحیت حاصل کر لے گی،ڈپٹی ڈائریکٹر سی آئی اے

اشتہار

بھارت
موبائل فون خریدنے کے لیے بھارتی خاوند نے اپنی بیوی فروخت کردی وجود پیر 25 اکتوبر 2021
موبائل فون خریدنے کے لیے بھارتی خاوند نے اپنی بیوی فروخت کردی

علیحدہ کشمیر مانگ رہے ہیں تو دے دو، فوجی کی بیوہ مودی کے خلاف صف آرا وجود جمعرات 21 اکتوبر 2021
علیحدہ کشمیر مانگ رہے ہیں تو دے دو، فوجی کی بیوہ مودی کے خلاف صف آرا

بھارت،چین کے درمیان 17 ماہ سے جاری سرحدی کشیدگی پر مذاکرات ناکام وجود منگل 12 اکتوبر 2021
بھارت،چین کے درمیان 17 ماہ سے جاری سرحدی کشیدگی پر مذاکرات ناکام

مزاحمتی تحریک سے وابستہ کشمیریوں کے خلاف بھارتی کارروائیوں میں تیزی لانے کا منصوبہ وجود هفته 09 اکتوبر 2021
مزاحمتی تحریک سے وابستہ کشمیریوں کے خلاف بھارتی کارروائیوں میں  تیزی لانے کا منصوبہ

مرکزی بینک آف انڈیاا سٹیٹ بینک آف پاکستان کا 45 کروڑ 60 لاکھ کا مقروض نکلا وجود جمعه 08 اکتوبر 2021
مرکزی بینک آف انڈیاا سٹیٹ بینک آف پاکستان کا 45 کروڑ 60 لاکھ کا مقروض نکلا
ادبیات
پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام وجود پیر 25 اکتوبر 2021
پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام

اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا وجود بدھ 13 اکتوبر 2021
اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا

بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف وجود جمعه 01 اکتوبر 2021
بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف

اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب وجود پیر 20 ستمبر 2021
اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب

تاجکستان بزنس کنونشن میں عمران خان پر شعری تنقید، اتنے ظالم نہ بنو،کچھ تو مروت سیکھو! وجود جمعه 17 ستمبر 2021
تاجکستان بزنس کنونشن میں عمران خان پر شعری تنقید، اتنے ظالم نہ بنو،کچھ تو مروت سیکھو!
شخصیات
سابق امریکی وزیرخارجہ کولن پاول کورونا کے باعث انتقال کرگئے وجود منگل 19 اکتوبر 2021
سابق امریکی وزیرخارجہ کولن پاول کورونا کے باعث انتقال کرگئے

معروف کالم نگار ڈاکٹر اجمل نیازی انتقال کر گئے وجود پیر 18 اکتوبر 2021
معروف کالم نگار ڈاکٹر اجمل نیازی انتقال کر گئے

سابق افغان وزیرِ اعظم احمد شاہ احمد زئی انتقال کر گئے وجود پیر 18 اکتوبر 2021
سابق افغان وزیرِ اعظم احمد شاہ احمد زئی انتقال کر گئے

ڈاکٹرعبدالقدیرخان کے لیے دو قبروں کا انتظام، تدفین ایچ8 میں کی گئی وجود اتوار 10 اکتوبر 2021
ڈاکٹرعبدالقدیرخان کے لیے دو قبروں کا انتظام، تدفین ایچ8 میں کی گئی

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نمازِجنازہ ادا کردی گئی وجود اتوار 10 اکتوبر 2021
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نمازِجنازہ ادا کردی گئی