وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

جواہر لعل یونیورسٹی میں اسلام و جہاد مخالف نصاب پر تنازع

جمعرات 02 ستمبر 2021 جواہر لعل یونیورسٹی میں اسلام و جہاد مخالف نصاب پر تنازع

بھارت کی معروف جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں “جہادی دہشت گردی” کے نام سے ایک نیا کورس متعارف کرایا گیا ہے، جس میں جہادی دہشت گردی کو مذہبی دہشت گردی کی واحد شکل اور سابقہ سوویت یونین اور چین کو ریاستی دہشت گردی کے اہم اسپانسر قرار دیا گیا ہے۔ نئی دہلی کی  جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو)میں اس برس نئے تعلیمی سال سے انسداد دہشت گردی پر کورس شروع ہونے سے پہلے ہی تنازع کا شکار ہو گیا ہے۔ سول سوسائٹی اور دانشوروں نے اسے نفرت پھیلانے کی کوشش قرار دیا ہے جبکہ بائیں بازو  کی جماعتوں نے یہ کورس پڑھانے کی اجازت نہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ دہلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) عمرانیات اور سماجیات کی اعلیٰ تعلیم کے لیے بھارت کی بہترین یونیورسٹیوں میں دوسرے نمبر پر آتی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اس یونیورسٹی کی اکیڈمک کونسل نے باہمی تبادلہ خیال کے بغیر ہی رواں تعلیمی سال سے ایک نیا کورس شروع کرنے کی منظوری دے دی۔ سول سوسائٹی، دانشوروں اور ماہرین سماجیات کو اعتراض اس بات پر ہے کہ اس کورس کے لیے جو نصاب مرتب کیا گیا ہے اس میں بنیاد پرست مذہبی دہشت گردی کے ضمن میں کہا گیا ہے کہ صرف جہادی دہشت گردی ہی بنیاد پرست مذہبی دہشت گردی کی واحد شکل ہے۔ اس کے علاوہ سابقہ سوویت یونین اور چین ریاستی اعانت سے کی جانے والی دہشت گردی کے اہم ممالک رہے ہیں۔دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین ڈاکٹر ظفر الاسلام خان کا کہنا ہے کہ بنیادی طور پر یہ کورس ہی غلط ہے کیونکہ یہ ایک مخصوص مذہب کے خلاف نفرت پھیلانے کی کوشش ہے۔ ظفرالاسلام خان نے کہا کہ ، اگر یونیورسٹی کو مذہبی دہشت گردی سے متعلق مضمون اپنے کورس میں شامل کرنا اتنا ہی ضروری تھا تو اسے تمام مذاہب کو اس میں شامل کرنا چاہئے تھا۔ کس مذہب میں دہشت گردی نہیں ہے؟ ہندؤں میں ہے، سکھوں میں ہے، بودھسٹوں میں ہے، مسیحیوں میں ہے، یہودیوں میں ہے۔ ہر جگہ اس طرح کی تحریکیں پہلے بھی تھیں اور آج بھی ہیں۔ظفرالاسلام خان مزید کہتے ہیں، حالانکہ ہندوتوا میں اس طرح کی تحریکیں بھری پڑی ہیں۔ بجرنگ دل اور کرنی سینا جیسے نہ جانے کتنے سینا ہیں۔ اور یہ جو بے گناہ لوگوں کو سر عام قتل کیا جا رہا ہے وہ کون کر رہا ہے؟۔۔۔ یہ درست ہے کہ ہمارے یہاں بھی ایسے لوگ ہیں۔ داعش وغیرہ ہے۔ لیکن ہم اس کی مخالفت بھی کرتے ہیں۔”اس کورس کو پروفیسر اروند کمار نے تیار کیا، جو جے این یو میں امریکی، لاطینی امریکی اور کینیڈین اسٹڈیز کے شعبے کے سربراہ ہیں۔ پروفیسر اروند کمار کی دلیل ہے، پوری دنیا اسلامی دہشت گردی کو تسلیم کرتی ہے اور طالبان کی آمد کے بعد اسے ایک نئی رفتار مل گئی ہے۔ جہاد ایک عالمی چیلنج ہے اور ایسے وقت میں جب کہ طالبان نے افغانستان پر کنٹرول کر لیا ہے۔ یہ موضوع پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ میری معلومات کی حد تک کسی دوسرے مذہب میں دہشت گردی کو اختیار کرنے کی کوئی ایسی مثال نہیں ملتی ہے۔”ظفر الاسلام کا تاہم کہنا ہے، اگر دوسرے مذاہب میں مذہبی دہشت گردی نہیں ہے تو لنچنگ کیا ہے؟ بھارت میں جس کا مظاہرہ آئے دن ہمیں دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اس طرح کے کورس کا اصل مقصد مسلمانوں اور اسلام سے لوگوں کو بدظن کرنا ہے۔ یہ غلط فہمی پھیلانا ہے کہ مسلمان قابل اعتماد نہیں ہیں اور ہر مسلمان ممکنہ طور پر دہشت گرد ہو سکتا ہے۔ بائیں بازو کی جماعت کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا(سی پی آئی)نے اس کورس کو پڑھانے کی اجازت نہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔سی پی آئی کے رکن پارلیمان بنوئے وسووم نے بھارتی وزیر تعلیم کو ارسال کردہ خط میں لکھا، یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ ادھوری سچائی اور دانشورانہ بے ایمانی کے ذریعے تعلیم کو  فرقہ وارانہ اور سیاسی رنگ میں رنگنے کے پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔ سی پی آئی کے رکن پارلیمان کا مزید کہنا تھا، جہادی دہشت گردی کو بنیاد پرست مذہبی دہشت گردی کی واحد شکل اور سوویت یونین اور چین کو دہشت گردی کی اعانت کرنے والے اہم ممالک قرار دینا نہ صرف تاریخی لحاظ سے غلط ہے بلکہ یہ تعصب اور سیاسی مفادات پر مبنی ہیں۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن کی سیکرٹری موسمی باسو کا اس حوالے سے کہنا ہے، اگر مذہب کو دہشت گردی سے اس طرح جوڑ دیا جائے تو سڑک پر چلنے والے عام آدمی اور دانشوروں میں فرق ہی کیا رہ جائے گا؟ کیا میانمار اور سری لنکا میں کوئی فرق ہے؟ کیا وہاں جو کچھ ہو رہا ہے ہم اسے بودھسٹ دہشت گردی کہہ سکتے ہیں؟”وہ کہتی ہیں کہ اگر دہشت گردی کو ایک نئے مضمون کے طور پر شامل کرنا اتنا ضروری ہی تھا تو پہلے خاطر خو اہ تبادلہ خیال کر لیا جاتا۔ دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین ڈاکٹر ظفر الاسلام خان کہتے ہیں کہ جے این یو نے تین برس پہلے ہی اس کورس پر کام شروع کر دیا تھا۔ اس وقت جب اس کے بارے میں خبریں سامنے آئی تھیں تو کمیشن نے یونیورسٹی کو نوٹس بھیج کر حقیقی صورت حال سے آگاہ کرنے کے لیے کہا تھا اور کہا تھا کہ اگر اس طرح کا کوئی کورس زیر غور ہے تو تمام مذاہب کو اس میں شامل کیا جائے۔ لیکن یونیورسٹی نے اپنے تحریری جواب میں اس طرح کا کوئی کورس شروع کرنے کی خبر سے انکار کیا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ اس کورس کو روکنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ دیگر یونیورسٹیاں بھی اسے اپنے لیے مثال بنا سکتی ہیں۔


متعلقہ خبریں


عمران خان کو نشانا بنانے کے لیے مجھے آلے کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا، جمائما وجود - هفته 16 اکتوبر 2021

وزیراعظم عمران خان کی سابق اور پہلی اہلیہ جمائما گولڈ اسمتھ نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں ان کے سابق شوہر کو سیاسی طور پر نشانا بنانے کے لیے 'آلے' کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ برطانوی اخبار 'ایوننگ اسٹینڈر' کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں 47 سالہ برطانوی نژاد جمائما گولڈ اسمتھ نے کہا کہ خود سے دگنی عمر کے شخص سے شادی کرنے کا فیصلہ آسان نہ تھا اور جن سے انہوں نے شادی کی وہ کوئی عام شخص نہیں تھے۔ جمائما گولڈ اسمتھ کے مطابق انہوں نے 21 سال کی عمر میں خود سے دُگنی عمر کے ایسے شخص سے ...

عمران خان کو نشانا بنانے کے لیے مجھے آلے کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا، جمائما

برطانوی رکن پارلیمنٹ ڈیوڈ امیس چاقو کے حملے میں ہلاک وجود - هفته 16 اکتوبر 2021

وزیراعظم بورس جانسن کی کنزرویٹو پارٹی سے تعلق رکھنے والے برطانوی رکن پارلیمنٹ ڈیوڈ امیس چرچ میں چاقو سے کیے گئے قاتلانہ حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایسکس پولیس نے بتایا کہ اپنے انتخابی حلقے میں ووٹرز سے ملاقات کرنے والے برطانوی 69سالہ رکن پارلیمنٹ کو ایک شخص نے چاقو کے وار کر کے ہلاک کر دیا۔ان پر ایکسکس کے مغربی علاقے میں واقع بیلفیئرز میتھوڈسٹ چرچ میں حملہ کیا گیا اور وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔پولیس نے فوری طور پر چرچ میں آ کر ایک شخص ...

برطانوی رکن پارلیمنٹ ڈیوڈ امیس چاقو کے حملے میں ہلاک

افغانستان، مسجد میں بم دھماکا، 37فراد جاں بحق، 70سے زائد زخمی وجود - هفته 16 اکتوبر 2021

افغانستان کے جنوبی شہر قندھار میں جمعے کے روز ایک شیعہ مسجد میں ہوئے بم دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد 37 ہو گئی ہے جبکہ ستر سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ بم دھماکا ٹھیک اس وقت ہوا جب مسجد میں نماز جمعہ ادا کی جا رہی تھی۔ میڈیارپورٹس کے مطابق اس بم دھماکے کا ہدف صوبے کی سب سے بڑی شیعہ مسجد بنی۔ طبی ذرائع کے مطابق اس دھماکے کے نتیجے میں 70 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے معاون مشن برائے افغانستان UNAMA نے امام باڑہ فاطمیہ مسجد پر ہوئے اس بم حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ...

افغانستان، مسجد میں بم دھماکا،  37فراد جاں بحق، 70سے زائد زخمی

بعض باتوں کا جواب عمران خان ہی دے سکتے ہیں ، وزیر داخلہ وجود - هفته 16 اکتوبر 2021

وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ اگلے جمعہ تک سب ٹھیک ہوجائے گا، معاملات طے ہوچکے ہیں، طریقہ کار کا اعلان 7 دن میں ہوجائے گا۔ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کے دوران شیخ رشید نے حکومت اور فوج میں کسی بھی نوعیت کے اختلاف کی تردید کی۔شیخ رشید احمد نے کہا کہ مجھے اندازہ ہے، لیکن اس کے باوجود بعض باتوں کا جواب وزیراعظم عمران خان ہی دے سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ لوگ بہت جلدی گھبرا جاتے ہیں، اس معاملے پر عمران خان نے پارلیمانی پارٹی کو اعتماد میں لے لیا ہے۔وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ میرے پاس ج...

بعض باتوں کا جواب عمران خان ہی دے سکتے ہیں ، وزیر داخلہ

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں بجلی کی اوسط قیمت میں 52 فیصد اضافہ ہوا ، نیپرا ذرائع وجود - هفته 16 اکتوبر 2021

نیشنل الیکٹرک پاؤر ریگولیٹری اتھارٹی(نیپرا)ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں بجلی کی اوسط قیمت میں 52 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ذرائع نیپرا کے مطابق پی ٹی آئی حکومت آنے سے پہلے بجلی کی اوسط قیمت11 روپے 72 پیسے فی یونٹ تھی، پی ٹی آئی حکومت کے دوران فی یونٹ بجلی کی قیمت میں اوسطا 6 روپے11 پیسے اضافہ ہوا۔ نجی ٹی وی کے مطابق ذرائع نیپرا کا کہنا ہے کہ حالیہ 1روپیہ 39 پیسے اضافے سے فی یونٹ اوسط قیمت 17 روپے 83 پیسے ہو جائے گی، اوسط قیمت فی یونٹ میں بنیادی ٹیرف اور سہ ماہی ٹیر...

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں بجلی کی اوسط قیمت میں 52 فیصد اضافہ ہوا ، نیپرا ذرائع

ملک میں مہنگائی کی شرح 12.66 فیصد تک پہنچ گئی وجود - هفته 16 اکتوبر 2021

ملک میں مہنگائی کی شرح میں اضافہ بدستور جاری ہے، مہنگائی کی مجموعی شرح 12.66 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ ہفتہ وار مہنگائی کے اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ ایک ہفتے میں مہنگائی میں 0.20 فیصد کا اضافہ ہوگیا اور مہنگائی کی مجموعی شرح 12.66 فیصد تک پہنچ گئی۔ادارہ شماریات کے مطابق کم آمدنی والوں کے لیے مہنگائی کی شرح 14.12 فیصد تک پہنچ گئی جبکہ ایک ہفتے میں 22 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، ٹماٹر کی فی کلو قیمت میں 11 روپے تک ...

ملک میں مہنگائی کی شرح 12.66 فیصد تک پہنچ گئی

برطانیہ بینک فراڈ کی دنیا کا دارالحکومت بن گیا وجود - هفته 16 اکتوبر 2021

برطانیہ بینک فراڈ کا گڑھ بن گیا۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے نے برطانیہ کو بینک فراڈ کی دنیا کا دارالحکومت قرار دے دیا۔ میڈیارپورٹس کے مطابق رواں سال کے پہلے چھ ماہ میں لوگوں کے ایک ارب ڈالر اڑا لیے گئے۔ بیرون ملک سے دھوکے بازی میں بھارت اور مغربی افریقہ کے شہری ملوث نکلے۔خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ برطانوی ریکارڈ کے مطابق رواں سال کے ابتدائی چھ ماہ میں 754 ملین پونڈز چرائے گئے جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 30 فیصد زیادہ ہیں۔

برطانیہ بینک فراڈ کی دنیا کا دارالحکومت بن گیا

کورونا سے صحت مند زندگی گزارنے کے مواقع کم ہوگئے ہیں، ڈبلیو ایچ او وجود - هفته 16 اکتوبر 2021

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)نے کہاہے کہ عالمی وبا کورونا وائرس کے باعث فعال اور صحت مند زندگی گزارنے کے مواقع کم ہوگئے ہیں۔ میڈیارپورٹس کے مطابق اپنے ایک بیان میں ڈبلیو ایچ او نے صحت، کھیل، تعلیم اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں کے فیصلہ سازوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہنگامی بنیادوں پر جامع پروگرام اور خدمات کے لیے اقدامات اٹھائیں اور محفوظ ماحول پیدا کریں جس سے تمام برادریوں میں جسمانی سرگرمیوں کو فروغ ملے۔ ڈبلیو ایچ او کی ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر سوزانہ جیکب کا اپنے بیان میں کہنا تھا...

کورونا سے صحت مند زندگی گزارنے کے مواقع کم ہوگئے ہیں، ڈبلیو ایچ او

حیدرآباد، مختار کار کے گھر لاش ملنے پر ہنگامہ آرائی وجود - جمعه 15 اکتوبر 2021

سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدر آباد کے علاقے قاسم آباد میں حالات انتہائی کشیدہ ہوگئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق مختارِ کار ماجد خاصخیلی کے گھر سے ایک لاش ملنے کے بعد ہنگامہ آرائی کی نوبت آگئی ہے۔ ڈی آئی جی شرجیل کھرل کے مطابق مشتعل افراد نے مختارِ کار ماجد خاصخیلی کے گھر کا گھیراؤ کر لیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق اسی دوران فائرنگ بھی کی گئی ۔فائرنگ کے نتیجے میں مختارِ کار ماجد خاصخیلی اور ان کے 2 بھائی زخمی ہو گئے۔کمشنرعباس بلوچ کے مطابق مختارِ کار ماجد خاصخیلی کی حالت تشویش ناک ہے۔ ...

حیدرآباد، مختار کار کے گھر لاش ملنے پر ہنگامہ آرائی

گھی اور آئل سمیت مختلف اشیاء کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ وجود - جمعه 15 اکتوبر 2021

یوٹیلیٹی اسٹورز نے گھی اور آئل سمیت مختلف اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق مختلف برانڈز کے گھی کی قیمتوں میں 40 سے 1090 روپے تک کا اضافہ کیا گیا، یوٹیلیٹی اسٹورز پر ڈالڈ گھی کی فی کلو قیمت میں 109 روپے تک اضافہ کر دیا گیا ،قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا اطلاق فوری ہوگا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق یوٹیلیٹی اسٹورز پر ڈالڈا گھی کا 10 لٹر کین 1090 روپے مہنگا ہوگیا ،10 لٹر ڈالڈا گھی کا کین 2500 روپے بڑھ کر 3590 روپے کا ہوگیا۔ نوٹیفکیشن ...

گھی اور آئل سمیت مختلف اشیاء کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ

بجلی کی قیمت میں 1.68 پیسے فی یونٹ اضافہ کی منظوری وجود - جمعه 15 اکتوبر 2021

حکومت نے بجلی کی قیمت میں مزید 1 روپے 68 پیسے فی یونٹ منظوری دیدی۔ تفصیلات کے مطابق حکومت نے عوام پر ایک بار پھر بجلی بم گرا دیا، اور بجلی کی قیمتوں میں 1 روپے 68 پیسے فی یونٹ مہنگی کر دی گئی ۔ وفاقی کابینہ نے بجلی مہنگی کرنے کی منظوری دے دی ۔ بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی سمری وزارت توانائی کی جانب سے بھجوائی گئی تھی۔بجلی کی قیمت میں اضافہ سہہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا گیا، کابینہ نے سرکولیشن سمری کے ذریعے بجلی مہنگی کرنے کی منظوری دی ، نیپرا نے سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ ...

بجلی کی قیمت میں  1.68 پیسے فی یونٹ اضافہ کی منظوری

نسلہ ٹاور خالی کروانے کا اشتہار شائع وجود - جمعه 15 اکتوبر 2021

کراچی میں نسلہ ٹاور کے رہائشیوں سے عمارت خالی کروانے کے اشتہار اخبارات میں شائع کردیے گئے ہیں۔کراچی میں اسسٹنٹ کمشنر فیروزآباد نے نسلہ ٹاور کے رہائشیوں کو عمارت 15 دن میں خالی کرنے کے اشتہار اخبارات میں شائع کرادئیے ہیں۔ نوٹس میں بتایا گیا ہے کہ اگر نسلہ ٹاور خالی نہ کیا گیا تو رہائشیوں کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی۔ اشتہار میں سپریم کورٹ کے 16 جون اور 22 ستمبر والے فیصلے کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔یہ بھی بتایا گیا ہے کہ عمارت خالی نہ کرنے کی صورت میں فیروزآباد پولیس کی مدد لی جا...

نسلہ ٹاور خالی کروانے کا اشتہار شائع

مضامین
روشن مثالیں وجود هفته 16 اکتوبر 2021
روشن مثالیں

تعیناتی کو طوفان بنانے کی کوشش وجود هفته 16 اکتوبر 2021
تعیناتی کو طوفان بنانے کی کوشش

سنجیدہ لوگ، ماحولیات اور بچے وجود هفته 16 اکتوبر 2021
سنجیدہ لوگ، ماحولیات اور بچے

پنڈورا پیپرز کے انکشافات وجود هفته 16 اکتوبر 2021
پنڈورا پیپرز کے انکشافات

بارودکاڈھیر وجود جمعه 15 اکتوبر 2021
بارودکاڈھیر

نخریلی بیویاں،خودکش شوہر وجود جمعه 15 اکتوبر 2021
نخریلی بیویاں،خودکش شوہر

آسام میں پولیس کی درندگی وجود جمعه 15 اکتوبر 2021
آسام میں پولیس کی درندگی

کراچی میں بلدیاتی انتخابات کے امکانات اور مضمرات؟ وجود جمعرات 14 اکتوبر 2021
کراچی میں بلدیاتی انتخابات کے امکانات اور مضمرات؟

میں بھول گیا تھا، وہ چیف آف آرمی اسٹاف ہے!! وجود جمعرات 14 اکتوبر 2021
میں بھول گیا تھا، وہ چیف آف آرمی اسٹاف ہے!!

امریکا کی آخری جنگ کی خواہش وجود منگل 12 اکتوبر 2021
امریکا کی آخری جنگ کی خواہش

مسلم قیادت کا بحران اوراسد الدین اویسی وجود منگل 12 اکتوبر 2021
مسلم قیادت کا بحران اوراسد الدین اویسی

کسانوں کے قتل پر نریندر مودی اور امیت شاہ کی مجرمانہ خاموشی وجود منگل 12 اکتوبر 2021
کسانوں کے قتل پر نریندر مودی اور امیت شاہ کی مجرمانہ خاموشی

اشتہار

افغانستان
افغانستان کی صورتحال ، امریکی نائب وزیر خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی وجود جمعرات 07 اکتوبر 2021
افغانستان کی صورتحال ، امریکی نائب وزیر خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی

طالبان کا داعش کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم وجود جمعرات 30 ستمبر 2021
طالبان کا داعش کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم

طالبان حکومت کے بعد پاکستان کی افغانستان کیلئے برآمدات دگنی ہوگئیں وجود جمعه 17 ستمبر 2021
طالبان حکومت کے بعد پاکستان کی افغانستان کیلئے برآمدات دگنی ہوگئیں

امریکا کا نیا کھیل شروع، القاعدہ آئندہ چند سالوں میں ایک اور حملے کی صلاحیت حاصل کر لے گی،ڈپٹی ڈائریکٹر سی آئی اے وجود بدھ 15 ستمبر 2021
امریکا کا نیا کھیل شروع،  القاعدہ آئندہ چند سالوں میں ایک اور حملے کی صلاحیت حاصل کر لے گی،ڈپٹی ڈائریکٹر سی آئی اے

طالبان دہشت گرد ہیں تو پھر نہرو،گاندھی بھی دہشت گرد تھے، مہتمم دارالعلوم دیوبند کا بھارت میں کلمہ حق وجود بدھ 15 ستمبر 2021
طالبان دہشت گرد ہیں تو پھر نہرو،گاندھی بھی دہشت گرد تھے، مہتمم دارالعلوم دیوبند کا بھارت میں کلمہ حق

اشتہار

بھارت
بھارت،چین کے درمیان 17 ماہ سے جاری سرحدی کشیدگی پر مذاکرات ناکام وجود منگل 12 اکتوبر 2021
بھارت،چین کے درمیان 17 ماہ سے جاری سرحدی کشیدگی پر مذاکرات ناکام

مزاحمتی تحریک سے وابستہ کشمیریوں کے خلاف بھارتی کارروائیوں میں تیزی لانے کا منصوبہ وجود هفته 09 اکتوبر 2021
مزاحمتی تحریک سے وابستہ کشمیریوں کے خلاف بھارتی کارروائیوں میں  تیزی لانے کا منصوبہ

مرکزی بینک آف انڈیاا سٹیٹ بینک آف پاکستان کا 45 کروڑ 60 لاکھ کا مقروض نکلا وجود جمعه 08 اکتوبر 2021
مرکزی بینک آف انڈیاا سٹیٹ بینک آف پاکستان کا 45 کروڑ 60 لاکھ کا مقروض نکلا

بھارت، مسجد میں قرآن پڑھنے والا شہید کردیاگیا وجود جمعه 08 اکتوبر 2021
بھارت، مسجد میں قرآن پڑھنے والا شہید کردیاگیا

شاہ رخ کے بیٹے آریان کو 20 سال تک سزا ہوسکتی ہے وجود جمعرات 07 اکتوبر 2021
شاہ رخ کے بیٹے آریان کو 20 سال تک سزا ہوسکتی ہے
ادبیات
اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا وجود بدھ 13 اکتوبر 2021
اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا

بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف وجود جمعه 01 اکتوبر 2021
بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف

اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب وجود پیر 20 ستمبر 2021
اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب

تاجکستان بزنس کنونشن میں عمران خان پر شعری تنقید، اتنے ظالم نہ بنو،کچھ تو مروت سیکھو! وجود جمعه 17 ستمبر 2021
تاجکستان بزنس کنونشن میں عمران خان پر شعری تنقید، اتنے ظالم نہ بنو،کچھ تو مروت سیکھو!

طالبان کا ’بھگوان والمیکی‘ سے موازنے پر منور رانا کے خلاف ایک اور مقدمہ وجود منگل 24 اگست 2021
طالبان کا ’بھگوان والمیکی‘ سے موازنے پر منور رانا کے خلاف ایک اور مقدمہ
شخصیات
ڈاکٹرعبدالقدیرخان کے لیے دو قبروں کا انتظام، تدفین ایچ8 میں کی گئی وجود اتوار 10 اکتوبر 2021
ڈاکٹرعبدالقدیرخان کے لیے دو قبروں کا انتظام، تدفین ایچ8 میں کی گئی

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نمازِجنازہ ادا کردی گئی وجود اتوار 10 اکتوبر 2021
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نمازِجنازہ ادا کردی گئی

ڈاکٹرعبدالقدیر خان نے150 سے زائد سائنسی تحقیقاتی مضامین تحریر کیے وجود اتوار 10 اکتوبر 2021
ڈاکٹرعبدالقدیر خان نے150 سے زائد سائنسی تحقیقاتی مضامین تحریر کیے

ڈاکٹرعبد القدیر خان نے8 سال کی قلیل مدت میں ایٹمی پلانٹ نصب کیا،ساری دنیا حیرت زدہ رہی وجود اتوار 10 اکتوبر 2021
ڈاکٹرعبد القدیر خان نے8 سال کی قلیل مدت میں ایٹمی پلانٹ نصب کیا،ساری دنیا حیرت زدہ رہی

آزاد کشمیرکے سابق صدر اور وزیراعظم سردار سکندر حیات خان کی کوٹلی میں نماز جنازہ ادا وجود اتوار 10 اکتوبر 2021
آزاد کشمیرکے سابق صدر اور وزیراعظم سردار سکندر حیات خان کی کوٹلی میں نماز جنازہ ادا