وجود

... loading ...

وجود
وجود

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارا 152ارب ڈالر کا نقصان ہوا،ترجمان پاک فوج

جمعه 27 اگست 2021 دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارا 152ارب ڈالر کا نقصان ہوا،ترجمان پاک فوج

پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ افغانستان میں اشرف غنی کی حکومت کا خاتمہ سب کی امیدوں کے برعکس تھا،افغانستان میں ابھرتی ہوئی صورتحال اور ہمیں درپیش قومی سلامتی کے مسائل اور کسی قسم کے عدم استحکام سے نمٹ رہے ہیں،پاکستان افغانستان میں بگاڑ پیدا کرنے والوں کے منفی کردار کے بارے میں دنیا کو بار بار خبردار کر رہا ہے،ٹی ٹی پی کی افغانستان میں پناہ گاہیں موجود ہیں،پاک افغان سرحد پر صورتحال ہمارے کنٹرول میں ہے،طالبان اپنی سر زمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دینگے، ہمیں ان کی باتوں پر یقین کر نا ہوگا،امریکا اور نیٹو افواج کا انخلا پہلے سے طے شدہ تھا، پاکستان نے پہلے ہی افغانستان سرحد کے تحفظ کیلئے اقدامات کردئیے تھے،پاکستان کی سرحد محفوظ اور مستحکم ہونے کے مثبت اثرات پڑوسی ملک پر بھی آئیں گے،سرحد پر حالات معمول پر ہیں اور کوئی ناخوشگوار واقعہ نہیں ہوا ہے،15 اگست سے قبل افغان نیشنل آرمی سے تعلق رکھنے والے کئی فوجی دو سے زائد مواقع پر پاکستان میں محفوظ راستے کی تلاش میں داخل ہوئے، فوجی اصولوں کے تحت محفوظ راستہ دیا،،سوویت یونین کے حملے کے بعد سے ہمیں خانہ جنگی کا سامنا کرنا پڑا ہے، معاشی نقصانات کے علاوہ 86 ہزار سے زائد جانیں قربان کیں،دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارا 152ارب ڈالر کا نقصان ہوا، 2013 میں پاکستان کو دہشتگردی کے 90بڑے واقعات کا سامنا کرنا پڑا،2014 کے بعد سے پاکستان کی مشرقی سرحد پر 12 ہزار 312 جنگ بندی کی خلاف ورزیاں ہوئیں،مسلح افواج نے 1237 بڑے اور معمولی آپریشن کیے اور سرحد کو پاک کیا،ہماری عظیم قوم اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے ہماری مسلح افواج دہشت گردی کی لہر کو موڑنے میں کامیاب ہوئیں،بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر حملہ اور نگرانی کیلئے جنگلی جانوروں کے استعمال کی اطلاعات تشویشناک تھیں، بھارت نے افغان قیادت، فوج اور انٹیلی جنس کے ذہنوں کو زہر آلود کیا، پاکستان کو نقصان پہنچانے کیلئے این ڈی ایس نے را کی مدد کی، داسو، لاہور اورکوئٹہ کے واقعات این ڈی ایس اور را کے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہوئے،اب بھارت کا اثر خطے اور افغانستان سے ختم ہوگا۔ جمعہ کو یہاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ افغانستان میں ابھرتی ہوئی صورتحال اور ہمیں درپیش قومی سلامتی کے مسائل اور کسی قسم کے عدم استحکام سے نمٹ رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ افغان امن عمل میں پاکستان کے کردار کے حوالے سے سب ہی کو معلوم ہے، امریکا اور نیٹو افواج کا انخلا پہلے سے طے شدہ تھا، پاکستان نے پہلے ہی افغانستان سرحد کے تحفظ کے لیے اقدامات کردیے تھے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سرحد محفوظ اور مستحکم ہونے کے مثبت اثرات پڑوسی ملک پر بھی آئیں گے۔پڑوسی ملک میں ہونے والے واقعات کی ٹائم لائن دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 15 اگست سے قبل افغان نیشنل آرمی سے تعلق رکھنے والے کئی فوجی دو سے زائد مواقع پر پاکستان میں محفوظ راستے کی تلاش میں داخل ہوئے کیونکہ وہ خوفزدہ تھے کہ ان کی پوسٹوں پر طالبان حملہ کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ انہیں قبول کیا گیا اور فوجی اصولوں کے تحت محفوظ راستہ دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے اندازہ لگایا تھا کہ حالات کس طرف بدلنے جا رہے ہیں اور عدم استحکام کا امکان ہے جس کی وجہ سے کنٹرول کو یقینی بنانے کے لیے فوجیوں کو اہم سرحدی گزرگاہوں پر منتقل کردیا گیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ 78 میں سے سترہ سرحدی گزرگاہوں کو (مزید تعیناتی کیلئے) نوٹیفائی کیا گیا تھا اور تمام غیر قانونی تجاوزات کو بند کر دیا گیا تھا، 15 اگست کے بعد ٹرمینلز اور سرحدی گزرگاہیں کھلی رکھی گئیں، قافلے بھی دونوں اطراف میں مسلسل آرہے اور جارہے ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغانستان سے غیر ملکیوں کو نکالنے کے لیے دوسری سب سے بڑا مقام پاکستان ہے۔انہوں نے کہا کہ اب تک 113 پروازیں فوجی اور تجارتی دونوں افغانستان سے پاکستان پہنچ چکی ہیں، پاک افغان سرحد پر حالات معمول پر ہیں اور کوئی ناخوشگوار واقعہ نہیں ہوا ہے۔پڑوسی ملک میں کئی دہائیوں سے جاری جنگ کے اثرات کے بارے میں بات کرتے ہوئے میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ افغانوں کے علاوہ اس تنازعہ کے سب سے زیادہ متاثرین پاکستانی ہیں۔انہوں نے کہاکہ سوویت یونین کے حملے کے بعد سے ہمیں خانہ جنگی کا سامنا کرنا پڑا ہے، معاشی نقصانات کے علاوہ 86 ہزار سے زائد جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔انہوں نے کہا کہ جہاں ہم گزشتہ دو دہائیوں کے دوران دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں شامل تھے، مشرقی سرحد پر بھی ہم نے تین بڑی کشیدگی سیکھی، پاکستان میں ایک سال میں 90 سے زائد دہشت گردی کے واقعات بھی رونما ہوئے ہیں اس کے علاوہ 2014 کے بعد سے پاکستان کی مشرقی سرحد پر 12 ہزار 312 جنگ بندی کی خلاف ورزیاں ہوئیں۔اس عرصے کے دوران فوجی کارروائیوں کی تفصیلات دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ مسلح افواج نے 1237 بڑے اور معمولی آپریشن کیے اور مغربی سرحد کے ساتھ 46 ہزار مربع کلومیٹر سے زیادہ کا علاقہ دہشت گردوں سے پاک کیا۔انہوں نے کہاکہ ہماری عظیم قوم اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے ہماری مسلح افواج دہشت گردی کی لہر کو موڑنے میں کامیاب ہوئیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان افغان حکومت سے بارڈر کنٹرول میکانزم کو باضابطہ بنانے کے لیے رابطہ کر رہا ہے تاکہ پاک افغان سرحد پر عدم استحکام سے نمٹا جا سکے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان نے انٹیلی جنس شیئرنگ کا طریقہ کار بھی تجویز کیا تاہم ان اقدامات پر بہتر جواب نہیں ملا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان فوجی سطح پر بھی رابطہ کر رہا ہے، پاکستان کی عسکری قیادت کی طرف سے کئی اعلیٰ سطحی دورے ہوئے جن میں چیف آف آرمی سٹاف کے چار دورے بھی شامل تھے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے کئی بار اسے (ٹریننگ) کی پیشکش کی تاہم صرف چھ کیڈٹ آئے تاہم سینکڑوں اور ہزاروں افغان آرمی کے سپاہی بھارت میں ٹریننگ کے لیے گئے اور بھارتی افواج کی کئی تربیتی ٹیمیں افواج کی تربیت کے لیے افغانستان میں بھی گئیں۔انہوں نے کہا کہ یہ پیشکش کرنے کی وجہ یہ تھی کہ ہمیں یقین ہے کہ افغانستان میں امن پاکستان میں امن سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان افغانستان میں بگاڑ پیدا کرنے والوں کے منفی کردار کے بارے میں دنیا کو بار بار خبردار کر رہا ہے جو کہ مسلسل ایسا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب پاکستان کی مسلح افواج اپنی مغربی سرحد پر آپریشن کر رہے تھے، اس کی مشرقی سرحد پر جنگ بندی کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیاں ہو رہی تھیں۔انہوں نے بتایا کہ ‘2017 میں بڑے پیمانے پر صلاحیت بڑھانے کے اقدامات کیے گئے تھے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے مغربی سرحدوں کو جامع طور پر محفوظ بنانے کا وژن پیش کیا، ہم نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں فرنٹیئر کور کے لیے 60 سے زائد نئے ونگ بنائے،اس کے ساتھ پاکستان نے اپنی سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے دیگر اقدامات کیے، بشمول ٹیکنالوجی اور نگرانی کو اپ گریڈ کرنا، سینکڑوں سرحدی واچ ٹاور تعمیر کرنا اور سرحد پر باڑ لگانا جس پر 90 فیصد سے زائد کام ہوچکا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ دو دہائیوں کے بعد ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے پوری قوم کے نقطہ نظر سے دہشت گردی کی لعنت کا اچھی طرح مقابلہ کیا ہے، یہ تمام کارروائیاں ناقابل تسخیر جذبے اور پوری قوم کی کوششوں کی عظیم قربانی کا مظہر ہیں۔جب ان سے سوال کیا گیا کہ اگر افغان طالبان تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) پر قابو نہیں پاسکتے تو پاکستان کیا اقدامات کرے گا تو ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ یہ کہا ہے کہ ٹی ٹی پی کی افغانستان میں پناہ گاہیں موجود ہیں تاہم انہوں نے نشاندہی کی کہ طالبان نے کہا تھا کہ وہ افغان سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے اور ہمیں ان کی بات پر یقین کرنا ہوگا۔سوال کیا گیا کہ پاکستان کے حالات معمول پر آنے کی توقع ہے تو انہوں نے کہا کہ ہم بہتری کی امید کر رہے ہیں، ہم نے اقدامات کیے ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان حکومتی سطح پر خوشگوار تعلقات کی توقع رکھتا ہے پر امید ہونے کی وجوہات ہیں۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ابھی دیگر ممالک کے ساتھ فوج سے فوج کا رابطہ نہیں ہے، تاہم بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر حملہ اور نگرانی کے لیے جنگلی جانوروں کے استعمال کی اطلاعات تشویشناک تھیں۔انہوں نے کہاکہ مجھے امید ہے کہ دنیا ان کو اتنا نیچے گرننے کا ذمہ دار ٹھہرائے گی، ہم نگرانی کے ان ذرائع سے آگاہ ہیں اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے اقدامات کر رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ بھارت نے افغان قیادت، فوج اور انٹیلی جنس کے ذہنوں کو زہر آلود کیا، بھارت کا افغانستان میں کردارمنفی رہا ہے، پاکستان کو نقصان پہنچانے کیلئے این ڈی ایس نے را کی مدد کی، داسو، لاہور اورکوئٹہ کے واقعات این ڈی ایس اور را کے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہوئے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ ہم نے افغانستان میں حکومت کی تشکیل کا انتظارکرنا ہے، بھارت کا اثر خطے اور افغانستان سے ختم ہوگا،بھارت نے افغانستان میں جو بھی سرمایہ کاری کی وہ پاکستان کو نقصان پہچانے کیلئے کی، ہم پچھلی افغان حکومت سے بھی ٹی ٹی پی کا معاملہ اٹھاتے رہے، ٹی ٹی پی پاکستان کے خلاف افغانستان کی سرزمین استعمال کرتی رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ افغانستان میں حکومت بننے پر حکومت کی سطح پر رابطہ ہوگا، افغانستان میں حالات کس طرح کے ہوں گے،اس پرقیاس آرائیاں ہورہی ہیں، امید کرتے ہیں افغانستان میں حالات جلد معمول پر آجائیں گے۔انہوں نے کہاکہ اس مرتبہ یوم دفاع پوری قوم کے ساتھ مل کر منائیں گے، اس بار یوم دفاع کا عنوان ”وطن کی مٹی گواہ رہنا“ہے، یوم دفاع کی تقریب کورونا ایس او پیز کے ساتھ ہوگی، ہمیں اپنے علاقوں میں شہدا کے گھر جانا ہے، انہیں سلام کرنا ہے، ہمارے شہدا ء نے ملک کے لیے جو قربانی دی ہے اس کا شکریہ ادا کرنا ہے۔


متعلقہ خبریں


بلوچستان میں حملہ، پاک فوج کے دس جوان شہید وجود - جمعه 28 جنوری 2022

بلوچستان کے علاقے کیچ میں چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کے حملے میں سیکیورٹی فورسز کے 10 جوان شہید ہو گئے ہیں۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر یہ حملہ 25 اور 26 جنوری کی درمیانی رات کیا گیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں ایک دہشت گرد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے، جبکہ کلیئرنس آپریشن میں 3 دہشت گرد گرفتار کرلیے گئے ہیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق واقعے کے ذمے داروں کی تلاش کے لیے آپریشن جاری ہے۔

بلوچستان میں حملہ، پاک فوج کے دس جوان شہید

حریم شاہ کے 2 بینک اکاؤنٹس منجمند کرنے کے لیے کارروائی وجود - جمعه 28 جنوری 2022

وفاقی تحقیقاتی ادارے(ایف آئی اے) نے حریم شاہ کے 2 بینک اکاؤنٹس فریز کرنے کے لیے لیٹرز لکھ دیے۔ٹک ٹاک اسٹار کے پاکستان میں دو بینک اکاؤنٹس ہیں اور دونوں اکاؤٹس ان کے اصل نام فضا حسین کے نام سے بنائے گئے ہیں۔ ایف آئی اے نے دونوں بینکوں کے ہیڈ کمپلائنس کو اکاؤنٹس منجمند کرنے کے لیے لیٹرز لکھے ہیں۔ یاد رہے کہ حریم شاہ نے رواں ماہ کے آغاز ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی تھی جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ وہ پہلی بار بھاری رقم لے کر لندن پہنچیں اور انہیں پاکستان کے ایئرپورٹ پر کسی...

حریم شاہ کے 2 بینک اکاؤنٹس منجمند  کرنے کے لیے کارروائی

پی ایس ایل سیون کا افتتاحی میچ، دفاعی چیمپئن سلطانز کا فاتحانہ آغاز، کنگز کوپچھاڑ دیا وجود - جمعه 28 جنوری 2022

پاکستان سپر لیگ کے ساتویں ایڈیشن کے افتتاحی میچ میں دفاعی چیمپیئن ملتان سلطانز نے کراچی کنگز کو بآسانی 7 وکٹوں سے شکست دے کر ٹورنامنٹ میں پہلی فتح حاصل کرلی ،کراچی کنگز مقررہ اوورز میں پانچ وکٹوں کے نقصان پر 124 رنز اسکور کرسکی، ملتان سلطانز نے 125 رنز کا ہدف بآسانی3 وکٹوں کے نقصان پر 19ویں اوور میں مکمل کرلیا، کپتان محمد رضوان ناقابل شکست 52 رنز بناکر نمایاں رہے جبکہ تین وکٹیں حاصل کرنے پر عمران طاہر مین آف دی میچ قرار پائے۔ کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے گئے ایونٹ کے افتت...

پی ایس ایل سیون کا افتتاحی میچ، دفاعی چیمپئن سلطانز کا فاتحانہ آغاز، کنگز کوپچھاڑ دیا

غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسی کا نیٹ ورک پاکستان میں چلانیوالے 13 ملزمان گرفتار وجود - جمعرات 27 جنوری 2022

وفاقی حساس ادارے اور ایف آئی اے نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسی کا نیٹ ورک پاکستان میں چلانے اور حوالہ ہنڈی کے کاروبار میں ملوث 13 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ایف آئی اے حکام کے مطابق ایف آئی اے کمرشل بینک سرکل نے وفاقی حساس ادارے کی نشاندہی پر کراچی کے چار مختلف مقامات پر کارروائی کی اور حوالہ ہنڈی اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث 13 افراد گرفتار کرلیے۔حکام کی مطابق گرفتار افراد کا تعلق بیرونی انٹیلی جنس ایجنسی سے ہے جبکہ گرفتار ہونے والوں میں سوئس ایک...

غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسی کا نیٹ ورک پاکستان میں چلانیوالے 13 ملزمان گرفتار

قوانین میں ترامیم لیگل سسٹم کو بدل کر رکھ دیں گی، فروغ نسیم وجود - جمعرات 27 جنوری 2022

وزیر قانون فروغ نسیم نے کہاہے کہ قوانین میں ترامیم لیگل سسٹم کو بدل کر رکھ دیں گی،انگلینڈ میں کرمنل ریفارمز کے لیے 15 سال لگے تھے،کرمنل ریفارمز سے ہم سول پراسیجر کورٹ، پاکستان پینل کوڈ، قانون شہادت اور ایک انڈیپینڈینٹ پروسکیوشن سروس متعارف کروارہے ہیں،فورنزک کیلئے لیبارٹریز اور بجٹ کی بھی منظوری دے دی ہے، جدید ٹیکنالوجی بھی آئے گی جو انصاف کے نظام کو اوپر لے جائے گی،ریفارمز کے تحت عدالت کے ذریعے مفرور ملزمان کے بینک اکائونٹس، شناختی کارڈ، پاسپورٹ اور دیگر چیزیں فریز کرنا ممکن...

قوانین میں ترامیم لیگل سسٹم کو بدل کر رکھ دیں گی، فروغ نسیم

چین میں والدین کا فروخت کردہ اولاد کو اپنانے سے انکار، بیٹے نے خودکشی کرلی وجود - جمعرات 27 جنوری 2022

چین میں ایک افسوسناک واقعے نے پوری قوم کو جھنجھوڑ کر دکھ دیا ہے۔ 17 سال قبل اپنی اولاد کو دوسری فیملی کے ہاتھوں بیچنے والے والدین کے پاس ان کا بیٹا لوٹ آیا لیکن انہوں نے اسے اپنانے سے انکار کیا جس پر بیٹے نے دل برداشتہ ہوکر خود کی جان لے لی۔بین الاقوامی میڈیا کے مطابق لیو زیژو نے چین کے شہر سانیا میں ساحل سمندر پر خودکشی کی۔ اپنی موت سے پہلے لیو نے دس ہزارالفاظ پر مبنی خودکشی نوٹ بھی سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا تھا۔ لیو نے سوشل میڈیا پر اپنے سگے والدین کو تلاش کرنے کے مشن سے متعلق...

چین میں والدین کا فروخت کردہ اولاد کو اپنانے سے انکار، بیٹے نے خودکشی کرلی

بھارت میں گوگل کے سی ای او سندر پچائی کیخلاف مقدمہ وجود - جمعرات 27 جنوری 2022

بھارت کے تجارتی مرکز ممبئی میں پولیس نے گوگل (ایلفابیٹ ان کارپوریشن)کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او)سندر پچائی کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔ سندر پچائی اور پانچ دیگر کمپنیوں کے آفیشلز کے خلاف کاپی رائٹ ایکٹ کی خلاف ورزی پر مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق گوگل کے سندر پچائی کے ساتھ دیگر پانچ کمپنیوں کے حکام کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا گیا ۔ اپنے بیان میں ممبئی پولیس کا کہنا تھا کہ عدالتی حکم پر گوگل کے سی ای او سندر پچائی اور پانچ دیگر کمپنیوں کے آفیشلز کے خلاف ک...

بھارت میں گوگل کے سی ای او سندر پچائی کیخلاف مقدمہ

کافی پینے سے ہاضمہ بھی درست رہتا ہے،فرانسیسی ماہرین وجود - جمعرات 27 جنوری 2022

فرانس میں ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کافی پینے سے جہاں دل اور دماغ کو فائدہ پہنچتا ہے، وہیں پیٹ اور ہاضمے کا نظام بھی بہتر رہتا ہے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق یہ ایک تجزیاتی مطالعہ (ریویو اسٹڈی)تھا جس میں کافی کے استعمال سے متعلق اب تک کی گئی 194 تحقیقات کا جائزہ لیا گیا۔ اس مطالعے سے معلوم ہوا کہ روزانہ 3 سے 5 کپ کافی پینے سے صحت پر کوئی منفی اثرات نہیں پڑتے جبکہ پیٹ کے مفید جرثوموں کی تعداد بڑھتی ہے جو ہاضمے پر بہت اچھا اثر ڈالتے ہیں۔ کافی پینے کے باعث قولون (آنت کے اختتامی...

کافی پینے سے ہاضمہ بھی درست رہتا ہے،فرانسیسی ماہرین

رات کے کھانے کا وقت بلڈ شوگر کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے بہت اہم قرار وجود - جمعرات 27 جنوری 2022

امریکی ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ رات کے کھانے کے وقت اور بلڈ شوگر کی سطح کے درمیان تعلق موجود ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔ میساچوسٹس جنرل ہاسپٹل، برگھم اینڈ ویمنز ہاسپٹل اور اسپین کی مورسیا یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ کھانے کے اوقات نیند اور میلاٹونین کی سطح سے جڑے ہوتے ہیں۔ میلاٹونین ایک ایسا ہارمون ہے جو رات کو جسم میں خارج ہوتا ہے جس سے نیند اور بیداری کے عمل کو کنٹرول کرنے میں مدد ملتی ہے۔ محققین نے ب...

رات کے کھانے کا وقت بلڈ شوگر کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے بہت اہم قرار

جماعت اسلامی اور سندھ حکومت کے بیک ڈور مذاکرات میں اہم ترین پیش رفت وجود - جمعرات 27 جنوری 2022

شہر قائد میں ستائیس روز سے جاری جماعت اسلامی کا دھرنا رنگ لانے لگا ہے، جماعت اسلامی اور سندھ حکومت کے بیک ڈور مذاکرات میں اہم ترین پیشرفت ہوئی ہے۔ذرائع کے مطابق سندھ حکومت نے بعض اہم بلدیاتی ادارے میئر کے ماتحت کرنے کا عندیہ دے دیا ہے، بلدیاتی قانون میں کم از کم 3 اہم شعبے میئر کے ماتحت کیے جائیں گے۔گزشتہ 27 روز سے جماعت اسلامی کراچی کی جانب سے سندھ اسمبلی کے سامنے دھرنا جاری ہے، اس دوران جماعت اسلامی کے رہنماؤں اور سندھ حکومت کے نمائندوں کے درمیان کئی بار مذاکرات ہوئے لیکن ن...

جماعت اسلامی اور سندھ حکومت کے بیک ڈور مذاکرات میں اہم ترین پیش رفت

فیس بک کے مفت انٹرنیٹ کے پیسے، پاکستانیوں سے33کروڑ ماہانہ وصولی وجود - جمعرات 27 جنوری 2022

فیس بک نے اپنی سروسز تک مفت رسائی کے لیے پاکستان، انڈونیشیا اور فلپائن جیسے ترقی پزیر ممالک میں ٹیلی کام کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کر رکھی ہے۔امریکی اخبار کے مطابق فیس بک نے فیس بک اور دیگر ویب سائٹس تک مفت رسائی فراہم کرنے کے لیے پاکستان، انڈونیشیا اور فلپائن جیسے ترقی پذیر ممالک میں ٹیلی کام کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کر رکھی ہے لیکن فیس بک کی اندرونی دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ ان میں سے بہت سے صارفین کو ان سروس کے عوض چارج کیا جا رہا ہے جو کہ مجموعی طور پر لاکھوں ڈالرز م...

فیس بک کے مفت انٹرنیٹ کے پیسے، پاکستانیوں سے33کروڑ ماہانہ وصولی

کراچی میں ریلیوں کے باعث پی ایس ایل میں شریک ٹیموں کے پریکٹس سیشن منسوخ وجود - جمعرات 27 جنوری 2022

کراچی میں بدھ کی شام سیاسی جماعتوں کی ریلیوں اور سیاسی کارکنان کی پولیس سے جھڑپ کے بعد پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں شریک ٹیموں کے پریکٹس سیشن منسوخ کردیے گئے۔ جمعرات سے شروع ہونے والے ایچ بی ایل پی ایس ایل کے ساتویں ایڈیشن سے قبل بدھ کی رات چار ٹیموں کو پریکٹس کرنا تھی، معین خان اکیڈمی میں پشاور زلمی اور اسلام آباد یونائیٹڈ کا پریکٹس میچ شیڈولڈ تھا جبکہ نیشنل اسٹیڈیم میں کراچی کنگز اور ملتان سلطانز کی ٹیموں کو نیٹ پریکٹس کرنا تھی۔ سیاسی جماعتوں کی ریلیاں، کارکنان کی پولیس...

کراچی میں ریلیوں کے باعث پی ایس ایل میں شریک ٹیموں کے پریکٹس سیشن منسوخ

مضامین
وزیراعظم کے دشمن مصنوعی خیالات وجود جمعرات 27 جنوری 2022
وزیراعظم کے دشمن مصنوعی خیالات

لال قلعہ کاقیدی وجود جمعرات 27 جنوری 2022
لال قلعہ کاقیدی

''کسان ،ٹریکٹر ،ٹرالی ریلی ''کی بھی ایک پہیلی ہے وجود جمعرات 27 جنوری 2022
''کسان ،ٹریکٹر ،ٹرالی ریلی ''کی بھی ایک پہیلی ہے

اقتدار سے نکلنے پر خطرناک ہونے کا دعویٰ وجود بدھ 26 جنوری 2022
اقتدار سے نکلنے پر خطرناک ہونے کا دعویٰ

خطر۔ناک۔۔ وجود بدھ 26 جنوری 2022
خطر۔ناک۔۔

برطانیہ میں سب سے زیادہ امتیازی سلوک مسلمانوں کے ساتھ کیے جانے کا انکشاف وجود بدھ 26 جنوری 2022
برطانیہ میں سب سے زیادہ امتیازی سلوک مسلمانوں کے ساتھ کیے جانے کا انکشاف

بھارتی اسکول میں پرنسپل کا بچوں کو نماز کی اجازت دینا جرم بن گیا وجود بدھ 26 جنوری 2022
بھارتی اسکول میں پرنسپل کا بچوں کو نماز کی اجازت دینا جرم بن گیا

کووڈ صورت حال کی پیش گوئی: ’یہ کوئی قطعی سائنس نہیں‘ وجود منگل 25 جنوری 2022
کووڈ صورت حال کی پیش گوئی: ’یہ کوئی قطعی سائنس نہیں‘

حرام سے اجتناب کاانعام وجود منگل 25 جنوری 2022
حرام سے اجتناب کاانعام

سعودی عرب میں ہر گھنٹے سات طلاقوں کے کیسز رپورٹ وجود منگل 25 جنوری 2022
سعودی عرب میں ہر گھنٹے سات طلاقوں کے کیسز رپورٹ

حق دو کراچی کو وجود پیر 24 جنوری 2022
حق دو کراچی کو

ہندوستان کی شبیہ کون داغدار کررہاہے؟ وجود پیر 24 جنوری 2022
ہندوستان کی شبیہ کون داغدار کررہاہے؟

اشتہار

افغانستان
افغانستان میں امریکی شہری کا قبولِ اسلام، اسلامی نام محمد عیسیٰ رکھا وجود پیر 24 جنوری 2022
افغانستان میں امریکی شہری کا قبولِ اسلام، اسلامی نام محمد عیسیٰ رکھا

افغانستان،ہرات میں دھماکہ، 7 افراد جاں بحق، 9 زخمی وجود اتوار 23 جنوری 2022
افغانستان،ہرات میں دھماکہ، 7 افراد جاں بحق، 9 زخمی

اسلامی ممالک طالبان حکومت کو تسلیم کریں، افغان وزیراعظم کا مطالبہ وجود جمعرات 20 جنوری 2022
اسلامی ممالک طالبان حکومت کو تسلیم کریں، افغان وزیراعظم کا مطالبہ

طالبان کا شمالی مغربی شہر میں بدامنی کے بعد فوجی پریڈ کے ذریعے طاقت کا مظاہرہ وجود منگل 18 جنوری 2022
طالبان کا شمالی مغربی شہر میں بدامنی کے بعد فوجی پریڈ کے ذریعے طاقت کا مظاہرہ

افغان صوبہ بادغیس میں شدید زلزلہ،ہلاکتوں کی تعداد30 سے تجاوز وجود منگل 18 جنوری 2022
افغان صوبہ بادغیس میں شدید زلزلہ،ہلاکتوں کی تعداد30 سے تجاوز

اشتہار

بھارت
بھارت میں گوگل کے سی ای او سندر پچائی کیخلاف مقدمہ وجود جمعرات 27 جنوری 2022
بھارت میں گوگل کے سی ای او سندر پچائی کیخلاف مقدمہ

بھارتی اسکول میں پرنسپل کا بچوں کو نماز کی اجازت دینا جرم بن گیا وجود بدھ 26 جنوری 2022
بھارتی اسکول میں پرنسپل کا بچوں کو نماز کی اجازت دینا جرم بن گیا

شلپا شیٹی فحاشی پھیلانے کے مقدمے سے بری وجود منگل 25 جنوری 2022
شلپا شیٹی فحاشی پھیلانے کے مقدمے سے بری

بھارت کا چین پر سرحد سے لاپتا نوجوان کو اغوا کرنے کا الزام وجود جمعه 21 جنوری 2022
بھارت کا چین پر سرحد سے لاپتا نوجوان کو اغوا کرنے کا الزام

بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا وجود جمعه 21 جنوری 2022
بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا
ادبیات
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل وجود منگل 04 جنوری 2022
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل

پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی

غلاف کعبہ کی سلائی میں عربی کا ثلث فانٹ استعمال کرنے کی وضاحت جاری وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
غلاف کعبہ کی سلائی میں عربی کا ثلث فانٹ استعمال کرنے کی وضاحت جاری

دنیا کی 1500 زبانیں معدوم ہونے کا خطرہ وجود منگل 21 دسمبر 2021
دنیا کی 1500 زبانیں معدوم ہونے کا خطرہ

سقوط ڈھاکہ پر لکھی گئی نظمیں وجود جمعرات 16 دسمبر 2021
سقوط ڈھاکہ پر لکھی گئی نظمیں
شخصیات
دنیا کی کم عمر مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ کو بچھڑے 10 برس بیت گئے وجود هفته 15 جنوری 2022
دنیا کی کم عمر مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ کو بچھڑے 10 برس بیت گئے

مولانا طارق جمیل کی اپنے طوطےاور بلی کے ہمراہ دلچسپ ویڈیو وائرل وجود منگل 11 جنوری 2022
مولانا طارق جمیل کی اپنے طوطےاور بلی کے ہمراہ دلچسپ ویڈیو وائرل

ہے رشک ایک خلق کو جوہر کی موت پر ۔ یہ اس کی دین ہے جسے پروردگار دے وجود بدھ 05 جنوری 2022
ہے رشک ایک خلق کو جوہر کی موت پر        ۔ یہ اس کی دین ہے جسے پروردگار دے

سرگودھا کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ : مولانا اکرم طوفانی سپرد خاک وجود پیر 27 دسمبر 2021
سرگودھا کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ : مولانا اکرم طوفانی سپرد خاک

قائداعظم کے خطاب کا تحقیقی جائزہ (خواجہ رضی حیدر) وجود هفته 25 دسمبر 2021
قائداعظم کے خطاب کا تحقیقی جائزہ  (خواجہ رضی حیدر)