وجود

... loading ...

وجود
وجود

’’ بک رہا‘‘ عید ۔۔

بدھ 21 جولائی 2021 ’’ بک رہا‘‘ عید ۔۔

دوستو، آج بقرعید کا دن ہے، خوشیوں کا دن ہے، امت مسلمہ کے لیے ایسا مذہبی تہوار ہے جس میں خوشیاں منانے اور غریبوں، مسکینوں، رشتہ داروں ، عزیزواقارب کو اپنی خوشیوںمیں شریک کرنے کا حکم دیاگیا ہے۔ بقرعید کو پاکستانیوں کی اکثریت ’’بکرا عید‘‘ بھی کہتی ہے۔اس کی وجہ کیا ہے ہماری تو سمجھ سے باہر ہے، ایک وجہ ممکن ہے کہ یہ ہو کہ اس روز بکرے قربان کئے جاتے ہیں تو اسے بکراعید کہاجانے لگا۔۔ ’’بقر‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ’’ گائے ‘‘ہوتا ہے۔دنیا بھرمیں بسنے والی امت مسلمہ عیدالاضحی روایتی مذہبی عقیدت اوراحترام کے ساتھ مناتی ہے۔ اس دن سنت ابراہیمی کی ادائیگی کیلیے اللہ کی راہ میں جانور قربان کئے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عیدالفطر کی آمد سے قبل جس طرح خواتین، بچے اور مرد حضرات شاپنگ میں مصروف دکھائی دیتے ہیں، اسی طرح عیدالاضحی کے موقع پر سجائی جانے والی مویشی منڈیوں میں لوگوں کا ہجوم دکھائی دیتاہے۔ہرکوئی اللہ کی راہ میں جانورکی قربانی کے لیے خریداری کرتا دکھائی دیتاہے۔ کوئی بکرا لیتا ہے توکوئی دنبہ، کوئی گائے لیتا ہے توکوئی اونٹ۔ اس موقع پرسب سے دلچسپ بات یہ ہوتی ہے کہ بڑے توبڑے چھوٹے بچے بھی قربانی کے جانور کی خریداری میں پیش پیش نظرآتے ہیں۔ واقعی یہ مناظراس بات کا ثبوت ہیں کہ دنیا بھرمیں بسنے والی امت مسلمہ کی طرح پاکستان کے مسلمان بھی سنت ابراہیمی کوعقیدت، احترام اورجذبے کے ساتھ مناتے ہیں۔
کورونا کی تیسری لہر بڑی خطرناک واقع ہورہی ہے۔ کراچی میں تو بھارتی وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے، اس عید پر آپ تمام لوگ احتیاط کریں۔ کل محترمہ پڑوسن سے کہہ رہی تھی۔۔۔کورونا کی پہلی لہر میں یہ (شوہر) جھاڑوٗ، پونچھا، برتن، کپڑے سیکھ گئے۔دوسری لہر میں کھانا بنانا سیکھ گئے۔اب تیسری لہر میں یہ اچار، پاپڑ وغیرہ سیکھ جائے تو ان کا کورس پورا ہوجائے گا۔۔محکمہ صحت نے سندھ حکومت کو دس دن کے لیے مکمل ڈاؤن کی تجویز دی ہے، ساتھ ہی سفارش کی ہے کہ تمام کاروبار، بازار اور پبلک ٹرانسپورٹ بھی بند کردی جائے ۔۔گزشتہ لاک ڈاؤن کے دوران موٹے موٹے آنسو آنکھوں میں بھر کر بیوی نے شوہر سے شکوہ کیا کہ ۔۔میری حیثیت تو اس گھر میں نوکرانی جیسی ہوکر رہ گئی ہے۔شوہر کو حیرت کا جھٹکا لگا، بے ساختہ بول اٹھا، بیگم برتن اور کپڑے میں نے دھوئے، گھر کی صفائیاں میں کرتا رہا،یہاں تک کہ کھانا بھی میں نے بنایا پھر تم نوکرانی کیسے بن گئی؟ بیوی نے بڑی معصومیت سے جواب دیا۔۔ نوکر کی بیوی نوکرانی تو ہی کہلاتی ہے۔۔
ملازم نے باس سے کہا۔’’سر، کیا مجھے کل کی چھٹی مل سکتی ہے؟ مجھے عید کی شاپنگ کے سلسلے میں بیوی کے ساتھ بازار جانا ہے‘‘۔۔۔باس نے غصے سے کہا۔۔ہرگز نہیں۔دیکھ نہیں رہے ہو، دفتر میں کتنا کام باقی پڑا ہے۔۔۔ملازم نے اطمینان کی گہری سانس لے کر کہا۔۔ بہت بہت شکریہ سر۔۔آج بقرعیدکا دن ہے۔ ۔آپ لوگ بھی کیا سوچ رہے ہوں گے کہ بکراعید پر یہ ’’بک رہا‘‘ ہے۔۔ہمارے نزدیک تو وہ بندہ بھی قربانی کے دنوں میں اہم ہوجاتا ہے جس کی عقل گھاس چرنے گئی ہو۔ چونکہ عیب دار جانور کی قربانی جائز نہیں اس لیے باباجی پہاڑی بکروں کی قربانی سے پرہیز کرتے ہیں۔ وجہ یہ بتاتے ہیں کہ۔۔پہاڑوں پر رہنے کا حق شاہینوں کا ہے اور جو بکرا شاہین کی جائیداد پر قابض ہو،ایسے لینڈ گریبر، قبضہ مافیا بکرے میں اس سے بڑا عیب کیا ہوگا؟۔۔جس طرح سگریٹ کے ایک طرف شعلہ اور دوسری طرف بے وقوف ہوتا ہے، اسی طرح قربانی کے دنوں میں رسی کے ایک طرف بکرا اَور دوسری طرف بھی بکرا ہی ہوتا ہے۔ بکرا لینے سے پہلے کتنی بار انسان کو خود بکرا بننا پڑتا ہے۔باباجی فرماتے ہیں کہ ۔۔کوشش کریں کہ اس عید الاضحی پر اپنی انا کو قربان کر دیں جو ہر معاملہ پر بکرے کے طرح ’’میں میں‘‘ کرتی ہے۔۔وہ مزید کہتے ہیں کہ ۔۔عید سے پہلے گوشت بازار سے اور برف فریج سے ملتی ہے عید کے بعد گوشت فریج سے اور برف بازار سے ۔ ۔باباجی نے بڑی عید پر عید کا بڑا پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ ۔۔اصل دوست وہ نہیں جو چھوٹے شاپر میں وڈا گوشت لائے بلکہ اصل دوست وہ ہے جو وڈے شاپر میں چھوٹا گوشت لائے۔۔
وصی شاہ کی معروف نظم، میں تیرے حسیں ہاتھ کا کنگن ہوتا۔۔ ہمارے پیارے دوست نے بکراعید کے حوالے سے اس نظم کی پیروڈی ہمیں بھیجی ہے۔۔ کاش اس عید پر میں تیرا بکرا ہوتا، اور کسی نے نہ سہی تو نے مجھے پکڑا ہوتا۔۔ تو حنا لگے ہاتھوں سے مجھے پٹھے کھلاتی، تھوڑے تھوڑے نہیں سارے اکٹھے کھلاتی۔۔تومجھے میں میں کرکے بلاتی اور شام کو ساتھ گلی میں گھماتی۔۔میرے پاس گاڑی نہ سہی چھکڑا ہوتا، کاش اس عید پر میں تیرا بکرا ہوتا۔۔ بلاجھجک مجھے آشنائے راز کرتی، اگر میرا رقیب تجھے چھیڑا کرتا،سینگ مارتا فوری اسے ٹکرکرتا،رات کو باہر سردی میں اکڑا ہوتا، کاش اس عید پر میں تیرا بکرا ہوتا۔ پھر عید پر ذبح ہوجاتا میں، تیری خاطر کٹ مرجاتا میں، تیری محبت نے کچھ اس طرح جکڑا ہوتا، کاش اس عید پر میں تیرا بکرا ہوتا۔۔باباجی کا کہنا ہے کہ ۔۔اگر قربانی کے جانور بول سکتے تو اِن بیوپاریوں کو وڈی وڈی گالیاں نکالتے جس وقت بیوپاری کہتے ہیں۔۔اس نوں مکھن تے دیسی گھی کھلا کے پالیا جے۔۔جس طرح پنجاب میں شیخ اپنی کنجوسی کی وجہ سے مشہور ہیں،اسی طرح کراچی میں میمن حضرات بھی کم نہیں۔۔ایک میمن دنبہ ذبح کرا رہا تھا۔۔ دُنبے کے پاس بیٹھ کر خُود کلامی کر رہا تھا۔۔ جگر اور گُردوں کی تو کڑاہی بنے گی،سینے کے گوشت کی بریانی،ران کے گوشت کی کڑاہی،نرم گوشت کے کباب بناؤں گا،چربی، سری پائے یخنی کے لیے الگ رکھوں گا،چمڑے کی جیکٹ بنواؤں گا،اُوٗن شال بنانے کے کام آئے گی۔۔۔قصائی چُھری پکڑے اس کی طرف مُڑا اور بولا۔۔حاجی صاحب! اسکی آواز بھی ریکارڈ کر لو، موبائل رنگ ٹون کے کام آئے گی۔
اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔اسوہ ابراھیم قربانی کی عظیم داستان کی صورت بتاتا ہے کہ۔اس دنیا میں بغیر قربانی کچھ نہیں۔اس دنیا کا حسن یہ ہے کہ انسان اس تڑپ میں گزار دے کہ رب راضی ہو جائے۔ اور اس راستے میں سب کچھ قربان کر نے پر ہر لمحہ آ مادہ اور تیار رہے۔یہ ہے قربانی کی اصل روح۔جو اس وقت کھو چکی ہے۔جسے پھر سے زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں


مضامین
ڈار اور ڈالر وجود پیر 03 اکتوبر 2022
ڈار اور ڈالر

کانگریس کا ’غیرگاندھی‘ صدر کتنا کامیاب ہوگا؟ وجود پیر 03 اکتوبر 2022
کانگریس کا ’غیرگاندھی‘ صدر کتنا کامیاب ہوگا؟

دوستوں سے ریاکی بات نہ کر وجود اتوار 02 اکتوبر 2022
دوستوں سے ریاکی بات نہ کر

چالیں اور گھاتیں وجود هفته 01 اکتوبر 2022
چالیں اور گھاتیں

ایران میں پرتشدد مظاہروں کے سلگتے ہوئے انگارے وجود جمعرات 29 ستمبر 2022
ایران میں پرتشدد مظاہروں کے سلگتے ہوئے انگارے

وزیرِ اعظم کا گھر غیر محفوظ تو محفوظ ہے کیا ؟ وجود بدھ 28 ستمبر 2022
وزیرِ اعظم کا گھر غیر محفوظ تو محفوظ ہے کیا ؟

اشتہار

تہذیبی جنگ
مودی حکومت کی اقلیتوں کے خلاف کارروائی، مسلم مذہبی گروپ پر 5 سال کی پابندی لگا دی وجود جمعرات 29 ستمبر 2022
مودی حکومت کی اقلیتوں کے خلاف کارروائی، مسلم مذہبی گروپ پر 5 سال کی پابندی لگا دی

پاک بھارت میچ کے باعث ہندو مسلم کشیدگی برمنگھم تک پہنچ گئی وجود بدھ 21 ستمبر 2022
پاک بھارت میچ کے باعث ہندو مسلم کشیدگی برمنگھم تک پہنچ گئی

برلن میں مسلم کمیونٹی کو ناموافق حالات کا سامنا ہے، جرمن حکومت کے پینل کا اعتراف وجود پیر 19 ستمبر 2022
برلن میں مسلم کمیونٹی کو ناموافق حالات کا سامنا ہے، جرمن حکومت کے پینل کا اعتراف

بھارت:مسلمان طلبا سے پڑھائی کا حق چھین لیا گیا، 17 ہزار طالبات اسکول چھوڑنے پر مجبور وجود جمعه 16 ستمبر 2022
بھارت:مسلمان طلبا سے پڑھائی کا حق  چھین لیا گیا، 17 ہزار طالبات اسکول چھوڑنے پر مجبور

بے روزگاری کا خوف، بھارتی مسلمان شناخت تبدیل کرنے لگے وجود اتوار 11 ستمبر 2022
بے روزگاری کا خوف، بھارتی مسلمان شناخت تبدیل کرنے لگے

نائن الیون، ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملوں کو 21 برس بیت گئے وجود اتوار 11 ستمبر 2022
نائن الیون، ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملوں کو 21 برس بیت گئے

اشتہار

بھارت
تمام خواتین کو اسقاط حمل کا اختیار ہے، بھارتی سپریم کورٹ کا اپنے ہی فیصلے کے خلاف فیصلہ وجود جمعرات 29 ستمبر 2022
تمام خواتین کو اسقاط حمل کا اختیار ہے، بھارتی سپریم کورٹ کا اپنے ہی فیصلے کے خلاف فیصلہ

مودی حکومت کی اقلیتوں کے خلاف کارروائی، مسلم مذہبی گروپ پر 5 سال کی پابندی لگا دی وجود جمعرات 29 ستمبر 2022
مودی حکومت کی اقلیتوں کے خلاف کارروائی، مسلم مذہبی گروپ پر 5 سال کی پابندی لگا دی

جھوٹے ٹوئٹر اکاؤنٹس:امریکی یونیورسٹی اسٹین فورڈ نے بھارت کو بے نقاب کردیا وجود جمعه 23 ستمبر 2022
جھوٹے ٹوئٹر اکاؤنٹس:امریکی یونیورسٹی اسٹین فورڈ نے بھارت کو بے نقاب کردیا

بھارت، ریپ کے بعد جلائی گئی دلت لڑکی دورانِ علاج دم توڑ گئی وجود بدھ 21 ستمبر 2022
بھارت، ریپ کے بعد جلائی گئی دلت لڑکی دورانِ علاج دم توڑ گئی
افغانستان
افغا ن طالبان حکومت کا پہلا بین الاقوامی تجارتی معاہدہ وجود بدھ 28 ستمبر 2022
افغا ن طالبان حکومت کا پہلا بین الاقوامی تجارتی معاہدہ

قتل کی دھمکی کے ساتھ ملا برادر کو ان کی رہائش گاہ کی تصویر بھیجی تھی، ٹرمپ وجود هفته 24 ستمبر 2022
قتل کی دھمکی کے ساتھ ملا برادر کو ان کی رہائش گاہ کی تصویر بھیجی تھی، ٹرمپ

یو این کی جانب سے لڑکیوں کے اسکول کھولنے پر زور، طالبان نے نیا وزیر تعلیم مقرر کر دیا وجود جمعه 23 ستمبر 2022
یو این کی جانب سے لڑکیوں کے اسکول کھولنے پر زور، طالبان نے نیا وزیر تعلیم مقرر کر دیا

افغانستان کے صوبے لوگر میں سیلاب سے تباہی، 20 افراد جاں بحق وجود پیر 22 اگست 2022
افغانستان کے صوبے لوگر میں سیلاب سے تباہی، 20 افراد جاں بحق
ادبیات
مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع کردار پرنئی کتاب شائع وجود هفته 23 اپریل 2022
مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع  کردار پرنئی کتاب شائع

مستنصر حسین تارڑ کا ادبی ایوارڈ لینے سے انکار وجود بدھ 06 اپریل 2022
مستنصر حسین تارڑ کا ادبی ایوارڈ لینے سے انکار

پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل وجود منگل 04 جنوری 2022
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل

پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی
شخصیات
مسلم دنیا کے معروف اسکالر شیخ یوسف القرضاوی انتقال کر گئے وجود پیر 26 ستمبر 2022
مسلم دنیا کے معروف اسکالر شیخ یوسف القرضاوی انتقال کر گئے

سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے پرنسپل سیکریٹری طارق عزیز انتقال کر گئے وجود پیر 19 ستمبر 2022
سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے پرنسپل سیکریٹری طارق عزیز انتقال کر گئے

ملکہ الزبتھ دوئم 96 برس کی عمر میں چل بسیں وجود جمعرات 08 ستمبر 2022
ملکہ الزبتھ دوئم 96 برس کی عمر میں چل بسیں

عامر لیاقت کی تدفین کردی گئی، نماز جنازہ بیٹے نے پڑھائی وجود جمعه 10 جون 2022
عامر لیاقت کی تدفین کردی گئی، نماز جنازہ بیٹے نے پڑھائی