وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

افغانستان میں نئی جنگ !

منگل 20 جولائی 2021 افغانستان میں نئی جنگ !

امریکا ہار گیا، اُسے ہارنا ہی تھا۔ امریکا باز نہ آئے گا۔ متکبر طاقتیں ملیامیٹ ہونے سے پہلے کہاں باز آتی ہیں، امریکا بھی نہ آئے گا۔
افغانستان میں ایک نئی جنگ کا آغاز ہوگیا۔طالبان ظفریاب ہوئے۔ کابل اُن کے انتظار میں ہے ، مگر اُنہیں جلدی نہیں۔ عجلت میں اشرف غنی ہے۔ آنکھوں کے آگے کلینڈر رکھتے ہیں،ہاتھ پہ گھڑی باندھتے ہیں۔ اُن کے آقا بھی جنہیں دنیا کی سب سے بڑی طاقت ہونے کے زعم سمیت افغان سرزمین پر نشانِ عبرت بنادیا گیا۔ اب راہِ فرار اختیار کرتے ہوئے شکست کا داغ بھی دھونا چاہتا ہے۔ یہ طالبان ہیں، مردانِ کہستان! امریکا کی اس مچلتی ، پھیکی آرزو کو کیسے پورا ہونے دیںگے؟امریکا ایک دہائی قبل جان چکا تھا،افغانستان میں شکست اس کا مقدر ہے۔ تب امریکا کے طاقت ور اداروں کی راہداریوں میں ایک اصطلاح کی گونج سنائی دینے لگی۔ فتح نہیں تو فتح کا مغالطہ ! انگریزی میں جسے ”semblance of success” کہا گیا۔ امریکی فکری مراکز (تھنک ٹینک) اس پر سرکھپاتے تھے۔ ڈونلڈ ٹرمپ بعد میں طلوع ہوئے ، اباما انتظامیہ 2010ء میں ہی اس پر غور کرنے لگی تھی کہ افغانستان میں کامیابی کی تعریف کیا متعین کی جائے؟ تمام امریکی سربرآوردگان ناکام ہوئے۔ پھر فتح کا مغالطہ تخلیق کرنے کی مہم شروع ہوتی ہے۔ تب بھارت کے انگریزی اخبارات بھی چیخنے لگے کہ افغانستان میں فاتح بھی دو ہوں گے اور شکستہ بھی دو ممالک۔جون 2010 ء میں ”دی ہندو” چیخ رہا تھا کہ فاتح طالبان اور پاکستان ہوں گے۔ شکست خوردہ ممالک میں امریکا اور بھارت!جو بات نظر انداز کی جارہی ہے ، وہ یہ کہ یہ دونوں ممالک اب بھی باز نہ آئیں گے۔
آشکار ہے کہ افغانستان میں ایک نئی ہائبرڈ جنگ مسلط کی جارہی ہے۔ اس کی پولی پولی ڈھولکی پاکستان کی سرزمین پر سنائی دے رہی ہے۔ افغان سفیر کی بیٹی کے ساتھ جو کچھ ہوا، اور اس واقعے کی بنیاد پر جو کچھ کیا جارہا ہے، وہ اس ہائبرڈ جنگ کے دھیمے سروں کی ہی چھیڑ چھاڑ ہے۔ اس سے قبل داسو ڈیم کی تعمیر میں شریک چینی انجینئرز کی گاڑی پر حملہ بھی اسی جہت سے مرضی کے مطابق حالات کو ترتیب دینے کی ایک مہم جوئی محسوس ہوتی ہے۔ مگر ٹہریے! میدان جنگ تو ابھی بھی افغانستان ہے ،وہاں کیا ہورہا ہے؟برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلیگراف نے رواں ماہ کے آغاز میں ایک پھلجڑی چھوڑی کہ” برطانیا افغانستان میں افغان فورسز کی تربیت کے لیے اپنی ایک ایلیٹ اسپیشل فورس کی تعیناتی پر غور کررہا ہے”۔ اس سے ذرا قبل امریکا نے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ محدود تعداد میں اپنی فورسز کو افغانستان میں اپنے سفارتی مشن کے تحفظ کی خاطر ٹہرائے گا۔ طالبان نے پتنگ بازی کے اس مشغلے کو خشمگیں نگاہوں سے دیکھا۔ یہاں تک کہ امریکا نے بگرام ائیر بیس کو اس طرح چھوڑا کہ اپنی کٹھ پتلی حکومت کی معاون فورس کو بھی کانوں کان خبر نہ ہونے دی۔ برطانیا نے اس دوران میں اپنی جان چھڑاتے ہوئے یہ تک کہا کہ اگر طالبان حکومت میں آتے ہیں تو وہ اُن کے ساتھ بھی کام کرنے کو تیا رہیں۔ تاہم نیو یارک ٹائمز نے ڈیلی ٹیلی گراف کے ساتھ یہ اطلاع دی کہ امریکا نے فوجی انخلاء مکمل ہونے کے باوجود افغانستان میں متعین اپنے اعلیٰ امریکی کمانڈر جنرل آسٹن ایس ملر کو مزید کچھ وقت کے لیے وہاں تعینات رکھنے کی منظوری دی ہے۔ ان خبروں کے ٹیڑھ پن سے واضح ہے کہ امریکا افغانستان میں اُس روسی نمونے (ماڈل) کی پیروی کرنا چاہتا ہے جو اسد حکومت کو برقرار رکھنے کے لیے شام میں اختیار کیا گیا۔ روس نے شام میں ایک ہائبرڈ جنگ مسلط کررکھی ہے۔ روس کی اس میں بظاہر کامیابی امریکا کو للچاتی ہے۔ یہاں ہم سمجھ سکتے ہیں کہ جنرل آسٹن کو افغانستان میں مزید کچھ عرصے کے لیے کیوں ٹہرایا جارہا ہے۔ دراصل وہ طالبان کے خلاف امریکی فوجی مشن کی ہائبرڈ جنگ میں منتقلی کے عمل میں معاونت کریں گے۔گویا کھیل ابھی جاری ہے۔
کھیل ابھی جاری ہے، یہ ہمیں اس نقشے سے معلوم ہوتا ہے جو بنیادی طورپر ہمارے سامنے اپنی تمام جنگی حشر سامانیوں کے ساتھ موجود ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ پینٹاگون فضا سے حملہ آور ہونے کی اپنی صلاحیت کو مسلسل بڑھاتا رہتا ہے۔ امریکی جنگی طیارے اور مسلح ڈرون خلیج فارس میں موجود ہیں، جن کا بظاہر مصرف طالبان کے خلاف افغان فوجی کارروائیوں میں فضائی معاونت ہے۔اس سے بڑھ کر امریکا خطے میں اپنی صلاحیتوں کو مزید وسعت دے رہا ہے، یہاں تک کہ اپنے فوجی اثاثوں کی بھی تنظیمِ نو کررہا ہے۔اس کھیل کے خطرناک مرحلے میں وزیراعظم پاکستان کا اچانک دورۂ ازبکستان بھی آتا ہے۔ یہ کوئی خطے کے ممالک کی سفارتی کوشش نہیں تھی۔ بلکہ یہ دورہ بھی اُسی امریکی ہائبرڈ جنگ کا حصہ تھا۔ وزیراعظم عمران خان کے ”absolutely not” کا اپنا ایک مزہ ضرور ہے۔ مگر پاکستان کی اپنی ایک تاریخ اور حکمرانوں کی امریکا کے آگے سجدہ ریزی کی ایک نہایت مکروہ روایت بھی ہے۔ فوجی حکمران اور سربراہان بھی اس باب میں کچھ مختلف ثابت نہیں ہوئے۔ یہ پوری سیاسی اور عسکری اشرافیہ کسی دور کی ہو، کبھی بھی دھوکا دے سکتی ہے۔ بدقسمتی سے وزیراعظم عمران خان کے دورۂ ازبکستان سے ذرا پہلے ازبکستان اور تاجکستان کے وزرائے خارجہ واشنگٹن میں ”مشاورت” کے لیے ” مدعو”تھے۔ یہ” مشاورتی عمل” افغانستان میں طالبان کے خلاف ایک متبادل (بیک اپ) منصوبے کا حصہ تھا۔ امریکا ان دونوں ممالک میں اپنی کچھ افواج کے ساتھ موجودرہنا چاہتا ہے۔ اشارے یہ ہیں کہ ازبکستان تقریباً قائل ہو چکا ہے۔ اگرایسا ہوتا ہے تو اس کا واضح مطلب ہے کہ واشنگٹن وسط ایشیائی ممالک میں مناسب عسکری سہولیات کے ساتھ اڈے اور اپنی پہلے درجے کی فوج کو ڈرون، بمبار طیاروں اور انٹیلی جنس اثاثوں کو ہروقت فعال حالت میں رکھنے میں کامیاب ہوجائے گا۔ یہ سب کچھ طالبان کے خلاف ہوگا یا پھر اُن کے خلاف لڑنے کے نام پر ہوگا۔ آپ خطرے کی گھنٹی سن سکتے ہیں۔اس کھیل میں وزیراعظم عمران خان اپنے ”absolutely not” کے ساتھ ازبکستان کیا کرنے گئے تھے؟ اس کا جواب کچھ زیادہ مشکل نہیں۔ عمران خان کی شکل میں ملک کے اندر جو بھی بندوبست موجود ہے، وہ اپنے دعووں اور وعدوں کے بالکل برعکس اقدامات کرنے کی لامحدود صلاحیت رکھنے کے حوالے سے مشہور یا پھر بدنام ہے۔ مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔
امریکی عزائم مخفی نہیں۔ امریکا طالبان کے خلاف شام کے نمونے پر کارروائیاں شروع کرانا چاہتا ہے۔ اس کے لیے مقامی افغان ملیشیا گروپوں کو تحریک دینے کا عمل شروع ہوگیا ہے جو پہلے ہی گزشتہ دو عشروں میں پینٹاگون اور سی آئی اے کے ساتھ کام کرتے رہے ہیں۔ پینٹاگون کے ساتھ ٹھکیداروں کی ایک لابی بھی منسلک ہے جو اس طویل جنگ کی اصل فائدہ اُٹھانے والی قوت رہی ہے۔ اس کی نہ ختم ہونے والی بھوک طالبان کے خلاف برسر پیکار مختلف ملیشاؤں کو متحرک کرنے میں معاونت کرے گی۔ امریکا اسی طرح سوچ رہا ہے۔ مکرر عرض ہے کہ اپنی نہایت ذلت آمیز شکست کے باوجود وہ ابھی تک باز نہیں آیا۔
دوسری طرف مردانِ کہستان طالبان ہیں۔ اُنہوں نے ایک جارحانہ سفارت کاری سے خطے کے ممالک کو یہ باور کرایا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ کیا طالبان وسط ایشیائی ریاستوں سے یہ نہیں چاہیں گے کہ وہ اپنی سرزمین افغانستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں۔ ایسی صورت میں ازبکستان اور تاجکستان امریکی چھتری تلے سنگین غلطیوں کا ارتکاب کرتے ہیں تو یہ پورا خطہ خوف ناک جنگ کی لپیٹ میںآسکتا ہے جس کا ذمہ دار امریکا ہوگا۔افغان صدر اشرف غنی کے پھدکنے سے لگتا ہے کہ وہ امریکا کی اس ہائبرڈ جنگ میں کامیابی پر یقین رکھتے ہیں یا کم ازکم اس پر یقین رکھنے کے سوا کوئی دوسرا راستا نہیں پاتے۔ اس سب کے باوجود ایک دوسری حقیقت سب سے زیادہ توانا ہے کہ یہ شام نہیں افغانستان ہے، یہاں مزاحمت کی صبح کبھی ختم نہیں ہوتی۔ افغانستان میں مختلف جنگجو ملیشیائیں نوشتہ دیوار پڑھنے کی حیرت انگیز صلاحیت رکھتی ہیں۔ اگر 11 ستمبر کے بعد طالبان نے خود افغان فورسز میں ہی نقب لگادی،اور اشرف غنی کے دائیں بائیں لوگ طالبان کے آگے تسلیم کرنے لگے تو پھر امریکا کا یہ منصوبہ کس طرح موثر ہوگا، اس کا جواب کچھ دشوار نہیں۔ ابھی تو ہم ”absolutely not”کا مزہ لیتے ہوئے مشیر قومی سلامتی معید یوسف کی اس وضاحت سے لطف اندوز ہوتے ہیں کہ امریکا نے پاکستان سے فوجی اڈے مانگے نہیں بلکہ اس کا ماحول بنایا تھا۔ امریکا ہار گیا ہے،وہ اس ہائبرڈ جنگ سے بھی جلد ہاتھ کھینچ لے گا، طالبان کی مزاحمت سے یہ یقین مستحکم ہوتا ہے۔ مگر ہم خود کو بے وقوف بناتے ہوئے کب ہاریں گے، یہ معلوم نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں


مضامین
عمرؓکومعاف کردیں وجود جمعرات 29 جولائی 2021
عمرؓکومعاف کردیں

افغانستان میں امن اور کابل حکومت کی پروپیگنڈہ مہم وجود جمعرات 29 جولائی 2021
افغانستان میں امن اور کابل حکومت کی پروپیگنڈہ مہم

حیسکو قاتل بھی مقتول بھی وجود جمعرات 29 جولائی 2021
حیسکو قاتل بھی مقتول بھی

اگر اب بھی نہ جاگے۔پیگاسس جاسوسی اسکینڈل وجود جمعرات 29 جولائی 2021
اگر اب بھی نہ جاگے۔پیگاسس جاسوسی اسکینڈل

قوت گویائی کی بحالی میں کامیابی وجود منگل 27 جولائی 2021
قوت گویائی کی بحالی میں کامیابی

کون کہتاہے وجود اتوار 25 جولائی 2021
کون کہتاہے

اپنا دھیان رکھنا وجود اتوار 25 جولائی 2021
اپنا دھیان رکھنا

محکمہ بہبودی آبادی کے گریڈ چودہ کے ملازم کے اختیارات و مراعات!! وجود هفته 24 جولائی 2021
محکمہ بہبودی آبادی کے گریڈ چودہ کے ملازم کے اختیارات و مراعات!!

اپنوں کی حوصلہ شکنی حب الوطنی نہیں وجود هفته 24 جولائی 2021
اپنوں کی حوصلہ شکنی حب الوطنی نہیں

مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے وجود بدھ 21 جولائی 2021
مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے

مساوات، قربانی اور انعام وجود بدھ 21 جولائی 2021
مساوات، قربانی اور انعام

’’ایف آئی آر‘‘ کے خلاف سندھ حکومت کی قانونی کارروائی وجود بدھ 21 جولائی 2021
’’ایف آئی آر‘‘ کے خلاف سندھ حکومت کی قانونی کارروائی

اشتہار

افغانستان
امریکی جنگی طیاروں کے طالبان کے ٹھکانوں پر فضائی حملے وجود هفته 24 جولائی 2021
امریکی جنگی طیاروں کے طالبان کے ٹھکانوں پر فضائی حملے

افغان صدارتی محل میں نماز عید کے دوران راکٹ حملے کی ویڈیو وائرل وجود بدھ 21 جولائی 2021
افغان صدارتی محل میں نماز عید کے دوران راکٹ حملے کی ویڈیو وائرل

وزیر اعظم عمران خان نے افغان صدر اشرف غنی کو آئینہ دکھا دیا وجود هفته 17 جولائی 2021
وزیر اعظم عمران خان نے افغان صدر اشرف غنی کو آئینہ دکھا دیا

پاکستان سے 10ہزار جنگجو افغانستان میں داخل ہوئے ، اشرف غنی کا الزام وجود هفته 17 جولائی 2021
پاکستان سے 10ہزار جنگجو افغانستان میں داخل ہوئے ، اشرف غنی کا الزام

طالبان نے افغانستان کے شمالی علاقوں پر قبضہ کرلیا، امریکی میڈیا وجود پیر 12 جولائی 2021
طالبان نے افغانستان کے شمالی علاقوں پر قبضہ کرلیا، امریکی میڈیا

اشتہار

بھارت
بابری مسجد کی شہادت کے بعد مسلمان ہونے والے محمد عامر کی پر اسرار موت وجود اتوار 25 جولائی 2021
بابری مسجد کی شہادت کے بعد مسلمان ہونے والے محمد عامر کی پر اسرار موت

پیگاسس کے ذریعے جاسوسی،نریندر مودی نے غداری کا ارتکاب کیا، راہول گاندھی وجود هفته 24 جولائی 2021
پیگاسس کے ذریعے جاسوسی،نریندر مودی نے غداری کا ارتکاب کیا، راہول گاندھی

بھارت میں کورونا اموات سرکاری اعداد وشمار سے 10 گنا زیادہ ہوسکتی ہیں وجود بدھ 21 جولائی 2021
بھارت میں کورونا اموات سرکاری اعداد وشمار سے 10 گنا زیادہ ہوسکتی ہیں

افغانستان سے بھارتی سفارتکاروں کا انخلائ، سوشل میڈیا پہ مذاق اڑنے لگا وجود پیر 12 جولائی 2021
افغانستان سے بھارتی سفارتکاروں کا انخلائ، سوشل میڈیا پہ مذاق اڑنے لگا

نریندر مودی کی کابینہ میں شامل 42فیصدوزراء کے خلاف فوجداری مقدمات قائم ہیں'رپورٹ وجود پیر 12 جولائی 2021
نریندر مودی کی کابینہ میں شامل 42فیصدوزراء کے خلاف فوجداری مقدمات قائم ہیں'رپورٹ
ادبیات
عظیم ثنا ء خواں،شاعر اورنغمہ نگار مظفر وارثی کی دسویں برسی منائی گئی وجود جمعرات 28 جنوری 2021
عظیم ثنا ء خواں،شاعر اورنغمہ نگار مظفر وارثی کی دسویں برسی منائی گئی

لارنس آف عربیا، بچپن کیسے گزرا؟ وجود منگل 20 اکتوبر 2020
لارنس آف عربیا، بچپن کیسے گزرا؟

بیروت سے شائع کتاب میں اسرائیل نواز بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا چہرہ بے نقاب وجود جمعرات 17 جنوری 2019
بیروت سے شائع کتاب میں اسرائیل نواز بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا چہرہ بے نقاب

14واں بین الاقوامی کتب میلہ کراچی ایکسپوسینٹر میں ہوگا وجود پیر 10 دسمبر 2018
14واں بین الاقوامی کتب میلہ کراچی ایکسپوسینٹر میں ہوگا

شاعر جون ایلیا کو مداحوں سے بچھڑے 16 برس بیت گئے وجود جمعرات 08 نومبر 2018
شاعر جون ایلیا کو مداحوں سے بچھڑے 16 برس بیت گئے
شخصیات
188ارب ڈالر کے مالک ایلون مسک دنیا کے مالدار ترین آدمی بن گئے وجود جمعه 08 جنوری 2021
188ارب ڈالر کے مالک ایلون مسک دنیا کے مالدار ترین آدمی بن گئے

ہالی وڈ اداکار ادریس البا کی اہلیہ بھی کورونا سے متاثر وجود پیر 23 مارچ 2020
ہالی وڈ اداکار ادریس البا کی اہلیہ بھی کورونا سے متاثر

امریکی میگزین فوربز میں سب سے زیادہ کمانے والی شخصیات کی فہرست جاری وجود منگل 01 جنوری 2019
امریکی میگزین فوربز میں سب سے زیادہ کمانے والی شخصیات کی فہرست جاری

سال 2018، مختلف شعبہ ہائے حیات کی بہت سی عالمی شخصیات دنیا چھوڑ گئیں وجود بدھ 26 دسمبر 2018
سال 2018، مختلف شعبہ ہائے حیات کی بہت سی عالمی شخصیات دنیا چھوڑ گئیں

ماضی کی رہنما خواتین وجود پیر 14 مئی 2018
ماضی کی رہنما خواتین