وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

ترک صدر اردوان توجہ دیں!

هفته 17 جولائی 2021 ترک صدر اردوان توجہ دیں!

رجب طیب اردوان قرآن کی تلاوت فرماتے ہیں تو دل موہ لیتے ہیں۔ خوب صورت آواز ، پراثر لحن!گاہے لگتا ہے ساز ، سوز سے بغلگیر ہوتا ہے۔کاش وہ دائم رہنے والی کتاب کی یہ آیت بھی اسی سوز سے پڑھیں، جس میں عالم کا پروردگار گرہ کشا ہے۔

”اللہ نے کسی شخص کے سینے میں دو دل نہیں رکھے”۔(سورة الاحزاب، آیت چار)
طیب اردوان کو آخر کار فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اُس استعمار کا ایندھن بنیں گے جو اپنے ڈھب کی دنیا تشکیل دینا چاہتا ہے اور مسلمانوں میں کشتوں کے پشتے لگا رہا ہے یا پھر وہ تاریخ میں لکیر کی دوسری طرف کھڑے ہوں گے۔ جہاں پورے قد سے سلطان عبدالحمید کھڑے تھے۔ اللہ اُن کی قبر کو نور سے بھر دے۔ایک راستا تیرانوے(93) روزہ حکمران اُن کے بھائی سلطان مراد کا بھی ہے، جنہوں نے صیہونیوں کے آگے ہتھیار ڈال دیے تھے۔ مغرب کی چکاچوندی سے متاثر ہوئے ، پھر اعصابی اختلال کا شکار ہوکر تاریخ میں رُسوا ہوئے۔ یہ تو آشکار ہے کہ امریکی افواج کے انخلاء کے بعد ترکی کو کابل ہوائی میدان کی ذمہ داری خوامخواہ نہیں سونپ دی گئی۔ رجب طیب اردوان کی چھوی (امیج) اسلامی دنیا میں ایک مسلم دوست رہنما کی ہے۔ اُگلے تین چار برسوں کے بعد نئی دنیا کے تشکیل کی آہٹ وہ سن رہے ہیں۔ اُن سے مسلم اُمہ کی نگہ داری کی امید کی جاتی ہے۔ مگر اُن کے دل کے کسی کونے میںمغرب کی مچلتی دنیا بھی ہے۔ وہ گاہے ترکی کے مستقبل کو یورپ کی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں۔ زیادہ دن نہیں گزرے ترکی یورپی یونین کا حصہ بننے کے لیے اُسی طرح اُتاؤلا تھا، جس طرح پاکستان فیٹیف (ایف اے ٹی ایف) کی مشتبہ فہرست (گرے لسٹ) سے نکلنے کے لیے دُبلا ہورہاہے۔

مسلم ممالک کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اُن کا اپنا کوئی ”ورلڈ ویو” نہیں ۔ وہ عالمی دنیا میں شراکت دار ہونے کے بجائے فداکار کے طور پر خود کو پیش کرتے ہیں۔ دو مختلف نظریات کا ایک مشترک عَالم نہیں ہوسکتا۔ اسلام اور مغرب دو متحارب نظریات ہیں۔ ان کی دنیائیں الگ الگ ہیں۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ مسلم دنیا مسلسل مغرب کی بنائی دنیا کے آگے ڈھیر ہے۔ اس ذلت ونکبت کی تمام تر ذمہ داری گزشتہ سو برسوں سے مسلم دنیا پر مسلط برائے نام مسلمان رہنماؤں پر عائد ہوتی ہے۔ یہ رہنما نام مسلمانوں کے رکھتے ہیں، عیدین میں مسلمانوں کے ساتھ نماز پڑھنے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ گاہے کچھ اسلامی عبادتوں میں خود کو شریک کرلیتے ہیں۔ نمائشی طور پر گفتگو میں انشاء اللہ، ماشاء اللہ کی بھی تکرار کرتے ہیں۔ مگر ان کے مفادات ، طرزِ زندگی کے تمام لوازمات اور اثاثہ جات مغربی ممالک میں ہیں۔ یہ دو دِلے، دوغلے اور مکمل کھوکھلے ہیں۔

رجب طیب اردوان اس فہرست کے تمام رہنماؤں سے مختلف دکھائی دیتے ہیں۔ پھر وہ ایک ایسی قوم کے رہنما ہیں، جو آج بھی اپنی تاریخ سے منسلک ہے۔ اگرچہ ہر قوم کی طرح ترکی کو بھی اپنے شاندار ماضی سے کاٹنے کی پوری کوشش کی گئی۔قومیت کی جیسی خطرناک تحریک ترکی میں چلی کہیںنہیں۔اُدھر کمال اتاترک ، ترک قوم کا سب سے بڑا دھوکا تھے۔ یہاں سر سید کی فکر نے وہی کام کیا تھا۔ پاکستان میں لوگ اپنی تاریخ سے دستبردار ہو گئے، اب یہاں انتہائی تعلیم یافتہ لوگوں کا بھی سب سے بڑا مسئلہ نواز شریف اور کچھ فوجی رہنماؤں کے درمیان جھگڑے کا انتہائی معمولی تناظر رہ گیا ہے۔ یہ مسئلہ اچھے خاصے مذہبی لوگوں کے ہاں بھی وحشیانہ ڈھمال ڈالے ہوئے ہے۔ افسوس زندگی کے تمام ارفع اور تہذیبی تناظر ہم سے اُچک لیے گئے۔ ہم معمولی تنازعات اور ادنیٰ مفادات کے درمیان پانی پت کی جنگیں لڑتے ہیں۔ہم کیا عیش پسند عربوں میںبھی کچھ باقی نہیں رہ گیا۔ ترک اور طالبان اب بھی مسلم امہ کی امیدوں میں بستے ہیں۔ مسلم امہ میں یہ دونوں وہ قومیں ہیں جو اپنی تاریخ سے مربوط ہیں۔ ان کا حقیق مزاج سلامت ہے۔ افغان سرزمین پر ان دونوںقوموں کو نبرد آزما نہیں ہونا چاہئے۔ اردوان کے ترکی میں اگر امت مسلمہ پر بدقسمتی کا یہ لمحہ اُترتا ہے تو تاریخ اُنہیںکیسے معاف کرے گی؟

طالبان نے واضح کردیا ہے کہ ترکی اپنی فوجیں افغانستان سے نکال لے ۔ترکی کے پاس جو بھی توجیہات ہوں مگر کابل کے ہوائی میدان کو تزوایراتی اہمیت حاصل ہے۔ طالبان کی پیش قدمی کی صورت میں غداروں کے لیے یہ راہِ فرار ہے۔ یہاں مزاحمت کے امکانات بہر صورت رہیں گے۔ اور یوں طالبان ترکی کے مدمقابل ہوں گے۔ یاد رہنا چاہئے کہ ترکی کے 500 فوجی افغانستان میں 2001 ء سے موجود ہیں۔ طالبان نے کبھی بھی اُنہیں نشانا نہیں بنایا۔ترکی کو سمجھنا چاہئے کہ طالبان اُن سے کیوں گریزاں ہیں۔ ترکی رواں برس اپریل میں جب طالبان کے ساتھ مذاکرات اور امن کانفرنس کی میزبانی کرنا چاہتا تھا، تو طالبان نے اس پیشکش کو قبول نہیں کیا تھا۔ دراصل ترکی نیٹو کا رکن ملک ہے۔اور طالبان اپنے خلاف جنگ میں نیٹو کو ایک فریق کے طور پر دیکھتا ہے۔ پھر اس کا حصہ خواہ کوئی بھی ملک ہو۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ترکی نے 2001 ء سے اب تک افغانستا ن میں اپنا کردار غیر جنگی رکھا ہے یا نہیں۔ فرق اس سے پڑتا ہے کہ کابل کے ہوائی میدان میں اس کا کردار نیٹو کے ایک رکن ملک کے طو رپر ہوگا اور نیٹو افغانستان میں ایک جارح قوت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ یوں جنگ باقی رہے گی۔

ترکی نیٹو کا اتحادی ہے، اُس کی یہ حیثیت افغان سرزمین پر کسی طور تبدیل نہیں ہوتی۔ اُسے یہ ”خوش فہمی” نہیں ہونی چاہئے کہ یہاں اُسے اب ایک مسلمان ملک کے طور پر دیکھا جائے گا۔ترکی شام اور آذربائیجان میں ایک کردار رکھتا ہے۔ اس نوع کی سرگرمیاں برتری کا ایک احساس دیتی ہے۔ افغانستان میں اس کی گنجائش نہیں۔ ترکی کے افغانستان میں کردار جاری رکھنے کے عزم کا سب سے بھیانک اور سنگین پہلو یہ ہے کہ وہ ایسا طالبان کو اعتماد میں لے کر نہیں کر رہا بلکہ وہ یہ سب نیٹو اور امریکا کی حمایت سے کررہا ہے۔ ایسی صورت میں طالبان کے لیے یہ کردار ہمیشہ مشکوک رہے گا۔ کیا یہ بدقسمتی نہیں کہ ترکی کے افغانستان میں کردار کی ضرورت پر زور پاکستان، طالبان یا خطے کے کوئی دوسرے ملک نہیں بلکہ برسلز میں نیٹو کے سیکریٹری جنرل ژینس اشٹولٹنبرگ دے رہے ہیں۔ وہ کیا چیز ہے جو نیٹو کے سیکریٹری جنرل کے لیے افغانستان میں ترکی کے کردار کو ”کلیدی” بناتی ہے، بس وہی چیز طالبان کو اُن سے مشکوک کرتی ہے۔ نیٹو جب اس کردار کا خیر مقدم کرے گا تو طالبان اس کی مذمت کریں گے۔ یہ سادہ بات اگر انقرہ نہیں سمجھ رہا تو وہ افغانستان میں حال ہی نہیں مستقبل بھی کھو دے گا۔

ترک صدر رجب طیب اردوان کیوں سمجھتے ہیں کہ طالبان ترکی کے یورپ میں جاری کھیل کو نہیںسمجھتا ہوگا۔ ترکی یورپ سے مراسم کی اپنی سیاست رکھتا ہے ، گزشتہ ڈیرھ سو برسوں سے وہ ان مراسم کی قیمت چکا رہاہے۔ اردوان تاریخ کا یہ تناظر رکھنے کے باوجود اُسی عطار کے لڑکے سے دوا لینے جاتے ہیں۔ درحقیقت ترکی کے لیے امریکا اور اپنے نیٹو کے شراکت داروں کے ساتھ ایک نیا چیلنج تب اُبھرا تھا جب وہ اپنی فضائی حدود کی حفاظت کے لیے روس سے ایس 400 دفاعی میزائل خرید نے گیا۔ امریکا اور نیٹو کو ترکی کا یہ قدم ایک آنکھ نہ بھایا۔ اردوان نے تب اس کی پروا نہیں کی۔ یہاں تک کہ امریکا نے ردِ عمل میں اُسے نئے جیٹ طیاروں کی ترسیل روک دی، اورF-35 اسٹیلتھ لڑاکا جیٹ پروگرام سے نکال پھینکا۔ اب اردوان امریکا اور اپنے مغربی شراکت داروں کو افغانستان میں اپنے کردار کے ذریعے ایک مثبت پیغام دینا چاہتے ہیں۔مگر یہ پیغام طالبان اور تاریخ کے نزدیک ترکی کو منفی مقام پر دھکیل رہا ہے۔ پھر افغانستان ترکی کی یورپ میں جاری سیاست کا کوئی تختۂ مشق تو نہیں۔

ترکی کے بعض ایسے افغان عناصر سے راز ونیاز یا تعلقات ہیں جو طالبان کے ساتھ ہمیشہ صف آرا رہے۔ ازبک اور ہزارہ گروپ اُن میں شامل ہیں۔سب سے مشکوک معاملہ رشید دوستم کا ہے۔ گزشتہ دنوں ازبک لیڈر رشید دوستم ترکی میںاپنا علاج کرارہے تھے۔ یہ وہی رشید دوستم ہیں جن کی سفاکانہ داستانیں قلعہ جنگی اور دشت لیلیٰ میں بکھری ہوئی ہیں۔ طالبان اُنہیںمعاف کیوں کریں گے اور ان سے راز ونیاز رکھنے والے طالبان کو اپنے دوست کیسے باور کراسکیں گے؟رجب طیب اردوان کے پاس سیدھا راستا موجود ہے۔ وہ طالبان کے دوست بن سکتے ہیں۔ خلیفہ سلطان عبدالحمید ہوتے تو یہی کرتے۔ وہ مسلمانوں کے مفادات کا تحفظ کرنے کے لیے یورپ کے ساتھ سیاست کرتے تھے۔ اُنہیں” غچہ” دیتے تھے۔اس ترتیب کو بدلنے کی صورت میں تاریخ اردوان کا مقام تبدیل کردے گی۔ اللہ نے کسی انسان کے سینے میں دو دل نہیں رکھے۔ قرآن یہی کہتا ہے۔ کوئی انسان اپنے لیے دو مقام بھی متعین نہیں کراسکتا۔ تاریخ یہی کہتی ہے۔
٭٭٭٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
روشن مثالیں وجود هفته 16 اکتوبر 2021
روشن مثالیں

تعیناتی کو طوفان بنانے کی کوشش وجود هفته 16 اکتوبر 2021
تعیناتی کو طوفان بنانے کی کوشش

سنجیدہ لوگ، ماحولیات اور بچے وجود هفته 16 اکتوبر 2021
سنجیدہ لوگ، ماحولیات اور بچے

پنڈورا پیپرز کے انکشافات وجود هفته 16 اکتوبر 2021
پنڈورا پیپرز کے انکشافات

بارودکاڈھیر وجود جمعه 15 اکتوبر 2021
بارودکاڈھیر

نخریلی بیویاں،خودکش شوہر وجود جمعه 15 اکتوبر 2021
نخریلی بیویاں،خودکش شوہر

آسام میں پولیس کی درندگی وجود جمعه 15 اکتوبر 2021
آسام میں پولیس کی درندگی

کراچی میں بلدیاتی انتخابات کے امکانات اور مضمرات؟ وجود جمعرات 14 اکتوبر 2021
کراچی میں بلدیاتی انتخابات کے امکانات اور مضمرات؟

میں بھول گیا تھا، وہ چیف آف آرمی اسٹاف ہے!! وجود جمعرات 14 اکتوبر 2021
میں بھول گیا تھا، وہ چیف آف آرمی اسٹاف ہے!!

امریکا کی آخری جنگ کی خواہش وجود منگل 12 اکتوبر 2021
امریکا کی آخری جنگ کی خواہش

مسلم قیادت کا بحران اوراسد الدین اویسی وجود منگل 12 اکتوبر 2021
مسلم قیادت کا بحران اوراسد الدین اویسی

کسانوں کے قتل پر نریندر مودی اور امیت شاہ کی مجرمانہ خاموشی وجود منگل 12 اکتوبر 2021
کسانوں کے قتل پر نریندر مودی اور امیت شاہ کی مجرمانہ خاموشی

اشتہار

افغانستان
افغانستان کی صورتحال ، امریکی نائب وزیر خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی وجود جمعرات 07 اکتوبر 2021
افغانستان کی صورتحال ، امریکی نائب وزیر خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی

طالبان کا داعش کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم وجود جمعرات 30 ستمبر 2021
طالبان کا داعش کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم

طالبان حکومت کے بعد پاکستان کی افغانستان کیلئے برآمدات دگنی ہوگئیں وجود جمعه 17 ستمبر 2021
طالبان حکومت کے بعد پاکستان کی افغانستان کیلئے برآمدات دگنی ہوگئیں

امریکا کا نیا کھیل شروع، القاعدہ آئندہ چند سالوں میں ایک اور حملے کی صلاحیت حاصل کر لے گی،ڈپٹی ڈائریکٹر سی آئی اے وجود بدھ 15 ستمبر 2021
امریکا کا نیا کھیل شروع،  القاعدہ آئندہ چند سالوں میں ایک اور حملے کی صلاحیت حاصل کر لے گی،ڈپٹی ڈائریکٹر سی آئی اے

طالبان دہشت گرد ہیں تو پھر نہرو،گاندھی بھی دہشت گرد تھے، مہتمم دارالعلوم دیوبند کا بھارت میں کلمہ حق وجود بدھ 15 ستمبر 2021
طالبان دہشت گرد ہیں تو پھر نہرو،گاندھی بھی دہشت گرد تھے، مہتمم دارالعلوم دیوبند کا بھارت میں کلمہ حق

اشتہار

بھارت
بھارت،چین کے درمیان 17 ماہ سے جاری سرحدی کشیدگی پر مذاکرات ناکام وجود منگل 12 اکتوبر 2021
بھارت،چین کے درمیان 17 ماہ سے جاری سرحدی کشیدگی پر مذاکرات ناکام

مزاحمتی تحریک سے وابستہ کشمیریوں کے خلاف بھارتی کارروائیوں میں تیزی لانے کا منصوبہ وجود هفته 09 اکتوبر 2021
مزاحمتی تحریک سے وابستہ کشمیریوں کے خلاف بھارتی کارروائیوں میں  تیزی لانے کا منصوبہ

مرکزی بینک آف انڈیاا سٹیٹ بینک آف پاکستان کا 45 کروڑ 60 لاکھ کا مقروض نکلا وجود جمعه 08 اکتوبر 2021
مرکزی بینک آف انڈیاا سٹیٹ بینک آف پاکستان کا 45 کروڑ 60 لاکھ کا مقروض نکلا

بھارت، مسجد میں قرآن پڑھنے والا شہید کردیاگیا وجود جمعه 08 اکتوبر 2021
بھارت، مسجد میں قرآن پڑھنے والا شہید کردیاگیا

شاہ رخ کے بیٹے آریان کو 20 سال تک سزا ہوسکتی ہے وجود جمعرات 07 اکتوبر 2021
شاہ رخ کے بیٹے آریان کو 20 سال تک سزا ہوسکتی ہے
ادبیات
اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا وجود بدھ 13 اکتوبر 2021
اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا

بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف وجود جمعه 01 اکتوبر 2021
بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف

اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب وجود پیر 20 ستمبر 2021
اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب

تاجکستان بزنس کنونشن میں عمران خان پر شعری تنقید، اتنے ظالم نہ بنو،کچھ تو مروت سیکھو! وجود جمعه 17 ستمبر 2021
تاجکستان بزنس کنونشن میں عمران خان پر شعری تنقید، اتنے ظالم نہ بنو،کچھ تو مروت سیکھو!

طالبان کا ’بھگوان والمیکی‘ سے موازنے پر منور رانا کے خلاف ایک اور مقدمہ وجود منگل 24 اگست 2021
طالبان کا ’بھگوان والمیکی‘ سے موازنے پر منور رانا کے خلاف ایک اور مقدمہ
شخصیات
ڈاکٹرعبدالقدیرخان کے لیے دو قبروں کا انتظام، تدفین ایچ8 میں کی گئی وجود اتوار 10 اکتوبر 2021
ڈاکٹرعبدالقدیرخان کے لیے دو قبروں کا انتظام، تدفین ایچ8 میں کی گئی

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نمازِجنازہ ادا کردی گئی وجود اتوار 10 اکتوبر 2021
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نمازِجنازہ ادا کردی گئی

ڈاکٹرعبدالقدیر خان نے150 سے زائد سائنسی تحقیقاتی مضامین تحریر کیے وجود اتوار 10 اکتوبر 2021
ڈاکٹرعبدالقدیر خان نے150 سے زائد سائنسی تحقیقاتی مضامین تحریر کیے

ڈاکٹرعبد القدیر خان نے8 سال کی قلیل مدت میں ایٹمی پلانٹ نصب کیا،ساری دنیا حیرت زدہ رہی وجود اتوار 10 اکتوبر 2021
ڈاکٹرعبد القدیر خان نے8 سال کی قلیل مدت میں ایٹمی پلانٹ نصب کیا،ساری دنیا حیرت زدہ رہی

آزاد کشمیرکے سابق صدر اور وزیراعظم سردار سکندر حیات خان کی کوٹلی میں نماز جنازہ ادا وجود اتوار 10 اکتوبر 2021
آزاد کشمیرکے سابق صدر اور وزیراعظم سردار سکندر حیات خان کی کوٹلی میں نماز جنازہ ادا