وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

کابل پہ دستک

اتوار 04 جولائی 2021 کابل پہ دستک

کابل میں دوام مسجد میں گونجنے والی اذان کو ہے۔حضرتِ بلال حبشی کا تکلم اپنے ہونٹوں پہ کھِلانے والے طالبان دارالحکومت پر دستک دے رہے ہیں۔ اللہ اکبر! اللہ اکبر!!ابھی بگرام ہوائی میدان سے خود کو سمیٹنے والے امریکا کی پہلو دار شکست زیرِ بحث نہیں۔ یہ ایک طویل اور ہمہ جہت موضوع ہے، چشم کشا اور عبرت افزا بھی۔ ابھی تو مقطع میں سخن گسترانہ بات کی طرح اشرف غنی آپڑا ہے۔
امریکا کا بچہ سقہ ، اشرف غنی وہائٹ ہاؤس( قصرِ ابیض) میں ماتھا ٹیک آیا۔ کیا شاہ شجاع اور نجیب اللہ فروغ پاسکے تھے ؟آقا غلاموں کی کہاں پروا کرتے ہیں۔اشرف غنی ایسے لوگ کب حمیت رکھتے ہیں۔ مارے جاتے ہیں۔فارسی شاعر نے مگر کہاتھا:
نے علم و عمل، نہ عزّ و جاہے داریم
جاں محو ِجمالِ پادشاہے داریم
ما از سخنِ دینی و دیں خاموشیم
بر یادِ کسے نالہ و آہے داریم
(ہم نہ علم و عمل رکھتے ہیں اور نہ ہی عز و جاہ، ہم اپنی جان کو اُس بادشاہ کے جمال میں ہی محو رکھتے ہیں،
ہمیں ابحاث دینی سے کیا لینا دینا، ہم تو بس کسی کی یاد میں نالہ و فریاد و آہ و فغاں ہی میں مگن ہیں)۔
امریکا کا بچہ سقہ بھی مگن ہے۔ اشرف غنی اپنے دس رکنی وفد کے ہمراہ امریکا گیا تو کیا وہ اُس تاریخ سے لاعلم ہوگا جو کسبی کی حیا سے جنم لیتی ہے۔ جہاں دوست دشمن وقت اور بستر کے ساتھ بدلتے ہیں۔ اشرف غنی کے لیے سوچنے کا اچھا موقع تھا۔ امریکی صدر گزشتہ کئی ماہ سے اُن کی ملاقات کی درخواستوں کو ٹال رہے تھے۔ غنی امریکی صدر سے تنہا ملاقات کے خواہش مند تھے۔ مگر بائیڈن کا اِصرار تھا کہ تنہا ملاقات نہیں ہوگی، وہ خود کو ایک وسیع البنیاد نمائندے کے طور پر پیش کریں اور اپنے وفد کو اس کا آئینہ دار بنائیں۔ غنی کوایک وفد ترتیب دینا پڑا۔ اپنی بیگم کے ساتھ عبداللہ عبداللہ بھی شامل کیے گئے۔ مگر وہ کیسا ہی وفد بنا تے۔افغانستان میں بے نہاد و بنیاد ہی رہیں گے۔ چنانچہ امریکا میں اُن کے ہاتھ کچھ نہ لگ سکا۔ امریکی صدر جو بائیڈن کی طرف سے ملاقات کے لیے ٹال مٹول کے عرصے میں اشرف غنی کے پاس خود کو تولنے ٹٹولنے کا اچھا موقع تھا، وہ ضائع کر گئے۔ اُنہیں اپنے پیش رو صدر حامد کرزئی کے ساتھ جوبائیڈن کے سلوک کے متعلق کچھ معلومات جمع کرنی چاہئے تھی۔ مگر غلام کہاں ایسا کرتے ہیں۔ وہ مختلف انجام کی آرزو میں ہمیشہ یکساں سلوک کے شکار ہوتے ہیں۔
وہ نہیں، تب حامد کرزئی افغانستان کے کٹھ پتلی صدر تھے۔اُدھر امریکا میںکٹر عیسائی عقیدے سے تعلق رکھنے والے ایواینجلیکن بش۔نو قدامت پسندوں (نیوکانز) کا یہ طبقہ دنیا کو حیوانوں کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ جانوروں کی طرح شہ رگ کا خون چاٹتا ہے۔ کٹر صیہونی ان کے حلیف ہیں۔ مسلمان ان کا مشترکہ نشانا۔مسلم ممالک کی قیادت اکثر ان کا چارہ رہتی اور گماشتہ بنتی ہے۔ اِ دھر مشرف اس ٹولے کے عزائم میں آلۂ کار تھے۔ کرزئی اور مشرف میں کوئی فرق ڈھونڈے سے نہ ملتا تھا۔دونوں بش کے رنگ سے لتھرے ہوئے تھے۔ پاکستان میں مشرف بش کے نام کے امتزاج سے ”بُشرف” کہلائے۔دورِ جدید کے غلام ”دوستی” کے بھرم میں رہتے ہیں، اب کس کو یاد رہا کہ دونوں کے مابین گاڑھی چھننے سے پہلے بش ، مشرف کے نام سے بھی واقف نہ تھے۔مسلمانوں کے قاتل بش 2000ء کی اپنی انتخابی مہم میں تب مذاق بن گیا تھا، جب اُنہیں پاکستان کے صدر مشرف کا نام تک معلوم نہ تھا۔وہ طالبان کو بھی کوئی ”آل گرل پاپ گروپ ”سمجھتا تھا۔ یہ دونوں باتیں بعدازاں بش کی ٹانگیں کھینچنے اور مضحکہ اڑانے کے لیے استعمال ہوتی رہیں۔نوگیارہ کے بعد اِدھر مشرف اور اُدھر حامد کرزئی کا بش سے تعلق تکلف کے تمام پردوں کو چاک کر گیا تھا۔ باب وُد ورڈ نے اس کا احاطہ کیا: صدر بش نے کرزئی کو خاص مقام دے رکھا تھا۔ وہ ہر دوہفتوں میں ایک ویڈیو کانفرنس پر کرزئی سے بات کرتا۔ اس دوران میں کرزئی اپنے نوزائیدہ بیٹے کو گود میں بٹھائے بہلاتا رہتا”۔ بش کے بعد اُباما منصب ِ صدارت پر بیٹھے تو اُن کے پاس موجود انٹیلی جنس رپورٹ آشکار کرتی تھی: کرزئی صرف ٹینشن دے سکتا ہے، اس کے سوا کچھ نہیں”۔پھر کرزئی کے کان مروڑنے کا فیصلہ ہوا۔ اُباما نے تب اپنے نائب صدر اورآج کے صدرجوبائیڈن اور سینیٹر گراہم کو کابل بھیجا۔(برسبیل تذکرہ! ان دونوں نے ملاقات پاکستانی صدر جناب زرداری سے پہلے کی تھی۔ اسلام آبا دسے کابل جاتے ہوئے بائیڈن اور گراہم یہی سوچتے رہے کہ آخر زرداری صاحب کہنا کیا چاہتے تھے؟ موصوف کی گفتگو پاکستانیوں کو بھی سمجھنے میں اتنی ہی دشواری ہوتی ہے)۔ یہ دونوںصاحبان کابل میں کرزئی کو صرف ”رگڑا” لگانے آئے تھے۔ بائیڈن نے کرزئی سے تنہا ملاقات میں احتیاط برتی۔ مگر کھانے کے موقع پر جب کٹھ پتلی افغان حکومت کے تمام وزراء موجود تھے، کرزئی کی دُھلائی کی گئی۔ اُس کی ناکامیوں کو گنوایا گیا، پھر اعلان ہوا : کرزئی ! اب یہ نہیں ہوگا کہ جب آپ کا دل چاہا فون اُٹھا یا اور امریکی صدر سے بات کرنے کی خواہش ظاہر کردی۔ جیسے صدر بش کے دور میں ہوتا تھا”۔ کرزئی تب اپنی خجالت مٹاتا رہا۔ اس دوران میں ”جی جی، ارے کوئی بات نہیں، بالکل بالکل ” جیسے الفاظ ہی اس کی زبان سے ادا ہوتے رہے۔
بائیڈن اور گراہم کٹھ پتلی صدر پر پِل پڑے تھے، صدر کرزئی کے رگڑے کے بعد نائب امریکی صدر جوبائیڈن نے طعامی رومال (نیپکن) کھینچ کر ٹانگوں پر پھیلایا اور کھانا شروع کردیا۔ امریکی مصنّف لکھتا ہے کہ اس ملاقات کے بعد صدر کرزئی کے قریب ترین وزراء امریکی سفارت خانے فون کرکے یہ کھوج لگاتے رہے کہ کیا کرزئی کے ستارے ڈوب رہے ہیں؟ صدر اشرف غنی کو کرزئی دور کی یہ سہولت بھی حاصل نہیں۔ کیو نکہ اُن کے قریب ترین لوگ اب امریکی سفارت خانے فون نہیں کریں گے۔ وہ طالبان سے رابطے کریں گے۔ اطلاعات یہی ہیں کہ اشرف غنی کی منتشر الخیال حکومت کے اکثر پرزے اس مشق میں مصروف ہیں۔ اشرف غنی کے ہاتھ میں ہاتھ ملنے کو بھی کچھ باقی نہیں رہ گیا۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی خبر یہ ہے کہ امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی کا مشترکہ نتیجہ ہے کہ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کے چھ ماہ کے اندر ہی افغان حکومت طالبان کے آگے ڈھ پڑے گی۔ اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ مینڈکوں کی طرح پُھدک رہے ہیں تو بات سمجھ میں آتی ہے۔اگر قصر ابیض (وائٹ ہاؤس ) میں اٹھارہ ہزار اُن افغان مترجمین کی زندگیوں کے حوالے سے پریشانی لاحق ہے جو امریکی افواج کے لیے کام کرتے تھے، تو اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کو زیادہ پریشان ہونا چاہئے۔امریکی چمنی سے نکلنے والے دھویں کا رنگ کثیف ہے اور کابل کی کٹھ پتلیوں کی زبان سے نکلنے والی بھاپ بدبو دار۔ انگریزوں کے بچہ سقہ اور شاہ شجاع یہاں پنپ نہ سکے تھے، روس کا نجیب اللہ برقرار نہ رہ سکا تھا۔ اب امریکیوں کا بچہ سقہ ، اشرف غنی بھی کہاںباقی بچے گا۔کابل میں طالبان دستک دیتے ہیں جہاں دوام صرف مسجد میں گونجنے والی اذان کو ہے۔ طالبان اپنی عبادتوں میں وقت کے پابند ہیں،یہ وقت کابل میںاللہ کی کبریائی بیان کرنے کا ہے۔روس نہ امریکا ، سپر پاؤر ہے اللہ۔۔ اللہ اکبر ! اللہ اکبر!!
٭٭٭٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
یہ رات کب لپٹے گی؟ وجود پیر 18 اکتوبر 2021
یہ رات کب لپٹے گی؟

تماشا اور تماشائی وجود پیر 18 اکتوبر 2021
تماشا اور تماشائی

’’مصنوعی ذہانت ‘‘ پر غلبے کی حقیقی جنگ وجود پیر 18 اکتوبر 2021
’’مصنوعی ذہانت ‘‘ پر غلبے کی حقیقی جنگ

محنت رائیگاں نہیں جاتی وجود اتوار 17 اکتوبر 2021
محنت رائیگاں نہیں جاتی

بیس کی چائے وجود اتوار 17 اکتوبر 2021
بیس کی چائے

امریکی تعلیمی ادارے اور جمہوریت وجود اتوار 17 اکتوبر 2021
امریکی تعلیمی ادارے اور جمہوریت

روشن مثالیں وجود هفته 16 اکتوبر 2021
روشن مثالیں

تعیناتی کو طوفان بنانے کی کوشش وجود هفته 16 اکتوبر 2021
تعیناتی کو طوفان بنانے کی کوشش

سنجیدہ لوگ، ماحولیات اور بچے وجود هفته 16 اکتوبر 2021
سنجیدہ لوگ، ماحولیات اور بچے

پنڈورا پیپرز کے انکشافات وجود هفته 16 اکتوبر 2021
پنڈورا پیپرز کے انکشافات

بارودکاڈھیر وجود جمعه 15 اکتوبر 2021
بارودکاڈھیر

نخریلی بیویاں،خودکش شوہر وجود جمعه 15 اکتوبر 2021
نخریلی بیویاں،خودکش شوہر

اشتہار

افغانستان
افغانستان کی صورتحال ، امریکی نائب وزیر خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی وجود جمعرات 07 اکتوبر 2021
افغانستان کی صورتحال ، امریکی نائب وزیر خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی

طالبان کا داعش کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم وجود جمعرات 30 ستمبر 2021
طالبان کا داعش کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم

طالبان حکومت کے بعد پاکستان کی افغانستان کیلئے برآمدات دگنی ہوگئیں وجود جمعه 17 ستمبر 2021
طالبان حکومت کے بعد پاکستان کی افغانستان کیلئے برآمدات دگنی ہوگئیں

امریکا کا نیا کھیل شروع، القاعدہ آئندہ چند سالوں میں ایک اور حملے کی صلاحیت حاصل کر لے گی،ڈپٹی ڈائریکٹر سی آئی اے وجود بدھ 15 ستمبر 2021
امریکا کا نیا کھیل شروع،  القاعدہ آئندہ چند سالوں میں ایک اور حملے کی صلاحیت حاصل کر لے گی،ڈپٹی ڈائریکٹر سی آئی اے

طالبان دہشت گرد ہیں تو پھر نہرو،گاندھی بھی دہشت گرد تھے، مہتمم دارالعلوم دیوبند کا بھارت میں کلمہ حق وجود بدھ 15 ستمبر 2021
طالبان دہشت گرد ہیں تو پھر نہرو،گاندھی بھی دہشت گرد تھے، مہتمم دارالعلوم دیوبند کا بھارت میں کلمہ حق

اشتہار

بھارت
بھارت،چین کے درمیان 17 ماہ سے جاری سرحدی کشیدگی پر مذاکرات ناکام وجود منگل 12 اکتوبر 2021
بھارت،چین کے درمیان 17 ماہ سے جاری سرحدی کشیدگی پر مذاکرات ناکام

مزاحمتی تحریک سے وابستہ کشمیریوں کے خلاف بھارتی کارروائیوں میں تیزی لانے کا منصوبہ وجود هفته 09 اکتوبر 2021
مزاحمتی تحریک سے وابستہ کشمیریوں کے خلاف بھارتی کارروائیوں میں  تیزی لانے کا منصوبہ

مرکزی بینک آف انڈیاا سٹیٹ بینک آف پاکستان کا 45 کروڑ 60 لاکھ کا مقروض نکلا وجود جمعه 08 اکتوبر 2021
مرکزی بینک آف انڈیاا سٹیٹ بینک آف پاکستان کا 45 کروڑ 60 لاکھ کا مقروض نکلا

بھارت، مسجد میں قرآن پڑھنے والا شہید کردیاگیا وجود جمعه 08 اکتوبر 2021
بھارت، مسجد میں قرآن پڑھنے والا شہید کردیاگیا

شاہ رخ کے بیٹے آریان کو 20 سال تک سزا ہوسکتی ہے وجود جمعرات 07 اکتوبر 2021
شاہ رخ کے بیٹے آریان کو 20 سال تک سزا ہوسکتی ہے
ادبیات
اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا وجود بدھ 13 اکتوبر 2021
اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا

بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف وجود جمعه 01 اکتوبر 2021
بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف

اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب وجود پیر 20 ستمبر 2021
اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب

تاجکستان بزنس کنونشن میں عمران خان پر شعری تنقید، اتنے ظالم نہ بنو،کچھ تو مروت سیکھو! وجود جمعه 17 ستمبر 2021
تاجکستان بزنس کنونشن میں عمران خان پر شعری تنقید، اتنے ظالم نہ بنو،کچھ تو مروت سیکھو!

طالبان کا ’بھگوان والمیکی‘ سے موازنے پر منور رانا کے خلاف ایک اور مقدمہ وجود منگل 24 اگست 2021
طالبان کا ’بھگوان والمیکی‘ سے موازنے پر منور رانا کے خلاف ایک اور مقدمہ
شخصیات
سابق امریکی وزیرخارجہ کولن پاول کورونا کے باعث انتقال کرگئے وجود منگل 19 اکتوبر 2021
سابق امریکی وزیرخارجہ کولن پاول کورونا کے باعث انتقال کرگئے

معروف کالم نگار ڈاکٹر اجمل نیازی انتقال کر گئے وجود پیر 18 اکتوبر 2021
معروف کالم نگار ڈاکٹر اجمل نیازی انتقال کر گئے

سابق افغان وزیرِ اعظم احمد شاہ احمد زئی انتقال کر گئے وجود پیر 18 اکتوبر 2021
سابق افغان وزیرِ اعظم احمد شاہ احمد زئی انتقال کر گئے

ڈاکٹرعبدالقدیرخان کے لیے دو قبروں کا انتظام، تدفین ایچ8 میں کی گئی وجود اتوار 10 اکتوبر 2021
ڈاکٹرعبدالقدیرخان کے لیے دو قبروں کا انتظام، تدفین ایچ8 میں کی گئی

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نمازِجنازہ ادا کردی گئی وجود اتوار 10 اکتوبر 2021
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نمازِجنازہ ادا کردی گئی