وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

بلوچستان اسمبلی تصادم، ذمہ دار کون؟

بدھ 23 جون 2021 بلوچستان اسمبلی تصادم، ذمہ دار کون؟

بلوچستان اسمبلی کا احاطہ اور راہداریاں آخر کار میدان جنگ میں تبدیل ہو ہی گئیں۔ 18 جون کو صوبائی بجٹ والے دن دیر تک پولیس، اسمبلی سیکیورٹی اور حزب اختلاف کے اراکین اور ان کے وابستگان کے درمیان تصادم جاری رہا۔ حزب اختلاف نے اپنے اعلان کے تحت اسمبلی کے دروازوں کو تالے لگاکر بند کردیا تھا۔ مقصد حکومتی ارکان اور وزیراعلیٰ کو اسمبلی میں داخل نہ ہونے دینا تھا۔ چنانچہ ہوا یہ کہ پولیس نے بکتر بند گاڑی کے ذریعے گیٹ کو توڑ کر راستہ بنالیا، یہ انتہائی خطرناک عمل تھا، گیٹ کے اس جانب حزب اختلاف کے اراکین احتجاج پر اکٹھے تھے، گیٹ گرنے سے رکن اسمبلی عبدالواحد صدیقی کا بازو فریکچر ہوا، بابو رحیم مینگل اور رکن اسمبلی شکیلہ نوید دہوار بھی زخمی ہوئیں، دوسرے ضعیف العمر اراکین جیسے نواب محمد اسلم خان رئیسانی اور قائد حزب اختلاف ملک سکندر خان ایڈووکیٹ بھی اس موقع پر وہاں موجود تھے، اللہ نے کرم کیا وگرنہ جانی ضیاع کا پورا امکان موجود تھا۔حزب اختلاف کے اراکین دیر تک مشتعل رہے، پولیس پر اسمبلی کے گملوں کے وار کرتے رہے، وزیراعلیٰ جام کمال پر بوتل اور جوتے کا وار کیا، بہرحال بدمزہ ماحول کے اندر اسمبلی اجلاس بہت تاخیر سے شروع ہوا۔ وزیر خزانہ ظہور بلیدی نے بجٹ 22-2021ء پیش کردیا، حکومت نے 19جون کو حزب اختلاف کے 17 اراکین کیخلاف اقدام قتل، کار سرکار میں مداخلت، پولیس اہلکاروں پر حملے سمیت 17 دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔ادھر حزب اختلاف کے اراکین نے بجٹ سیشن میں عدم شرکت کا فیصلہ کرلیا، ساتھ حکومت مخالف تحریک کا اعلان بھی کردیا۔ مقدمے میں نامزد 15 ارکان 21 جون کو خود گرفتاری دینے بجلی روڈ تھانے پہنچ گئے۔ پولیس نے حکومت کیخلاف مقدمہ درج نہیں کیا، حزب اختلاف نے عدالتوں سے رجوع کا اعلان کیا ہے۔حزب اختلاف اور حکومتی بینچوں کے اراکان دونوں کہتے ہیں کہ اس روز صوبے کی روایات و اقدار کی پامالی ہوئی۔ سوال یہ ہے کہ پامالی کب نہیں ہوئی، یہاں تو ہر اسمبلی کے اندر بارہا بہت کچھ ہوا، وہ اسمبلیاں جو اوروں کی انگلیوں پر چلتی اْچھلتی ہوں، کو روایات، اصول و اقدار سے کیا؟۔ یعنی جملہ جماعتوں نے برائیوں میں حصہ ڈالا ہے۔ حزب اختلاف سے غیر شائستہ عمل سرزد ہوا ہے، تو حکومت بھی تہذیب و شائستگی کا مظہر نہیں ہے۔ حزب اختلاف کے الزامات اگر درست نہیں، تو حکومت بھی پوری صادق و راست نہیں ہے۔گویا 18 جون کے تماشے سے حکومت بری الذمہ نہیں ہے، حکومت ہی کی روش سے اس روز کا سانحہ پیش آیا ہے۔
حزب اختلاف کی ریکوزیشن پر 14 جون کو اجلاس طلب کیا گیا تھا، جس میں حکومتی بینچوں سے ایک بھی رکن اسمبلی شریک نہ ہوا، اگلے دن حزب اختلاف کے ارکان اسمبلی نے باہر احتجاجی کیمپ لگا دیا۔ اجلاس سے ایک روز قبل صوبے کے بیشتر اضلاع میں حزب اختلاف کی اپیل پر احتجاج ہوا، قومی شاہراہیں بند کی گئیں مگر حکومت ٹس سے مس نہ ہوئی۔ بات چیت اور معاملہ فہمی اور بنانے کے لیے سرے سے قدم ہی نہ اٹھایا گیا۔ حالانکہ ایسے معاملات، مسلسل روابط اور گفتگو کے ذریعے آسانی سے حل ہوجاتے ہیں۔اگر حکومتی اراکین بشمول وزیراعلیٰ کے سیاسی، قبائلی اور علاقائی رقابتیں حائل نہ ہوں تو حزب اختلاف کو ساتھ لے کر چلنا کسی طور مشکل و ناممکن نہیں ہے، حکومت نے اجلاس والے دن اسمبلی جانے والی شاہراہوں پر پہرے لگادیے، خار دار تاریں بچھادی گئیں، شہر میں خوف اور بے یقینی کا ماحول پیدا کردیا تھا۔حقیقت یہ بھی ہے کہ کوئٹہ اور پورے صوبے بالخصوص منتخب اپوزیشن اراکین کے حلقوں میں غیر منتخب لوگوں کے ذریعے ترقیاتی کام کرائے جارہے ہیں، لوٹ مار کا بازار گرم ہے اور کام بھی غیر پختہ اور غیر معیاری کرایا جاتا ہے، حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان شاید ہی کسی معاملے پر اتفاق ہو جو کسی المیہ سے کم نہیں۔جام نے ہنگامہ خیز بجٹ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں بالخصوص سردار اختر مینگل اور ان کی جماعت بی این پی پر طنز کیا کہ اختر مینگل صاحب کہتے ہیں کہ انہوں نے ووٹ کسی سڑک یا نالے کے منصوبے کے لیے نہیں بلکہ نظریے کے لیے لیا ہے اور اب وہ اسکیمیں مانگ رہے ہیں، کیا اب انہوں نے اپنا نظریہ اور مؤقف تبدیل کرلیا ہے؟۔ طعنہ دیا کہ بی این پی نے بیس سالہ پرانے کارکن کو سینیٹ سیٹ پر ترجیح نہ دی۔ اشارہ حالیہ سینیٹ الیکشن میں بی این پی کے امیدوار ساجد ترین ایڈووکیٹ کی طرف ہے، جسے مارچ 2021ء کے سینیٹ انتخابات میں غیر متوقع شکست ہوئی اور ان کی جگہ دوسری ترجیح پر موجود بی این پی کے امیدوار قاسم رونجھو کامیاب ہوئے۔بلوچستان کے 65 رکنی ایوان میں جمعیت علمائے اسلام، بلوچستان نیشنل پارٹی اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے 23 ارکان پر مشتمل حزب اختلاف کے اندر بھی پوری طرح ہم آہنگی موجود نہیں ہے۔ گزشتہ دنوں نواب اسلم رئیسانی حزب اختلاف کی پریس کانفرنس اور غیر رسمی گفتگو میں کہہ چکے ہیں کہ حزب اختلاف والے تنہائی میں فنڈز کے لیے وزیراعلیٰ سے ملاقاتیں کرتے ہیں۔
بقول نواب رئیسانی کہ اگر وہ ایسا کریں تو اپنے حلقے کے لیے ذاتی حیثیت میں بہت سارا فنڈ حاصل کرسکتے ہیں۔غیر استعمال شدہ چالیس ارب روپے کے قضیہ کی اصل یہ ہے کہ حزب اختلاف نے پی ایس ڈی پی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا۔ عدالت نے بھی روکنے کا حکم دے دیا، یوں 4 یا 5 ماہ کے تعطل نے صوبے کے اندر ترقیاتی عمل روک دیا، نتیجتاً رقم خرچ نہ ہوسکی۔اب ایسا بھی نہیں کہ جام کمال ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے ہوئے ہیں، یقیناً صوبے کی فلاح و ترقی کے ضمن میں چھوٹے بڑے منصوبے روبہ عمل ہیں، البتہ حکومت مثالی بھی نہیں، اچھا وزیراعلیٰ اچھے ساتھیوں سے محروم ہے۔ جام کمال اپنی جماعت کے اندر بھی الجھے ہوئے ہیں، اتحادیوں میں سردار یار محمد رند ناخوش ہیں، اپنی جماعت میں اسپیکر عبدالقدوس بزنجو اور سردار صالح بھوتانی ٹانگیں کھینچنے میں لگے ہیں۔یہ امر پیش نظر رہے کہ اسمبلی ہنگامہ کے اندر عبدالقدوس بزنجو اہم محرک ہیں۔ یہ بد نما منظر نامہ عبدالقدوس بزنجو کی آنکھوں کے سامنے اور ناک کے نیچے وقوع ہوا ہے، یعنی اسپیکر بہر طور چاہتے ہیں کہ جام کے لیے کوئی لمحہ سکون اور راحت کا نہ گزرے، اب جبکہ حکومت نے صورتحال کی تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے تو اس میں عبدالقدوس بزنجو کی نیت و رضا بھی پیش نظر رکھی جانی چا ہیے ۔اسپیکر عبدالقدوس بزنجو نے در اصل اول سے جام مخالف روش اپنا رکھی ہے، وزیراعلیٰ جام کمال نے مئی 2021ء میں عبدالقدوس بزنجو کو مراسلہ لکھا اور شکایت کی کہ حکومتی ارکان کو اسمبلی کی کارروائی کے حوالے سے تحفظات ہیں، اسمبلی اجلاسوں میں قوائد کے خلاف اپوزیشن کو زیادہ وقت دیا جاتا ہے جبکہ حکومتی بینچوں کے ارکان سے امتیازی سلوک روا رکھا جارہا ہے اور یہ کہ حکومتی و اپوزیشن ارکان کو مساوی وقت دیا جائے، اسمبلی میں اسٹینڈنگ کمیٹیوں کا بھی ازسر نو جائزہ لیا جائے، ایوان میں کارروائی صرف اپوزیشن کی مرضی کے مطابق نہ چلائی جائے، اسپیکر نے وہ مراسلہ جام مخالف فضاء بنانے کی غرض سے ذرائع ابلاغ کی زینت بنایا۔پھر جام کمال کو ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے 28 مئی 2021ء کے اخبارات میں جوابی پورا مضمون جاری کردیا، الٹا چور کوتوال کو ڈاٹنے کے مصداق جام کمال کو ہی مورد الزام ٹھہرانے کی کوشش کی۔ میر عبدالقدوس بزنجو نے جام سے کہا کہ آپ خود ایوان میں نہیں آتے نہ وزراء دلچسپی لیتے ہیں۔ اس بناء پر حزب اختلاف کو زیادہ بات کرنے کا موقع ملتا ہے۔انہوں نے وزیراعلیٰ کی جانب سے مراسلہ میں کہی گئیں باتوں کو بے بنیاد کہا، بیورو کریسی کو بھی ہدف تنقید بنایا کہ متعلقہ محکموں کے سیکریٹریز اجلاسوں میں موجودگی یقینی نہیں بناتے۔ مزید برآں ایک اور موقع پر عبدالقدوس بزنجو یہ قرار دے چکے ہیں کہ جام کمال کے رویے کو دیکھتے ہوئے باپ پارٹی کا چلنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔بہرحال جام کمال متحرک وزیراعلیٰ ہیں، ایوان میں موجودگی کی اہمیت سے بھی آگاہ ہیں، اجلاسوں میں حاضر بھی ہوتے ہیں۔ صوبے کے چیف ایگزیکٹو ہونے کے ناطے انہیں اندرون اور بیرون صوبہ بریفنگز، ترقیاتی منصوبوں کے افتتاح اور اجلاسوں میں جانا ہوتا ہے۔ ضروری ہے کہ وزیراعلیٰ حزب اختلاف کو قریب لانے کی کوشش کریں، ایسے میں وزیراعلیٰ کے لیے آسانیاں پیدا ہوں گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں


مضامین
عمرؓکومعاف کردیں وجود جمعرات 29 جولائی 2021
عمرؓکومعاف کردیں

افغانستان میں امن اور کابل حکومت کی پروپیگنڈہ مہم وجود جمعرات 29 جولائی 2021
افغانستان میں امن اور کابل حکومت کی پروپیگنڈہ مہم

حیسکو قاتل بھی مقتول بھی وجود جمعرات 29 جولائی 2021
حیسکو قاتل بھی مقتول بھی

اگر اب بھی نہ جاگے۔پیگاسس جاسوسی اسکینڈل وجود جمعرات 29 جولائی 2021
اگر اب بھی نہ جاگے۔پیگاسس جاسوسی اسکینڈل

قوت گویائی کی بحالی میں کامیابی وجود منگل 27 جولائی 2021
قوت گویائی کی بحالی میں کامیابی

کون کہتاہے وجود اتوار 25 جولائی 2021
کون کہتاہے

اپنا دھیان رکھنا وجود اتوار 25 جولائی 2021
اپنا دھیان رکھنا

محکمہ بہبودی آبادی کے گریڈ چودہ کے ملازم کے اختیارات و مراعات!! وجود هفته 24 جولائی 2021
محکمہ بہبودی آبادی کے گریڈ چودہ کے ملازم کے اختیارات و مراعات!!

اپنوں کی حوصلہ شکنی حب الوطنی نہیں وجود هفته 24 جولائی 2021
اپنوں کی حوصلہ شکنی حب الوطنی نہیں

مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے وجود بدھ 21 جولائی 2021
مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے

مساوات، قربانی اور انعام وجود بدھ 21 جولائی 2021
مساوات، قربانی اور انعام

’’ایف آئی آر‘‘ کے خلاف سندھ حکومت کی قانونی کارروائی وجود بدھ 21 جولائی 2021
’’ایف آئی آر‘‘ کے خلاف سندھ حکومت کی قانونی کارروائی

اشتہار

افغانستان
امریکی جنگی طیاروں کے طالبان کے ٹھکانوں پر فضائی حملے وجود هفته 24 جولائی 2021
امریکی جنگی طیاروں کے طالبان کے ٹھکانوں پر فضائی حملے

افغان صدارتی محل میں نماز عید کے دوران راکٹ حملے کی ویڈیو وائرل وجود بدھ 21 جولائی 2021
افغان صدارتی محل میں نماز عید کے دوران راکٹ حملے کی ویڈیو وائرل

وزیر اعظم عمران خان نے افغان صدر اشرف غنی کو آئینہ دکھا دیا وجود هفته 17 جولائی 2021
وزیر اعظم عمران خان نے افغان صدر اشرف غنی کو آئینہ دکھا دیا

پاکستان سے 10ہزار جنگجو افغانستان میں داخل ہوئے ، اشرف غنی کا الزام وجود هفته 17 جولائی 2021
پاکستان سے 10ہزار جنگجو افغانستان میں داخل ہوئے ، اشرف غنی کا الزام

طالبان نے افغانستان کے شمالی علاقوں پر قبضہ کرلیا، امریکی میڈیا وجود پیر 12 جولائی 2021
طالبان نے افغانستان کے شمالی علاقوں پر قبضہ کرلیا، امریکی میڈیا

اشتہار

بھارت
بابری مسجد کی شہادت کے بعد مسلمان ہونے والے محمد عامر کی پر اسرار موت وجود اتوار 25 جولائی 2021
بابری مسجد کی شہادت کے بعد مسلمان ہونے والے محمد عامر کی پر اسرار موت

پیگاسس کے ذریعے جاسوسی،نریندر مودی نے غداری کا ارتکاب کیا، راہول گاندھی وجود هفته 24 جولائی 2021
پیگاسس کے ذریعے جاسوسی،نریندر مودی نے غداری کا ارتکاب کیا، راہول گاندھی

بھارت میں کورونا اموات سرکاری اعداد وشمار سے 10 گنا زیادہ ہوسکتی ہیں وجود بدھ 21 جولائی 2021
بھارت میں کورونا اموات سرکاری اعداد وشمار سے 10 گنا زیادہ ہوسکتی ہیں

افغانستان سے بھارتی سفارتکاروں کا انخلائ، سوشل میڈیا پہ مذاق اڑنے لگا وجود پیر 12 جولائی 2021
افغانستان سے بھارتی سفارتکاروں کا انخلائ، سوشل میڈیا پہ مذاق اڑنے لگا

نریندر مودی کی کابینہ میں شامل 42فیصدوزراء کے خلاف فوجداری مقدمات قائم ہیں'رپورٹ وجود پیر 12 جولائی 2021
نریندر مودی کی کابینہ میں شامل 42فیصدوزراء کے خلاف فوجداری مقدمات قائم ہیں'رپورٹ
ادبیات
عظیم ثنا ء خواں،شاعر اورنغمہ نگار مظفر وارثی کی دسویں برسی منائی گئی وجود جمعرات 28 جنوری 2021
عظیم ثنا ء خواں،شاعر اورنغمہ نگار مظفر وارثی کی دسویں برسی منائی گئی

لارنس آف عربیا، بچپن کیسے گزرا؟ وجود منگل 20 اکتوبر 2020
لارنس آف عربیا، بچپن کیسے گزرا؟

بیروت سے شائع کتاب میں اسرائیل نواز بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا چہرہ بے نقاب وجود جمعرات 17 جنوری 2019
بیروت سے شائع کتاب میں اسرائیل نواز بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا چہرہ بے نقاب

14واں بین الاقوامی کتب میلہ کراچی ایکسپوسینٹر میں ہوگا وجود پیر 10 دسمبر 2018
14واں بین الاقوامی کتب میلہ کراچی ایکسپوسینٹر میں ہوگا

شاعر جون ایلیا کو مداحوں سے بچھڑے 16 برس بیت گئے وجود جمعرات 08 نومبر 2018
شاعر جون ایلیا کو مداحوں سے بچھڑے 16 برس بیت گئے
شخصیات
188ارب ڈالر کے مالک ایلون مسک دنیا کے مالدار ترین آدمی بن گئے وجود جمعه 08 جنوری 2021
188ارب ڈالر کے مالک ایلون مسک دنیا کے مالدار ترین آدمی بن گئے

ہالی وڈ اداکار ادریس البا کی اہلیہ بھی کورونا سے متاثر وجود پیر 23 مارچ 2020
ہالی وڈ اداکار ادریس البا کی اہلیہ بھی کورونا سے متاثر

امریکی میگزین فوربز میں سب سے زیادہ کمانے والی شخصیات کی فہرست جاری وجود منگل 01 جنوری 2019
امریکی میگزین فوربز میں سب سے زیادہ کمانے والی شخصیات کی فہرست جاری

سال 2018، مختلف شعبہ ہائے حیات کی بہت سی عالمی شخصیات دنیا چھوڑ گئیں وجود بدھ 26 دسمبر 2018
سال 2018، مختلف شعبہ ہائے حیات کی بہت سی عالمی شخصیات دنیا چھوڑ گئیں

ماضی کی رہنما خواتین وجود پیر 14 مئی 2018
ماضی کی رہنما خواتین