وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

امریکی نشاۃثانیہ کا آغاز؟

منگل 22 جون 2021 امریکی نشاۃثانیہ کا آغاز؟

1982ء میں ماہرِ معاشیات مینکر اولسن ایک معمہ سلجھانے کے لیے نکلے۔ جاپان اور مغربی جرمنی دوسری جنگ عظیم میں تباہ و برباد ہو گئے تھے مگر اس کے بعد دونوں ممالک نے حیرت انگیز معاشی ترقی کی۔ دوسری طرف برطانیہ جنگ میں فاتح ٹھہرا تھا، اس کے تمام ادارے محفوظ اور اپنا وجود برقرار رکھنے میں کامیاب رہے مگر جنگ کے خاتمے کے بعد اس کی معاشی ترقی سست پڑ گئی جس کی وجہ سے وہ دیگر یورپی ممالک سے پیچھے رہ گیا۔ ایسا کیوں ہوا؟ اپنی کتاب ’’The Rise and Fall of Nations‘‘ میں اولسن نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ جرمنی اور جاپان نے حیرت انگیز ترقی اس لیے کی کیونکہ ان کا پرانا نظام یکسر تباہ ہو گیا تھا۔ یہ تباہی بذاتِ خود اور امریکا کی قابض فوجوں کی موجودگی دراصل ان تمام مفاداتی گروہوں کو نابود کرنے کا باعث بنی جو جدت کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے تھے۔ نئے تجربات کرنے کی راہ میں حائل ہونے والے تمام پرانے وتیرے خس و خاشاک کی طرح بہہ گئے اور جنگ کی تباہ کاری نے نئے تجربات کی راہ ہموار کر دی۔
کچھ ا س سے ملتی جلتی صورتِ حال آج بھی ہمارے سامنے ہے۔ کووڈ نے جس طرح امریکی طرزِ زندگی کو ہلا کر رکھ دیا ہے اس کی مثال ماضی کے کسی بحران میں نہیں ملتی مگر اس نے بہت سی حقیقتوں کو نئے انداز میں بھی اجاگر کیا ہے جس سے معاشی ترقی اور سماجی احیا کے راستے ہموار ہو گئے ہیں۔ لاکھوں کروڑوں امریکی شہریوں کو کورونا کی عالمی وبا کے دوران شدید معاشی نقصان اور انزائٹی کا سامنا کرنا پڑا ہے مگر عوام کی ایک بڑی اکثریت نے اس وقت کو اپنے آپ کو بدلنے اور نئے تقاضوں کے مطابق تیارکرنے کے لیے بھی استعمال کیا ہے تاکہ جونہی زندگی اپنی پرانی ڈگر پر آئے تو وہ نئے مواقع کی تلاش میں تیزی سے اس میں دوبارہ شامل ہو جائیں۔
پچھلے کئی عشروں سے امریکا میں کاروباری سرگرمیاں سست رفتاری سے جاری تھیں مگر 2020ء میں یہاں 4.4 ملین نئے بزنس شروع ہو جو ایک نیا ریکارڈ ہے۔ Udemy ایک آن لائن کورس کروانے والا ادارہ ہے‘ اس کا کہنا ہے کہ 2019ء میں 14 فیصد امریکیوں نے کوئی اضافی ٹریننگ لی تھی مگر 2020ئ￿ میں 38 فیصد امریکی ورکرز نے کوئی نہ کوئی اضافی ٹریننگ لی ہے۔ سالہا سال سے بچتوں کے بجائے اخراجات کرنے کی ترجیحی روایت چل رہی تھی مگر 2020 میں امریکی شہریوں نے کھربوں ڈالرز اپنے قرضوں کا بوجھ کم کرنے کے لیے مارکیٹ میں جھونک دیے ہیں۔ ایسا 1980ء کے بعد کبھی نہیں دیکھا گیا تھا اور اب وہ اس قابل ہو گئے ہیں کہ جیسے ہی زندگی کی سرگرمیاں بحال ہوں وہ کھلے دل سے خریداری کر سکیں۔ شاید سب سے بڑی تبدیلی عوام کے ذہنوں میں آئی ہے۔ لوگوں میں یہ احساس بڑی شدت سے جاگزیں ہو گیا ہے کہ انسان کی زندگی نہایت مختصر ہے۔ پچھلے ایک سال سے عوام کی اکثریت ایک سست رفتار زندگی گزار رہی ہے جس میں ان کی گھریلو تعلقات کی جڑیں بہت گہری ہو گئی ہیں۔ کروڑوں امریکی اب ایسی زندگی گزارنے کے لیے تیار نظرآتے ہیں جو سماجی اقدار کے ساتھ جڑی ہوئی ہو۔ معیشت بھی اب اڑان بھر چکی ہے۔ اس سال عالمی معاشی ترقی 6 فیصد سے زائد رہنے کی توقع کی جا رہی ہے اور 2022ء میں یہ شرح اس سے بھی زائد رہنے کی امید ہے۔ ٹام گنبل‘ جو لاسال نیٹ ورک کے نام سے ا سٹاف کی بھرتی کرتے ہیں‘ نے اپریل میں دی ٹائمز کو بتایا تھا کہ ’’یہ گزشتہ 25 سال کے دوران کی بہترین جاب مارکیٹ ہے۔ کووڈ سے پہلے کے مقابلے میں ہمارے پاس 50 فیصد زیادہ ڈیمانڈز ہیں‘‘۔ سرمایہ کار دھڑا دھڑ نئے بزنس میں سرمایہ لگا رہے ہیں۔ اس سال کی پہلی سہ ماہی میں نئے بزنس میں 69 بلین ڈالرز آئے ہیں جو 2018ء میں بننے والے ریکارڈ سے 41 فیصد زیادہ ہے۔
ہم پہلے ہی یہ دیکھ رہے ہیں کہ جدت کے اس نئے دو رمیں سوسائٹی تین طریقوں سے اپنے توازن کو از سر نو ترتیب دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ اول: اب طاقت کا سرچشمہ آجر سے ورکر کی طرف شفٹ کر گیا ہے، مثال کے طور پر اس سال مارچ میں امریکی مینوفیکچرنگ جس تیزی سے بڑھی ہے اس کی پچھلی چار دہائیوں میں مثال نہیں ملتی۔ کمپنیاں نئے ورکرز کے لیے ماری ماری پھر رہی ہیں۔ اپریل 2020ء اور مارچ 2021ء کے دوران بیروزگاری کی شرح 5 فیصد سے کم ہو کر صرف 1.2 فیصد رہ گئی ہے۔ اب ورکرز ڈرائیورنگ سیٹ پر براجمان ہیں اور انہیں اس بات کا بخوبی ادراک بھی ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران آج ملازمتیں چھوڑنے والوں کی شرح اپنے عروج پر ہے کیونکہ ورکر کو یہ اعتماد ہے کہ انہیں اس سے بہتر ملازمت مل جائے گی۔ سرمایہ کار اپنے ورکرز کو واپس بلانے کے لیے معاوضے میں اضافے کے ساتھ ساتھ دیگر مراعات بڑھانے کا لالچ بھی دے رہے ہیں۔
دوم: اب شہروں اور نواحی قصبات میں بھی ایک نیا توازن جنم لے رہا ہے۔ کووڈ نے ایک نیا ٹرینڈ دیا ہے کہ اب لو گ نیویارک اور سان فرانسسکو جیسے شہروں کو چھوڑ کر ہڈسن ویلی جیسے دیہی مقامات کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔ اکثریت تو ملازمت کے حصول کے لیے جا رہی ہے مگر دوسرے لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ ایسا اس لیے کررہے ہیں کہ ان کے لیے زیادہ مواقع اورگنجائش پیدا ہو، وہ ایک سست رفتار زندگی گزار سکیں، وہ اپنے آبائی علاقوں میں اپنے خاندان کے قریب رہ سکیں اور اپنے قریبی ہمسایوں کے ساتھ باہمی تال میل بڑھا سکیں۔
سوم: اب ملازمت اور گھریلو زندگی میں بھی ایک نیا توازن قائم کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ سٹین فورڈ کے اکانومسٹ نکولس بلوم کو امید ہے کہ اب جبکہ کووڈ اپنے آخری دموں پر ہے‘ اس سے پہلے صرف 5 فیصد لوگ گھر پر رہ کر کام کرتے تھے‘ اب یہ تعداد بڑھ کر 20 فیصد ہو جائے گی۔ اگرچہ اس سے بہت سی خواتین پر دبائو بڑھ گیا ہے، لاکھوں امریکی شہری‘ جو دفاتر سے دور رہ کر بھی کام کر سکتے ہیں‘ اب یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں گھر پر رہ کر کام کرنا، رات کے وقت اپنے بچوں کے ساتھ مل کرکھانا کھانا اچھا لگتا ہے اور وہ سفری تکالیف سے بھی بچ جاتے ہیں۔ اب ہمارا کام کا جنون دھیما پڑتا جا رہا ہے اور گھریلو زندگی میں دلچسپی بڑھ رہی ہے۔
1910ء میں ماہر تعلیم ہنری وین ڈائک نے لکھا تھا ’’یورپ امریکی جذبات کو انرجی یعنی توانائی کے حوالے سے جانتا ہے‘‘۔ حالیہ برسوں میں یہ توانائی معدوم پڑتی جا رہی تھی کیونکہ اب امریکی نقل وحرکت کرنے اور نئے بزنس شروع کرنے سے گریز کر رہے تھے مگر کووڈ نے اس تحرک، نقل وحرکت اور جدت پسندی کو پھر سے بحال کر دیا ہے۔ حال ہی میں لیبر کی پیداواری شرح میں خاطر خواہ اضافہ ہوگیا ہے۔ اب امریکی شہری اپنی فیملی کے ساتھ رہتے ہوئے دولت کمانے کے نت نئے طریقے ڈھونڈ رہے ہیں۔ چیپ مین یونیورسٹی کے پروفیسر آف اربن ا سٹڈیز جوئیل کاٹکن نے نشاندہی کی ہے کہ جوں جوں امریکی آبادی بکھر اور پھیل رہی ہے امریکا کے ساحلی اور اندرونی شہروں میں حائل معاشی اور ثقافتی خلیج مزید سکڑتی جائے گی۔ جب زیادہ سے زیادہ تارکین وطن دیہی علاقوں میں آباد ہو ں گے، ان کی موجودگی سے مقامی لوگوں کو ترجیح دینے کی روایت ماند پڑ جائے گی تو ایک معاشی مسابقت دیکھنے کو ملے گی۔ عوام کی ذاتی زندگی اب تنہائی اور اپنی کمیونٹی سے دوری جیسے عمومی مسائل کی طرف متوجہ ہو رہی ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ دریافت کا یہ قومی سفر ہمیں کہاں لے جائے گا مگر اب یہ سفر شروع ضرور ہو چکا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں


مضامین
عمرؓکومعاف کردیں وجود جمعرات 29 جولائی 2021
عمرؓکومعاف کردیں

افغانستان میں امن اور کابل حکومت کی پروپیگنڈہ مہم وجود جمعرات 29 جولائی 2021
افغانستان میں امن اور کابل حکومت کی پروپیگنڈہ مہم

حیسکو قاتل بھی مقتول بھی وجود جمعرات 29 جولائی 2021
حیسکو قاتل بھی مقتول بھی

اگر اب بھی نہ جاگے۔پیگاسس جاسوسی اسکینڈل وجود جمعرات 29 جولائی 2021
اگر اب بھی نہ جاگے۔پیگاسس جاسوسی اسکینڈل

قوت گویائی کی بحالی میں کامیابی وجود منگل 27 جولائی 2021
قوت گویائی کی بحالی میں کامیابی

کون کہتاہے وجود اتوار 25 جولائی 2021
کون کہتاہے

اپنا دھیان رکھنا وجود اتوار 25 جولائی 2021
اپنا دھیان رکھنا

محکمہ بہبودی آبادی کے گریڈ چودہ کے ملازم کے اختیارات و مراعات!! وجود هفته 24 جولائی 2021
محکمہ بہبودی آبادی کے گریڈ چودہ کے ملازم کے اختیارات و مراعات!!

اپنوں کی حوصلہ شکنی حب الوطنی نہیں وجود هفته 24 جولائی 2021
اپنوں کی حوصلہ شکنی حب الوطنی نہیں

مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے وجود بدھ 21 جولائی 2021
مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے

مساوات، قربانی اور انعام وجود بدھ 21 جولائی 2021
مساوات، قربانی اور انعام

’’ایف آئی آر‘‘ کے خلاف سندھ حکومت کی قانونی کارروائی وجود بدھ 21 جولائی 2021
’’ایف آئی آر‘‘ کے خلاف سندھ حکومت کی قانونی کارروائی

اشتہار

افغانستان
امریکی جنگی طیاروں کے طالبان کے ٹھکانوں پر فضائی حملے وجود هفته 24 جولائی 2021
امریکی جنگی طیاروں کے طالبان کے ٹھکانوں پر فضائی حملے

افغان صدارتی محل میں نماز عید کے دوران راکٹ حملے کی ویڈیو وائرل وجود بدھ 21 جولائی 2021
افغان صدارتی محل میں نماز عید کے دوران راکٹ حملے کی ویڈیو وائرل

وزیر اعظم عمران خان نے افغان صدر اشرف غنی کو آئینہ دکھا دیا وجود هفته 17 جولائی 2021
وزیر اعظم عمران خان نے افغان صدر اشرف غنی کو آئینہ دکھا دیا

پاکستان سے 10ہزار جنگجو افغانستان میں داخل ہوئے ، اشرف غنی کا الزام وجود هفته 17 جولائی 2021
پاکستان سے 10ہزار جنگجو افغانستان میں داخل ہوئے ، اشرف غنی کا الزام

طالبان نے افغانستان کے شمالی علاقوں پر قبضہ کرلیا، امریکی میڈیا وجود پیر 12 جولائی 2021
طالبان نے افغانستان کے شمالی علاقوں پر قبضہ کرلیا، امریکی میڈیا

اشتہار

بھارت
بابری مسجد کی شہادت کے بعد مسلمان ہونے والے محمد عامر کی پر اسرار موت وجود اتوار 25 جولائی 2021
بابری مسجد کی شہادت کے بعد مسلمان ہونے والے محمد عامر کی پر اسرار موت

پیگاسس کے ذریعے جاسوسی،نریندر مودی نے غداری کا ارتکاب کیا، راہول گاندھی وجود هفته 24 جولائی 2021
پیگاسس کے ذریعے جاسوسی،نریندر مودی نے غداری کا ارتکاب کیا، راہول گاندھی

بھارت میں کورونا اموات سرکاری اعداد وشمار سے 10 گنا زیادہ ہوسکتی ہیں وجود بدھ 21 جولائی 2021
بھارت میں کورونا اموات سرکاری اعداد وشمار سے 10 گنا زیادہ ہوسکتی ہیں

افغانستان سے بھارتی سفارتکاروں کا انخلائ، سوشل میڈیا پہ مذاق اڑنے لگا وجود پیر 12 جولائی 2021
افغانستان سے بھارتی سفارتکاروں کا انخلائ، سوشل میڈیا پہ مذاق اڑنے لگا

نریندر مودی کی کابینہ میں شامل 42فیصدوزراء کے خلاف فوجداری مقدمات قائم ہیں'رپورٹ وجود پیر 12 جولائی 2021
نریندر مودی کی کابینہ میں شامل 42فیصدوزراء کے خلاف فوجداری مقدمات قائم ہیں'رپورٹ
ادبیات
عظیم ثنا ء خواں،شاعر اورنغمہ نگار مظفر وارثی کی دسویں برسی منائی گئی وجود جمعرات 28 جنوری 2021
عظیم ثنا ء خواں،شاعر اورنغمہ نگار مظفر وارثی کی دسویں برسی منائی گئی

لارنس آف عربیا، بچپن کیسے گزرا؟ وجود منگل 20 اکتوبر 2020
لارنس آف عربیا، بچپن کیسے گزرا؟

بیروت سے شائع کتاب میں اسرائیل نواز بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا چہرہ بے نقاب وجود جمعرات 17 جنوری 2019
بیروت سے شائع کتاب میں اسرائیل نواز بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا چہرہ بے نقاب

14واں بین الاقوامی کتب میلہ کراچی ایکسپوسینٹر میں ہوگا وجود پیر 10 دسمبر 2018
14واں بین الاقوامی کتب میلہ کراچی ایکسپوسینٹر میں ہوگا

شاعر جون ایلیا کو مداحوں سے بچھڑے 16 برس بیت گئے وجود جمعرات 08 نومبر 2018
شاعر جون ایلیا کو مداحوں سے بچھڑے 16 برس بیت گئے
شخصیات
188ارب ڈالر کے مالک ایلون مسک دنیا کے مالدار ترین آدمی بن گئے وجود جمعه 08 جنوری 2021
188ارب ڈالر کے مالک ایلون مسک دنیا کے مالدار ترین آدمی بن گئے

ہالی وڈ اداکار ادریس البا کی اہلیہ بھی کورونا سے متاثر وجود پیر 23 مارچ 2020
ہالی وڈ اداکار ادریس البا کی اہلیہ بھی کورونا سے متاثر

امریکی میگزین فوربز میں سب سے زیادہ کمانے والی شخصیات کی فہرست جاری وجود منگل 01 جنوری 2019
امریکی میگزین فوربز میں سب سے زیادہ کمانے والی شخصیات کی فہرست جاری

سال 2018، مختلف شعبہ ہائے حیات کی بہت سی عالمی شخصیات دنیا چھوڑ گئیں وجود بدھ 26 دسمبر 2018
سال 2018، مختلف شعبہ ہائے حیات کی بہت سی عالمی شخصیات دنیا چھوڑ گئیں

ماضی کی رہنما خواتین وجود پیر 14 مئی 2018
ماضی کی رہنما خواتین