وجود

... loading ...

وجود

حکومت نے قانون سازی کا تین سالہ ریکارڈ توڑ دیا

جمعه 11 جون 2021 حکومت نے قانون سازی کا تین سالہ ریکارڈ توڑ دیا

حکومت نے قانون سازی کا تین سالہ ریکارڈ توڑ دیا، غیر معمولی طورپر قومی اسمبلی میں انتخابی اصلاحات، کلبھوشن یادیو، خواتین و بچوں کے تحفظ سمیت مختلف معاملات پر 21بلز کثرت رائے سے منظور کرلئے گئے ۔ متعلقہ قواعد سے صرف نظر کی11 تحاریک منظور کی گئیں، اپوزیشن نے تمام بلز کی مخالفت کی، کارروائی کو بلڈوز کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی کیخلاف تحریک عدم اعتمادلانے کا اعلان کردیا گیا ہے ۔ اپوزیشن نے تین بار کورم کی نشاندہی کی ہر بار کورم پورا نکلا چوتھی بار کورم کی نشاندہی کی اجازت نہیں دی گئی جس پر اپوزیشن نے ڈپٹی اسپیکر کا گھیرائو کرتے ہوئے کورم کورم کے نعرے لگائے ، بلیک ڈے ، بلیک لاء کا پلے کارڈز لہرا دیا۔ قومی اسمبلی کا جمعرات کو ہنگامہ خیز اجلاس اسپیکر اسد قیصر کی صدارت میں شروع ہوا ۔ پہلے مرحلے میں مختلف معاملات پر قائمہ کمیٹیوں کی رپورٹس پیش کی گئیں توجہ دلائو نوٹس نمٹایا گیا جو موٹروے پولیس سے متعلق تھا اور محرک محمد عاصم، رضا، شیر علی تھے ۔ پالیسی بیان دیتے ہوئے وزیر مواصلات مراد سعید نے کہاکہ روڈ سیفٹی پالیسی نہ صرف بنائی گئی ہے بلکہ پلان آف ایکشن پر بھی عملدرآمد ہورہا ہے ۔ موٹروے پولیس کے شہداء کیلئے بھی پیکیج کے سلسلے میں وزیراعظم آفس سے رابطہ کیا گیا ہے ۔ شاہراہوں پر محفوظ آسان سفر کیلئے اقدامات کے نتیجہ میں حادثات میں 21فیصد کمی آئی ہے ۔ موٹروے پولیس کو ڈرون دئیے گئے ہیں۔ صوبوں سے کہا گیا ہے کہ وہ لائسنس کے اجراء کی جامع موثر پالیسی پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔ پاکستان کی شاہرائوں پر جو کمپنی غیر معیاری ٹرانسپورٹ لے کر آئے گی، ڈرائیورز غفلت کا مظاہرہ کریں گے ، ضروری تربیت نہیںہوگی مکمل طورپر کمپنی کیخلاف کارروائی ہوگی۔ ایوان میں دوسرے مرحلے میں مشیر پارلیمانی اموربابر اعوان نے پاکستان الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز کونسل، پاکستان نرسرنگ کونسل ایکٹ، سے متعلق بلز متعارف کروائے ۔ باہمی قانونی معاونت کا بل بھی پیش کردیا گیا ہے ۔ مختلف مجالس قائمہ کی رپورٹس پیش ہونے کا سلسلہ شروع ہوا تو اپوزیشن نے ایجنڈے پر موجود بلز کی ارکان میں ترسیل نہ ہونے کا معاملہ اٹھایا بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ ہم جسے کشمیر کا وکیل سمجھ رہے تھے وہ کلبھوشن یادیو کا وکیل نکلا۔ قانون سازی کیلئے زبردستی کیوں کی جارہی ہے ۔ انہیں معلوم ہے انتخابی اصلاحات اور بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے سے متعلق کیا قانون لے کر آرہے ہیں کل کو بھارت اور ”را” کیا ہمارا انتخابی سسٹم ہیک کرکے مداخلت کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوگا۔ بیرون ملک پاکستانیوں کو حق رائے دہی ملنا چاہیے اس کیلئے ان کی اپنی نشستیں مختص کی جائیں۔ بیرون ملک پاکستانیوں کے اپنے نمائندے منتخب ہوکر آئیں۔ مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال نے کہاکہ انتخابی اصلاحات کے تحت آبادی نہیں بلکہ رجسٹرڈ ووٹوں کی بنیاد پر حلقہ بندیاں بنیں گی یہ تو حق رائے دہی کی اہلیت رکھنے والے ایسے مرد و خواتین کی حق تلفی ہوگی جن کے نام رجسٹرڈ نہیںہیں۔ پہلے مرحلے میں تمام اہل افراد کو بحیثیت ووٹرز درج کیا جائے ۔ اسپیکر نے اپوزیشن رہنمائوں کو نظر انداز کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ ایوان میں قانون سازی کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ وزیر پارلیمانی امور علی محمد خان نے مالیاتی ادارے محفوظ ٹرانزیکشنز کا بل پیش کیا کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا، بل پیش کرنے کی تحریک پر رائے شماری کروائی گئی۔ حکومت کے 112 ارکان کی حمایت سے بل منظور کرلیاگیا جبکہ 101ارکان نے مخالفت کی۔ حکومت کو مشکل صورتحال سے دوچار کرنے کی کوشش اپوزیشن نے جاری رکھی ۔بلز کے بارے میں اپوزیشن کو نظرانداز کرنے پر زہرہ ودود فاطمہ نے کورم کی نشاندہی کردی۔کورم پورا نکلا قانون سازی کے سلسلے میں انتخابات ایکٹ 2017ء میں مزید ترمیم کا بل پیش کیا گیا کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔ انتخابات ایکٹ میں دو ترمیمی بل منظور کیے گئے ہیں۔ بیرون ملک پاکستانیوں کو حق رائے دہی اور الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں و انتخابی حلقوں سے متعلق اصلاحات نافذ کی جارہی ہیں۔ وزیر بحری امور سید علی حیدر نے بالترتیب پورٹ قاسم اتھارٹی ایکٹ ، پاکستان قومی جہاز رانی کارپوریشن، گوادر پورٹ اتھارٹی، سے متعلق ایکٹ میں ترامیم کے بلز پیش کیے ۔ اس دوران مرتضیٰ جاوید عباسی نے کورم کی نشاندہی کردی تاہم کورم پورا نکلا اور متذکرہ بل منظور کرلئے گئے ۔ وزیر توانائی محمد حماد اظہر نے برقی قوت کی پیداوار ،ترسیل اور تقسیم کے ضابطہ کار کا ترمیمی بل پیش کیا یہ بل بھی منظور کرلیا گیا۔ پارلیمانی سیکرٹری قانون و انصاف ملیکہ بخاری نے خواتین اور بچوں سے زیادتی اور جنسی استحصال کے جرائم کی فوری داد رسی کا بل پیش کیا۔ اس حوالے سے خصوصی ٹیمیں اور خصوصی عدالتیں قائم ہوں گی۔ بل کو منظور کرلیا گیا۔ باہمی قانونی معاونت وفاقی طبی تدریسی ادارہ جات بل پیش کیا گیا یہ بھی منظور کرلیا گیا۔ اسی طرح قومی ادارہ صحت کی تنظیم میری ٹائم سیکورٹی ایجنسی کا بل پیش کیا گیا اس دوران اپوزیشن ارکان نے کورم کورم کے نعرے لگائے مگر ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے کورم کی نشاندہی کے باوجود گنتی نہیں کروائی بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو سے متعلق بل پیش ہونے سے قبل اپوزیشن جماعتوں نے کارروائی کا بائیکاٹ کردیا۔ چھوٹی اپوزیشن جماعتوں کو موقف پیش کرنے کا موقع نہ مل سکا۔ اپوزیشن رہنمائوں نے بائیکاٹ کے اعلان کے ساتھ اسپیکر کیخلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا اعلان بھی کردیا۔یکطرفہ کارروائی کے دوران وزیر قانون و انصاف فروغ نسیم نے کلبھوشن یادیو سے متعلق عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کو حق نظرثانی کے سلسلے میںموثر بنانے کا بل پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں کلبھوشن یادیو کوگرفتار کیا گیا مگر قونصلر رسائی نہیں دی گئی۔ بھارت عالمی عدالت انصاف چلا گیا ہم نے یہ آرڈیننس لا کر بھارت کے ناپاک عزائم ملیامیٹ کردئیے ہیں ورنہ وہ سیکورٹی کونسل جاسکتا تھا۔ عالمی عدالت نے توہین کی درخواست دے سکتا تھا۔ اس قسم کی قانون سازی کو تو پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی نے بڑھ چڑھ کر حمایت کرنی چاہیے تھی۔ متفقہ طورپر بل منظور ہونا چاہیے تھا۔ ان کے موقف کے اظہار کے بعد بل کو یکطرفہ کارروائی میں حکومتی ارکان کی حمایت سے منظور کرلیا گیا۔ ایوان میں کرونا وائرس وبائی مرض کے پھیلائو کے نتیجہ میں ہنگامی صورتحال سے متعلق امتناع ذخیرہ اندوزی ، ایس بی پی بینکنگ سروسز کارپوریشن، کاروباری تعمیر نو ،کمپنیات ایکٹ، پاکستان اکادمی ادبیات، مسلم عائلی قوانین سے متعلق بل کی بھی حکومتی ارکان نے منظوری دیدی ۔ اجلاس جمعہ کی سہ پہر چار بجے تک ملتوی کردیا گیا۔ بجٹ سیشن کے پیش نظر حکومت نے پیشگی21 بلز منظور کروالئے ہیں۔


متعلقہ خبریں


مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت وجود - جمعه 06 نومبر 2026

میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز وجود - جمعه 06 نومبر 2026

چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی

میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے وجود - جمعه 06 نومبر 2026

ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...

میٹا  نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں وجود - جمعه 06 نومبر 2026

خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر وجود - جمعه 06 نومبر 2026

گوشوارے جمع کروانا الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 137 کے تحت ایک لازمی قانونی تقاضا ہے،الیکشن کمیشن اراکینِ پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کے لیے مالی سال 26ـ2025 کے اثاثہ جات و واجبات کے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقررکردی گئی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کہاگیاہے کہ مالی سال ...

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

مضامین
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ وجود جمعه 06 نومبر 2026
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ

نقاب کے پیچھے دفن انسان وجود جمعه 06 نومبر 2026
نقاب کے پیچھے دفن انسان

فضائی آلودگی کا عذاب وجود جمعه 06 نومبر 2026
فضائی آلودگی کا عذاب

ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر