وجود

... loading ...

وجود

آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ آج پیش ہو گا

جمعه 11 جون 2021 آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ آج پیش ہو گا

آئندہ مالی سال2021-22 کاوفاقی بجٹ آج جمعہ کو پیش ہو گا ، وزیر خزانہ شوکت ترین پارلیمنٹ میں بجٹ پیش کریں گے ، جس کا حجم 8000 ارب روپے کے لگ بھگ ہوگا، 3100 ارب روپے قرضے اور سود پر خرچ ہوں گے ، ٹیکس چوروں کے خلاف ایکشن ہوگا۔آئندہ مالی سال بجٹ خسارہ 2915 ارب روپے ہوسکتا ہے ، سالانہ ترقیاتی پروگرام 900 ارب روپے رکھا جائے گا، سبسڈیز کی مد میں 530 ارب روپے رکھے جاسکتے ہیں، دفاعی بجٹ 1400 ارب رکھے جانے کا امکان ہے ۔ ایک لاکھ کی کی خریداری پر شناختی کارڈ کی شرط عائد ہوسکتی ہے ۔تنخواہوں اور پنشن میں 15 فی صد اضافے کا امکان ہے اور تنخواہوں کے لیے 530 اور پنشن کے لیے 510 ارب روپے رکھے جانے کا امکان ہے ۔ آئندہ بجٹ میں ٹیکس آمدن 5820 ارب روپے ہوسکتی ہے جبکہ نان ٹیکس آمدن 1420 ارب روپے ہوسکتی ہے ۔بجٹ میں ٹیکس چوروں کے گرد گھیرا تنگ کیا جائے گا اور بے نامی داروں کے خلاف ایکشنز میں تیزی آئے گی۔ ایف اے ٹی ایف کی اہم شرط پر عمل درآمد ہوگا اور پراپرٹی کا لین دین کرنے والوں کی رجسٹریشن کی جائے گی جبکہ مشکوک لین دین رپورٹ ہوگا۔ 50 ہزار دکانوں اور شاپنگ مال میں پوائنٹ آف سیلز مشینیں نصب کی جائیں گی، آئندہ مالی سال کے بجٹ میں وفاقی ترقیاتی بجٹ 900 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے ۔ ترقیاتی بجٹ کی دستاویزات کے مطابق وفاقی ترقیاتی بجٹ رواں مالی سال کی نسبت 38 فیصد زیادہ رکھنے کی تجویز ہے ، بجلی کے ترسیلی منصوبوں پر 100 ارب روپے خرچ کرنے کی تجویز ہے اور دیامر بھاشا، داسو اور مہمند ڈیمز کے منصوبوں پر 84ارب 50 کروڑ خرچ کیے جانیکی تجویز ہے ۔اس کے علاوہ کے فور، نئی گاج ڈیم، رینی کینال اور سندھ میں چھوٹے ڈیموں پر 25 ارب روپے خرچ کرنیکی تجویز ہے ۔نئے مالی سال میں 244 ارب روپے موٹرویز، ہائی ویز، ائیر پورٹس اور ریلوے منصوبوں پر خرچ کرنے کی تجویز ہے ،سکھر حیدرآباد موٹروے اور خیبر پاس اقتصادی راہدری منصوبے کیلیے 13ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے ، ملک بھر میں 3261 کلومیٹر نئی سڑکیں تعمیر کرنے کی تجویز ہے ،ترقیاتی بجٹ میں سکھر حیدرآباد موٹروے کیلیے 4 ارب 60 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز ہے ۔نئے مالی سال میں ایوی ایشن ڈویژن کے منصوبوں کے لیے 3ارب 55کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے ۔کابینہ ڈویژن کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 46ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے ،وزارت موسمیاتی تبدیلی ترقیاتی منصوبوں کے لیے 14 ارب 32کروڑ روپے رکھنے کی تجویز ہے جب کہ فیڈرل ایجوکیشن کے لیے 9ارب 70کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے ۔وزارت خزانہ کے ترقیاتی منصوبوں کیلیے 123ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے ،ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 42 ارب 45 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز ہے ،وزارت ہاسنگ ترقیاتی منصوبوں کے لیے 24 ارب 21 کروڑ روپے رکھنیکی تجویز ہے ، آئندہ مالی سال میں وزارت داخلہ کے منصوبوں کیلیے 21 ارب رکھنے کی تجویز ہے ۔سمندری امور کے منصوبوں کے لیے 4 ارب 46 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز ہے ، نیشنل فوڈ سیکیورٹی کے منصوبوں کے لیے 12ارب روپے رکھنیکی تجویز ہے ،وزارت صحت کے منصوبوں کے لیے 21 ارب 72کروڑ روپے رکھنے کی تجویز ہے ،آئندہ مالی سال میں ریلوے منصوبوں کے لیے 30 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے ۔ اس کے علاوہ پانی کے منصوبوں کے لیے 103ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے ،این ایچ اے منصوبوں کے لیے 113 ارب 75کروڑ روپے ،این ٹی ڈی سی اور پیپکو کے بجلی منصوبوں کے لیے 69 ارب روپے اورکامرس ڈویژن کیلیے ایک ارب 61کروڑ کا ترقیاتی بجٹ رکھنے کی تجویز ہے ۔کیمونیکیشن ڈویژن کیلیے 45کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے ،آئندہ مالی سال کے لیے دفاعی ڈویژن کا ترقیاتی بجٹ ایک ارب 97 کروڑ رکھنے کی تجویز ہے ،دفاعی پیداوار ڈویژن کا ترقیاتی بجٹ ایک ارب 74کروڑ روپے رکھنے کی تجویز ہے ،اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کا ترقیاتی بجٹ 80کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے ،ہیومن رائٹس ڈویژن کیلیے 27کروڑ 92لاکھ روپے رکھنے کی تجویز ہے ،وزارت صنعت و پیداوار کا ترقیاتی بجٹ 2 ارب 91کروڑروپے رکھنے کی تجویز ہے ۔وزارت اطلاعات کا ترقیاتی بجٹ ایک ارب 89کروڑ روپے رکھنے کی تجویز ہے ،آئی ٹی اور ٹیلی کام ڈویژن کیلیے 9ارب 36کروڑ روپے ،بین الصوبائی رابطہ کیلیے 3ارب 73کروڑ روپے اور امور کشمیر اور گلگت بلتستان ڈویژن کیلیے 69ارب 95کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے ۔اس کے علاوہ قانون و انصاف کی وزارت کیلیے 6ارب 2کروڑ روپے اور نارکوٹکس کنٹرول ڈویژن کا ترقیاتی بجٹ 48کروڑ 93لاکھ روپے رکھنے کی تجویز ہے ،آئندہ مالی سال کے ترقیاتی بجٹ کی دستاویزات کے مطابق وزارت غذائی تحفظ کے لیے 12 ارب کا ترقیاتی بجٹ تجویز ہوا۔ ۔ قومی ورثہ و ثقافت کیلئے 4 کروڑ 59 لاکھ کا ترقیاتی بجٹ تجویز ہوا۔ پٹرولیم ڈویژن کو 3 ارب 7 کروڑ روپے کا ترقیاتی بجٹ ملے گا۔ سماجی تحفظ کے لیے 11 کروڑ 89 لاکھ کا ترقیاتی بجٹ مختص کیا گیا، این ایچ اے کیلئے 113 ارب 95 کروڑ روپے کا ترقیاتی بجٹ ، پیپکو کے لیے 53 ارب روپے سے زائد ترقیاتی بجٹ ہو گا۔ دیگر ضروریات و ایمرجنسی کیلئے 60 ارب روپے مختص ہوئے ہیں


متعلقہ خبریں


قومی اسمبلی، فوج اور عدلیہ کیخلاف تقاریر روکنے کا اعلان وجود - اتوار 18 جنوری 2026

قومی اسمبلی میں پاکستان، عدلیہ اور فوج کیخلاف بولنے کی اجازت نہیں دوں گا، وہ نہ حکومت میں ہیں اور نہ ہی اپوزیشن میں بلکہ بطور اسپیکر اپنا کردار ادا کریں گے، سردار ایاز صادق اچکزئی اپوزیشن سے تعلق رکھتے ہیں،آئین کے دائرے میں گفتگو کی اجازت ہوگی ،ہر ملک میں مافیا ہوتے ہیں اور ان ...

قومی اسمبلی، فوج اور عدلیہ کیخلاف تقاریر روکنے کا اعلان

عمران خان کی ہدایت پرسہیل آفریدی نے اسٹریٹ مومنٹ شروع کردی وجود - اتوار 18 جنوری 2026

ہم عوام کو ساتھ لے کر چلیں گے، کسی آپریشن کی حمایت نہیں کریں گے،ہری پور کی عوام بانی کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں لیکن ان کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیاہے ،کارکنان کا وزیر اعلی کا شاندار استقبال ہماری بدقسمتی ہے ایک دفعہ نہیں دو دفعہ منیڈیٹ چوری کیا، تین سال سے ہم ہر جگہ تحریک چلا رہے ہی...

عمران خان کی ہدایت پرسہیل آفریدی نے اسٹریٹ مومنٹ شروع کردی

چائلڈ ابیوز کے کیس کسی صورت برداشت نہیں کروں گا،وزیراعلیٰ سندھ وجود - اتوار 18 جنوری 2026

کراچی میں بچوں سے زیادتی کرنے والے ملزم کی گرفتاری بڑی کامیابی ہے، مراد علی شاہ ملزم کیخلاف شواہد کی بنیاد پر کیس عدالت میں لیجایا جائے،ملزم کی گرفتاری پرپولیس کو شاباش وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کراچی میں بچوں سے زیادتی میں ملوث ملزم کی گرفتاری پر پولیس کو شاباش دی ہے۔اس...

چائلڈ ابیوز کے کیس کسی صورت برداشت نہیں کروں گا،وزیراعلیٰ سندھ

کراچی، 100 سے زائد بچوں سے زیادتی کے 2 ملزم گرفتار وجود - اتوار 18 جنوری 2026

متاثرہ بچے کی نشاندہی پر ٹیپو سلطان میں ایسٹ انویسٹی گیشن ون کی بڑی کارروائی ملزم عمران اور وقاص خان نے 12 سے 13 سال کے لڑکوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا کراچی میں ایسٹ انویسٹی گیشن ون نے رواں سال کی سب سے بڑی کارروائی کرتے ہوئے بچوں سے زیادتی میں ملوث ملزم کو ساتھی سمیت گرفتار ...

کراچی، 100 سے زائد بچوں سے زیادتی کے 2 ملزم گرفتار

دہشت گردوں کو پاکستان سے اٹھا کر بحرِ ہند میں ڈبو دیں گے، وزیراعظم وجود - هفته 17 جنوری 2026

دہشت گردی کے ناسور نے پھر سر اٹھا لیا، قومی اتحاد و یکجہتی کی آج پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے، شہباز شریف خوارج، ٹی ٹی پی اور ٹی ٹی اے کا گٹھ جوڑ دشمنوں کی پشت پناہی سے فعال ہے، قومی پیغام امن کمیٹی سے ملاقات وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے ناسور نے ایک بار پھر ...

دہشت گردوں کو پاکستان سے اٹھا کر بحرِ ہند میں ڈبو دیں گے، وزیراعظم

ترقیاتی کام کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا،وزیراعلیٰ سندھ وجود - هفته 17 جنوری 2026

منصوبے کی فزیکل پیشرفت 65فیصد مکمل ہوچکی ، ملیر ندی پل منصوبہ مئی تک مکمل کرنے کی ہدایت کے الیکٹرک کو یوٹیلیٹی منتقلی میں تاخیر پر لیٹرز جاری کرنے کی ہدایت، پلاننگ ڈیپارٹمنٹ کی بریفنگ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ملیر ندی پل منصوبے کو مئی 2026 میں مکمل کرنے کی ہدایت کرد...

ترقیاتی کام کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا،وزیراعلیٰ سندھ

آپریشن کیخلاف ، ناکام پالیسی کا حصہ نہیں بنیں گے، سہیل آفریدی وجود - هفته 17 جنوری 2026

ناکام پالیسی کی تبدیلی کا مطالبہ کریں تو دہشت گردوں کا حامی کہا جاتا ہے،وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا 22 بڑے اور 14 ہزار چھوٹے آپریشن، کیا ضمانت ہے امن قائم ہو سکے گا،متاثرین سے ملاقات خیبرپختونخوا (کے پی) کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 22 بڑے اور 14 ہزار چھوٹے آپری...

آپریشن کیخلاف ، ناکام پالیسی کا حصہ نہیں بنیں گے، سہیل آفریدی

دربدر فلسطینیوں پر صیہونی بربریت، 10 شہید،متعدد زخمی وجود - هفته 17 جنوری 2026

اسرائیلی افواج کی بمباری میں القسام بریگیڈز کے ایک سینئر رہنما کو نشانہ بنایا گیا غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کا اعلان ،امریکی حکام کی تصدیق جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے اعلان کے باوجود دربدر فلسطینیوں پر صیہونی بربریت کا سلسلہ دھڑلے سے جاری ہے، اسرائیلی افواج کی حال...

دربدر فلسطینیوں پر صیہونی بربریت، 10 شہید،متعدد زخمی

پاکستان آسٹریلیا ٹی ٹونٹی سیریز کے اوقات تبدیل کرنے کا فیصلہ وجود - هفته 17 جنوری 2026

ٹاس سہہ پہر ساڑھے 3 بجے ، میچز 4 بجے شروع ہوں گے،جلد باضابطہ اعلان متوقع موسمی شدت کی وجہ سے اوقات تبدیل ،میچز 29 ، 31 جنوری اور یکم فروری کو ہوں گے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے رواں ماہ کے آخر میں آسٹریلیا کے خلاف لاہور میں ہونے والی وائٹ بال سیریز کے اوقات تبدیل کرنے ک...

پاکستان آسٹریلیا ٹی ٹونٹی سیریز کے اوقات تبدیل کرنے کا فیصلہ

آزادی کا سورج جلد طلوع ہوگا،عمران خان جلد رہا ہوں گے(سہیل آفریدی) وجود - جمعه 16 جنوری 2026

پی ٹی آئی ملک میں آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور آزادی عدلیہ کیلئے جدوجہد کررہی ہے، ہر ورکر ہمارا قیمتی اثاثہ ،عمران خان کی امانت ہیںہمیں ان کا خیال رکھنا ہے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا بانی پی ٹی آئی نے جو تحریک شروع کی تھی اللہ کرے ہم جلد کامیاب ہوجائیں، بلال محسود کو...

آزادی کا سورج جلد طلوع ہوگا،عمران خان جلد رہا ہوں گے(سہیل آفریدی)

ایمان مزاری،ہادی علی چٹھہ کوگرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم وجود - جمعه 16 جنوری 2026

متنازع ٹویٹ کیس میںدونوں وقفہ کے بعد عدالت میں پیش نہ ہوئے عدالت نے ضمانت منسوخ کردی،دونوں ملزمان کا جرح کا حق ختم کر دیا ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی متنازع ٹویٹ کیس میں ضمانت منسوخ ہوگئی۔ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکا نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متن...

ایمان مزاری،ہادی علی چٹھہ کوگرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

حکومت سندھ کا کار اور موٹر سائیکل کے چالان کی رقم کم کرنے پر غور وجود - جمعه 16 جنوری 2026

جرمانوں میں عوامی تشویش کے بعد ان کا مطالبہ پورا ہونیوالا ہے، آئندہ ہفتے نوٹیفکیشن جاری ہونے کی امید موٹر سائیکلوں کے جرمانے کو 5,000روپے سے کم کرکے 2,500روپے کرنے پر غور کر رہی ہے،ذرائع شہر قائد کے باسی بھاری بھرکم ای چالان کی وجہ سے سخت پریشان ہیں تاہم اب ان کی پریشانی ختم...

حکومت سندھ کا کار اور موٹر سائیکل کے چالان کی رقم کم کرنے پر غور

مضامین
شر سے خیر کاجنم وجود اتوار 18 جنوری 2026
شر سے خیر کاجنم

تیسری عالمی جنگ شروع وجود اتوار 18 جنوری 2026
تیسری عالمی جنگ شروع

برین ڈرین حکومت کے لیے ایک انتباہ! وجود اتوار 18 جنوری 2026
برین ڈرین حکومت کے لیے ایک انتباہ!

جدید ٹیکنالوجی کے حصول کی جنگیں وجود هفته 17 جنوری 2026
جدید ٹیکنالوجی کے حصول کی جنگیں

ماؤ نوازیوں کے خلاف آپریشن وجود هفته 17 جنوری 2026
ماؤ نوازیوں کے خلاف آپریشن

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر