... loading ...
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے آئندہ دو ماہ کیلئے شرح سود 7 فیصد کی سطح پر برقرار رکھنے کا اعلان کردیا،مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ پرائیویٹ سیکٹر کے قرضوں میں 43 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ نئے مالی سال میں مہنگائی کم ہوگی، زرمبادلہ ذخائر 4 سال کی بلندترین سطح پرپہنچ گئے اور اس وقت اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر 16 ارب ڈالرز ہیں۔اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ مانیٹری پالیسی کے مطابق مارچ کے بعد سے مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے تاہم رواں مالی سال اوسط مہنگائی 9 فیصد تک رہنے کی توقع ہے اور وسط مدت میں مہنگائی 5 سے 7 فیصد رہنے کی توقع ہے جب کہ بجلی کی نرخ میں حالیہ اضافہ سے مہنگائی کی شرح آئندہ مہینوں میں بند رہے گی۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق صنعتی شعبے کی ترقی میں 3.6 فیصد اضافہ ہوا،تعمیرات، سیمنٹ، ٹیکسٹائل اور آٹو سیکٹر سے صنعتی شعبے میں ترقی ہوئی، 17 سال بعد 10 ماہ میں جاری کھاتے سرپلس رہے ۔اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ آئندہ مہنگائی کا دارومدار غذائی اور توانائی کی قیمتوں، اجرتوں پر مذاکرات اور بھر سمیت معاشی بحالی پر ہوگا، غذائی اشیا اور بجلی کی قیمت میں اضافہ سے مہنگائی کے اثرات ابھی ظاہر ہونا باقی ہیں، پھلوں، سبزیوں ڈیری مصنوعات مرغی اور خوردنی تیل کی قیمت میں اضافہ نے گندم کی قیمت میں کمی کا اثر زائل کردیا۔مرکزی بینک کے مطابق مارچ میں پچھلے اجلاس کے بعد ایم پی سی کو مالی سال 2021ء کی نمو کی پیشگوئی کو مزید بڑھا کر 3.94 فیصد کیے جانے سے حوصلہ ملا تھا۔مانیٹری پالیسی کے مطابق مالی سال کے آغاز کے بعد وسیع النبیاد معاشی بحالی کی مضبوطی کی تصدیق ہوتی ہے ، توقع ہے کہ یہ مثبت رفتاربرقرار رہے گی اور اگلے سال کی بلند تر نمو کا باعث بنے گی۔مانیٹری پالیسی کے مطابق فروری میں بجلی کے نرخوں میں اضافے کے باقی ماندہ اثرات نیز جزوی طور پر ماہِ رمضان کے ا?س پاس معمول کے موسمی اثر کی بنا پر غذائی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا، جس کی وجہ سے اپریل میں مہنگائی بڑھ کر 11.1 فیصد (سال بسال) ہو گئی۔مرکزی بینک کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیہ کے مطابق زری پالیسی کمیٹی(ایم پی سی) نے اپنے 28مئی 2021ء کے اجلاس میں پالیسی ریٹ کو 7 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ مارچ میں پچھلے اجلاس کے بعد ایم پی سی کو مالی سال 21ء کی نمو کی پیش گوئی کو مزید بڑھا کر 3.94 فیصد کیے جانے سے حوصلہ ملا تھا۔ ایم پی سی نے کہا کہ اِس سے مالی سال کے آغاز کے بعد وسیع البنیاد معاشی بحالی کی مضبوطی کی تصدیق ہوتی ہے جس کا سبب ہدفی مالیاتی اقدامات اور بھرپور زری اعانت ہے ۔توقع ہے کہ یہ مثبت رفتار برقرار رہے گی اور اگلے سال کی بلند تر نمو کا باعث بنے گی۔اعلامیہ کے مطابق فروری میں بجلی کے نرخوں میں اضافے کے باقی ماندہ اثرات نیز جزوی طور پر ماہِ رمضان کے آس پاس معمول کے موسمی اثر کی بنا پر غذائی اشیا کی ماہ بہ ماہ قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے اپریل میں مہنگائی بڑھ کر 11.1 فیصد (سال بسال) ہوگئی۔ ایم پی سی نے نوٹ کیا کہ غذائی اشیا اور توانائی کو پہنچنے والے رسدی دھچکے اب بھی حاوی ہیں اور صارف اشایہ قیمت (CPI) باسکٹ میں جنوری سے اب تک توانائی اور غذائی اشیا کی ایک چھوٹی تعداد مہنگائی میں لگ بھگ تین چوتھائی اضافے کی ذمہ دارہے ۔ ایم پی سی نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ شہری علاقوں میں قوزی (core)مہنگائی اس مدت میں تقریباً 1.5 فیصدی درجے بڑھی ہے تاہم دستیاب شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ مہنگائی پر طلبی دباؤ قدرے قابو میں ہے ۔ اِس سے اس امر کی عکاسی ہوتی ہے کہ معاشی بحالی کے باوجود پچھلے سال کے سکڑاؤ کے بعد ابھی تک کچھ فاضل گنجائش موجود ہے ۔ رسدی دھچکوں کے دور ِثانی کے ا ثرات بھی واضح نظر نہیں آرہے : قیمتوں کا دباؤ چند اشیا میں مرتکز ہے ، اجرتوں کی نمو کم ہے جس سے لاگت میں اضافہ رکا ہوا ہے اور مہنگائی کی توقعات معقول طور پر قابو میں ہیں۔ جیسا کہ پہلے پیش گوئی کی گئی، بجلی کے نرخوں میں حالیہ اضافے کے باعث امکان ہے کہ عمومی مہنگائی کی سال بسال شرح آئندہ مہینوں کے دوران بلند رہے گی، جس کے نتیجے میں مالی سال 21ء کی اوسط،7ـ9 فیصد کی اعلان کردہ حدود کے بالائی سرے کے قریب پہنچ جائے گی۔اس کے بعد جب رسدی دھچکو ں کے اثرات کم ہونے لگیں گے تو توقع ہے کہ مہنگائی گھٹ کر وسط مدت میں بتدریج ہدف کے مطابق 5ـ7 فیصد کی حدود میں آجائے گی۔مذکورہ بالا امور کی روشنی میں ایم پی سی کا نقطہ نظر یہ تھا کہ زری پالیسی کا موجودہ خاصا گنجائشی موقف اس امر کو یقینی بنانے کے لیے موزوں ہے کہ بحالی پختہ ہوجائے اور اپنے طور پر جاری رہے ۔ پاکستان میں کووڈ کی جاری تیسری لہر سے پیدا ہونے والی ازسر نو بڑھی ہوئی غیر یقینی مہنگائی اور اس مالی سال کے دوران متوقع مالیاتی استحکام کے پیش نظر یہ بات اور بھی درست ہے ۔ نتیجے کے طور پر ایم پی سی نے نوٹ کیا کہ زری پالیسی کو مددگار ہونا چاہیے ۔ ایم پی سی نے نوٹ کیا کہ کووڈ کے حوالے سے موجود غیریقینی کے پیش نظر زری اعانت کو بہت جلد واپس لینے کی قیمت بہت تاخیر سے واپس لینے سے زیادہ ہے ۔ مستقبل کی طرف دیکھتے ہوئے نادیدہ حالات کی عدم موجودگی میں ایم پی سی کو توقع ہے کہ مختصر مدت میں زری پالیسی گنجائشی رہے گی اور پالیسی ریٹ میں کوئی بھی ردّوبدل محتاط اور بتدریج ہوگا تاکہ رفتہ رفتہ تھوڑی مثبت حقیقی شرح سود حاصل کی جاسکے ۔ اگر بحالی کے زیادہ پائیدار ہونے اور معیشت کے اپنی پوری استعداد کی طرف لوٹ جانے پر طلبی دباؤ سامنے آتا ہے تو ایم پی سی نے نوٹ کیا کہ زری پالیسی کو گنجائش کے درجے کے مطابق بتدریج کمی کے ذریعے معمول کی جانب لے جانے کا آغاز کرنا دور اندیشی ہوگی۔ اس عمل سے اس امر کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی کہ مہنگائی بلند سطح پر پختہ نہ ہوجائے اور مالی حالات منظم رہیں، جس سے پائیدار نمو کو تقویت ملے گی۔ اپنے فیصلے تک پہنچنے میں زری پالیسی کمیٹی نے حقیقی، بیرونی اور مالیاتی شعبوں کے اہم رجحانات اور امکانات، اور ان کے نتیجے میں زری حالات اور مہنگائی کو مدِّنظر رکھا۔مرکزی بینک کا کہنا تھا کہ نیشنل انکم اکائو نٹس کے تازہ ترین اعدادوشمار سے تصدیق ہوتی ہے کہ ملکی معیشت گذشتہ سال کے کووڈ دھچکے سے نکل کر مستحکم انداز میں بحال ہوئی ہے جس میں خدمات اور صنعت کا کردار نمایاں ہے ۔ مالی سال 21ء میں صنعت کے شعبے میں 3.6 فیصد نمو ہوئی ہے جس میں اہم کردار تعمیرات اور بڑے پیمانے کی اشیا سازی، خصوصاً غذا، سیمنٹ، ٹیکسٹائل اور گاڑیوں کے شعبوں کا ہے ۔ سال کی تینوں سہ ماہیوں میں عارضی صارفی مصنوعات اور پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت سمیت ہائی فریکوئنسی کے متعدد اظہاریوں میں درج کی گئی غیر معمولی طور پر مستحکم نمو سے بھی معیشت کی طاقتور بحالی کی عکاسی ہوتی ہے ۔ زرعی شعبے کی حاصل شدہ نمو کا تخمینہ 2.8 فیصد ہے جس میں تین اہم فصلوں گندم، چاول اور مکئی کی پیداوار ریکارڈ بلند رہی، جبکہ گنّے کی پیداوار اب تک کی اپنی دوسری بلند ترین سطح پر رہی۔ اجناس پیدا کرنے والے شعبوں کی مستحکم کارکردگی کی بنا پر خدمات کا شعبہ بھی گذشتہ سال کی تخفیف سے نکل آیا ہے اور اس میں 4.4 فیصد نمو ہوئی ہے جس میں بڑا حصہ تھوک اور خردہ تجارت کا ہے ۔ زری پالیسی کمیٹی نے نوٹ کیا کہ حالیہ اقتصادی بحالی کو حکومت اور اسٹیٹ بینک کی اْن فعال اور عمدگی سے تشکیل دی جانے والی پالیسیوں نے سہارا دیا جو کووڈ دھچکے کے بعد لائی گئیں۔ بلند سرکاری قرضے کے پیشِ نظر، مالیاتی تعاون کو زیرِ ہدف طبقات تک پہنچایا گیا خصوصاً’احساس’ پروگرام کے ذریعے کمزور طبقات پر توجہ دیتے ہوئے اخراجات کی تشکیلِ نو کی گئی۔ ایسا اس لیے ممکن ہوا کہ کووڈ سے قبل اقتصادی استحکام کے مرحلے میں بفر قائم کر لیے گئے تھے ، خاص طور پر مالی سال 20ء کے پہلے نو ماہ کے دوران بنیادی فاضل رقم حاصل کر لی گئی تھی۔ اس کے نتیجے میں مالی سال 20ء میں مالیاتی خسارہ محدود رہا اور کووڈ دھچکے کے بعد دنیا کے دیگر ملکوں کے مقابلے میں پاکستان کے سرکاری قرضے میں اضافہ پست ترین سطحوں میں سے ایک تھا، جس سے مارکیٹ کے احساسات اور سرمایہ کاری کے منظر نامے کو سہارا ملا۔ زری پہلو سے ، دنیا میں شرحِ سود میں سب سے بڑی کٹوتیوں میں سے ایک تسلیم کی جانے والی کٹوتی کے ذریعے مالی سال 20ء کے جی ڈی پی کا 5 فیصد بھرپور تعاون کے طور پر فراہم کیا گیا، ادائیگی کے قابل قرض لینے والوں کو سیالیت میں عارضی ریلیف دیتے ہوئے اصل رقم کی ادائیگی مئوخر اور قرضے کی تشکیلِ نو کی گئی، اس کے ساتھ ساتھ نئی اور عارضی ری فنانس سہولتیں متعارف کرائی گئیں تاکہ ملازمتوں کی چھانٹیوں کو روکا جائے (روزگار اسکیم)، صحت کی سہولتوں سے تعاون کیا جائے ، اور سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے ۔ زری پالیسی کمیٹی نے نوٹ کیا کہ پاکستان میں معاشی نمو کے گذشتہ کئی اعداووشمار کے برخلاف جاری معاشی بحالی کو بیرونی استحکام پر سمجھوتہ کیے بغیر حاصل کیا گیا ہے ۔ مالی سال21ء کے ابتدائی دس مہینوں میں جاری کھاتہ 0.8 ارب ڈالر فاضل رہا ہے جو 17برسوں میں پہلی بار دیکھنے میں آیا ہے ۔حالیہ مہینوں میں معاشی بحالی، اجناس کی بڑھتی ہوئی عالمی قیمتوں کے ساتھ ساتھ عارضی ملکی قلت پر قابو پانے کے لیے گندم اور چینی کی یکبارگی کھیپوں کے باعث درآمدات میں اضافہ ہوا ہے ۔ تاہم ترسیلات ِزر کی ریکارڈ سطح بڑی حد تک اس کی تلافی کر رہی ہے جو اپریل کے مہینے میں بڑھ کر ماہانہ (2.8ارب ڈالر) اور مجموعی (24.2ارب ڈالر) دونوں بنیادوں پر تاریخی سطح تک پہنچ گئیں۔ علاوہ ازیں، اس سال اب تک برآمدات میں تقریباً14فیصد (سال بسال) نمو ہو چکی ہے ، جس کا اہم سبب بلند قدر اضافی کی حامل ٹیکسٹائل اور مناسب قیمتیں ہیں۔ پاکستان نے مارچ میں کامیابی کے ساتھ آئی ایم ایف پروگرام کے مشترکہ دوسرے تا پانچویں جائزوں کو مکمل کیا اور بین الاقوامی سرمایہ منڈی سے دوبارہ رجوع کر کے یورو بانڈ کے ذریعے 2.5ارب ڈالر جمع کیے ، جس کے لیے زائد سبسکرپشن موصول ہوئیں اور جنہیں قیمت کی ابتدائی رہنمائی کی نسبت کم یافتوں پر جاری کیا گیا۔ ان مثبت پیش رفتوں نے پاکستانی روپے کو زری پالیسی کمیٹی کے گذشتہ اجلاس کے بعد بڑی حد تک تقریباً کووڈ19 سے پہلے کی سطح پر مستحکم رکھا اور اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر تقریباً16ارب ڈالر تک پہنچ گئے ، جو چار برسوں میں اس کی بلند ترین سطح ہے ۔ آگے چل کر توقع ہے کہ جاری کھاتے کا خسارہ محدود رہے گا جسے شرح مبادلہ کے لچکدار نظام سے تقویت ملے گی جبکہ بیرونی فنانسنگ کی ضروریات کو باسہولت انداز میں پورا کیا جانا چاہیے ، جس سے زرمبادلہ کے بفرز میں مزید مضبوطی آئے گی۔
پیٹرولیم مصنوعات اور سولر سسٹم مزید مہنگا ہونے کا خدشہ،نئے گھروں پر ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا مطالبہ، اگلے بجٹ کے ٹیکس ہدف میں 16 سو ارب روپے اضافے کی تجویز،ذرائع ایف بی آر اس وقت پیٹرولیم مصنوعات پر جی ایس ٹی کی شرح صفر،چھوٹے کاروبار اور تاجروں پر اثاثوں کی بنیاد پر ٹیکس لگانے کی ...
برطانیہ سمیت وہ ممالک جو ایران کیخلاف جنگ میں شامل نہیں ہوئے اور جیٹ فیول حاصل نہیں کرپارہے آئل امریکا سے خریدیں یا ہمت کرکے آبنائے ہرمز جائیں اور آئل حاصل کرلیں آپ کو اب خود لڑنا سیکھنا ہوگا،ایران کو تباہ کر دیا اور مشکل مرحلہ مکمل ہو چکا ہے،فرانس نے ایران کے قصائی کے حوالے...
جنید اکبر خان کی زیرصدارتخیبر پختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں ایک اہم تنظیمی اجلاس سہیل آفریدی نے اجلاس کے شرکاء کو صوبے کو درپیش اہم معاملات پر تفصیلی بریفنگ دی خیبر پختونخوا کی سیاسی قیادت نے تنظیمی استحکام، موجودہ سیاسی صورتحال اور بانی چیٔرمین عمران خان کی رہائی کے لیے جا...
علیمہ کی ہدایت پر فیصل ترکئی، عاقب اللہ کو کابینہ میں شامل کرنے پر اختلافات کی وجہ بنے مختلف نجی محافل میں ان تقرریوں کے حوالے سے پارٹی کے اندر تنقید کا سلسلہ شروع ہوا خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت میں چند ماہ قبل تک عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کو غیر معمولی اثر و رسوخ حاصل...
صدر مملکت کی زیر صدارت اجلاس، شہباز شریف کی ملاقات، قومی سلامتی کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی غور، مشکل وقت میں معاشی طور پر کمزور طبقات کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا، آصف زرداری ایندھن کے کم استعمال، پبلک ٹرانسپورٹ کے فروغ اور مشترکہ سفری سہولیات کیلئے عوام میں آگاہی پھیلائی جائے،...
ایران کو 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کھولنے کا الٹی میٹم،بصورت دیگر امریکا ایرانی تیل کے کنوؤں ،بجلی گھروں اور ڈی سیلینائزیشن پلانٹس کو نشانہ بنا سکتا ہے، امریکی صدرکاسوشل میڈیا پر بیان ٹرمپ نے ایران کے ایندھن اور توانائی ڈھانچے پر حملہ کیا تو خطے میں امریکی توانائی کے انفراسٹرک...
حالیہ ایران پر امریکی فوجی حملے کی وجہ سے پینٹاگون پر بھاری مالی بوجھ آن پڑا ہے 800 سے زائد ٹوماہاک میزائلوں پر 3۔06 ارب ڈالر خرچ ہوئے،سینٹ کام ایران کیخلاف جنگ میں امریکہ نے 26 ارب ڈالر اڑا دیے، اس ایک ماہ کی جنگ کے دوران اخراجات آسمان سے باتیںکرنے لگے جس کی وجہ سے یہ تاری...
خطے میں کشیدگی کے فوری خاتمے کیلئے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں، شہبازشریف جنگ سے ایران سمیت کئی مسلم ممالک میں جانی و مالی نقصان ہو رہا ہے،پیغام وزیر اعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے پرعزم ہیں، جنگ سے ایران سمیت کئی مسلم ممالک میں جان...
ہمارے جوان زمین پر امریکی فوجیوں کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ انہیں آگ لگا کر نشانہ بنائیں اور ان کے علاقائی شراکت داروں کو ہمیشہ کیلئے سزا دیں،ترجمان خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز ایسا اقدام امریکی افواج کے لیے شدید ذلت آمیز نتائج کا باعث بنے گا،ٹرمپ نے امریکی افواج کو دلدل میں دھکیل ...
پاکستان کی میزبانی میں سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کے درمیان بات چیت کا پہلا راؤنڈ ختم،اگلا راؤنڈ جلد ہوگا جس میںتجاویز پر پیش رفت سے ایک دوسرے کو آگاہ کیا جائے گا اسحاق ڈار کی سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں، ایران کی موجودہ صورتحال پر تبادل...
گفتگو کا اردو ترجمہ کروایا ہے ،یہ ایک بیٹے کے باپ کیلئے احساسات تھے جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں بانی پی ٹی آئی کے بیٹے کی گفتگو کو جی ایس پی پلس کے ساتھ جوڑ کر غلط بیانی کی جا رہی ہے،نیوز کانفرنس وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے بیٹے کی گفت...
حکومت نے 125 ارب کی خطیر رقم، مختلف بچتوں اور ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کر کے دی وزیراعظم کا ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری کے اقدامات پرجائزہ اجلاس سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومتی فیصلوں کی بدولت پٹرولیم مصنوعات کی ملکی ضروریات کیلئے مناسب مقدار موجود ہے۔وزیراعظم ...