وجود

... loading ...

وجود

اسٹیٹ بینک کاآئندہ دو ماہ کیلئے شرح سود 7 فیصد کی سطح پر برقرار رکھنے کا اعلان

هفته 29 مئی 2021 اسٹیٹ بینک کاآئندہ دو ماہ کیلئے شرح سود 7 فیصد کی سطح پر برقرار رکھنے کا اعلان

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے آئندہ دو ماہ کیلئے شرح سود 7 فیصد کی سطح پر برقرار رکھنے کا اعلان کردیا،مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ پرائیویٹ سیکٹر کے قرضوں میں 43 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ نئے مالی سال میں مہنگائی کم ہوگی، زرمبادلہ ذخائر 4 سال کی بلندترین سطح پرپہنچ گئے اور اس وقت اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر 16 ارب ڈالرز ہیں۔اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ مانیٹری پالیسی کے مطابق مارچ کے بعد سے مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے تاہم رواں مالی سال اوسط مہنگائی 9 فیصد تک رہنے کی توقع ہے اور وسط مدت میں مہنگائی 5 سے 7 فیصد رہنے کی توقع ہے جب کہ بجلی کی نرخ میں حالیہ اضافہ سے مہنگائی کی شرح آئندہ مہینوں میں بند رہے گی۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق صنعتی شعبے کی ترقی میں 3.6 فیصد اضافہ ہوا،تعمیرات، سیمنٹ، ٹیکسٹائل اور آٹو سیکٹر سے صنعتی شعبے میں ترقی ہوئی، 17 سال بعد 10 ماہ میں جاری کھاتے سرپلس رہے ۔اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ آئندہ مہنگائی کا دارومدار غذائی اور توانائی کی قیمتوں، اجرتوں پر مذاکرات اور بھر سمیت معاشی بحالی پر ہوگا، غذائی اشیا اور بجلی کی قیمت میں اضافہ سے مہنگائی کے اثرات ابھی ظاہر ہونا باقی ہیں، پھلوں، سبزیوں ڈیری مصنوعات مرغی اور خوردنی تیل کی قیمت میں اضافہ نے گندم کی قیمت میں کمی کا اثر زائل کردیا۔مرکزی بینک کے مطابق مارچ میں پچھلے اجلاس کے بعد ایم پی سی کو مالی سال 2021ء کی نمو کی پیشگوئی کو مزید بڑھا کر 3.94 فیصد کیے جانے سے حوصلہ ملا تھا۔مانیٹری پالیسی کے مطابق مالی سال کے آغاز کے بعد وسیع النبیاد معاشی بحالی کی مضبوطی کی تصدیق ہوتی ہے ، توقع ہے کہ یہ مثبت رفتاربرقرار رہے گی اور اگلے سال کی بلند تر نمو کا باعث بنے گی۔مانیٹری پالیسی کے مطابق فروری میں بجلی کے نرخوں میں اضافے کے باقی ماندہ اثرات نیز جزوی طور پر ماہِ رمضان کے ا?س پاس معمول کے موسمی اثر کی بنا پر غذائی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا، جس کی وجہ سے اپریل میں مہنگائی بڑھ کر 11.1 فیصد (سال بسال) ہو گئی۔مرکزی بینک کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیہ کے مطابق زری پالیسی کمیٹی(ایم پی سی) نے اپنے 28مئی 2021ء کے اجلاس میں پالیسی ریٹ کو 7 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ مارچ میں پچھلے اجلاس کے بعد ایم پی سی کو مالی سال 21ء کی نمو کی پیش گوئی کو مزید بڑھا کر 3.94 فیصد کیے جانے سے حوصلہ ملا تھا۔ ایم پی سی نے کہا کہ اِس سے مالی سال کے آغاز کے بعد وسیع البنیاد معاشی بحالی کی مضبوطی کی تصدیق ہوتی ہے جس کا سبب ہدفی مالیاتی اقدامات اور بھرپور زری اعانت ہے ۔توقع ہے کہ یہ مثبت رفتار برقرار رہے گی اور اگلے سال کی بلند تر نمو کا باعث بنے گی۔اعلامیہ کے مطابق فروری میں بجلی کے نرخوں میں اضافے کے باقی ماندہ اثرات نیز جزوی طور پر ماہِ رمضان کے آس پاس معمول کے موسمی اثر کی بنا پر غذائی اشیا کی ماہ بہ ماہ قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے اپریل میں مہنگائی بڑھ کر 11.1 فیصد (سال بسال) ہوگئی۔ ایم پی سی نے نوٹ کیا کہ غذائی اشیا اور توانائی کو پہنچنے والے رسدی دھچکے اب بھی حاوی ہیں اور صارف اشایہ قیمت (CPI) باسکٹ میں جنوری سے اب تک توانائی اور غذائی اشیا کی ایک چھوٹی تعداد مہنگائی میں لگ بھگ تین چوتھائی اضافے کی ذمہ دارہے ۔ ایم پی سی نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ شہری علاقوں میں قوزی (core)مہنگائی اس مدت میں تقریباً 1.5 فیصدی درجے بڑھی ہے تاہم دستیاب شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ مہنگائی پر طلبی دباؤ قدرے قابو میں ہے ۔ اِس سے اس امر کی عکاسی ہوتی ہے کہ معاشی بحالی کے باوجود پچھلے سال کے سکڑاؤ کے بعد ابھی تک کچھ فاضل گنجائش موجود ہے ۔ رسدی دھچکوں کے دور ِثانی کے ا ثرات بھی واضح نظر نہیں آرہے : قیمتوں کا دباؤ چند اشیا میں مرتکز ہے ، اجرتوں کی نمو کم ہے جس سے لاگت میں اضافہ رکا ہوا ہے اور مہنگائی کی توقعات معقول طور پر قابو میں ہیں۔ جیسا کہ پہلے پیش گوئی کی گئی، بجلی کے نرخوں میں حالیہ اضافے کے باعث امکان ہے کہ عمومی مہنگائی کی سال بسال شرح آئندہ مہینوں کے دوران بلند رہے گی، جس کے نتیجے میں مالی سال 21ء کی اوسط،7ـ9 فیصد کی اعلان کردہ حدود کے بالائی سرے کے قریب پہنچ جائے گی۔اس کے بعد جب رسدی دھچکو ں کے اثرات کم ہونے لگیں گے تو توقع ہے کہ مہنگائی گھٹ کر وسط مدت میں بتدریج ہدف کے مطابق 5ـ7 فیصد کی حدود میں آجائے گی۔مذکورہ بالا امور کی روشنی میں ایم پی سی کا نقطہ نظر یہ تھا کہ زری پالیسی کا موجودہ خاصا گنجائشی موقف اس امر کو یقینی بنانے کے لیے موزوں ہے کہ بحالی پختہ ہوجائے اور اپنے طور پر جاری رہے ۔ پاکستان میں کووڈ کی جاری تیسری لہر سے پیدا ہونے والی ازسر نو بڑھی ہوئی غیر یقینی مہنگائی اور اس مالی سال کے دوران متوقع مالیاتی استحکام کے پیش نظر یہ بات اور بھی درست ہے ۔ نتیجے کے طور پر ایم پی سی نے نوٹ کیا کہ زری پالیسی کو مددگار ہونا چاہیے ۔ ایم پی سی نے نوٹ کیا کہ کووڈ کے حوالے سے موجود غیریقینی کے پیش نظر زری اعانت کو بہت جلد واپس لینے کی قیمت بہت تاخیر سے واپس لینے سے زیادہ ہے ۔ مستقبل کی طرف دیکھتے ہوئے نادیدہ حالات کی عدم موجودگی میں ایم پی سی کو توقع ہے کہ مختصر مدت میں زری پالیسی گنجائشی رہے گی اور پالیسی ریٹ میں کوئی بھی ردّوبدل محتاط اور بتدریج ہوگا تاکہ رفتہ رفتہ تھوڑی مثبت حقیقی شرح سود حاصل کی جاسکے ۔ اگر بحالی کے زیادہ پائیدار ہونے اور معیشت کے اپنی پوری استعداد کی طرف لوٹ جانے پر طلبی دباؤ سامنے آتا ہے تو ایم پی سی نے نوٹ کیا کہ زری پالیسی کو گنجائش کے درجے کے مطابق بتدریج کمی کے ذریعے معمول کی جانب لے جانے کا آغاز کرنا دور اندیشی ہوگی۔ اس عمل سے اس امر کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی کہ مہنگائی بلند سطح پر پختہ نہ ہوجائے اور مالی حالات منظم رہیں، جس سے پائیدار نمو کو تقویت ملے گی۔ اپنے فیصلے تک پہنچنے میں زری پالیسی کمیٹی نے حقیقی، بیرونی اور مالیاتی شعبوں کے اہم رجحانات اور امکانات، اور ان کے نتیجے میں زری حالات اور مہنگائی کو مدِّنظر رکھا۔مرکزی بینک کا کہنا تھا کہ نیشنل انکم اکائو نٹس کے تازہ ترین اعدادوشمار سے تصدیق ہوتی ہے کہ ملکی معیشت گذشتہ سال کے کووڈ دھچکے سے نکل کر مستحکم انداز میں بحال ہوئی ہے جس میں خدمات اور صنعت کا کردار نمایاں ہے ۔ مالی سال 21ء میں صنعت کے شعبے میں 3.6 فیصد نمو ہوئی ہے جس میں اہم کردار تعمیرات اور بڑے پیمانے کی اشیا سازی، خصوصاً غذا، سیمنٹ، ٹیکسٹائل اور گاڑیوں کے شعبوں کا ہے ۔ سال کی تینوں سہ ماہیوں میں عارضی صارفی مصنوعات اور پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت سمیت ہائی فریکوئنسی کے متعدد اظہاریوں میں درج کی گئی غیر معمولی طور پر مستحکم نمو سے بھی معیشت کی طاقتور بحالی کی عکاسی ہوتی ہے ۔ زرعی شعبے کی حاصل شدہ نمو کا تخمینہ 2.8 فیصد ہے جس میں تین اہم فصلوں گندم، چاول اور مکئی کی پیداوار ریکارڈ بلند رہی، جبکہ گنّے کی پیداوار اب تک کی اپنی دوسری بلند ترین سطح پر رہی۔ اجناس پیدا کرنے والے شعبوں کی مستحکم کارکردگی کی بنا پر خدمات کا شعبہ بھی گذشتہ سال کی تخفیف سے نکل آیا ہے اور اس میں 4.4 فیصد نمو ہوئی ہے جس میں بڑا حصہ تھوک اور خردہ تجارت کا ہے ۔ زری پالیسی کمیٹی نے نوٹ کیا کہ حالیہ اقتصادی بحالی کو حکومت اور اسٹیٹ بینک کی اْن فعال اور عمدگی سے تشکیل دی جانے والی پالیسیوں نے سہارا دیا جو کووڈ دھچکے کے بعد لائی گئیں۔ بلند سرکاری قرضے کے پیشِ نظر، مالیاتی تعاون کو زیرِ ہدف طبقات تک پہنچایا گیا خصوصاً’احساس’ پروگرام کے ذریعے کمزور طبقات پر توجہ دیتے ہوئے اخراجات کی تشکیلِ نو کی گئی۔ ایسا اس لیے ممکن ہوا کہ کووڈ سے قبل اقتصادی استحکام کے مرحلے میں بفر قائم کر لیے گئے تھے ، خاص طور پر مالی سال 20ء کے پہلے نو ماہ کے دوران بنیادی فاضل رقم حاصل کر لی گئی تھی۔ اس کے نتیجے میں مالی سال 20ء میں مالیاتی خسارہ محدود رہا اور کووڈ دھچکے کے بعد دنیا کے دیگر ملکوں کے مقابلے میں پاکستان کے سرکاری قرضے میں اضافہ پست ترین سطحوں میں سے ایک تھا، جس سے مارکیٹ کے احساسات اور سرمایہ کاری کے منظر نامے کو سہارا ملا۔ زری پہلو سے ، دنیا میں شرحِ سود میں سب سے بڑی کٹوتیوں میں سے ایک تسلیم کی جانے والی کٹوتی کے ذریعے مالی سال 20ء کے جی ڈی پی کا 5 فیصد بھرپور تعاون کے طور پر فراہم کیا گیا، ادائیگی کے قابل قرض لینے والوں کو سیالیت میں عارضی ریلیف دیتے ہوئے اصل رقم کی ادائیگی مئوخر اور قرضے کی تشکیلِ نو کی گئی، اس کے ساتھ ساتھ نئی اور عارضی ری فنانس سہولتیں متعارف کرائی گئیں تاکہ ملازمتوں کی چھانٹیوں کو روکا جائے (روزگار اسکیم)، صحت کی سہولتوں سے تعاون کیا جائے ، اور سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے ۔ زری پالیسی کمیٹی نے نوٹ کیا کہ پاکستان میں معاشی نمو کے گذشتہ کئی اعداووشمار کے برخلاف جاری معاشی بحالی کو بیرونی استحکام پر سمجھوتہ کیے بغیر حاصل کیا گیا ہے ۔ مالی سال21ء کے ابتدائی دس مہینوں میں جاری کھاتہ 0.8 ارب ڈالر فاضل رہا ہے جو 17برسوں میں پہلی بار دیکھنے میں آیا ہے ۔حالیہ مہینوں میں معاشی بحالی، اجناس کی بڑھتی ہوئی عالمی قیمتوں کے ساتھ ساتھ عارضی ملکی قلت پر قابو پانے کے لیے گندم اور چینی کی یکبارگی کھیپوں کے باعث درآمدات میں اضافہ ہوا ہے ۔ تاہم ترسیلات ِزر کی ریکارڈ سطح بڑی حد تک اس کی تلافی کر رہی ہے جو اپریل کے مہینے میں بڑھ کر ماہانہ (2.8ارب ڈالر) اور مجموعی (24.2ارب ڈالر) دونوں بنیادوں پر تاریخی سطح تک پہنچ گئیں۔ علاوہ ازیں، اس سال اب تک برآمدات میں تقریباً14فیصد (سال بسال) نمو ہو چکی ہے ، جس کا اہم سبب بلند قدر اضافی کی حامل ٹیکسٹائل اور مناسب قیمتیں ہیں۔ پاکستان نے مارچ میں کامیابی کے ساتھ آئی ایم ایف پروگرام کے مشترکہ دوسرے تا پانچویں جائزوں کو مکمل کیا اور بین الاقوامی سرمایہ منڈی سے دوبارہ رجوع کر کے یورو بانڈ کے ذریعے 2.5ارب ڈالر جمع کیے ، جس کے لیے زائد سبسکرپشن موصول ہوئیں اور جنہیں قیمت کی ابتدائی رہنمائی کی نسبت کم یافتوں پر جاری کیا گیا۔ ان مثبت پیش رفتوں نے پاکستانی روپے کو زری پالیسی کمیٹی کے گذشتہ اجلاس کے بعد بڑی حد تک تقریباً کووڈ19 سے پہلے کی سطح پر مستحکم رکھا اور اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر تقریباً16ارب ڈالر تک پہنچ گئے ، جو چار برسوں میں اس کی بلند ترین سطح ہے ۔ آگے چل کر توقع ہے کہ جاری کھاتے کا خسارہ محدود رہے گا جسے شرح مبادلہ کے لچکدار نظام سے تقویت ملے گی جبکہ بیرونی فنانسنگ کی ضروریات کو باسہولت انداز میں پورا کیا جانا چاہیے ، جس سے زرمبادلہ کے بفرز میں مزید مضبوطی آئے گی۔


متعلقہ خبریں


پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا، فیلڈ مارشل وجود - جمعه 20 مارچ 2026

پاکستان کیخلاف سرگرم دہشتگردوں اور ان کے نیٹ ورکس کا جہاں وجود ہوگا، انہیں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کے ذریعے ختم کیا جائے گا، خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے فعال سفارتکاری کر رہا ہے چیف آف ڈیفنس فورس سے اہلِ تشیع مکتبِ فکر کے علماء کی ملاقات ، گمراہ کن پروپیگنڈا اور فرقہ...

پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا، فیلڈ مارشل

پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا وجود - جمعه 20 مارچ 2026

رپورٹ میں پاکستانی میزائل پروگرام اور پالیسیاں امریکی سلامتی کیلئے ممکنہ خطرہ قرار،پاکستانی میزائل امریکا تک پہنچنے کے قابل ہو سکتے ہیں، پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے ایٹمی تصادم کا خطرہ پاکستان مسلسل جدید میزائل ٹیکنالوجی تیار کر رہا ہے جو اس کی فوج کو جنوبی ایشیا سے با...

پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا

عمران خان رہائی تحریک، پی ٹی آئی کارکنوں کو متحرک کرناپارٹی کیلئے مشکل ہوگیا وجود - جمعه 20 مارچ 2026

پی ٹی آئی پنجاب کی قیادت تذبذب کا شکار ،عالیہ حمزہ اور سینٹرل پنجاب کے صدر سزا کے باعث روپوش لاہور کے صدر کسی سے رابطہ ہی نہیں کرتیپنجاب میں تتر بتر تنظیم کو دوبارہ فعال بنانا چیلنج ہوگا، ذرائع عید کے بعد عمران خان کی رہائی کے لیے تحریک شروع کرنے کے معاملے پر پی ٹی آئی کے ا...

عمران خان رہائی تحریک، پی ٹی آئی کارکنوں کو متحرک کرناپارٹی کیلئے مشکل ہوگیا

ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو شہید کرنیکا دعویٰ وجود - بدھ 18 مارچ 2026

ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران اس نوعیت کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں، ایران کی طرف سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ،اس خبر کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی علی لاریجانی کی ہلاکت ایرانی حکومت کے خاتمے کے ہمارے منصوبے کا حصہ ہے، ہم ہارڈ لائنر کو نشانہ بنا ...

ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو شہید کرنیکا دعویٰ

عمران خان کی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ،سرکاری ڈاکٹر اور رپورٹس پر یقین نہیں، علیمہ خانم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

بس کردیں اور بانی کاعلاج کرائیں، جب ملاقات ہو گی تو انھیں بتائیں گے کتنے لوگوں نے ان سے اظہار یکجہتی کیا،اعتزاز احسن کے شکر گزار وہ آئے اور ہمارے ساتھ بیٹھے ،جدوجہد جاری رکھیں گے اگر عید کے بعد علاج نہ کروایا اور ملاقات نہیں ہونے دی تو حالات بدلیں گے، چیف کمشنر کی بات پر کیسے ی...

عمران خان کی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ،سرکاری ڈاکٹر اور رپورٹس پر یقین نہیں، علیمہ خانم

وزیراعظم بے اختیار،فارم47 کے حکمرانوں کو عوام کی پرواہ نہیں،حافظ نعیم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

امریکہ، اسرائیل طاغوت، شیعہ سنی تفریق پیدا کرنیوالے ان کے آلہ کار ہیں، امیر جماعت اسلامی جماعت اسلامی اسٹیبلشمنٹ نہیں عوامی تائید سے اقتدار چاہتی ہے، حلقہ خواتین کی تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ وزیراعظم بے اختیار، فارم سنتالیس سے آئے...

وزیراعظم بے اختیار،فارم47 کے حکمرانوں کو عوام کی پرواہ نہیں،حافظ نعیم

حالات کی بہتری تک، متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں،وزیراعظم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

ملک کی پیٹرولیم درآمدات کی سپلائی چین بہتر بنانے کیلئے وزیر پیٹرولیم مزید متحرک ہوں شہبازشریف کی زیرصدارت اجلاس،کفایت شعاری کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ حالات کی بہتری تک تمام متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں، ملک کی پیٹرولیم...

حالات کی بہتری تک، متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں،وزیراعظم

تہران پر بمباری، عراق ودبئی میں ڈرون حملہ،10امریکی فوجی ہلاک وجود - منگل 17 مارچ 2026

بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب وکٹوریہ بیس پر ڈرونز اور راکٹوں سے حملہ، آگ بھڑک اٹھی ،8 افراد زخمی ،عراقی مزاحمتی تنظیم کی امریکی سفارتخانے کو نشانہ بنانے کی کوشش،روسی ٹی وی کا دعویٰ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے17 ویں روز ایران پر حملوں کا سلسلہ جاری ، اسرائیل کے وسطی علاقوں...

تہران پر بمباری، عراق ودبئی میں ڈرون حملہ،10امریکی فوجی ہلاک

بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام، ادائیگی مرکز کی چھت گرنے سے 8 خواتین جاں بحق، 70سے زائد زخمی وجود - منگل 17 مارچ 2026

رقم کی وصولی کے سلسلہ میںخواتین دوکان کی چھت پرچڑھ گئیں جس سے کمزورچھت اچانک زمین بوس ہوگئی،ضلعی انتظامیہ متعدد کی حالت تشویشناک علاقہ بھرکی فضاسوگوار،وزیراعلیٰ پنجاب کانوٹس، رپورٹ طلب کرلی، لواحقین سے اظہارتعزیت بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام کی رقم وصولی کے دوران دوکان کی چھت گر...

بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام، ادائیگی مرکز کی چھت گرنے سے 8 خواتین جاں بحق، 70سے زائد زخمی

عالمی سطح پر جاری کشیدگی، کسی بھی قسم کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں(وزیر اعظم) وجود - منگل 17 مارچ 2026

بروقت فیصلوں کی بدولت اس وقت ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی مناسب مقدار موجود ہے،شہباز شریف ملکی معیشت کے استحکام اور عوام کو ریلیف دینے کیلئے اقدامات کے حوالے سے جائزہ اجلاس میں بات چیت وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان عالمی سطح پر جاری کشیدگی کے پیش نظر کسی بھی ق...

عالمی سطح پر جاری کشیدگی، کسی بھی قسم کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں(وزیر اعظم)

کراچی کے موٹر سائیکل سواروں نے ای چالان سسٹم کو بھی ہرا دیا وجود - منگل 17 مارچ 2026

سروے میں 100فیصد موٹرسائیکل سوار دھوکا دینے میں ملوث نکلے ،ڈی آئی جی ٹریفک آئی جی سندھ کے احکامات پر عید کے بعد بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا فیصلہ کرلیا شہر قائد کے موٹرسائیکل سواروں نے ای چالان سسٹم کو بھی ہرادیا ، ڈی آئی جی ٹریفک نے انکشاف کیا سروے میں 100 فیصد موٹرسائیکل س...

کراچی کے موٹر سائیکل سواروں نے ای چالان سسٹم کو بھی ہرا دیا

اصفہان پر امریکی اسرائیلی حملہ، ایران کے تابڑ توڑ جوابی کارروائیاں وجود - پیر 16 مارچ 2026

اصفہان میں15 افراد شہید، کئی زخمی ہو گئے،لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپیں جاری ،ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے موجودہ شرائط امریکا کیلئے قابل قبول نہیں ہیں، امریکی صدر ٹرمپ اسرائیل میںایرانی پاسداران انقلاب کے میزائل حملے سے بڑے پیمانے تباہی ، متعدد مقامات پر آگ...

اصفہان پر امریکی اسرائیلی حملہ، ایران کے تابڑ توڑ جوابی کارروائیاں

مضامین
ٹرمپ کیوں کر پاگل نہ ہو! وجود جمعه 20 مارچ 2026
ٹرمپ کیوں کر پاگل نہ ہو!

''را''کے خلاف امریکی پابندی وجود جمعه 20 مارچ 2026
''را''کے خلاف امریکی پابندی

امریکی دباؤ اور ایران امن گیس پائپ لائن کی کہانی وجود جمعه 20 مارچ 2026
امریکی دباؤ اور ایران امن گیس پائپ لائن کی کہانی

چاہ بہار پر بھارتی سرمایہ کاری وجود جمعرات 19 مارچ 2026
چاہ بہار پر بھارتی سرمایہ کاری

خلیجی لڑائی کے کچھ حیران کُن پہلو وجود جمعرات 19 مارچ 2026
خلیجی لڑائی کے کچھ حیران کُن پہلو

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر