وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

کس کے کہے پر اعتبار کریں ؟

هفته 08 مئی 2021 کس کے کہے پر اعتبار کریں ؟

عمران خان فرماتے ہیں کہ مشکل حالات سے گزر چکے اب معاشی پہیہ رواں دواں ہے مہنگائی کم ہونے کے ساتھ وہ روپے کی قیمت میں اضافے کی نوید سناتے ہیں ہائوسنگ انڈسٹری کے ساتھ دیگر کئی صنعتیں چلنے کا دعویٰ کرتے ہوئے یہ بھی فرماتے ہیں کہ حکومتی کامیابیاں صرف اُنھیں ہی نظر نہیں آتیں جنھوں نے اقتدار کے دوران لوٹ مار کی اور برطانیا کے ایسے پوش علاقوں میں جائیدادیں بنائیں جن علاقوں میں رہنے کا برطانوی وزیرِ اعظم بھی تصور نہیں کر سکتا وہ اپنے دورِ اقتدار کی کارکردگی کو بھی قابلِ فخر قرار دیتے ہیں لیکن وزیرِاعظم کی قابلِ فخر کارکردگی کے دعوئوں کی آزاد زرائع تصدیق نہیں کر تے بلکہ بہتری کیا ملک کی خرابمعاشی حالت کو مزید خراب کرنے کا زمہ دار موجودہ حکومت کو ٹھہراتے ہیں ۔
اپوزیشن کا تو کام ہی حکومت پر تنقید کرنا ہے مگر پاکستان میں تنقید سے بات آگے بڑھ چکی ہے حزبِ مخالف اورحزبِ اقتدار میں ورکنگ ریلیشن نہ ہونے کی وجہ سے عملاََ ڈیڈ لاک کی کیفیت ہے اسی بنا پر سیاسی استحکام ناپید ہے لیکن یہ اپنے نئے وزیرِ خزانہ شوکت ترین حکومت کی بجائے اپوزیشن کی زبان بولنے لگے ہیں انھوں نے قائمہ کمیٹی خزانہ کو بریفنگ دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معیشت کا پہیہ رُک چکا اور جی ڈی پی گروتھ ریٹ پانچ فیصد تک نہ لیکر گئے تو آنے والے چار سال میں ملک کا اللہ ہی حافظ ہے انھوں نے کرپشن میں اضافے کی وجہ بجلی کی قیمت بڑھانے کو قرار دیتے ہوئے اِس حوالے سے آئی ایم ایف کے مطالبات کو ناجائز کہا ہے وہ ٹیکس بڑھانے کی بجائے وصولی بہتر بنانے پر زور دیتے ہیں یہ اُس شوکت ترین کے خیالات ہیں جو موجودہ وزیرِ اعظم کے بہت پسندیدہ ہیں جنھیں وزارتِ خزانہ سپرد کرتے ہوئے ملک کو معاشی گرداب سے نکالنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے اب معاشی حالت بہتر ہوگی مہنگائی اور بے روزگاری میں کمی لانے کے حوالے سے شوکت ترین کی پالیسیاں ہوں گی یا نہیں ؟ فی الحال وثوق سے کچھ کہنا مشکل ہے کیونکہ قبل ازیں بھی وہ اسی منصب پر رہے لیکن معاشی حالت بہتر نہ کر سکے اب بھی کسی معجزے کا تو کوئی امکان نہیں ہاں البتہ وزیرِ اعظم کچھ جبکہ وزیرِ خزانہ کچھ اور فرماتے ہیں اب کس کے کہے پر اعتبار کریں کچھ سمجھ نہیں آتا کپتان کا اہم کھلاڑی اپنے ہی کپتان کی کیوں نفی کررہا ہے ؟سے اخلاص نہیںغیر سنجیدگی ہویدا ہے ۔
تین سالہ دورِ اقتدار میں کپتان چار وزرائے خزانہ کو بیٹنگ سونپ چکے ہیں اسدعمر،حفیظ شیخ اورحماد اظہر کی ناکامیاں عیاں حقیقت ہیں لیکن کیا اب شوکت ترین معیشت بحال کر سکیں گے یا کچھ عرصہ بعد گھر بھیج دیے جائیں گے حتمی طور پر کوئی بھی کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہیں خیر حتمی طور پر تو یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ وہ کتنی مدت تک کپتان کا اعتماد برقرار رکھ سکیں گے کیونکہ کسی کو آگے لاتے ہوئے جتنی وارفتگی دکھائی اور توقعات وابستہ کی جاتی ہیں اُسے کِک آئوٹ کرتے ہوئے خامی تک بتانا گوارہ نہیں کیا جاتا بلکہ شاہانہ مزاج کا مظاہرہ کیا جاتا ہے مگرموجودہ حکومت نے ایک نئی روایت قائم کی ہے کہ وہ اپوزیشن کی ذمہ داریاں بھی خود ہی سرانجام دینے لگی ہے حکومتی سربراہ کی تردید کا ذمہ بھی وزرا نے لے لیا ہے لیکن یہاں ایک سوال پوچھنا تو بنتا ہے کہ حکومتی سربراہ کے دعوئوں کی تردیدکافرض جب چہیتے ادا کرنے لگیں تو کون اعتبار کرے گا اپوزیشن کے الزامات کی کیا حیثیت رہ جائے گی؟ اب تو ایسے حالات بن گئے ہیں کہ اپوزیشن خاموش بھی رہے تو وزراہی اپنی حکومت کی ناکامیاں بتادیتے ہیں ۔
آئی ایم ایف کو پاکستان کی خراب معاشی حالت کی بنا پردیے قرض کی وصولی کے حوالے سے خدشات ہیں یہی کڑی شرائط کی وجہ ہے ایوب خاں دور میں ملک نے پہلی بار اِس اِدارے سے قرض لیا لیکن بروقت ادائیگی ہونے اور ترقی کی بہتر رفتار کی بنا پر مزید قرض ملتا رہامگر اب ترقی کی شرح منفی ہوچکی ہے قرضوں کی اقساط اور سود کی ادائیگی مشکل تر ہو رہی ہے علاوہ ازیں گردشی قرضے بھی تشویشناک سطح پر پہنچ چکے ہیں اسی لیے مالیاتی اِدارے قرض دینے میں ہچکچاہٹ محسوس کرنے لگے ہیں رواں برس جون تک ملک پر کُل قرض مجموعی معیشت کا 94 فیصد تک پہنچ جانے کا الگ خدشہ ہے اسد عمر کے بعد جب حفیظ شیخ کو وزارت دی گئی تو انھوں نے آئی ایم ایف کی شرائط بغیر کسی ردوقد کے تسلیم کر لیں بجلی و گیس کی قیمتوں میں مرحلہ وار اضافے کے ساتھ سبسڈیز کے خاتمے کی طرف تیزی سے کام کا آغاز کیا گیا لیکن سینٹ کا الیکشن حکومت کی نظروں میں رائندہ درگاہ کرنے کا موجب بن گیا مگر حیران کُن بات یہ ہے کہ وزیرِ اعظم کبھی اُن کی پالیسیوں کی بھی تحسین کرتے تھے لیکن جوں ہی الیکشن ہاراتوسب کی نظروں سے اچانک گر گئے اب شوکت ترین چہیتے ہیں مگر کس کی بات کااعتبار کریں کیونکہ حفیظ شیخ کی پالیسیوں سے ملکی معیشت کی بحالی کا دیکھا جانے والا سپنا اب شوکت ترین سے وابستہ کر لیا گیا ہے موجودہ دور میں ہر آنے والے کی تعریف ہوتی ہے اور جانے والے کو خرابیوں کا موجب قرار دیا جاتا ہے تو کیا ایسا نہیںہو سکتا کہ آنے اور جانے والوں میںکیڑے نکالنے کی بجائے ناخدا سے ہی کچھ پوچھ تاچھ کر لی جائے ممکن ہے خرابی کی نشاندہی ہو جائے کیونکہ گاڑی چلانے کے لیے انجن کی درستگی پہلی شرط ہے ۔
شوکت ترین کی تعیناتی بظاہر طویل مدتی نہیں بلکہ عارضی محسوس ہوتی ہے کیونکہ وہ فی الحال قومی اسمبلی یا سینیٹ کے رُکن نہیں اور اگر چھ ماہ کے دوران انھیں ایوانِ زریں یا ایوانِ بالا میں سے کسی ایوان کا رُکن منتخب کرایا جاتا تو عہدے سے محروم ہونے کا قوی امکان ہے گا اگر وہ بھی حفیظ شیخ کے انجام سے دوچار ہوتے ہیں تو اُن کی پالیسیوں کا کیا بنے گا ؟اور خرابی کا ذمہ دار کون ہو گا یہ سوال ذہنوں میں کلبلا رہے ہیں کیونکہ چاہے بجلی و گیس کے نرخ بڑھانے یا کم کرنے کی تجویز ایک طرف البتہ اب سبھی یہ ضرور کہنے لگے ہیں کہ معیشت کی بحالی اور استحکام کے لیے سخت فیصلے ناگزیر ہیں لیکن سخت فیصلوں کا ملک یا قوم کو کوئی فائدہ نہیں ہورہا بلکہ جتنی تیزی سے وزرائے خزانہ کو تبدیل کیا جارہا ہے اُس سے زیادہ تیزی سے ملک کی معاشی حالت خراب ہوتی جارہی ہے شارٹ ،میڈیم اور لانگ ٹرم پالیسیاں نہ ہونے کی وجہ معاشی حالت اتنی بگڑ چکی ہے کہ فوری بحالی کے آثار مفقود ہیں کیونکہ جو چہرہ رُخصت ہوتا ہے اُس کے ساتھ ہی پالیسیاں بھی بدل جاتی ہیں لیکن کِسے الزام دیں اور کِس کا اعتبار کریں ؟ کچھ سمجھ نہیں آتا وزیر اعظم کے دعوئوں کی تردید وزیرِ خزانہ کرتے ہیں اب آپ ہی بتائیں کس کی بات کا اعتبار کریں اور ایسے حالات میں اپوزیشن کو کچھ کہنے کی ضرورت ہے؟۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں