وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

بھارت میں کورونا کی تباہ کاریاں

منگل 04 مئی 2021 بھارت میں کورونا کی تباہ کاریاں

(مہمان کالم)

جیفری گیٹل مین

بھارت میں کورونا کی دوسری لہر ایک تباہ کن بحران میں بدل چکی ہے جہاں ہسپتال مریضوں سے بھر گئے ہیں، آکسیجن کی سپلائی تیزی سے کم ہو رہی ہے، مایوسی میں ڈوبے مریض ڈاکٹروں کا انتظار کرتے کرتے سڑکوں پر دم توڑ رہے ہیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد سرکاری طور پر جاری کیے جانے والے اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے۔ حکومت روزانہ تین لاکھ سے زائد کورونا سے متاثر ہونے والے نئے مریضوں کی رپورٹ دے رہی ہے جو ایک عالمی ریکارڈ ہے۔ اب دنیا میں سامنے آنے والے کل مریضوں کی نصف سے زائد تعداد صرف بھارت میں رپورٹ ہو رہی ہے مگر ماہرین کہتے ہیں کہ رپورٹ ہونے والے کیسز اصل تعداد کا عشر عشیر بھی نہیں ہیں جس نے پورے ملک کو ایمرجنسی پر ڈال دیا ہے۔ وائرس کا شکار ہونے کا خوف اس قدر ہے کہ لاکھوں لوگ گھروں سے باہر نکلنے سے بھی انکاری ہیں۔ ملک بھر کے اعداد و شمارسے پتا چلتا ہے کہ سانس لینے سے قاصر افراد کھلی فضا میں سڑکوں پر لیٹے ہیں کیونکہ ہسپتالوں میں آکسیجن کی شدید قلت ہے۔
حالیہ ہفتوں کے دوران کووڈ کے مریضوں میں اچانک اضافے اور ایک نئے مہلک وائرس نے بھار ت میں کووڈ سے مرنے والوں کی تعداد کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کر دیے ہیں۔ اب روزانہ تین ہزار سے زائد لوگ دم توڑ رہے ہیں اور مرنے والوں کی کْل تعداد دو لاکھ سے اوپر جا چکی ہے۔ شمشان گھاٹ‘ جہاں مسلسل ا?گ جل رہی ہے‘ پر جب وہاں موجو لوگوں کا انٹرویو کیا گیا تو پتا چلا کہ مرنے والوں کی تعداد سرکاری ڈیٹا سے کہیں زیادہ ہے۔ سیاستدان اور ہسپتالوں کا عملہ شاید پریشانی کم کرنے کے لیے مرنے والوں کی تعداد کم بتا رہا ہو۔ مرنے والوں کے لواحقین بھی شرمندگی سے بچنے کے لیے کووڈ سے ہونے والی اموات کی خبروں کو چھپا رہے ہیں۔ یونیورسٹی ا?ف مشی گن کے ماہر وبائی امراض بھرمار مکر جی‘ جن کا تعلق بھارت سے ہے‘ کا کہنا ہے ’’یہ تو اعداد وشمار کا قتل عام ہے۔ ساری صورتِ حال کا جائزہ لینے کے بعد ہم کہہ سکتے ہیں کہ مرنے والوں کی حقیقی تعداد رپورٹ ہونے والوں کی تعداد سے دو سے پانچ گنا زیادہ ہے‘‘۔
بھارت کی مغربی ریاست گجرات کے شہر احمد آباد کے شمشان گھاٹ میں جلنے والی آگ کی نارنجی روشنیاں را ت کے وقت آسمان سے باتیں کرتی نظر آتی ہیں۔ کبھی نہ بند ہونے والے صنعتی پلانٹ کی طرح مسلسل چوبیس گھنٹے آگ کا الائو روشن رہتا ہے۔ ایک کارکن سریش بھائی کہتے ہیں کہ میں نے مرنے والوں کی لاشوں کی نہ ختم ہونے والی ایسی قطاریں اپنی زندگی میں پہلے کبھی نہیں دیکھیں مگر وہ لواحقین کو ایک پتلے کاغذ پر موت کی وجہ کووڈ نہیں لکھ کر دے رہا تھا۔ سریش نے بتایا کہ وہ پرچی پر مرنے کی وجہ صرف بیماری بیماری اور بیماری لکھ کر دے رہا ہے۔ جب اس سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو اس نے جواب دیا کہ ا س کے ’’باسز‘‘ نے اسے ایسا لکھنے کے لیے کہا ہے جب باسز سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کوئی ردعمل دینے سے انکار کر دیا۔ہفتے کے دن حکام نے ساڑھے تین لاکھ افراد کے کووڈ سے متاثر ہونے کی رپورٹ دی تھی اور شرح اموات میں مسلسل اضافہ دکھایا گیا تھا۔ دہلی کے ایک ہسپتال کے ڈاکٹروں نے بتایا کہ آئی سی یو میں داخل بیس مریض آکسیجن کا پریشر کم ہونے کی وجہ سے دم توڑ گئے ہیں۔ چند مہینے پہلے لگ رہا تھا کہ حکومت نے کورونا وائرس پر بخوبی قابو پا لیا ہے؛ چنانچہ ابتدائی لاک ڈائون کے بعد حکومت نے اس میں قدرے نرمی کر دی تھی اور مرنے والوں کی حقیقی تعداد کووڈ کے شکار دوسرے ممالک کو بھی فراہم نہیں کیے۔ حکام اور عوام کی بڑی تعداد نے یہ سوچ کر احتیاطی تدابیر اختیار کرنا چھوڑ دی تھیں کہ کووڈ کی سنگین صورت حال اب ختم ہو چکی ہے۔اب بھارتی شہری اپنی جانیں بچانے کے لیے ہسپتالوں میں بیڈ، ادویات اور آکسیجن حاصل کرنے کے لیے سوشل میڈیا کا رخ کر رہے ہیں اور جانیں بچانے کی اپیلیں کر رہے ہیں۔ بھارت کے ایک معروف اخبار ہندوستان ٹائمز نے شہ سرخی لگائی ہے کہ ’’قومی ایمرجنسی‘‘ پورے بھارت کے شمشان گھاٹ دن رات لاشیں جلانے میں مصروف ہیں۔ اکثر جگہوں پر لاشوں کے جلانے کے لیے آگ آسمانوں سے باتیں کرتی نظر آتی ہے۔
دوسری طرف بھارت میں کووڈ ویکسین لگوانا بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ اگرچہ بھارت ویکسین بنانے والا دنیا کا ایک بڑا مینوفیکچرر ہے مگر ابھی تک دس فیصد سے بھی کم آبادی کو ویکسین لگائی جا سکی ہے۔ بھار ت کی اپنی شدید ضروریات کی وجہ سے دنیا بھر کے غریب ممالک بھی ویکسین سے محروم ہیں۔ ملک میں ویکسین کی سنگین قلت ہونے کے باوجود بھارت نے ویکسین کی کروڑوں ڈوز برآمد کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا مگر اب ایکسپورٹ بالکل بند ہے جس کی وجہ سے کئی ممالک کو ویکسین کی قلت کا مسئلہ درپیش ہے۔ بھارت میں کورونا کی بڑھتی ہوئی تباہ کاریوں کو دیکھتے ہوئے جو بائیڈن حکومت نے کہا ہے کہ امریکا نے ویکسین کی تیاری کے لیے درکار خام مال کی بھارت کو برآمد کرنے پر سے پابندی ہٹا دی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ادویات، وینٹی لیٹرز، ٹیسٹ کٹس اور حفاظتی لباس بھی بھار ت بھیجے جائیں گے۔ ہسپتالوں میں خدمات سر انجام دینے والے ڈاکٹروں کو اس بات پر سخت تشویش لاحق ہے کہ کووڈ سے مرنے والوں کی تعداد میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ایک نئے وائرس کا نمودار ہونا ہے جسے ڈبل میوٹینٹ B.1.617 کہا گیا ہے، کیونکہ اس میں وہی جینیاتی تبدیلی کی صلاحیت پائی جاتی ہے جو کورونا کے دو دیگر مہلک وائرسز میں پائی جاتی ہے جس کو کنٹرول کرنا ممکن نہیں ہے۔ ان میں سے ایک تبدیلی تو اس انتہائی متعدی ویرینٹ میں پائی جاتی ہے جو اس سال کے شروع میں امریکی ریاست کیلیفورنیا میں بڑی تیزی سے پھیلا تھا۔ کووڈ کا دوسرا ویرینٹ وہ ہے جو سب سے پہلے جنوبی افریقہ میں سامنے آیا تھا اور جس کے بارے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ وائرس کورونا ویکسین کی سخت مزاحمت کرتا ہے؛ تاہم سائنس دان سخت احتیاط کی تلقین کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس مرحلے پرکچھ بھی یقین سے کہنا ممکن نہیں کہ بھارت میں نمودار ہونے والا نیا وائرس کس حد تک مہلک اور خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
بھوپال وسطی بھارت کا ایک بڑا شہر ہے جسے 1980ء کے عشرے میں ایک مہلک گیس کے لیک ہونے کے سانحے کا سامنا کرنا پڑا تھا اور اس حادثے میں یہاں کے ہزاروں باسی موت کے منہ میں چلے گئے تھے۔ یہاں کے باسیوں کا کہنا ہے کہ اس سانحے کے بعد کبھی بھوپال کے شمشان گھاٹ اتنے مصروف نہیں ہوئے تھے جتنے آج کل کووڈ سے مرنے والوں کی لاشیں جلانے کی وجہ سے ہیں۔ اپریل کے وسط تک بھوپال میں تیرہ دنوں میں کووڈ کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد 41 تھی ،اپریل کے وسط تک بھارتی ریاست بھوپال میں تیرہ دنوں میں کووڈ کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد 41 تھی۔ نیویارک ٹائمز نے شہر کے ان شمشان گھاٹوں کا سروے کیا ہے جہاں سخت پروٹوکول میں لاشوں کو جلایا جا رہا تھا‘ جس سے یہ انکشاف ہوا کہ اس مدت میں ایک ہزار سے زائد لوگوں کی موت واقع ہوئی تھی۔ بھوپال میں مقیم ایک کارڈیالوجسٹ ڈاکٹرگوتم کہتے ہیں ’’بہت سی اموات کو ریکارڈ ہی نہیں کیا جا رہا اور ان میں ہر روز اضافہ ہو رہا ہے‘‘۔ انہوں نے بتایا کہ حکام ایسا اس لیے کر رہے ہیں تاکہ عوام کے اندر خوف اور گبھراہٹ نہ پیدا ہو۔ کچھ ایسے ہی مناظر لکھنو اور مرزا پور میں دیکھنے میں آئے جہاں حکومت کے مطابق اسی مدت یعنی وسط اپریل تک کووڈ سے بالترتیب 73 اور 121 افراد کی موت واقع ہونے کی اطلاعات ہیں۔ گجرات کے ایک معروف اخبار سندیش نے مرنے والوں کا ایک تفصیلی ریکارڈ مرتب کیا ہے۔ اخبار نے اپنے رپورٹرز کو پوری ریاست کے قبرستانوں اور شمشان گھاٹوں میں بھیجا تو انکشاف ہوا کہ مرنے والوںکی روزانہ تعداد 610 سے زیادہ ہوتی ہے جو حکومت کی طرف سے بتائی گئی تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔ بھارت کے سب سے بڑے اخبار دی ہندو نے ان غلط اعداد و شمار کی نشاندہی کرتے ہوئے خبر لگائی ’’گجرات میں کووڈ سے مرنے والوں کی تعداد حکومتی اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے‘‘۔ بھارت کی آبادی میں مغربی ممالک کے مقابلے میں نوجوانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ماہرین کے خیال میں شاید یہی وجہ ہے کہ بھارت میں فی ملین ا?بادی کے لحاظ سے شرح اموات کم رہی مگر اب اس تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ شرح اموات پر ہونے والی ایک سٹڈی کے مطابق امریکا اور برطانیا سمیت دنیا کے بہت سے ممالک میں کووڈ سے مرنے والوں کی تعداد کو گھٹا کر پیش کیا جا رہا ہے مگر بھارت ایک بہت بڑا اور غریب ملک ہے۔ اس کی آبادی 28 ریاستوں اور کئی وفاقی علاقوں میں پھیلی ہوئی ہے اور ہر ریاست کا اموات کی گنتی کا طریقہ کار مختلف ہے۔ ماہرین کے مطابق عام حالات میں بھی مرنے والوں میں سے صرف بیس فیصد کی موت کی میڈیکل تحقیقات کی جاتی ہیںاور ایک بڑی تعداد موت کی وجہ جانے اور ڈیتھ سرٹیفکیشن کے بغیر ہی مر رہی ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے مطابق ہر موت کا ریکارڈ رکھنا ضروری ہے خواہ کووڈ کے مریض میں پہلے سے کینسر کی تشخیص ہی کیوں نہ ہو چکی ہو مگر بھارت میں بہت سے مقامات اور شہروں میں یہ سب کچھ نہیں ہو رہا ہے۔ اپریل کے وسط میں روپ ٹھاکر میں کووڈ کا ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔ 16اپریل کو اسے شیلبی ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا جو اس کے آبائی شہر احمد آباد کا ایک نجی ہسپتال ہے مگر اس کا آکسیجن لیول یک دم گر گیا اور اگلے ہی دن اڑتالیس سالہ روپ ٹھاکر کا انتقال ہو گیا۔ ہسپتال نے اس کی موت کی وجہ اچانک حرکت قلب بند ہونا لکھی جس پر اس کے اہل خانہ مشتعل ہو گئے۔ اس کے چھوٹے بھائی ڈپن ٹھاکر نے کہا کہ ’’یہ تو جیون بھر کے لیے بڑا صدمہ ہے۔ ایک نجی ہسپتال کس طرح موت کی اصل وجہ چھپانے میں حکومت کا آلہ کار بن سکتا ہے۔ یہ ایک منظم جرم ہے۔ یہ ایک غیر قانونی اقدام ہے‘‘۔ جب شیلبی ہسپتال کے حکام سے اپنی رائے دینے کے لیے کہا گیا تو وہ خاموش رہے۔ جب روپ ٹھاکر کا کیس بھارتی میڈیا کے ذریعے پورے بھارت میں پھیل گیا تو ہسپتال نے ایک دوسرا ڈیتھ سر ٹیفکیٹ جاری کر دیا جس میں کووڈ کو بھی اس کی موت کی ’’ممکنہ وجوہات‘‘ میں شامل کیا گیا تھا۔
جب بہت سے حکومتی عہدیداروں کو یہ میسج بھیجے گئے کہ وہ اس سلسلے میں اپنی رائے کا اظہار کریں تو ان سب نے خاموش رہنے کو ترجیح دی مگر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ کووڈ سے مرنے والوں سے متعلق اعدادو شمارکے ساتھ دوسرے کئی مقامات پر بھی کھلواڑ کیا گیا ہے۔ اس کی ایک مثال وسطی بھارت کی ریاست چھتیس گڑھ ہے جہاں اپوزیشن جماعت کانگرس کی حکومت ہے۔ چھتیس گڑھ کے ڈرگ ڈسٹرکٹ‘ جہاں ایک سٹیل پلانٹ بھی نصب ہے‘ کے حکام نے بتایا ہے کہ ان کے ہاں 15 سے 21 اپریل کے درمیانی ہفتے کے دوران کووڈ کی وجہ سے 150 اموات واقع ہوئی ہیں جس کی اطلاع میسجز کے ذریعے لوکل میڈیا کو دی گئی اور نیویارک ٹائمز نے بھی یہ رپورٹس دیکھی ہیں۔ حکومت نے مرنے والوں کی جو رپورٹس بھیجی ہیں ان میں سے زیادہ تر کی موت کی وجہ منشیات کا استعمال بتایا گیا ہے۔ چھتیس گڑھ کے وزیر صحت ٹی ایس سنگھ دیونے اس با ت کی سختی سے تردید کی ہے کہ حکومت نے دانستہ کووڈ سے مرنے والوں کی تعداد گھٹا کر بتائی ہے۔ انہوں نے کہا ہے ’’ہم نے ہر ممکن حد تک شفافیت برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے، نیز ہم کسی بھی وقت اپنے اعداد وشمار کی درستی کرنے کے لیے تیار ہیں‘‘۔ ہندومت میں آخری رسومات کے طور پر میت کو شمشان گھاٹ میں جلایا جاتا ہے کیونکہ ان کے عقیدے کے مطابق‘ لاش کو جلانے کا مقصد روح کو جسم کی قید سے رہا کرنا ہوتا ہے۔ شمشان گھاٹوں میں کام کرنے والے کہتے ہیں کہ وہ لاشیں جلا جلا کر تھک چکے ہیں اور انہیں نہیں یاد کہ کبھی اتنے کم عرصے میں اتنی بڑی تعداد میں لوگ موت کے منہ میں گئے ہوں۔ احمد آباد کے شمشان گھاٹوں سے اتنا دھواں اٹھ رہا تھا کہ وہاں ڈیوٹی پر موجود کلرک سریش اپنے دفتر کے چھوٹے سے دروازے کو سختی سے بند کر کے اندر بیٹھا تھا۔ جب اس سے فون پر رابطہ کیا گیا تو اس نے بتایا کہ میں نے تمام ڈیتھ سرٹیفکیٹس پر موت کی وجہ ’’بیماری‘‘ لکھا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں