وجود

... loading ...

وجود

پاکستانی میڈیا پابندیوں کا نشانا، پاکستان پریس فریڈم رپورٹ

پیر 03 مئی 2021 پاکستانی میڈیا پابندیوں کا نشانا، پاکستان پریس فریڈم رپورٹ

جنوری 2020 سے اپریل 2021کے عرصہ میں پاکستانیوں کو ذرائع ابلاغ کے مواد پر بڑھتی ہوئی اظہار رائے کی پابندیوں کا نشانہ بنایا گیا اس طرح ملک میں آزادانہ اظہار رائے کے ماحول کو محدود کردیا گیا۔ پاکستان پریس فائونڈیشن(پی پی ایف)کی طرف سے جاری کردہ پاکستان پریس فریڈم رپورٹ 2020-2021 کے مطابق قتل، جسمانی حملوں،ماورائے قانون اغوا کے ساتھ ساتھ میڈیا کے اہلکاروں کو دھمکیوں اور گرفتاریوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے ، گزشتہ سال بھی میڈیا کے تیار کیے جانے مواد کو براہ راست کنٹرول کرنے کی کوششوں پر توجہ رکھی گئی تھی۔ میڈیا ریگولیٹری اداروں کی جانب سے جاری کردہ ہدایات، تمام پلیٹ فارمز پر پابندی اور ایسے قوانین تیار کرنے کی کوششوں نے جو قانونی اضطراب میں اضافہ کرتے ہیں، ایسا ماحول پیدا کیا ہے جہاں میڈیا کو سنسر کیا جاتا ہے ، اور صحافیوں کو سیلف سنسر شپ کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے ۔رپورٹ میں نوٹ کیا گیا ہے کہ کوویڈ 19 کے پھیلائو کے ساتھ اس نئے چیلنج کی شمولیت نے متعدد صحافیوں اور میڈیا پریکٹیشنرز کی جانیں لے لی ہیں۔ خود وائرس سے صحافیوں کی حفاظت کے علاوہ وبائی مرض نے پریس کی آزادی کے معاملے میں بھی نئے مسائل پیدا کردیئے ہیں۔ فرنٹ لائن پر صحافیوں کے کردار اور کورونا وائرس میں اضافے کے خطرے کے پیش نظر رپورٹ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ میڈیا پریکٹیشنرز کو فرنٹ لائن ورکر سمجھا جائے اور ان کو حفاظتی ویکسینیشن مہیا کرنے میں ترجیح دی جانی چاہئے ۔چونکہ دنیا میں تیزی سے ٹوئٹر جیسے آن لائن پلیٹ فارمز پر انحصار کیا جا رہا ہے ، اس لئے پاکستان میں، سوشل میڈیا کے یہ پلیٹ فارمز، میڈیاپر بالخصوص کوڈ 19 پر رپورٹنگ کرنے والی خواتین صحافیوں پر ٹرولنگ اور مربوط حملوں کا ذریعہ بن گئے ۔ براڈکاسٹ میڈیا کے حوالے سے پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی(پیمرا)نے ٹی وی چینلز کو وبائی مرض کی کوریج کرنے کی اجازت کے لئے ہدایات کے سیٹ بھی جاری کیے ہیں۔جنوری 2020 سے اپریل 2021 تک کے عرصے میں پاکستان پریس فانڈیشن (پی پی ایف)نے ریکارڈ کیا اپنے کام کی وجہ سے ایک صحافی کا قتل، گرفتاریوں اور نظربندی کے 10 واقعات، جبری اٹھائے جانے اور اغوا کے 4 واقعات، جسمانی حملوں کے 16واقعات، دھمکیوں کے 13واقعات، چھاپوں اور حملوں کے 4واقعات، انٹرنیٹ پر بڑی پابندی یا بلیک آٹ کے 5 واقعات، پیمرا کی 22 ہدایات جو آزادانہ اظہار رائے میں تخفیف کرتی ہیں، صحافیوں کے خلاف قانونی کارروائی کے 7واقعات اور قانون سازی کی 6 مثالوں نے پاکستان میں آزادانہ اظہار رائے کو منفی طور پر متاثر کیا ہے ۔اگرچہ صحافیوں کے خلاف جسمانی حملے کئی دہائیوں سے جاری ہیں، لیکن پاکستان میں اب تک میڈیا کے تحفظ کے لئے کوئی حفاظتی بل موجود نہیں ہے ۔ پی پی ایف بل کی منظوری کے لئے سرگرم طور پر لابنگ کررہی ہے اور وفاقی کابینہ سے اس پر عمل کرنے کی اپیل کرتی ہے ۔ لابنگ کی کوششوں میں، پی پی ایف نے اس معاملے پر سندھ کی صوبائی حکومت سے بھی لابنگ کی۔ صوبے کے لئے ایک علیحدہ ڈرافٹ بل تیار کیا گیا تھا اور حکومت سندھ نے اس بل کو صوبائی سطح پر منظور کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے ۔ پاکستان پریس فریڈم رپورٹ 2021میں صحافیوں اور میڈیا پریکٹیشنرز کے تحفظ کے لئے موثر قومی اور صوبائی قانون سازی کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے جس کا کسی تاخیر کے بغیر نفاذ کیا جانا چاہئے ۔ملک میں ریگولیٹری اداروں حد سے زیادہ اثر و رسوخ سے کام کیا ہے اور مواد کو روکنے کے لئے حکومتی آلہ کار بن گئے ہیں۔ اگرچہ پیمرا براڈکاسٹ میڈیا کے لئے میڈیا ریگولیٹری ادارہ ہے ، لیکن اس کی 2020-21 کے دوران جاری کردہ ہدایات مواد پر سنسر کی حیثیت کے مترادف ہیں۔ پیمرا نے کوریج کے ان موضوعات پر جو ملک میں تازہ ترین اہم پیشرفت ہیں مکمل پابندی عائد کردی ہے ۔ اس کا نتیجہ میڈیا کے ذریعہ سنسرشپ کا نفاذ ہے جو ان پیشرفتوں کا احاطہ کرنے اور اپنے سامعین کو آگاہ کرنے سے قاصر ہیں۔ ان مکمل پابندیوں کے ذریعہ معلومات کے آزادانہ بہا کو محدود کردیا گیا ہے ۔ 2021کے محض چند مہینوں میں ہی، پیمرا نے قومی احتساب بیورو کو کوریج سے متعلق ہدایات جاری کیں، ممنوعہ تحریک لبیک (ٹی ایل پی) پارٹی کی کوریج پر پابندی عائد کی، اور صحافیوں کو کابینہ کے اجلاسوں کے ذرائع پر رپورٹنگ کرنے سے روک دیا۔آن لائن مواد کی نگرانی کے لئے قانون سازی کرنا ایک اور تشویشناک بات ہے ۔ جنوری میں، پاکستان ٹیلی مواصلات ایکٹ، 1996اور پی ای سی اے کے تحت وفاقی کابینہ نے سوشل میڈیا کے قواعد اور شہری تحفظ(آن لائن ہارم کے خلاف)قواعد2020کی منظوری دے دی۔میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ یہ ڈریکونین قوانین حکومت کو مواد کی نگرانی پر ایک بہت بڑا کنٹرول دے سکتے ہیں ۔ ان قواعد نے زبردست مزاحمت کا سامنا کیا جس کی وجہ سے مارچ 2020 میں ان کو معطل کردیا گیا۔ نومبر 2020 میں، وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی نے غیر قانونی آن لائن مواد کو ختم کرنے اور مسدود کرنے (طریقہ کار، نظراندازی اور حفاظتی اقدامات)قواعد 2020 کو مشتہر کیا۔ ان قوانین کو عدالتوں میں چیلنج کیا گیا ہے ۔2020کے دوران، پاکستان ٹیلی مواصلات اتھارٹی (پی ٹی اے ) کے اقدامات کا صحافیوں کو براہ راست نقصان ہوا جس نے سوشل میڈیا پر مواد پر پابندی لگانے اور مواد کو آن لائن شیئر کرنے کو جرم قرار دیا۔ میڈیا کے کارکنوں کے خلاف سوشل میڈیا پر شیئر لردہ مواد کے لئے مجرمانہ شکایات درج کی گئیں۔رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ حکومت اس بات کو یقینی بنائے کہ اسٹیک ہولڈرز انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا سے متعلق قانون سازی، قواعد و ضوابط کے مسودے کے عمل میں فعال طور پر شامل ہوں۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان پریس فریڈم رپورٹ 2020-20121 میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ تقریبا مطلق استثنی کی موجودہ صورتحال کے خاتمے کے لئے ضروری ہے کہ، وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس بات کو یقینی بنا ئیں کہ صحافیوں اور میڈیا پریکٹیشنرز کی یک طرفہ نظربندی اور تشدد، جبری گمشدگی، اغوا، اور قتل سے متعلق تمام معاملات میں قابل اعتماد تفتیش اور بھرپور فوجداری قانونی کارروائی کی جا ئے ۔ان پلیٹ فارمز پر مواد کو کنٹرول کرنے کے لئے قوانین اور قواعد بنانے کی بڑھتی کوششوں کے ساتھ آن لائن شیئر کردہ مواد کی براہ راست پولیسنگ کے نتیجے میں آن لائن دائرے میں آزادانہ اظہار رائے کے لئے جگہ تنگ ہوتی جارہی ہے جو روایتی میڈیا کے مقابلے میں زیادہ کھلی اور قابل رسائی تھی۔ آن لائن مواد کی پولیسنگ میں اضافہ ہوا ہے ، براڈکاسٹ میڈیا کے لئے مزید پابندی والی ہدایت جاری کی گئی ہے جبکہ پرتشدد حملوں کا سامنا کرنے والے صحافیوں کے تحفظ کا فقدان ہے ۔ یہ سال پاکستان میں آزادی ! صحافت کے لئے ایک تاریک تصویر پیش کرتا ہے۔


متعلقہ خبریں


غزہ امن بورڈ،حماس کو غیر مسلح کرنے میں شامل نہیں ہوں گے،پاکستان وجود - جمعه 20 فروری 2026

شہباز شریف نیویارک میں موجود ہیں اور غزہ بورڈ آف پیس اجلاس میں شرکت کریں گے، غزہ میں امن کیلئے کردار ادا کیا جائے گا، امیدیں وابستہ ہیں غزہ کی صورتحال بہتر ہوگی، ترجمان دفتر خارجہ پاکستان کسی گروپ یا تنظیم کیخلاف کسی فیصلے کا حصہ نہیں ہے،پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک کی اسرائیل کے ...

غزہ امن بورڈ،حماس کو غیر مسلح کرنے میں شامل نہیں ہوں گے،پاکستان

بھارت بند ہڑتال وجود - جمعه 20 فروری 2026

ریاض احمدچودھری سمیوکت کسان مورچہ (SKM) اور ملک کی بڑی مرکزی ٹریڈ یونینوں نے بھارت بند کی کال دی ہے۔ یونینوں نے اس ہڑتال کی کال مرکزی حکومت کی مختلف اقتصادی پالیسیوں کے خلاف دی ہے جس میں بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے اور نئے لیبر قوانین شامل ہیں۔سنیوکت کسان مورچہ او...

بھارت بند ہڑتال

عمران خان کی رہائی کیلئے فورس بنانے کا اعلان وجود - جمعرات 19 فروری 2026

اب منظم عوامی جدوجہد ناگزیر ہو چکی ہے، عمران خان رہائی فورس مکمل طور پر پرامن جدوجہد کرے گی جس میں باقاعدہ چین آف کمانڈ ہو گی، یہ نہیں ہو گا کہ ذمہ داری کسی کو دیں اور اعلان کوئی کرتا پھرے مجھے بانی پی ٹی آئی کی طرف سے اسٹریٹ موومنٹ کی ذمہ داری دی گئی ہے، عدالتی احکامات ردی کی...

عمران خان کی رہائی کیلئے فورس بنانے کا اعلان

یہ مت بھولیں، عدم اعتماد کامیاب کرانا جانتا ہوں، صدر زرداری وجود - جمعرات 19 فروری 2026

یہ بات سب یاد رکھیں، عدم اعتماد صرف میں لاسکتا ہوں، میںنے جیل میں کبھی ہڑتال کی کال نہ دی تھی، مجھے بہت سوں نے بہت کچھ کہا، مگر صبرو تحمل سے کام لیا،پیپلزپارٹی کا مفاد پاکستان ہے پنجاب میں بدقسمتی سے گروپنگ اور کوتاہیاں ہماری کمزوری کا نتیجہ ہیں، وزارتیں اس لئے نہیں لیں پارٹی کو...

یہ مت بھولیں، عدم اعتماد کامیاب کرانا جانتا ہوں، صدر زرداری

عمران خان کے بیٹوں کا والد کی صحت پر تشویش کا اظہار وجود - جمعرات 19 فروری 2026

قاسم اور سلیمان نے دو سال سے زائد عرصے کے بعد ویزے کیلئے درخواست دے دی انہیں ملاقات کی اجازت دی جائے، دونوں بھائیوں کا مطالبہ،مگر ابھی تک جواب نہیں ملا سابق وزیرِاعظم عمران خان کے بیٹوں قاسم اور سلیمان نے پاکستانی جیل میں قید اپنے والد کی بگڑتی ہوئی صحت پر تشویش کا اظہار کرتے...

عمران خان کے بیٹوں کا والد کی صحت پر تشویش کا اظہار

بھارت نے پانی کو ہتھیار بنانے کی دھمکی دی، وزیر اعظم وجود - بدھ 18 فروری 2026

مودی سرکار کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی جاری ،دنیا کو موسمیاتی دباؤ جیسے بڑے چیلنجز درپیش ہیں،پائیدار ترقی ہی واحد راستہ ہے جو عالمی امن کی ضمانت دے سکتا ہے،شہباز شریف پائیدار ترقی ہی واحد راستہ ہے جو عالمی امن کی ضمانت دے سکتا ہے،نوجوان آبادی پاکستان کا سب سے بڑا ا...

بھارت نے پانی کو ہتھیار بنانے کی دھمکی دی، وزیر اعظم

عمران خان نے کہا تھا یہ لوگ مجھے ماردیں گے، عظمیٰ خانم کی بہن علیمہ خانم کے ہمراہ پریس کانفرنس وجود - بدھ 18 فروری 2026

اس کا ذمہ دار عاصم منیر ہو گا،ہمیں صبح کال آئی آپ کہیں تو قاسم زمان کو ملاقات کیلئے بھیج دیں ، ہم نے کہا ڈاکٹر کو بھیجنا چاہتے ہیں، کسی سرکاری بندے پر یقین نہیں کرینگے، ڈاکٹر برکی کو بھیجنے سے منع کردیا بانی پی ٹی آئی کا پیغام ملا میری بہنوں کو کہو میرے لیے آواز اٹھائیں، میر...

عمران خان نے کہا تھا یہ لوگ مجھے ماردیں گے، عظمیٰ خانم کی بہن علیمہ خانم کے ہمراہ پریس کانفرنس

کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا،4دہشت گرد ہلاک وجود - بدھ 18 فروری 2026

(رپورٹ: افتخار چوہدری)کراچی کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں سی ٹی ڈی اور دہشتگردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہواجس کے نتیجے میں 4 دہشت گرد اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے،کلاشنکوف اور ہینڈ گرینڈ برآمد کرلیا گیا، ہلاک دہشتگردوں میں جلیل عرف فرید، نیاز عرف کنگ اور حمدان شامل...

کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا،4دہشت گرد ہلاک

علیمہ خانم عمران کی بیماری کو کیش کرانا چاہتی ہیں،محسن نقوی وجود - بدھ 18 فروری 2026

سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی آنکھ ضائع ہونے کا پراپیگنڈا کیا گیا،وفاقی وزیر داخلہ بانی کی آنکھ میں انجکشن لگنا تھا سب کا مشورہ تھا کہ ہسپتال لے جائیں، نیوز کانفرنس وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی آنکھ ضائع ہونے کا بھی پراپیگنڈا ...

علیمہ خانم عمران کی بیماری کو کیش کرانا چاہتی ہیں،محسن نقوی

8 اسلامی ممالک کی اسرائیل کے مغربی کنارے پر قبضے کی مذمت وجود - بدھ 18 فروری 2026

فلسطینی زمینوں پر قبضہ مضبوط کرنا اور اسرائیلی خودمختاری مسلط کرنا ہے، دفترخارجہ عالمی برادری ان خلاف ورزیوں کو روکنے کیلئے فوری اقدامات کرے،مشترکہ بیان پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ نے مقبوضہ مغربی کنارے کی زمینوں ک...

8 اسلامی ممالک کی اسرائیل کے مغربی کنارے پر قبضے کی مذمت

مطالبات پورے ہونے تک دھرنا جاری رہے گا ،اپوزیشن اتحاد کا فیصلہ وجود - منگل 17 فروری 2026

ہمارا مطالبہ ہے بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالج کو ان سے ملنے دیا جائے،پارٹی رہنماؤں اور فیملی کی سے ملاقات کروائی جائے،اراکین کی پارلیمنٹ کے مرکزی دروازے پر نعرے بازی جنید اکبر اور شہریار آفریدی سمیت دیگر اراکین کا سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا مہم اور بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی جان...

مطالبات پورے ہونے تک دھرنا جاری رہے گا ،اپوزیشن اتحاد کا فیصلہ

سانحہ گل پلازہ ،مدد کوکوئی نہیں آیا، آگ بجھانے کے آلات نہیں تھے، تحقیقاتی کمیشن میں متاثرین کے بیانات قلمبند وجود - منگل 17 فروری 2026

، لوگ روپڑے 23 متاثرین نے بیانات قلمبندکروادیے، امدادی اداروں کی کارکردگی کا پول کھول دیا، سراسرغفلت کا مظاہرہ کیا گیا، فائر بریگیڈ کے پاس پانی ختم ہوچکا تھا، بلڈنگ کے اندر کوئی داخل نہیں ہوا، عینی شاہدین آپ سب شہدا کے لواحقین ہیں چاہتے تھے آپ سے شروعات کی جائے، ہمیں شہادتوں ...

سانحہ گل پلازہ ،مدد کوکوئی نہیں آیا، آگ بجھانے کے آلات نہیں تھے، تحقیقاتی کمیشن میں متاثرین کے بیانات قلمبند

مضامین
زرداری اور شبنم وجود هفته 21 فروری 2026
زرداری اور شبنم

سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس وجود هفته 21 فروری 2026
سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس

عمران خان کی اسیری اور جناب زرداری وجود جمعه 20 فروری 2026
عمران خان کی اسیری اور جناب زرداری

کوشش کرکے تو دیکھیں! وجود جمعه 20 فروری 2026
کوشش کرکے تو دیکھیں!

بھارت بند ہڑتال وجود جمعه 20 فروری 2026
بھارت بند ہڑتال

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر