وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

سینیٹ الیکشن میں پیسہ، الیکشن کمیشن ایجنسیوں سے خفیہ بریفنگ لے ، وزیراعظم

اتوار 07 مارچ 2021 سینیٹ الیکشن میں پیسہ، الیکشن کمیشن ایجنسیوں سے خفیہ بریفنگ لے ، وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کو چاہیے کہ وہ پاکستان کی ایجنسیوں سے خفیہ بریفنگ لیں تاکہ انہیں اندازہ ہ کہ اس (سینیٹ) الیکشن میں کتنا پیسہ چلا ہے ،مجھے شرمندگی ہوتی ہے کدھر پاکستان کا خواب اور کدھر یہ بکرا منڈی بنی ہوئی لوگوں کو خریدنے کے لیے ، ہمیں ایک مہینے سے پتا تھا ،الیکشن کمیشن نے اگر یہ الیکشن آپ نے اچھا کرایا ہے تو پتا نہیں برا الیکشن کیا ہوتا ہے ؟انتخابی حاصلاحات کا فیصلہ کر لیا ہے ،الیکٹرانک مشین لائیں گے ،نواز شریف ایک ڈاکو 30 سال لوٹ کر ملک سے باہر بھاگا ہوا ہے ، پاکستان اس لیے نہیں بنا تھا کہ یہاں شریف اور زرداری ارب پتی بن جائیں، اکیلا کرپشن کرپشن کرکے کرپشن ٹھیک نہیں کرسکتا، اگر ہمیں اپنے ملک کو بچانا ہے تو ہمیں پہلے اپنے اخلاقی اسٹینڈرز کو ٹھیک کرنا پڑے گا،ملک لوٹنے والوں کے خلاف لڑائی جاری رکھونگا ،اپنی قوم کی مد د کی ضرورت ہے ،میری حکومت ایک ہی چیز پر لگی ہوئی ہے کہ کس طرح مہنگائی کا بوجھ کم کریں، ایک پروگرام ‘بھوکا نہ سوئیں’ لارہے ہیں۔ ہفتہ کو قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کر نے کے بعد اپنے خطاب میں وزیراعظم نے سب سے پہلے اپنے اتحادیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہر مشکل وقت میں میرے ساتھ کھڑے ہونے پر آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ انہوں نے اپنے قانون سازوں کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ گزشتہ روز آپ کے جو حالات دیکھے تو مجھے یہ احساس ہوا کہ حفیظ شیخ کے سینیٹ پر ہارنے پر آپ سب کو دل سے تکلیف ہوئی۔انہوں نے کہا کہ مجھے آپ میں ایک ٹیم نظر آئی اور ہماری یہ ٹیم مضبوط ہوتی جائے گی کیونکہ اللہ قرآن میں کہتا ہے کہ میں تمہارے ایمان کو بار بار آزماؤں گا۔وزیراعظم نے کہا کہ جب آپ مشکل وقت سے نکلتے ہیں تو اور مضبوط ہوجاتے ہیں، بڑے انسان بننے کے لیے مشکل وقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ کوئی جماعت بھی جب مضبوط ہوتی ہے جب وہ مشکل وقت سے گزرتی ہے اور آج میں اپنی جماعت کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ آپ اس مشکل وقت سے نکلے ہیں۔انہوںنے کہاکہ ہمیں کبھی یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ پاکستان کیوں بنا تھا کیونکہ جب قوم اپنے نظریہ سے پیچھے ہٹتی ہے تو وہ مرجاتی ہے ۔عمران خان نے کہا کہ ہماری قیادت کو پتا ہونا چاہیے کہ پاکستان ایک بہت بڑا عظیم خواب تھا، پاکستان کا خواب دیکھنے کی وجہ یہ تھی کہ ہم نے دنیا کو مثال دینی تھی کہ اصل میں ایک اسلامی ریاست کیا ہوتی ہے اور اس کی بنیاد مدینہ کی ریاست پر تھی جو دنیا کی تاریخ کی پہلی فلاحی ریاست بنی تھی۔انہوں نے کہا کہ بڑے لوگ جو پاکستان نہیں چاہتے تھے وہ کہتے تھے کہ پاکستان تو بن گیا اور مسلمان جو ہندوستان میں رہ گئے انہیں سیکنڈ کلاس شہری بنا کر چھوڑ دیا ہے اور وہاں ان کے ساتھ آج کیا ہورہا ہے ، لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان نہ بنتا تو آج مسلمانوں کی زیادہ طاقت ہوتی اور آج ان کی وہ حالت نہیں ہوتی جو بھارت میں ہے ، لہٰذا اگر ہم پاکستان کو اس مقصد کی طرف نہیں لے کر جائیں گے جس کیلئے یہ بنا تھا تو وہ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ پاکستان اس لیے تو نہیں بنا تھا کہ شریف اور زرداری اربوں پتی بن جائیں، ہمیں واپس اپنے نظریے کی طرف رخ کرنا چاہیے کہ یہ ایک بڑا خواب کا نام تھا۔انہوں نے کہا کہ ہم غلط فہمی میں ہیں کہ تلوار سے اسلام پھیلا تھا حالانکہ اسلام انسانی کردار میں اصلاحات کیلئے آیا تھا، ہم نماز میں ایک ہی چیز مانگتے ہیں کہ ہمیں ان کے راستے پر لگا جن کو نعمتیں بخشیں نہ کہ ان کے جو تباہی کے راستے پر چلے گئے ہیں۔سینیٹ انتخابات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجھے شرمندگی ہوتی ہے کہ کدھر پاکستان کا خواب اور کدھر یہ بکرا منڈی بنی ہوئی لوگوں کو خریدنے کے لیے ، ہمیں ایک مہینے سے پتا تھا کہ اس انتخابات کے لیے پیسا جمع کیا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ مجھے حیرت ہوئی کہ الیکشن کمیشن کہتا ہے کہ ہم آزاد ادارے ہیں اور ہم نے بہت اچھا الیکشن کرایا ہے ، مجھے اس سے تو اور صدمہ ہوا کہ اگر یہ الیکشن آپ نے اچھا کرایا ہے تو پتا نہیں برا الیکشن کیا ہوتا ہے ۔عمران خان نے کہا کہ مجھے افسوس ہوتا ہے کہ ہم ایک چیز سمجھتے نہیں ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے معاشی حالات بہت برے ہیں، قرضے چڑھے ہوئے ہیں جبکہ یہ جو قرضے چڑھے ہوئے ہیں یہ ایک بیماری کی علامات ہیں، بیماری کچھ اور ہے ، ہماری قوم کو اخلاقی طور پر تباہ کیا گیا ہے کیونکہ اس کے بعد معاشی تباہی آتی ہے ، آج کسی ایک ملک کا بتا دیں جس کی اخلاقیات بلند ہوں اور وہ غریب ہوں۔انہوں نے کہا کہ ساتھ ہی مجھے کوئی ایسا ملک بھی بتا دیں جہاں جتنا مرضی پیسا اور وسائل ہوں اور وہاں کی قیادت کرپٹ ہو لیکن وہاں خوشحالی ہو کیونکہ یہ ساتھ ساتھ چلتا ہے ۔مدینہ کی ریاست کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا کے عظیم لیڈر نے وہاں کے لوگوں کی اخلاقیات بلند کردی تھیں، اللہ جب ہمیں نبی کے راستے پر چلنے کا کہتا ہے تو وہ ہماری بہتری کے لیے کہتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ آپ مغربی ممالک کے اخلاقی کردار دیکھیں، اس کے مقابلے میں ہمارے ملک میں جو ہورہا ہے اور یہ جو سینیٹ کے الیکشن میں ہوا ہے ، اس پر شرم آئے گی، آپ کو افسوس ہوگا کہ ہم کس کی امت ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کا مطلب کیا لاالا اللہ اس پر ہمارا ملک بنا تھا۔دوران خطاب انہوں نے کہا کہ دنیا میں ثابت ایک کرپٹ آدمی آصف زرداری، جس پر دنیا میں لکھا ہوا ہے کہ مسٹر ٹین پرسنٹ، اس پر مضمون لکھے ہوئے ہیں لیکن اس کو اس ملک میں لوگ کہیں کہ ایک زرداری سب پر بھاری کیونکہ وہ رشوت دیتا ہے تو سب پر بھاری ہوگیا، کیا یہ ہمارا ملک ہے ۔انہوںنے کہاکہ یہاں بیٹھے لوگ کہتے ہیں کہ نواز شریف ہمارا لیڈر ہے جبکہ نواز شریف ایک ڈاکو، ملک کو 30 سال لوٹ کر ملک سے باہر بھاگا ہوا ہے ، وہ جھوٹ بول کر باہر بھاگا ہوا ہے ‘۔انہوں نے کہا کہ ہم نے کابینہ میں بتایا کہ اسے یہ بھی بیماری ہے ، وہ جہاز میں بھی نہ چڑ سکے ، وہ شاید مر جائے گا، شیریں مزاری کے آنسو آگئے حالانکہ ان کے آنسو آنا آسان بات نہیں ہے لیکن جیسے ہی وہ جہاز پر چڑھا ایک دم سے تبدیل ہوگیا اور آج وہاں جاکر تقریریں کر رہا، اسکیمیں، لوگوں کو پیسا دینے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جب سے ہماری حکومت آئی ہے یہ سارے ڈاکو اکٹھا ہوکر یہ سمجھ رہے ہیں کہ عمران خان کو کرسی کا اتنا شوق ہے کہ اس پر اتنا دباؤ ڈالو کہ جس طرح پرویز مشرف نے ہمیں این آر او دیا تھا یہ بھی دے دے گا۔انہوں نے مولانا فضل الرحمن کو دو نمبر کہتے ہوئے کہا کہ پرویز مشرف نے ان دونوں کے دباؤ میں آکر انہیں این آر او دیکر بڑا جرم کیا ہے ، ان دونوں نے این آر او لے کر دونوں ہاتھوں سے ملک کو لوٹا، دونوں نے اس ملک پر 4 گنا زیادہ قرضہ چڑھایا، 6 ہزار روپے سے قرضہ 30 ہزار روپے تک پہنچا دیا، جس کی وجہ سے آج ہمیں قرضوں کی قسطیں ادا کرنے کے لیے لوگوں پر بوجھ ڈالنا پڑتا ہے ۔عمران خان نے کہا کہ میں ڈھائی سال سے دیکھ رہا ہوں کہ کیونکہ انہیں پہلے دن سے ڈر تھا کہ یہ ہمارے کرپشن کے کیسز معاف نہیں کرے گا، یہ سارے کیسز ان کے دور کے ہیں، ان کا آپس میں مک مکا تھا، اس وقت کی عدلیہ ان کے ہاتھ میں تھی، نیب کا چیئرمین ان کا لگایا ہوا تھا، انہیں تو کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ آصف زرداری کا 60 ملین ڈالر سوئٹزر لینڈ میں پڑا ہوا تھا اور جج نے جب اس کی واپسی کا کہا تو یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ میں خط نہیں لکھتاکہ وہ آپ کے باپ کا پیسا نہیں تھا بلکہ پاکستانی قوم کا پیسا تھا، اس بات پر وہ نااہل ہوجاتا ہے تاہم وہ اب ایسے پھر رہا ہے جیسے نیلسن مینڈیلا نااہل ہوگیا ہے ۔وزیراعظم نے کہا کہ ان کے پاس اتنا پیسا ہے کہ انہیں خود نہیں پتا کہ ان کا کتنا پیسا باہر پڑا ہے ، یہ 30 سال سے پیسا چوری کر رہے ہیں اور اب ان کی کوشش ہے کہ عمران خان پر دباؤ ڈالو۔انہوںنے کہاکہ ان کا صرف ایک نکاتی ایجنڈا ہے ، میں انہیں جانتا ہوں، ان کا صرف ایک خوف ہے عمران خان این آر او نہیں دے گا لہٰذا اسے اتنا بلیک میل کرو۔سینیٹ انتخابات سے متعلق انہوں نے کہا کہ ان دونوں جماعتوں نے میثاق جمہوریت میں کہا ہوا تھا کہ خفیہ بیلٹ ختم ہونی چاہیے لیکن جب ہم نے اوپن بیلٹ کا کہا تو یہ وہاں سے فوراً خفیہ بیلٹ پر آگئے ، میں نے تب کہہ دیا تھا کہ ان کا خفیہ بیلٹ کا ایک مقصد تھا کہ حفیظ شیخ کو ہرائیں۔یوسف رضا گیلانی کو پاکستان کا کرپٹ ترین آدمی کہتے ہوئے انہون نے کہا کہ یوسف رضا کے وزیراعظم بننے سے پہلے اور بعد کے اثاثے دیکھ لیں آپ کو پتا چل جائے گا کہ انہوں نے اپنے زمانے میں کیا کیا، ہمیں سب پتا تھا کہ کیا ہورہا ہے ۔الیکشن کمیشن کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ مہربانی کریں اور پاکستان کی ایجنسیوں سے خفیہ بریفنگ لیں، آپ کو اندازہ ہوگا کہ اس الیکشن میں کتنا پیسا چلا ہے ، تاکہ آپ اس طرح کا بیان نہ دیں کہ ہماری آزادی ختم کر رہے ہیں، میں کیا آپ کی آزادی ختم کر رہا ہوں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے انتخابی اصلاحات کا فیصلہ کیا ہے ، ہم الیکٹرانک مشین لائیں گے کیونکہ اس کے بغیر اب ہمیں الیکشن نہیں کرنا چاہیے ، مزید یہ کہ ہم بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ووٹ کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں ایک جدوجہد کرکے یہاں پوچھا ہوں اور یہ ڈھائی سال میری زندگی کی سب سے مشکل جدوجہد تھی اور یہ اس لیے مشکل تھی کیونکہ یہ دس سال ‘تاریکی دہائی’ تھی۔عمران خان نے اپوزیشن سے سوال کیا کہ کیا آپ واقعی سمجھتے ہیں کہ آپ کی قیادت ایماندار ہے ، کیا یہ واقعی سمجھتے ہیں کہ ان کی دولت ایمانداری سے بنی ہے ، ملک کے 3 مرتبہ کا وزیراعظم کے دورے باہر بیٹھے ہوئے ہیں، جہاں ان کے بیٹے رہ رہے وہ اربوں روپے کی جگہ ہے ، یہ ملک سے بھاگ گئے کیونکہ یہ بتا ہی نہیں سکتے کہ ان کا پیسا کہاں سے آیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کوئی ملک تب تک آگے نہیں بڑھ سکتا اس طرح، میں اکیلا کرپشن کرپشن کرکے کرپشن ٹھیک نہیں کرسکتا، معاشرے کی اخلاقیات ایسی ہونی چاہیے کہ کرپشن کرنے والے کی شکل نہ دکھا سکیں۔انہوں نے کہا کہ اگر ہمیں اپنے ملک کو بچانا ہے تو ہمیں پہلے اپنے اخلاقی اسٹینڈرز کو ٹھیک کرنا پڑے گا، اگر ہم نے اپنے آنے والی نسلوں کو بچانا ہے اور اس ملک کو ٹھیک کرنا ہے تو سب سے پہلے عدل و انصاف لانا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ مجھے اس کے لیے پوری قوم کی مدد کی ضرورت ہے ، میں ساری زندگی کوشش کرتا رہا ہوں اور آگے بھی کرتا رہوں گا، میری ساری پارٹی چاہے مجھے چھوڑ دے میں ان کے خلاف لڑتا رہوں گا، وقت آگیا ہے کہ ہم نے آنے والی نسلوں کو بچانا ہے ۔مہنگائی سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں اپنی قوم کو کہنا چاہتا ہوں کہ اس وقت میری حکومت ایک ہی چیز پر لگی ہوئی ہے کہ کس طرح مہنگائی کا بوجھ کم کریں اور آنے والے دنوں میں ہم چیزیں لے کر آئیں گے ، اس کے علاوہ ہم ایک پروگرام ‘بھوکا نہ سوئیں’ لارہے ہیں، مزید یہ کہ ہم کسانوں پر بھی زور دے رہے ہیں۔قرضوں سے چھٹکارے سے متعلق انہوں نے کہا کہ اس کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ہم دولت میں اضافہ کریں، اس سلسلے میں مختلف منصوبے لارہے ہیں اور پاکستان میں پہلی مرتبہ ماڈرن شہر بنا رہے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ پاکستان کی جیو اسٹریٹجک لوکیشن شاید ہی کسی اور ملک کی ہو، اللہ نے 12 موسم دیے ہوئے ہیں، یہاں کی زمین زرخیز ہے ،اس کے علاوہ ملک میں نوجوان آبادی ہے ۔


متعلقہ خبریں


بھارت پاکستان کے خلاف طاقت کا استعمال کرسکتا ہے، امریکی انٹیلی جنس وجود - هفته 17 اپریل 2021

ایک امریکی انٹیلجنس رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارت، پاکستان کی جانب سے سمجھے جانے والی یا حقیقی اشتعال انگیزی پر فوجی طاقت سے جواب دے سکتا ہے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق خطرے کے جائزے کی سالانہ رپورٹ 2021 یو ایس ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلیجنس نے تیار کر کے کانگریس کو ارسال کی ۔رپورٹ میں چین کی عالمی طاقت کے لیے کوشش کو امریکی مفادات کے لیے سب سے پہلا خطرہ قرار دیا گیا جس کے بعد روس کے اشتعال انگیز اقدامات اور ایران سے متعلق خطرات ہیں۔تعارفی نوٹ ...

بھارت پاکستان کے خلاف طاقت کا استعمال کرسکتا ہے، امریکی انٹیلی جنس

کورونا ویکسین لگوانے کے عمل میں پاکستان بہت پیچھے رہ گیا وجود - هفته 17 اپریل 2021

شہریوں کو کورونا ویکسین لگوانے کے عمل میں پاکستان بہت پیچھے رہ گیا،دنیا کے 123 ملکوں میں پاکستان کا 120 نمبر ہے ، بھارت سمیت پاکستان سے کئی اور ممالک بھی آگے بڑھ گئے ۔پاکستان سے نکل جانے والے ممالک کی فہرست میں سری لنکا، بنگلادیش، روانڈا، گھانا اور نائیجریا بھی شامل ہیں۔ماہرین کے مطابق اگر پاکستان میں اسی رفتار سے کام ہوتا رہا تو پوری آبادی کو ویکسین لگانے میں کئی سال لگ جائیں گے ۔نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں سب سے تیز ویکسینیشن کا عمل اسرائیل میں جاری ہے ، جہ...

کورونا ویکسین لگوانے کے عمل میں پاکستان بہت پیچھے رہ گیا

شہباز شریف کو ضمانت ملی پر رہائی نہ مل سکی وجود - هفته 17 اپریل 2021

قومی اسمبلی میںاپوزیشن لیڈر شہباز کو ضمانت ملی پر رہائی نہ مل سکی، معاملہ لٹک گیا، عدالت کے مختصر فیصلے میں دو میں سے ایک جج کے دستخط نہ ہونے کے باعث ضمانتی مچلکے جمع نہ ہوسکے ۔خیال رہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے 13 اپریل کو شہباز شریف کو آمدن ست زائد اثاثوں کے کیس میں ضمانت پر رہا کرنے کا فیصلہ دیا تھا، 14 اپریل کو مختصر فیصلہ سامنے آنے پر حکم نامے پر صرف جسٹس محمد سرفراز ڈوگر کے دستخط تھے ، جسٹس اسجد گھرال کے دستخط نہیں تھے ۔ذرائع کے مطابق جسٹس اسجد جاوید گھرال کی...

شہباز شریف کو ضمانت ملی پر رہائی نہ مل سکی

عسکری حکومت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا چاہتے ہیں، میانمار میں متوازی حکومت تشکیل وجود - هفته 17 اپریل 2021

میانمار میں فوج مخالف اتحاد نے مِن کو نائنگ کی قیادت میں متوازی حکومت تشکیل دے دی۔مقامی میڈیارپورٹس کے مطابق متوازی حکومت میں سابق پارلیمنٹیرین اورمظاہرین کی قیادت کرنے والے افراد شامل ہیں۔ مِن کو نائنگ نے عوام سے متوازی حکومت سے تعاون کرنے کی اپیل کی ہے ۔من کو نائنگ نے کہا کہ ہم عسکری حکومت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا چاہتے ہیں، عالمی برادری کی حمایت حاصل کرنا متوازی حکومت کی اولین ترجیح ہے ، امریکا اور برطانیہ وینزویلا کی طرز پر ہماری حکومت کو بھی تسلیم کریں۔

عسکری حکومت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا چاہتے ہیں، میانمار میں متوازی حکومت تشکیل

پاکستان نے3 وکٹوں سے جنوبی افریقہ کو شکست دیکر ٹی ٹوئنٹی سیریز بھی جیت لی وجود - هفته 17 اپریل 2021

پاکستان نے فخر زمان کی جارحانہ نصف سنچری کی بدولت جنوبی افریقہ کو چوتھے ٹی20 میچ میں سنسنی خیز مقابلے کے بعد 3 وکٹوں سے شکست دیکر سیریز میں بھی 1ـ3 سے فتح حاصل کر لی، میزبان ٹیم 144رنز پر ڈھیر ہوگئی ،پاکستان نے مطلوبہ ہدف بمشکل ایک گیند قبل 7 وکٹ کے نقصان پر پورا کرلیا،فہیم اشرف کو مین آف دی میچ اور بابر اعظم کو سیریز کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا ۔سنچورین میں کھیلے گئے سیریز کے آخری ٹی20 میچ میں پاکستان نے ٹاس جیت کر ایک مرتبہ پھر جنوبی افریقہ کو بیٹنگ کی دعوت دی تھی۔جنوبی ا...

پاکستان نے3 وکٹوں سے جنوبی افریقہ کو شکست دیکر ٹی ٹوئنٹی سیریز بھی جیت لی

کراچی میں برطانوی اور جنوبی افریقی کورونا وائرس کی تصدیق وجود - هفته 17 اپریل 2021

صوبائی دارالحکومت کراچی میں برطانوی اور جنوبی افریقی کورونا وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوگئی۔نیشنل انسٹیٹیوٹ آف وائرولوجی میں تحقیق کے دوران برطانوی اور جنوبی افریقی کورونا وائرس کی موجودگی کا انکشاف ہوا۔ادارے نے شہر کے مختلف علاقوں سے 75 نمونے لیے ، جن میں سے 50 کیس برطانوی اقسام اور 25 کیسز جنوبی افریقی قسم کے آئے ہیں۔سندھ حکومت پہلے کہہ چکی ہے کہ صوبے میں برطانوی وائرس موجود نہیں ہے ۔

کراچی میں برطانوی اور جنوبی افریقی کورونا وائرس کی تصدیق

پیمرا نے تحریک لبیک پاکستان کی ہرقسم کی میڈیاکوریج پر پابندی لگادی وجود - جمعه 16 اپریل 2021

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی(پیمرا)نے کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی)کی ہرقسم کی میڈیاکوریج پر پابندی لگادی۔پیمرا کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق تمام ٹی وی چینلز اور ایف ایم ریڈیو اسٹیشنز کو اس حوالے سے ہدایت جاری کردی گئی ہیں۔پیمرا کے مطابق وزارت داخلہ نے تحریک لبیک پاکستان کو کالعدم قرار دیا ہے ،پیمرا کے ریگولیشن اورضابطہ اخلاق پیمرا آرڈیننس 2002 کے سیکشن 27 کے تحت کالعدم جماعتوں کی میڈیا کوریج پر پابندی ہے ۔خیال رہے کہ وفاقی وزارت داخلہ نے تحریک لبیک پ...

پیمرا نے تحریک لبیک پاکستان کی ہرقسم کی میڈیاکوریج پر پابندی لگادی

توقع ہے ہر شعبے میں پاکستان اور امریکا کا تعاون فروغ پائیگا،جنرل قمر جاوید باجوہ وجود - جمعه 16 اپریل 2021

چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ توقع ہے ہر شعبے میں پاکستان اور امریکا کا تعاون فروغ پائیگا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے امریکی ناظم الامور و قائم مقام سفیر انجیلا ایگلر نے ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے امور اور خطے میں سکیورٹی صورتحال پر بات چیت کی گئی۔آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں افغان امن عمل میں حالیہ پیشرفت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر آرمی چیف نے کہاکہ توقع ہے ہر شعبے میں پاکستان...

توقع ہے ہر شعبے میں پاکستان اور امریکا کا تعاون فروغ پائیگا،جنرل قمر جاوید باجوہ

نیٹو اتحاد بھی یکم مئی سے افغانستان سے فوجی انخلا پر رضامند وجود - جمعه 16 اپریل 2021

امریکی صدر جو بائیڈن کے بعد نیٹو اتحاد بھی یکم مئی سے افغانستان سے فوجی انخلا کے آغاز پر رضامند ہوگیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق نیٹو اعلامیہ میں کہاگیاکہ افغانستان سے فوجوں کی واپسی منظم اور مربوط ہوگی، برسلز میں نیٹو سیکرٹری جنرل نے امریکی وزیر خارجہ اور وزیر دفاع کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا کہ افغانستان سے فوجی انخلا چند ماہ میں مکمل ہو جائے گا۔اس سے قبل امریکا نے افغانستان سے فوج نکالنے کی تاریخ پانچ ماہ بڑھائی تھی، امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا تھا کہ یکم مئی سے انخل...

نیٹو اتحاد بھی یکم مئی سے افغانستان سے فوجی انخلا پر رضامند

سائنسی تحقیقات کے لیے ٹائٹینک سے بڑا جدید آلات سے لیس بحری جہاز تیار وجود - جمعه 16 اپریل 2021

ماہرین نے سائنسی تحقیقات کے لیے جدید سہولیات سے آراستہ فٹ بال کے تین گرائونڈ کے حجم کے برابر اورٹائٹینک سے بڑا بحری جہاز تیار کرنا شروع کیا ہے ۔ یہ جہاز 2025 میں لانچ کیا جائے گا۔ یہ جہاز 22 جدید ترین تجربہ گاہوں سے آرستہ ہوگا اور اس میں 400 افراد کے کام کرنے کی گنجائش ہوگی۔ اگرچہ یہ سائنسی تحقیقاتی مشن جوہری توانائی پرکام کرے گا مگر اس سے کسی قسم کی تاب کاری کے اخراج کا خطرہ نہیں ہوگا۔برطانوی اخبار کے مطابق اس جہاز کا نام ارتھ300رکھا گیا ہے جس کا مقصد زمین پر بڑے بڑے چیلنجوں...

سائنسی تحقیقات کے لیے ٹائٹینک سے بڑا جدید آلات سے لیس بحری جہاز تیار

گردشی قرضوں میں کمی کے لیے بجلی کی قیمت بڑھانا ہوگی، آئی ایم ایف وجود - جمعرات 15 اپریل 2021

بین القوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) کی پاکستان میں موجود نمایندہ ٹریسا دوبان سنچے نے کہا ہے کہ کورونا کی تیسری لہر میں پاکستان کے مزید قرضے موخر کرنے پر بھی غور ہوسکتا ہے ۔ویب نارسے خطاب میں انہوںنے کہا کہ ہم پاکستان میں ٹیکس اصلاحات چاہتے ہیں جس کے لیے ٹیکس کی چھوٹ محدود کرنا ضروری ہیں، توانائی کے شعبے میں گردشی قرضوں میں کمی کے لیے بجلی کی قیمت میں اضافہ کرنا ہوگا تاہم ٹیکس آمدن بڑھانے کے لیے کورونا ٹیکس لگانا یا نہ لگانا پارلیمنٹ کا کام ہے ، انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف نے...

گردشی قرضوں میں کمی کے لیے بجلی کی قیمت بڑھانا ہوگی، آئی ایم ایف

وزارت خزانہ نے اگلے بجٹ کا اسٹریٹجی پیپر تیار کرلیا وجود - جمعرات 15 اپریل 2021

وزارت خزانہ نے اگلے مالی سال 2021ـ22 کیلئے بجٹ اسٹریٹجی پیپر تیار کرلیا ۔دستاویز کے مطابق آئندہ مالی سال کیلئے مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کا حجم 46 ہزار ارب سے بڑھا کر 52 ہزار ارب روپے مقرر کیا جائیگا۔دستاویز کے مطابق سال 2021ـ22 میں جی ڈی پی گروتھ 4اعشاریہ2 فیصد رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ،ٹیکس وصولیوں کا ہدف 6ہزار ارب روپے رکھا جائے گا۔وزارت خزانہ کی دستاویز کے مطابق آئندہ مالی مہنگائی 8 فیصد رہنے کی توقع ہے حکومتی پالیسیوں کے تسلسل سے 2022ـ23 میں مہنگائی 6 اعشاریہ8 فیصد...

وزارت خزانہ نے اگلے بجٹ کا اسٹریٹجی پیپر تیار کرلیا