وجود

... loading ...

وجود

سینیٹ الیکشن میں پیسہ، الیکشن کمیشن ایجنسیوں سے خفیہ بریفنگ لے ، وزیراعظم

اتوار 07 مارچ 2021 سینیٹ الیکشن میں پیسہ، الیکشن کمیشن ایجنسیوں سے خفیہ بریفنگ لے ، وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کو چاہیے کہ وہ پاکستان کی ایجنسیوں سے خفیہ بریفنگ لیں تاکہ انہیں اندازہ ہ کہ اس (سینیٹ) الیکشن میں کتنا پیسہ چلا ہے ،مجھے شرمندگی ہوتی ہے کدھر پاکستان کا خواب اور کدھر یہ بکرا منڈی بنی ہوئی لوگوں کو خریدنے کے لیے ، ہمیں ایک مہینے سے پتا تھا ،الیکشن کمیشن نے اگر یہ الیکشن آپ نے اچھا کرایا ہے تو پتا نہیں برا الیکشن کیا ہوتا ہے ؟انتخابی حاصلاحات کا فیصلہ کر لیا ہے ،الیکٹرانک مشین لائیں گے ،نواز شریف ایک ڈاکو 30 سال لوٹ کر ملک سے باہر بھاگا ہوا ہے ، پاکستان اس لیے نہیں بنا تھا کہ یہاں شریف اور زرداری ارب پتی بن جائیں، اکیلا کرپشن کرپشن کرکے کرپشن ٹھیک نہیں کرسکتا، اگر ہمیں اپنے ملک کو بچانا ہے تو ہمیں پہلے اپنے اخلاقی اسٹینڈرز کو ٹھیک کرنا پڑے گا،ملک لوٹنے والوں کے خلاف لڑائی جاری رکھونگا ،اپنی قوم کی مد د کی ضرورت ہے ،میری حکومت ایک ہی چیز پر لگی ہوئی ہے کہ کس طرح مہنگائی کا بوجھ کم کریں، ایک پروگرام ‘بھوکا نہ سوئیں’ لارہے ہیں۔ ہفتہ کو قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کر نے کے بعد اپنے خطاب میں وزیراعظم نے سب سے پہلے اپنے اتحادیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہر مشکل وقت میں میرے ساتھ کھڑے ہونے پر آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ انہوں نے اپنے قانون سازوں کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ گزشتہ روز آپ کے جو حالات دیکھے تو مجھے یہ احساس ہوا کہ حفیظ شیخ کے سینیٹ پر ہارنے پر آپ سب کو دل سے تکلیف ہوئی۔انہوں نے کہا کہ مجھے آپ میں ایک ٹیم نظر آئی اور ہماری یہ ٹیم مضبوط ہوتی جائے گی کیونکہ اللہ قرآن میں کہتا ہے کہ میں تمہارے ایمان کو بار بار آزماؤں گا۔وزیراعظم نے کہا کہ جب آپ مشکل وقت سے نکلتے ہیں تو اور مضبوط ہوجاتے ہیں، بڑے انسان بننے کے لیے مشکل وقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ کوئی جماعت بھی جب مضبوط ہوتی ہے جب وہ مشکل وقت سے گزرتی ہے اور آج میں اپنی جماعت کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ آپ اس مشکل وقت سے نکلے ہیں۔انہوںنے کہاکہ ہمیں کبھی یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ پاکستان کیوں بنا تھا کیونکہ جب قوم اپنے نظریہ سے پیچھے ہٹتی ہے تو وہ مرجاتی ہے ۔عمران خان نے کہا کہ ہماری قیادت کو پتا ہونا چاہیے کہ پاکستان ایک بہت بڑا عظیم خواب تھا، پاکستان کا خواب دیکھنے کی وجہ یہ تھی کہ ہم نے دنیا کو مثال دینی تھی کہ اصل میں ایک اسلامی ریاست کیا ہوتی ہے اور اس کی بنیاد مدینہ کی ریاست پر تھی جو دنیا کی تاریخ کی پہلی فلاحی ریاست بنی تھی۔انہوں نے کہا کہ بڑے لوگ جو پاکستان نہیں چاہتے تھے وہ کہتے تھے کہ پاکستان تو بن گیا اور مسلمان جو ہندوستان میں رہ گئے انہیں سیکنڈ کلاس شہری بنا کر چھوڑ دیا ہے اور وہاں ان کے ساتھ آج کیا ہورہا ہے ، لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان نہ بنتا تو آج مسلمانوں کی زیادہ طاقت ہوتی اور آج ان کی وہ حالت نہیں ہوتی جو بھارت میں ہے ، لہٰذا اگر ہم پاکستان کو اس مقصد کی طرف نہیں لے کر جائیں گے جس کیلئے یہ بنا تھا تو وہ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ پاکستان اس لیے تو نہیں بنا تھا کہ شریف اور زرداری اربوں پتی بن جائیں، ہمیں واپس اپنے نظریے کی طرف رخ کرنا چاہیے کہ یہ ایک بڑا خواب کا نام تھا۔انہوں نے کہا کہ ہم غلط فہمی میں ہیں کہ تلوار سے اسلام پھیلا تھا حالانکہ اسلام انسانی کردار میں اصلاحات کیلئے آیا تھا، ہم نماز میں ایک ہی چیز مانگتے ہیں کہ ہمیں ان کے راستے پر لگا جن کو نعمتیں بخشیں نہ کہ ان کے جو تباہی کے راستے پر چلے گئے ہیں۔سینیٹ انتخابات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجھے شرمندگی ہوتی ہے کہ کدھر پاکستان کا خواب اور کدھر یہ بکرا منڈی بنی ہوئی لوگوں کو خریدنے کے لیے ، ہمیں ایک مہینے سے پتا تھا کہ اس انتخابات کے لیے پیسا جمع کیا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ مجھے حیرت ہوئی کہ الیکشن کمیشن کہتا ہے کہ ہم آزاد ادارے ہیں اور ہم نے بہت اچھا الیکشن کرایا ہے ، مجھے اس سے تو اور صدمہ ہوا کہ اگر یہ الیکشن آپ نے اچھا کرایا ہے تو پتا نہیں برا الیکشن کیا ہوتا ہے ۔عمران خان نے کہا کہ مجھے افسوس ہوتا ہے کہ ہم ایک چیز سمجھتے نہیں ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے معاشی حالات بہت برے ہیں، قرضے چڑھے ہوئے ہیں جبکہ یہ جو قرضے چڑھے ہوئے ہیں یہ ایک بیماری کی علامات ہیں، بیماری کچھ اور ہے ، ہماری قوم کو اخلاقی طور پر تباہ کیا گیا ہے کیونکہ اس کے بعد معاشی تباہی آتی ہے ، آج کسی ایک ملک کا بتا دیں جس کی اخلاقیات بلند ہوں اور وہ غریب ہوں۔انہوں نے کہا کہ ساتھ ہی مجھے کوئی ایسا ملک بھی بتا دیں جہاں جتنا مرضی پیسا اور وسائل ہوں اور وہاں کی قیادت کرپٹ ہو لیکن وہاں خوشحالی ہو کیونکہ یہ ساتھ ساتھ چلتا ہے ۔مدینہ کی ریاست کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا کے عظیم لیڈر نے وہاں کے لوگوں کی اخلاقیات بلند کردی تھیں، اللہ جب ہمیں نبی کے راستے پر چلنے کا کہتا ہے تو وہ ہماری بہتری کے لیے کہتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ آپ مغربی ممالک کے اخلاقی کردار دیکھیں، اس کے مقابلے میں ہمارے ملک میں جو ہورہا ہے اور یہ جو سینیٹ کے الیکشن میں ہوا ہے ، اس پر شرم آئے گی، آپ کو افسوس ہوگا کہ ہم کس کی امت ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کا مطلب کیا لاالا اللہ اس پر ہمارا ملک بنا تھا۔دوران خطاب انہوں نے کہا کہ دنیا میں ثابت ایک کرپٹ آدمی آصف زرداری، جس پر دنیا میں لکھا ہوا ہے کہ مسٹر ٹین پرسنٹ، اس پر مضمون لکھے ہوئے ہیں لیکن اس کو اس ملک میں لوگ کہیں کہ ایک زرداری سب پر بھاری کیونکہ وہ رشوت دیتا ہے تو سب پر بھاری ہوگیا، کیا یہ ہمارا ملک ہے ۔انہوںنے کہاکہ یہاں بیٹھے لوگ کہتے ہیں کہ نواز شریف ہمارا لیڈر ہے جبکہ نواز شریف ایک ڈاکو، ملک کو 30 سال لوٹ کر ملک سے باہر بھاگا ہوا ہے ، وہ جھوٹ بول کر باہر بھاگا ہوا ہے ‘۔انہوں نے کہا کہ ہم نے کابینہ میں بتایا کہ اسے یہ بھی بیماری ہے ، وہ جہاز میں بھی نہ چڑ سکے ، وہ شاید مر جائے گا، شیریں مزاری کے آنسو آگئے حالانکہ ان کے آنسو آنا آسان بات نہیں ہے لیکن جیسے ہی وہ جہاز پر چڑھا ایک دم سے تبدیل ہوگیا اور آج وہاں جاکر تقریریں کر رہا، اسکیمیں، لوگوں کو پیسا دینے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جب سے ہماری حکومت آئی ہے یہ سارے ڈاکو اکٹھا ہوکر یہ سمجھ رہے ہیں کہ عمران خان کو کرسی کا اتنا شوق ہے کہ اس پر اتنا دباؤ ڈالو کہ جس طرح پرویز مشرف نے ہمیں این آر او دیا تھا یہ بھی دے دے گا۔انہوں نے مولانا فضل الرحمن کو دو نمبر کہتے ہوئے کہا کہ پرویز مشرف نے ان دونوں کے دباؤ میں آکر انہیں این آر او دیکر بڑا جرم کیا ہے ، ان دونوں نے این آر او لے کر دونوں ہاتھوں سے ملک کو لوٹا، دونوں نے اس ملک پر 4 گنا زیادہ قرضہ چڑھایا، 6 ہزار روپے سے قرضہ 30 ہزار روپے تک پہنچا دیا، جس کی وجہ سے آج ہمیں قرضوں کی قسطیں ادا کرنے کے لیے لوگوں پر بوجھ ڈالنا پڑتا ہے ۔عمران خان نے کہا کہ میں ڈھائی سال سے دیکھ رہا ہوں کہ کیونکہ انہیں پہلے دن سے ڈر تھا کہ یہ ہمارے کرپشن کے کیسز معاف نہیں کرے گا، یہ سارے کیسز ان کے دور کے ہیں، ان کا آپس میں مک مکا تھا، اس وقت کی عدلیہ ان کے ہاتھ میں تھی، نیب کا چیئرمین ان کا لگایا ہوا تھا، انہیں تو کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ آصف زرداری کا 60 ملین ڈالر سوئٹزر لینڈ میں پڑا ہوا تھا اور جج نے جب اس کی واپسی کا کہا تو یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ میں خط نہیں لکھتاکہ وہ آپ کے باپ کا پیسا نہیں تھا بلکہ پاکستانی قوم کا پیسا تھا، اس بات پر وہ نااہل ہوجاتا ہے تاہم وہ اب ایسے پھر رہا ہے جیسے نیلسن مینڈیلا نااہل ہوگیا ہے ۔وزیراعظم نے کہا کہ ان کے پاس اتنا پیسا ہے کہ انہیں خود نہیں پتا کہ ان کا کتنا پیسا باہر پڑا ہے ، یہ 30 سال سے پیسا چوری کر رہے ہیں اور اب ان کی کوشش ہے کہ عمران خان پر دباؤ ڈالو۔انہوںنے کہاکہ ان کا صرف ایک نکاتی ایجنڈا ہے ، میں انہیں جانتا ہوں، ان کا صرف ایک خوف ہے عمران خان این آر او نہیں دے گا لہٰذا اسے اتنا بلیک میل کرو۔سینیٹ انتخابات سے متعلق انہوں نے کہا کہ ان دونوں جماعتوں نے میثاق جمہوریت میں کہا ہوا تھا کہ خفیہ بیلٹ ختم ہونی چاہیے لیکن جب ہم نے اوپن بیلٹ کا کہا تو یہ وہاں سے فوراً خفیہ بیلٹ پر آگئے ، میں نے تب کہہ دیا تھا کہ ان کا خفیہ بیلٹ کا ایک مقصد تھا کہ حفیظ شیخ کو ہرائیں۔یوسف رضا گیلانی کو پاکستان کا کرپٹ ترین آدمی کہتے ہوئے انہون نے کہا کہ یوسف رضا کے وزیراعظم بننے سے پہلے اور بعد کے اثاثے دیکھ لیں آپ کو پتا چل جائے گا کہ انہوں نے اپنے زمانے میں کیا کیا، ہمیں سب پتا تھا کہ کیا ہورہا ہے ۔الیکشن کمیشن کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ مہربانی کریں اور پاکستان کی ایجنسیوں سے خفیہ بریفنگ لیں، آپ کو اندازہ ہوگا کہ اس الیکشن میں کتنا پیسا چلا ہے ، تاکہ آپ اس طرح کا بیان نہ دیں کہ ہماری آزادی ختم کر رہے ہیں، میں کیا آپ کی آزادی ختم کر رہا ہوں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے انتخابی اصلاحات کا فیصلہ کیا ہے ، ہم الیکٹرانک مشین لائیں گے کیونکہ اس کے بغیر اب ہمیں الیکشن نہیں کرنا چاہیے ، مزید یہ کہ ہم بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ووٹ کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں ایک جدوجہد کرکے یہاں پوچھا ہوں اور یہ ڈھائی سال میری زندگی کی سب سے مشکل جدوجہد تھی اور یہ اس لیے مشکل تھی کیونکہ یہ دس سال ‘تاریکی دہائی’ تھی۔عمران خان نے اپوزیشن سے سوال کیا کہ کیا آپ واقعی سمجھتے ہیں کہ آپ کی قیادت ایماندار ہے ، کیا یہ واقعی سمجھتے ہیں کہ ان کی دولت ایمانداری سے بنی ہے ، ملک کے 3 مرتبہ کا وزیراعظم کے دورے باہر بیٹھے ہوئے ہیں، جہاں ان کے بیٹے رہ رہے وہ اربوں روپے کی جگہ ہے ، یہ ملک سے بھاگ گئے کیونکہ یہ بتا ہی نہیں سکتے کہ ان کا پیسا کہاں سے آیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کوئی ملک تب تک آگے نہیں بڑھ سکتا اس طرح، میں اکیلا کرپشن کرپشن کرکے کرپشن ٹھیک نہیں کرسکتا، معاشرے کی اخلاقیات ایسی ہونی چاہیے کہ کرپشن کرنے والے کی شکل نہ دکھا سکیں۔انہوں نے کہا کہ اگر ہمیں اپنے ملک کو بچانا ہے تو ہمیں پہلے اپنے اخلاقی اسٹینڈرز کو ٹھیک کرنا پڑے گا، اگر ہم نے اپنے آنے والی نسلوں کو بچانا ہے اور اس ملک کو ٹھیک کرنا ہے تو سب سے پہلے عدل و انصاف لانا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ مجھے اس کے لیے پوری قوم کی مدد کی ضرورت ہے ، میں ساری زندگی کوشش کرتا رہا ہوں اور آگے بھی کرتا رہوں گا، میری ساری پارٹی چاہے مجھے چھوڑ دے میں ان کے خلاف لڑتا رہوں گا، وقت آگیا ہے کہ ہم نے آنے والی نسلوں کو بچانا ہے ۔مہنگائی سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں اپنی قوم کو کہنا چاہتا ہوں کہ اس وقت میری حکومت ایک ہی چیز پر لگی ہوئی ہے کہ کس طرح مہنگائی کا بوجھ کم کریں اور آنے والے دنوں میں ہم چیزیں لے کر آئیں گے ، اس کے علاوہ ہم ایک پروگرام ‘بھوکا نہ سوئیں’ لارہے ہیں، مزید یہ کہ ہم کسانوں پر بھی زور دے رہے ہیں۔قرضوں سے چھٹکارے سے متعلق انہوں نے کہا کہ اس کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ہم دولت میں اضافہ کریں، اس سلسلے میں مختلف منصوبے لارہے ہیں اور پاکستان میں پہلی مرتبہ ماڈرن شہر بنا رہے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ پاکستان کی جیو اسٹریٹجک لوکیشن شاید ہی کسی اور ملک کی ہو، اللہ نے 12 موسم دیے ہوئے ہیں، یہاں کی زمین زرخیز ہے ،اس کے علاوہ ملک میں نوجوان آبادی ہے ۔


متعلقہ خبریں


گل پلازہ کی ایک ہی دُکان سے 30 لاشیں برآمد،اموات کی تعداد 61 ہوگئی وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

  لاپتا شہریوں کی تعداد 86 ہوگئی،دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی، 30 لاشیں کراکری کی دکان سے ملیں،ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن اسی جگہ کی آئی تھی،ڈی آئی جی ساؤتھ لاشوں کی باقیات سرچ آپریشن کے دوران ملیں،ملبہ ہٹانے کا کام روک دیا گیا ہ...

گل پلازہ کی ایک ہی دُکان سے 30 لاشیں برآمد،اموات کی تعداد 61 ہوگئی

آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی عبدالقادر پٹیل کا لہجہ بدل گیا وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

ایم کیو ایم پر برستے برستے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کرکام کرنے کی دعوت قومی اسمبلی اجلاس میں تقریر کے دوران ایم کیو ایم پر شدید تنقید کر رہے تھے قومی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کے دوران آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی عبد القادر پٹیل کا لہجہ بدل گ...

آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی عبدالقادر پٹیل کا لہجہ بدل گیا

مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں،وزیراعظم وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے کامیابی حاصل ہو گی،پاکستان مشکلات سے باہر آ چکاہے شہباز شریف کی ڈیوس میں پاکستان پویلین میں بریک فاسٹ میں شرکت،شرکاء سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں، اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے...

مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں،وزیراعظم

ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت مسترد ،حافظ نعیم وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

غزہ کا بورڈ آف پیس نوآبادیاتی نظام کی نئی شکل، ٹونی بلیئر جیسے مجرم موجود ہیں فلسطینیوں کے وسائل اور زمینوں پر قبضے کانیانظام ہے، ایکس پر جاری بیان جماعت اسلامی پاکستان کے حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے غزہ کے لیے قائم بورڈ آف پیس میں شمولیت کے لیے امر...

ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت مسترد ،حافظ نعیم

سپریم کورٹ، سزائے موت کی زیر التوا ء اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

چیف جسٹس کی زیر صدارت ماہانہ اصلاحات ایکشن پلان اجلاس،بار کے صدر، سیکریٹری دیگر حکام کی شرکت کیس کیٹیگرائزیشن کا عمل دوماہ میں مکمل ہو گا،سزائے موت ، فوجداری مقدمات کی جیل اپیلوں کا جائزہ،اعلامیہ سپریم کورٹ نے سزائے موت کی تمام زیر التوا اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ کر ...

سپریم کورٹ، سزائے موت کی زیر التوا ء اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ

اسرائیل کا جنوبی غزہ میں فلسطینیوں کو انخلاء کا حکم وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

جنگ بندی کے بعد پہلا بڑا اقدام،گھروں اور خیمہ بستیوں سے نکلنے کے احکامات جاری اسرائیلی فوج نے پمفلٹس گرائے ،اس میںلکھا تھا علاقہ اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہے اسرائیلی فوج نے اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد پہلی بار جنوبی غزہ میں فلسطینی خاندانوں کو اپنے گھروں اور خیمہ ب...

اسرائیل کا جنوبی غزہ میں فلسطینیوں کو انخلاء کا حکم

سانحہ گل پلازہ پر حکمران اتحاد آمنے سامنے(نون لیگ ، پیپلزپارٹی ،ایم کیو ایم کے قومی اسمبلی میں ایک دوسرے پر الزامات) وجود - بدھ 21 جنوری 2026

18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی اس کے نتیجے میں زیادہ تر اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع ہو گئے ہیں( خواجہ آصف)یہ آگ ہے، ہوجاتا ہے،شہلا رضا کا گل پلازہ آتشزدگی پر تبصرہ الطاف حسین کے گن مین گوگا نے ایک دکان کو دو میں تقسیم کیا( عبدالقادر پٹیل)جب گوگا پلازہ بنوا رہا تھا ی...

سانحہ گل پلازہ پر حکمران اتحاد آمنے سامنے(نون لیگ ، پیپلزپارٹی ،ایم کیو ایم کے قومی اسمبلی میں ایک دوسرے پر الزامات)

گل پلازہ کے دو فلور کلیئر، 28 افرادجاں بحق، 85 لاپتا،ملبہ ہٹانے، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری وجود - بدھ 21 جنوری 2026

27 افراد کا پوسٹ مارٹم مکمل ،گلے میں پہنے لاکٹ کی مدد سے خاتون کو مصباح کے نام سے شناخت کر لیا ، تاجر تعاون کریں، ریڈ زون سے دور رہیں، دیگر حصے انتہائی کمزورہیں،ماہرین ایس بی سی اے ریسکیو اہلکاروں کو کوئی لاش نہیں ملی البتہ شک ہیعمارت کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی،وہاں راستہ ...

گل پلازہ کے دو فلور کلیئر، 28 افرادجاں بحق، 85 لاپتا،ملبہ ہٹانے، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری

پختونخوا کو 800 ارب دیے ، ترقی نظر نہیں آتی، وزیراعظم وجود - بدھ 21 جنوری 2026

صوبے میں وہ ترقی نظر نہیں آتی جو دیگر صوبوں میں دکھائی دیتی ہے، شہباز شریف وفاق اور صوبے میںسرد جنگ کا تاثر درست نہیں،قومی ورکشاپ میں خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے گزشتہ 15 برس میں 800 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں، تاہم صوبے میں وہ ترقی نظر نہی...

پختونخوا کو 800 ارب دیے ، ترقی نظر نہیں آتی، وزیراعظم

مضبوط اورعوام دوست پولیس داخلی سلامتی کیلئے ناگزیر ہے،فیلڈ مارشل وجود - بدھ 21 جنوری 2026

داخلی سلامتی، قانون کی حکمرانی کیلئے مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پولیس ناگزیر ہے چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیشنل پولیس اکیڈمی، اسلام آباد کا دورہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیرچیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے کہا ہے کہ مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پ...

مضبوط اورعوام دوست پولیس داخلی سلامتی کیلئے ناگزیر ہے،فیلڈ مارشل

آگ گل پلازہ میں نہیں، ہرشہری کے دل میں لگی ہے وجود - بدھ 21 جنوری 2026

گل پلازہ آتشزدگی کوسانحہ قراردیاجائے، ہم چاہتے ہیں صوبائی حکومت کیساتھ تعاون کریں آئیے ملکرکراچی کو ممدانی کانیویارک بنائیں یا صادق خان کا لندن بنائیں،ایم کیو ایم رہنما ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ گل پلازہ میں نہیں کراچی کے ہرشہری کے دل میں آگ لگی ...

آگ گل پلازہ میں نہیں، ہرشہری کے دل میں لگی ہے

تحقیقات سے واضح ہوگا ذمہ داری کس پرعائد ہوتی ہے،شرجیل میمن وجود - بدھ 21 جنوری 2026

پورے ملک کی 90فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے، سینئر وزیر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی کمیٹی تمام جائزے لے کر اپنی رپورٹ دے گی، خصوصی گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پورے ملک کی 90 فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے۔کراچی...

تحقیقات سے واضح ہوگا ذمہ داری کس پرعائد ہوتی ہے،شرجیل میمن

مضامین
عوام میں دولت تقسیم کرنے کا آسان نسخہ وجود جمعرات 22 جنوری 2026
عوام میں دولت تقسیم کرنے کا آسان نسخہ

ملک مبشر احمد خان اورتاریخ کا استثنیٰ وجود بدھ 21 جنوری 2026
ملک مبشر احمد خان اورتاریخ کا استثنیٰ

انسان اپنے اندر کے خوف، گناہ اور خو اہشات کا قید ی ہے ! وجود بدھ 21 جنوری 2026
انسان اپنے اندر کے خوف، گناہ اور خو اہشات کا قید ی ہے !

بھارت میں ہجومی تشدد وجود بدھ 21 جنوری 2026
بھارت میں ہجومی تشدد

دہلی واشنگٹن تعلقات تناؤ کا شکار وجود منگل 20 جنوری 2026
دہلی واشنگٹن تعلقات تناؤ کا شکار

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر