وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

ایوان کا اعتماد حاصل نہ کرسکا توا پوزیشن میں بیٹھ جائوں گا،عمران خان

جمعه 05 مارچ 2021 ایوان کا اعتماد حاصل نہ کرسکا توا پوزیشن میں بیٹھ جائوں گا،عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہفتے کو ایوان سے اعتماد کا ووٹ لوں گا،اگر ایوان کا اعتماد حاصل نہ کرسکا توا پوزیشن میں بیٹھ جاوں گا،خواہ اپوزیشن میں بیٹھوں یا اسمبلی سے باہر ہوں،ملکی دولت لوٹنے والوں میںسے کسی کو نہیں چھوڑ وںگا ، قانون کی بالادستی کیلئے جدوجہد کرتا رہوں گا اور غداروں چوروں کا مقابلہ کرتارہوں گا، الیکشن کمیشن نے جمہوریت کو نقصان پہنچایا ،سینیٹ انتخابات میں بے تحاشا پیسہ چلا، سیاست کو بدعنوان کردیا گیا ہے ،یوسف رضا گیلانی نے جیتنے کیلئے ارکان کے ضمیرخریدے ۔ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری تھی کہ ویڈیوز کی تحقیقات کرتی۔ارکان سینیٹ رشوت دیں اور لیں گے تو کیا پٹواری اور تھانے دار ٹھیک ہوسکتا ہے ۔ملک کی جمہوریت کی ساکھ کو نقصان پہنچایا گیا ۔ نواز شریف اس کے بیٹے اور داماد پاکستان کاپیسہ چوری کرکے باہر بیٹھے ہوئے ہیں۔جمعرات کی شام قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ آج میں سینیٹ انتخابات کے حوالے سے بات کروں گا چھ سال پہلے تحریک انصاف نے سینیٹ انتخابات میں حصہ لیا جب خیبرپختونخوا میں ہماری حکومت تھی تب مجھے اندازہ ہوا کہ سینیٹ کے الیکشن میں 40,30 سال سے پیسہ چلتا ہے جو سینیٹر بننا چاہتا ہے وہ پیسہ استعمال کرتا ہے اور ممبران پارلیمنٹ کو خریدتا ہے یہ سن کر مجھے بڑی حیرت ہوئی کہ ہماری جمہوریت کیساتھ کیا ہورہا ہے یہ کیسی جمہوریت ہے سینیٹ الیکشن اگر سمجھ لیں تو قوم کے سارے مسائل سمجھ میں آجائیں گے ۔ ایک سینیٹر رشوت دے کرسینیٹر بن رہا ہے اور پارلیمنٹ کے ممبر پیسے لے کر اپنا ضمیر بیچ رہے ہیں جب کوئی سیاستدان پیسہ دے کر سینیٹر منتخب ہوتا ہے تو یہ کونسی جمہوریت ہے تب سے میں نے مہم شروع کی اور کہاکہ سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ پر ہونے چاہئیں جب 2018 میں سینیٹ الیکشن ہوا تو مجھے پتا چلا ہمارے 20 ممبر بک گئے ہیں جس پر ہم نے ان تمام کو نکال باہر کیا ۔ پیپلزپارٹی اور ن لیگ نے میثاق جمہوریت میں دستخط کیے کہ اوپن بیلٹ ہونا چاہیے ۔ اوپن بیلٹ پر ہم نے بل پیش بھی کیا جب اوپن بیلٹ کا کہنے والی جماعتوں نے ہماری حمایت نہ کی تو ہم نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا اس دوران پیسے لینے کی ویڈیو بھی نکل آئی ۔ سپریم کورٹ میں بات چل رہی تھی مگر الیکشن کمیشن اوپن بیلٹ کے خلاف گیا ۔ سپریم کورٹ الیکشن کمیشن کو بار بار کہتی رہی کہ الیکشن صاف اور شفاف کرانے کی الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے ۔ پی ڈی ایم کی تمام جماعتیں اوپن بیلٹ کے خلاف ہوگئی جب کہ ماضی میں خود اس کی حمایت کرتی رہیں۔ سینیٹ الیکشن کے حوالے سے اپوزیشن کے قول و فعل میں تضاد سمجھ سے باہر ہے ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ میں قوم سے پوچھتاہوں کہ پہلے اوپن بیلٹ کی حمایت کرنے والی اب کیوں خلاف ہوگئیں اور کہتی ہیں کہ اوپن بیلٹ جمہوریت اور آئین کے خلاف ہے میں ان سے پوچھتا ہوں کہ پہلے یہ آئین کے خلاف نہیں تھی جب آپ خودکہتی تھیں۔ جب ہماری حکومت آئی تو اپوزیشن جماعتوں کو یہ خوف پیداہوگیاکہ پی ٹی آئی نے کرپشن کے خلاف مہم شروع کررکھی ہے ایسا نہ ہو کہ کہیںعمران خان ہمارے کرپشن کیسز کے خلاف آگے نہ بڑھے حالانکہ ان کے خلاف کرپشن کے کیسز پرانے ہیںہم نے نہیں بنائے یہ ان کے اپنے دور کے کیسز ہیں ہمارے دور کے تو 5فیصد بھی کیسز نہیں ہوں گے ۔ اس خیال کے پیش نظر سب اکھٹے ہوگئے میں نے وزارت اعظمیٰ کا منصب سنبھالتے ہی اپنے پہلے خطاب میں کہا کہ یہ سب اکٹھے ہوجائیں گے اور ہوگئے اور منصوبہ بندی کی کہ عمران خان پر دبائو ڈالو تاکہ وہ تنگ آکر این آراو دے دے ۔ انہوں نے فیٹف بل کی بھی مخالفت کی اور حکو مت کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی۔ عمران خان نے کہا کہ پی ڈی ایم بنانے کا مقصد کرپٹ ٹولے کے مفادات کا تحفظ ہے ، اپوزیشن جماعتوں نے فیٹف جیسے حساس معاملے پر ملک و قوم کی بجائے اپنے مفادات کو ترجیح دی۔ اگر خدانخواستہ ملک فیٹف کے ذریعے بلیک لسٹ ہو جاتا تو ہماری معاشی مشکلات بڑھ جاتیں اپوزیشن نے خفیہ بیلٹ پر اس لئے زور دیا کیونکہ انہوں نے سینیٹ الیکشن میں پیسہ لگانا تھا اور ہمارے امیدوار حفیظ شیخ کوہروا کر یہ ثابت کرناتھا کہ عمران خان کی پارلیمنٹ کے اندر اکثریت ختم ہوگئی ہے اور مجھ پر عدم اعتماد کی تلوار لٹکائیں تاکہ میں کسی طرح ان کو این آراو دے دوں ۔ انہوں نے کہاکہ عمران خان وہ واحد سیاستدان ہے جس کے پاس سیاست میں آنے سے پہلے سب کچھ تھا اور شہرت بھی تھی مجھے کسی چیز کی ضرورت نہ تھی میرا سیاست میں آنے کا مقصد ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے 60 کی دہائی میں ملک ترقی کی طرف جارہاتھا جب مفاد پرست ٹولے نے سیاست کو کاروبار بنالیا تو ملک میں سماجی و معاشی مسائل کا آغاز ہوا سماجی تفریق شروع ہوئی۔ سماجی تفریق قوموں کو تباہی کی طرف لے جایا کرتی ہیں ۔ وزیراعظم نے کہاکہ ہم ملک میں قانون کی بالادستی کیلئے جدوجہد کررہے ہیں۔ جب کسی ملک کا وزیراعظم کرپشن کرتا ہے تو وہ ملک کسی صورت ترقی نہیں ک رسکتا ۔ غریب ملکوں سے ہر سال اربوں کھربوں روپے منی لانڈرنگ سے باہر چلے جاتے ہیں ٹیکس کے پیسے کا نصف ملکی قرضوں کے سود کی مد میں چلا جاتا ہے ۔اپنے خطا ب میں وزیراعظم نے کہاکہ یوسف رضا گیلانی نے لوگوں کے ضمیر خریدے ۔ دو کروڑ سے بولی لگارہے تھے مجھے بتائیں کوئی آئین رشوت دینے کی اجازت دیتا ہے ۔ ہم پتا چلانا چاہتے ہیں جو ہمارے 15سے 16 لوگ بکے ہیں ہمیں پتا چلنا چاہیے وہ کون ہیں انہوں نے ان مجرموں کو بھی بچالیا اور جمہوریت کو بھی نقصان پہنچایا ہے کیاپیسے دے کر اوپرآنا جمہوریت ہے ۔ پیسے چلا کر ہم نوجوان نسل کو کیا سیکھارہے ہیں۔قوم سے خطاب میں وزیر اعظم نے الیکشن کمیشن پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ میں الیکشن کمیشن سے کہنا چاہتا ہوں کہ سپریم کورٹ میں آپ نے اوپن بیلٹ کی مخالفت کیوں کی کیا آئین چوری کی اجازت دیتا ہے ۔ پھر آپ نے قابل شناخت بیلٹ پیپزر کی مخالفت کی اگر ایسا ہوجاتا تو آج جو ہمارے ایم این اے بکے ہیں ہم ان کا پتا لگا لیتے ۔ الیکشن کمیشن نے سینیٹ میں بکنے والوں کو بچا لیا۔ سینیٹ میں پیسے لے کر ہماری سیاست کو کرپٹ کیاگیاہے ، کرپٹ ٹولے نے ووٹ چوری کیلے خفیہ بیلٹ کی حمایت کی۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ہمارے ملک میں جمہوریت کو نقصان پہنچایا ہے ۔ آپ کو سپریم کورٹ نے موقعہ دیا تو کیا 1500 بیلٹ پیپر پر بار کوڈ نہیں لگایا جاسکتا تھا۔ آج آپ نے ملک کی جمہوریت کا وقار مجروح کیا ہے اور اسے نقصان پہنچایا ، صاف شفاف انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن کی بہت بڑی آئینی ذمہ داری ہے ۔ سینیٹ الیکشن کا سیکرٹ بیلٹ سے انعقاد جمہوری نظام کیلئے تباہ کن ہے ۔ ہم نے سینیٹ الیکشن سے پہلے کہہ دیا تھا کہ کروڑوں روپے کی بولیاں چل رہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سینیٹ الیکشن میں کروڑوں روپے دے کر ارکان اسمبلی کو خریدا گیا ۔ الیکشن کمیشن نے سینیٹ انتخابات کیلئے بیلٹ پیپرز پر بارکوڈنگ کیوں نہیں کی۔ کرپشن ختم کرنے کیلئے قانون نہیں بلکہ معاشرے کا اہم کردار ہوتا ہے ۔ جب تک معاشرہ کرپٹ ٹولے کو قبول کرتارہے گا۔ کرپشن ختم نہیں ہوسکتی ساری قوم نے دیکھا کہ ایک کرپٹ آدمی کو پیسے سے سینیٹر منتخب کرایا گیا ۔ اپوزیشن کا خیال تھا کہ میرے اوپر عدم اعتماد کی تلوار لٹکائیں گے میں نے خود ایوان سے اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ کیا ہے اگر ارکان اسمبلی نے عدم اعتماد کیا تو اپوزیشن میں بیٹھ جائوں گا ۔ سب کیلئے میرا پیغام ہے میں خواہ اپوزیشن میں بیٹھوں یا اسمبلی سے باہر ہوں میں نے آپ میں سے کسی کو نہیں چھوڑنا جب تک آپ اس ملک کا پیسہ واپس لے کر نہیں آتے اگر میں باہر بھی ہو جائوں تو قوم کو باہر نکالوں گا یہ قوم اپنا پیسہ بچانے کیلئے نکلے گی۔ جب تک میں زندہ ہوں قانون کی بالادستی کیلئے جدوجہد کرتا رہوں گا اور غداروں چوروں کا مقابلہ کرتارہوں گا ۔ میرا یہ ایمان ہے اللہ اس ملک کو اچھا وقت دکھانے والا ہے یہ ملک ایک عظیم ملک بنے گا اور تب بنے گا جب بڑے بڑے ڈاکو جیلوں میں ہوں گے ۔


متعلقہ خبریں


بھارت پاکستان کے خلاف طاقت کا استعمال کرسکتا ہے، امریکی انٹیلی جنس وجود - هفته 17 اپریل 2021

ایک امریکی انٹیلجنس رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارت، پاکستان کی جانب سے سمجھے جانے والی یا حقیقی اشتعال انگیزی پر فوجی طاقت سے جواب دے سکتا ہے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق خطرے کے جائزے کی سالانہ رپورٹ 2021 یو ایس ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلیجنس نے تیار کر کے کانگریس کو ارسال کی ۔رپورٹ میں چین کی عالمی طاقت کے لیے کوشش کو امریکی مفادات کے لیے سب سے پہلا خطرہ قرار دیا گیا جس کے بعد روس کے اشتعال انگیز اقدامات اور ایران سے متعلق خطرات ہیں۔تعارفی نوٹ ...

بھارت پاکستان کے خلاف طاقت کا استعمال کرسکتا ہے، امریکی انٹیلی جنس

کورونا ویکسین لگوانے کے عمل میں پاکستان بہت پیچھے رہ گیا وجود - هفته 17 اپریل 2021

شہریوں کو کورونا ویکسین لگوانے کے عمل میں پاکستان بہت پیچھے رہ گیا،دنیا کے 123 ملکوں میں پاکستان کا 120 نمبر ہے ، بھارت سمیت پاکستان سے کئی اور ممالک بھی آگے بڑھ گئے ۔پاکستان سے نکل جانے والے ممالک کی فہرست میں سری لنکا، بنگلادیش، روانڈا، گھانا اور نائیجریا بھی شامل ہیں۔ماہرین کے مطابق اگر پاکستان میں اسی رفتار سے کام ہوتا رہا تو پوری آبادی کو ویکسین لگانے میں کئی سال لگ جائیں گے ۔نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں سب سے تیز ویکسینیشن کا عمل اسرائیل میں جاری ہے ، جہ...

کورونا ویکسین لگوانے کے عمل میں پاکستان بہت پیچھے رہ گیا

شہباز شریف کو ضمانت ملی پر رہائی نہ مل سکی وجود - هفته 17 اپریل 2021

قومی اسمبلی میںاپوزیشن لیڈر شہباز کو ضمانت ملی پر رہائی نہ مل سکی، معاملہ لٹک گیا، عدالت کے مختصر فیصلے میں دو میں سے ایک جج کے دستخط نہ ہونے کے باعث ضمانتی مچلکے جمع نہ ہوسکے ۔خیال رہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے 13 اپریل کو شہباز شریف کو آمدن ست زائد اثاثوں کے کیس میں ضمانت پر رہا کرنے کا فیصلہ دیا تھا، 14 اپریل کو مختصر فیصلہ سامنے آنے پر حکم نامے پر صرف جسٹس محمد سرفراز ڈوگر کے دستخط تھے ، جسٹس اسجد گھرال کے دستخط نہیں تھے ۔ذرائع کے مطابق جسٹس اسجد جاوید گھرال کی...

شہباز شریف کو ضمانت ملی پر رہائی نہ مل سکی

عسکری حکومت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا چاہتے ہیں، میانمار میں متوازی حکومت تشکیل وجود - هفته 17 اپریل 2021

میانمار میں فوج مخالف اتحاد نے مِن کو نائنگ کی قیادت میں متوازی حکومت تشکیل دے دی۔مقامی میڈیارپورٹس کے مطابق متوازی حکومت میں سابق پارلیمنٹیرین اورمظاہرین کی قیادت کرنے والے افراد شامل ہیں۔ مِن کو نائنگ نے عوام سے متوازی حکومت سے تعاون کرنے کی اپیل کی ہے ۔من کو نائنگ نے کہا کہ ہم عسکری حکومت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا چاہتے ہیں، عالمی برادری کی حمایت حاصل کرنا متوازی حکومت کی اولین ترجیح ہے ، امریکا اور برطانیہ وینزویلا کی طرز پر ہماری حکومت کو بھی تسلیم کریں۔

عسکری حکومت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا چاہتے ہیں، میانمار میں متوازی حکومت تشکیل

پاکستان نے3 وکٹوں سے جنوبی افریقہ کو شکست دیکر ٹی ٹوئنٹی سیریز بھی جیت لی وجود - هفته 17 اپریل 2021

پاکستان نے فخر زمان کی جارحانہ نصف سنچری کی بدولت جنوبی افریقہ کو چوتھے ٹی20 میچ میں سنسنی خیز مقابلے کے بعد 3 وکٹوں سے شکست دیکر سیریز میں بھی 1ـ3 سے فتح حاصل کر لی، میزبان ٹیم 144رنز پر ڈھیر ہوگئی ،پاکستان نے مطلوبہ ہدف بمشکل ایک گیند قبل 7 وکٹ کے نقصان پر پورا کرلیا،فہیم اشرف کو مین آف دی میچ اور بابر اعظم کو سیریز کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا ۔سنچورین میں کھیلے گئے سیریز کے آخری ٹی20 میچ میں پاکستان نے ٹاس جیت کر ایک مرتبہ پھر جنوبی افریقہ کو بیٹنگ کی دعوت دی تھی۔جنوبی ا...

پاکستان نے3 وکٹوں سے جنوبی افریقہ کو شکست دیکر ٹی ٹوئنٹی سیریز بھی جیت لی

کراچی میں برطانوی اور جنوبی افریقی کورونا وائرس کی تصدیق وجود - هفته 17 اپریل 2021

صوبائی دارالحکومت کراچی میں برطانوی اور جنوبی افریقی کورونا وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوگئی۔نیشنل انسٹیٹیوٹ آف وائرولوجی میں تحقیق کے دوران برطانوی اور جنوبی افریقی کورونا وائرس کی موجودگی کا انکشاف ہوا۔ادارے نے شہر کے مختلف علاقوں سے 75 نمونے لیے ، جن میں سے 50 کیس برطانوی اقسام اور 25 کیسز جنوبی افریقی قسم کے آئے ہیں۔سندھ حکومت پہلے کہہ چکی ہے کہ صوبے میں برطانوی وائرس موجود نہیں ہے ۔

کراچی میں برطانوی اور جنوبی افریقی کورونا وائرس کی تصدیق

پیمرا نے تحریک لبیک پاکستان کی ہرقسم کی میڈیاکوریج پر پابندی لگادی وجود - جمعه 16 اپریل 2021

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی(پیمرا)نے کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی)کی ہرقسم کی میڈیاکوریج پر پابندی لگادی۔پیمرا کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق تمام ٹی وی چینلز اور ایف ایم ریڈیو اسٹیشنز کو اس حوالے سے ہدایت جاری کردی گئی ہیں۔پیمرا کے مطابق وزارت داخلہ نے تحریک لبیک پاکستان کو کالعدم قرار دیا ہے ،پیمرا کے ریگولیشن اورضابطہ اخلاق پیمرا آرڈیننس 2002 کے سیکشن 27 کے تحت کالعدم جماعتوں کی میڈیا کوریج پر پابندی ہے ۔خیال رہے کہ وفاقی وزارت داخلہ نے تحریک لبیک پ...

پیمرا نے تحریک لبیک پاکستان کی ہرقسم کی میڈیاکوریج پر پابندی لگادی

توقع ہے ہر شعبے میں پاکستان اور امریکا کا تعاون فروغ پائیگا،جنرل قمر جاوید باجوہ وجود - جمعه 16 اپریل 2021

چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ توقع ہے ہر شعبے میں پاکستان اور امریکا کا تعاون فروغ پائیگا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے امریکی ناظم الامور و قائم مقام سفیر انجیلا ایگلر نے ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے امور اور خطے میں سکیورٹی صورتحال پر بات چیت کی گئی۔آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں افغان امن عمل میں حالیہ پیشرفت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر آرمی چیف نے کہاکہ توقع ہے ہر شعبے میں پاکستان...

توقع ہے ہر شعبے میں پاکستان اور امریکا کا تعاون فروغ پائیگا،جنرل قمر جاوید باجوہ

نیٹو اتحاد بھی یکم مئی سے افغانستان سے فوجی انخلا پر رضامند وجود - جمعه 16 اپریل 2021

امریکی صدر جو بائیڈن کے بعد نیٹو اتحاد بھی یکم مئی سے افغانستان سے فوجی انخلا کے آغاز پر رضامند ہوگیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق نیٹو اعلامیہ میں کہاگیاکہ افغانستان سے فوجوں کی واپسی منظم اور مربوط ہوگی، برسلز میں نیٹو سیکرٹری جنرل نے امریکی وزیر خارجہ اور وزیر دفاع کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا کہ افغانستان سے فوجی انخلا چند ماہ میں مکمل ہو جائے گا۔اس سے قبل امریکا نے افغانستان سے فوج نکالنے کی تاریخ پانچ ماہ بڑھائی تھی، امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا تھا کہ یکم مئی سے انخل...

نیٹو اتحاد بھی یکم مئی سے افغانستان سے فوجی انخلا پر رضامند

سائنسی تحقیقات کے لیے ٹائٹینک سے بڑا جدید آلات سے لیس بحری جہاز تیار وجود - جمعه 16 اپریل 2021

ماہرین نے سائنسی تحقیقات کے لیے جدید سہولیات سے آراستہ فٹ بال کے تین گرائونڈ کے حجم کے برابر اورٹائٹینک سے بڑا بحری جہاز تیار کرنا شروع کیا ہے ۔ یہ جہاز 2025 میں لانچ کیا جائے گا۔ یہ جہاز 22 جدید ترین تجربہ گاہوں سے آرستہ ہوگا اور اس میں 400 افراد کے کام کرنے کی گنجائش ہوگی۔ اگرچہ یہ سائنسی تحقیقاتی مشن جوہری توانائی پرکام کرے گا مگر اس سے کسی قسم کی تاب کاری کے اخراج کا خطرہ نہیں ہوگا۔برطانوی اخبار کے مطابق اس جہاز کا نام ارتھ300رکھا گیا ہے جس کا مقصد زمین پر بڑے بڑے چیلنجوں...

سائنسی تحقیقات کے لیے ٹائٹینک سے بڑا جدید آلات سے لیس بحری جہاز تیار

گردشی قرضوں میں کمی کے لیے بجلی کی قیمت بڑھانا ہوگی، آئی ایم ایف وجود - جمعرات 15 اپریل 2021

بین القوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) کی پاکستان میں موجود نمایندہ ٹریسا دوبان سنچے نے کہا ہے کہ کورونا کی تیسری لہر میں پاکستان کے مزید قرضے موخر کرنے پر بھی غور ہوسکتا ہے ۔ویب نارسے خطاب میں انہوںنے کہا کہ ہم پاکستان میں ٹیکس اصلاحات چاہتے ہیں جس کے لیے ٹیکس کی چھوٹ محدود کرنا ضروری ہیں، توانائی کے شعبے میں گردشی قرضوں میں کمی کے لیے بجلی کی قیمت میں اضافہ کرنا ہوگا تاہم ٹیکس آمدن بڑھانے کے لیے کورونا ٹیکس لگانا یا نہ لگانا پارلیمنٹ کا کام ہے ، انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف نے...

گردشی قرضوں میں کمی کے لیے بجلی کی قیمت بڑھانا ہوگی، آئی ایم ایف

وزارت خزانہ نے اگلے بجٹ کا اسٹریٹجی پیپر تیار کرلیا وجود - جمعرات 15 اپریل 2021

وزارت خزانہ نے اگلے مالی سال 2021ـ22 کیلئے بجٹ اسٹریٹجی پیپر تیار کرلیا ۔دستاویز کے مطابق آئندہ مالی سال کیلئے مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کا حجم 46 ہزار ارب سے بڑھا کر 52 ہزار ارب روپے مقرر کیا جائیگا۔دستاویز کے مطابق سال 2021ـ22 میں جی ڈی پی گروتھ 4اعشاریہ2 فیصد رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ،ٹیکس وصولیوں کا ہدف 6ہزار ارب روپے رکھا جائے گا۔وزارت خزانہ کی دستاویز کے مطابق آئندہ مالی مہنگائی 8 فیصد رہنے کی توقع ہے حکومتی پالیسیوں کے تسلسل سے 2022ـ23 میں مہنگائی 6 اعشاریہ8 فیصد...

وزارت خزانہ نے اگلے بجٹ کا اسٹریٹجی پیپر تیار کرلیا