وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

ٹرمپ کے حواری اور کورونا ویکسین

جمعه 18 دسمبر 2020 ٹرمپ کے حواری اور کورونا ویکسین

(مہمان کالم)

میشل گولڈبرگ

ڈیپارٹمنٹ آف ہیلتھ اینڈ ہیومین سروسز کی ایک دستاویز کے مطابق ریجینرون (Regeneron) کے مونوکلونل اینٹی باڈی کاک ٹیل کی کل 108 خوراکیں واشنگٹن کے لیے مختص کی گئی ہیں جہاں صرف بدھ کے دن 265 نئے کورونا کیسز سامنے آئے ہیں۔ صدرٹرمپ کے وکیل روڈی جولیانی نے بھی اس ویکسین کی ایک خوراک حاصل کی ہے۔ منگل کے دن نیویارک کے ایک ریڈیو ا سٹیشن کو انٹرویو دیتے ہوئے جولیانی نے ہم پر اپنی نوازشات کی بارش کرتے ہوئے اس امر کی وضاحت کی کہ وہ اس اعلیٰ سطح کے علاج کے کیوں مستحق ہیں۔ انہوں نے ریڈیو ا سٹیشن کو بتایا ’’میرے اندر معمولی سی علامات ظاہر ہوئی تھیں۔ اگر میری جگہ کوئی اور ہوتا تو اسے کسی ہسپتال میں پھینک دیا جاتا۔ جب آپ کوئی معروف شخصیت ہوتے ہیں تو ہسپتال والے پریشان ہو جاتے ہیں کہ آپ کو کچھ ہو نہ جائے۔ وہ بہت احتیاط سے میرا معائنہ کر رہے ہیں اور ہر کام ٹھیک طریقے سے کر رہے ہیں‘‘۔

اسی ریڈیو سٹیشن کے ایک اور شو میں انہوں نے بتایا کہ صدرٹرمپ کے ذاتی فزیشن بھی ان کی دیکھ بھال میں مصروف رہے۔ صدر ٹرمپ کے حواریوں میں روڈی جولیانی واحد شخص نہیں ہیں جنہیں اس اعلیٰ درجے کے تجرباتی علاج تک رسائی حاصل ہے۔ صدر ٹرمپ خود بھی ان لوگوں میں شامل ہیں جو ایک کلینکل ٹرائل میں ریجینرون سے علاج کروا چکے ہیں اور انہوں نے یہ سب کچھ21 نومبر کو FDA کی طرف سے ویکسین کی اجازت ملنے سے پہلے کیا تھا۔ ان میں سے کچھ افراد نے تو اپنا علاج اس وقت کرایا جب یہ ویکیسن ابھی عام شہریوں کے لیے دستیاب ہی نہیں تھی۔ ایک عام شہری کے مقابلے میں روڈی جولیانی یہ ویکسین حاصل کر سکتے تھے۔ ان کے اس کیس سے دو طرح کی کرپشن پر روشنی پڑتی ہے۔ ایک سرکاری کرپشن وہ ہوتی ہے جس میں ہم صدر کے قریبی دوستوں پر زندگی بخش قسم کی نوازشات ہوتے دیکھتے ہیں، دوسری کرپشن میں ہم میڈیکل سسٹم میں انہیں محض ایک نفع بخش طریقے سے فائدہ اٹھاتے دیکھتے ہیں جس میں وی آئی پی مریض کو اعلیٰ درجے کے علاج کی سہولت میسر ہوتی ہے۔ ریجینرون اور Eli Lilly دونوں ویکسین کے بار ے میں یہی تصور کیا جاتا ہے کہ یہ کووڈ کے ان مریضوں کے لیے ہیں جن کے بارے میں خدشہ ہو کہ انہیں ہسپتال میں داخل کرانا پڑے گا۔ یہ ہسپتال میں داخل مریضوں کے لیے نہیں ہیں۔ ریجینرون کے ایمرجنسی استعمال کے اختیارکے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ابھی اسے ان بالغوں اور بچوں کو دینے کی اجازت نہیں ملی جو کووڈ کی وجہ سے ہسپتال میں داخل ہیں۔

ایک فزیشن جنہیں نئی مونوکلونل اینٹی باڈیز استعمال کرنے کا تجربہ ہے اور وہ اپنا نام صیغہ راز میں رکھنا چاہتے ہیں کیونکہ ان کے ہسپتال نے انہیں میڈیا سے بات چیت کرنے سے منع کر رکھا ہے‘ کا کہنا ہے کہ روڈی جولیانی کو کورونا ویکسین دینے سے لگتا ہے کہ اس کی کمیابی کی وجہ سے اس کے استعمال میں ای یو اے کی طرف سے فراہم کردہ گائیڈ لائن کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ یہ تو ابھی بہت ہی کمیاب ہے۔ ہیلتھ اینڈ سروسز ڈیپارٹمنٹ نے بدھ کے روز بتایا کہ پورے ملک میں اس وقت ریجنرون کی 77ہزار اور ایلی للی کی 26ہزار خوراکیں علاج کے لیے دستیاب ہیں۔ گزشتہ دو دنوں میں جتنے لوگوں میں کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے‘ یہ خوراکیں تو ان کے علاج کے لیے بھی کم ہیں۔ عین اس وقت ان دوائیوں کی تقسیم کا پیمانہ بھی تشویش ناک ہے۔ کولمبیا میں قائم سنٹر فار بائیو ایتھکس کے بانی رابرٹ کلیٹسزمین کے مطابق وفاقی حکومت اس دوائی کی خوراکیں ریاستوں کے لیے مقرر کرتی ہے اور پھر ریاستیں ہسپتالوں کے لیے مقرر کرتی ہیں اور ہسپتال یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ کون سے مریض کی زندگی سب سے زیادہ خطرے میں ہے، پھر اس کو یہ خوراک دی جاتی ہے۔ بعض ریاستوں نے تو اس ویکسین کی مدد سے علاج کی گائیڈ لائنز بھی وضع کر لی ہیں مگر کلیٹسزمین کے مطابق بہت سی ریاستوں نے ابھی تک ایسی گائیڈ لائنز تیار نہیں کیں۔

ہسپتال اخلاقی فریم ورکس کے مطابق کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر کلیٹسزمین بتاتے ہیں کہ زیادہ تر وقت وی آئی پی افراد کے علاج اور دیکھ بھال میں ہی گزر جاتا ہے۔ اس طرح ہمیں یہ پتا چل جاتا ہے کہ آج کل کون کون ہسپتال کے بورڈ میں شامل ہے۔ ایسے بورڈز میں زیادہ تر انسان دوست لوگ ہی شامل ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اکثر جب کروڑ پتی اور ارب پتی افراد ہسپتال انتظامیہ سے اپنے کسی دوست کے ا سپیشل علاج کے لیے کہتے ہیں تو وہ ان کا علاج کر دیتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ ہسپتالوں کے بہت سے مالی مسائل ہوتے ہیں، خاص طور پر کووڈ کے زمانے میں۔ انہیں منافع بخش سرجریز چھوڑ کر ایسے لوگوں کا علاج کرنا پڑتا ہے جن کی انشورنس بھی نہیں ہوتی۔ انہیں علاج کے لیے ایسی رقم کی ضرور ت ہوتی ہے جو زیادہ تر انسان دوست ڈونرز نے دی ہوتی ہے۔
سٹینفورڈا سکول آف میڈیسن کے پروفیسر اور معروف کارڈیالوجسٹ شوا کلارک کہتے ہیں کہ بالفاظ دیگر جولیانی کی بات ٹھیک ہے کہ معروف لوگوں کو ہیلتھ کی بہتر سہولتوں تک رسائی ہوتی ہے۔ جب کوئی شخص زیادہ دیر تک لوگوں کی نظروں میں رہتا ہو یا کوئی تگڑا ڈونر ہو یا وہ پہلے سے ہی کسی ہسپتال کا ڈونر رہا ہو، اوپر سے ہسپتال انتظامیہ میں بہت سے ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جنہیں اس بات کی خبر ہوتی ہے کہ آج کون سی معروف شخصیت ہسپتال میں آرہی ہے؟ کون سی اس وقت ہسپتال میں موجود ہے؟ انہیں کسی چیز کی ضرورت تو نہیں ہے؟

کووڈ کی وبا‘ جو ہمیں میڈیکل وسائل کی ذخیرہ اندوزی پر مجبور کر رہی ہے‘ اس عدم مساوات کو مزید نمایا ں کر رہی ہے۔ ٹرمپ کے اردگرد جمع دیگر لوگوں کی طرح روڈی جولیانی بھی اپنی منفرد صاف گوئی کو منفرد فریب کاری کے ساتھ ملا دیتے ہیں۔ وہ اپنی شہرت کو بڑی ایمانداری سے بیچتے ہیں مگر وہ اپنے اعلیٰ اشرافیہ کے پس منظر اور تجربے کی مدد سے ہر شہری کے لیے کووڈ کے خطرات کو نہایت کم سنگین بنا کرپیش کرتے ہیں۔ اپنے ریڈیو شو میں انہوں نے کہا ’’اگر آپ شروع میں ہی اس بیماری کو پکڑ لیتے ہیں تو آپ کو کچھ نہیں ہو گا۔ آپ کا مرنے کا خطرہ بالکل ختم ہو جاتا ہے‘‘۔ مگر یہ سراسر جھوٹ ہے۔ اگر مونو کلونل اینٹی باڈیز کا علاج فول پروف بھی ہو (جس کا ابھی تک کوئی ثبوت بھی نہیں ہے) تو زیادہ تر لوگ جو جولیانی کو سنتے ہیں‘ کی اس دوائی تک رسائی ہی نہیں ہو گی۔ انہیں شاید بہت دیر تک اس بات کی سمجھ بھی نہ لگے۔ پروفیسر شوا کلارک کہتے ہیں ’’اس نے جو پیغام دیا ہے جو شاید یہ ہے کہ ہمیں کووڈ سے گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہ ایک مہلک پیغام ہے اور غلط معلومات کے کسی بڑے پیکیج کا حصہ ہے جسے پورے ملک میں پھیلا دیا گیا ہے اور اسی کی وجہ سے ہم ان حالات تک پہنچے ہیں جہاں ہم آج کھڑے ہیں‘‘۔میں نے جب گزشتہ ہفتے ان سے بات کی تو انہیں صر ف یہ پتا تھا کہ ان کے علاقے میں واقع ہسپتال میں اب مریضوں کے لیے کوئی جگہ نہیں بچی۔ ہم اگلے چند ہفتوں میں مزید مریضوں کے آنے کی توقع کر رہے ہیں۔ اس مرحلے پر ہمارے پاس ان کے لیے مزید بیڈز ہوں گے نہ آئی سی یو کی سہولت مگر آپ پریشان نہ ہوں، اگر صدر ٹرمپ کے کسی حواری کو اس کی ضرور ت پڑی تو وہ یقینا اس کے لیے کوئی بندوبست کر لیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں